مسلم پرسنل لا بورڈ سے مسلمان مایوس : نئے جوش ، تازہ خون اور نئے افکار کی ضرورت

آل انڈیا پرسنل لاء بورڈ کا 24واں اجلاس عام 22-21 مارچ، 2015 کو جامعۃ الہدایہ جے پور میں منعقد ہوا۔ بورڈ کی تشکیل 7 اپریل، 1973 میں حیدرآباد کے کنونشن میںعمل میں آئی تھی۔ اس سے قبل 28-27 دسمبر، 1972 کو ممبئی میں ایک اجلاس میں قیام بورڈ کی

Read more

جشن ریختہ: اردو کا ایسا جشن نہ دیکھا نہ سنا

انڈیا انٹر نیشنل سینٹر کا وسیع و عریض سبزہ زار، ہلکی ہلکی سی پھوار پڑتی ہوئی، ٹھنڈی ٹھنڈی بھیگی ہوا سے درخت و پتے جھومتے ہوئے، روشنیاں، میوزک، خوبصورت ساز و آواز کا سنگم اور پورا فائونٹین لان اردو کے متوالوں سے کچھا کھچ بھرا ہوا۔یہ منظر جشن ریختہ کا ہے ۔ریختہ ایک ایسے اردو کے متوالے، اردو زبان کے دیوانے کی کاوش ہے جس نے اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی اور اردو کو غیر اردو داںحضرات تک پہنچانے کے لئے جنون کی تمام حدوں کو چھولیا ہے۔ سنجیو صراف ایک ایسے ہی اردو کے عاشق کا نام ہے جس نے اپنی ریختہ فائونڈیشن کے ذریعہ اردو کی بقاء اور اردو کو عروج دینے میں منفرد کام کیا ہے۔

Read more

بہار اسمبلی الیکشن پر ’چوتھی دنیا‘ کا پہلا سروے: نتیش کمار سب سے آگے

بہار کا آئندہ اسمبلی الیکشن تاریخی ہونے والا ہے۔ یہ پیچیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ مستقبل کی سیاست کا راستہ متعین کرنے والا ثابت ہوگا۔ فاتح کون ہوگا، یہ نتیجہ آنے کے بعد ہی پتہ چل پاتا ہے، لیکن سب یہی جاننے کے خواہش مند ہیں کہ الیکشن کا نتیجہ کیا ہوگا؟ بہار میں پچھلے دو تین سالوں میں کافی سیاسی اٹھا پٹک ہوئی ہے۔ بی جے پی – جے ڈی یو کا اتحاد ٹوٹا۔ نتیش اور مودی کی سیاسی دشمنی ہوئی۔ لالو یادو کو جیل کی سزا ہو گئی اور وہ فی الحال انتخابی سیاست سے باہر ہو گئے۔

Read more

لو کجریوال کا بھی بھرم ٹوٹ گیا

تیس دن کی عام آدمی پارٹی کی سرکار خطوط کی سیاست، بلاگ بازی اور اسٹنگ میں الجھتی نظر آرہی ہے۔ لیڈروں کی آپسی رنجش اب سڑک پر آگئی ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جن مسلمانوں نے اس بار پوری طرح عام آدمی پارٹی کو ووٹ دیا تھا اور یہ سوچ کر دیا تھا کہ کانگریس اور بی جے پی کا ایک اچھا متبادل مل گیا ہے، ان کو یقیناً شدید مایوسی ہوئی ہوگی، کیونکہ عام آدمی پارٹی بھی وہی جوڑ توڑ کی سیاست کر تی نظر آرہی ہے، جس کی وہ مخالفت کرتی رہی ہے۔ مسلمانوں کو کجریوال بھی ایک ووٹ بینک سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے، یہ بھی واضح ہوگیا ہے۔ مارچ کا مہینہ عام آدمی پارٹی کے لیے مصیبت بھرا پیغام لے کر آیا ہے۔ ہمیں تو اس بات پر حیرت ہو رہی ہے کہ اگر یہ اسٹنگ صحیح ہے، تو پھر کجریوال کا بھرم ٹوٹنے کے ساتھ ہی سرکار ٹوٹنے میں بھی شاید کم ہی وقت لگے۔

Read more

کوئلہ گھوٹالے کا کالا سچ

ہم نے کوئلہ گھوٹالے پر سب سے زیادہ اس لیے دھیان دیا، کیوں کہ جب یہ گھوٹالہ ہوا تھا، تو اس گھوٹالے کی پہلی جانکاری بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک ایم پی کو ملی تھی۔ اُس ایم پی نے اس گھوٹالے کا ذکر اپنی پارٹی کے صدر اور جنرل سکریٹری سمیت کئی لوگوں سے کیا، لیکن انہوں نے اس گھوٹالے کو نہیں اٹھایا۔ پھر یہ گھوٹالہ ایک صحافی کے پاس پہنچا۔ صحافی کے اخبار نے اس گھوٹالے کو اٹھانے سے منع کر دیا۔ تب ہمیں لگا کہ اس کے پیچھے ضرور کوئی لمبی اور خطرناک سازش ہے، تب ہم نے اس کی چھان بین کی۔ ہماری چھان بین نے ہمیں بتایا کہ کوئلہ گھوٹالہ آکٹوپس کی طرح اقتدار چلانے والے تمام اجزاء میں پھیلا ہوا ہے، جن میں سیاسی لیڈر، نوکر شاہ، کارپوریٹ، انڈر وَرلڈ اور جرنلسٹ شامل ہیں۔ ان میں کچھ کا سیدھا رشتہ ہے، کچھ کا بالواسطہ رشتہ ہے۔

Read more

ملک کا سب سے بڑا گھوٹالہ

بجلی گھوٹالے میں پولس کی فائنل رپورٹ کا اپنے دائرۂ اختیار سے باہر جا کرنوٹس لینے اور تین سال تک اس رپورٹ کو دباکر رکھنے والے جج کے خلاف آلہ آباد ہائی کورٹ کے وجیلنس بیورو نے کارروائی شروع کر دی ہے۔ مذکورہ جج کے خلاف شکایت یہ بھی ہے کہ انہوں نے محکمہ انصاف میں پرنسپل سکریٹری رہتے ہوئے حساس امور کو چھپا کر ایک متنازع سرکاری وکیل کے جج بننے میں مدد کی تھی۔ اس معاملہ کے سامنے آتے ہی اتر پردیش کے پاور سیکٹر میں ہوئے اربوں کے گھوٹالے کی لیپا پوتی میں لگے ججوں، نوکر شاہوں اور محکمہ جاتی افسروں کے ساتھ ساتھ سی بی آئی کے بھی قانون کے شکنجے میں آنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ اتر پردیش کا بجلی گھوٹالہ ملک کا سب سے بڑا گھوٹالہ ثابت ہونے والا ہے، جس میں نہ صرف نیتا اور نوکر شاہ، بلکہ جج اور سی بی آئی کے افسر بھی ملوث ہیں۔ یہ دلچسپ اور مزاحیہ ہی ہے کہ اربوں کے بجلی گھوٹالے کی سی بی آئی جانچ کا سرکاری فرمان جاری ہو جانے کے بعد بھی اسے عدالت میں دبائے رکھا گیا اور آخر کار سی بی آئی نے ہی جانچ کرنے سے منع کر دیا۔ بجلی گھوٹالے میں سی بی آئی بھی ملزم ہے۔

Read more

ریلوے بجٹ بے حد مایوس کن

ریل ہمارے ملک میں بڑا ہی رومانی تصور پیش کرتی ہے۔ شاید ہی کوئی دوسرا اد ب ریل کا ایسا تصور پیش کرسکے جیسا کہ ہندوستانی شعراء نے کیا ہے۔ مجاز نے ریل کے چلنے،بڑھنے اور لہرانے کا غضب نقشہ کھینچا ہے جیسے کہ کوئی خوبصورت عورت ناگن کی طرح جھومتی ہوئی جارہی ہو۔کبھی وہ ریل کو محبوب سے ملنے کا ذریعہ بتاتے ہیں ،کبھی اس کے لہرانے کو محبوب کے شرمانے سے تعبیر کرتے ہیں ۔
ایک زمانہ تھا جب ہم اپنے بچپن میں ریل کے سفر کے لئے بہت زیادہ بے تاب رہتے تھے اور سوچتے تھے کہ ریل کا سفر کتنا دلکش اور حسین ہوتا ہوگا۔لہلہاتے سرسبز کھیت، دریا، پل، شہر درشہر گزرنا بڑا ہی رومانٹک لگتا تھا، لیکن جب پہلی بار ریل کا سفر کیا تو ہوش اڑگئے۔ بے حد گندے غلیظ ڈبے، تعفن سے بھرے ٹوائلٹ، پان کی پیکوں سے بھرے ہوئے واش بیسن۔ سارا رومانس ہوا کے دھوئیں کی طرح اڑن چھو ہوگیا۔

Read more

انا، ملک آپ کی طرف دیکھ رہا ہے

انا کافی دنوں کے بعد دہلی آئے۔ انہوں نے جنتر منتر پر دھرنا دیا اور اس دھرنے نے تحویل اراضی قانون کے خلاف ملک کے لوگوں کے کانوں میں اس مسئلہ کی سنگینی کو اجاگر کیا۔ یہ سچ ہے کہ انا ہزارے کی اکیلے کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ ہر مسئلہ کے خلاف آندولن کریں۔ ملک میں باقی لوگ بھی ہیں، جو سوال اٹھا سکتے ہیں، آندولن کر سکتے ہیں اور آپس میں ہاتھ ملا سکتے ہیں، لیکن وہ ہاتھ نہیں ملاتے۔ اگر دیکھا جائے، تو تحویل اراضی کے مسئلے پر سب سے بڑا قصور ملک کی کسان تنظیموں کا ہے۔ کسان تنظیموں میں آپس میں مل کر بات چیت ہی نہیں ہوتی اور ہر کسان تنظیم چاہتی ہے کہ وہ ملک کی سرکردہ کسان تنظیم رہے اور سارے لوگ اس کی قیادت میں کام کریں۔ ساتھ کام کریں، یہ کسی کسان تنظیم کی منشا نہیں ہے۔ اس کے ماتحت کام کریں، یہ منشا ہے۔ اسی لیے کسانوں کے خلاف سرکاریں قانون بناتی جا رہی ہیں، کسانوں کے مفادات کے خلاف سرکاریں کام کر رہی ہیں اور کسانوں کو توڑنے میں کامیاب ہو پا رہی ہیں۔ اس ملک میں اگر سب سے بے بس کوئی اقتصادی شعبہ ہے، تو وہ کسان کا اقتصادی شعبہ ہے۔ اس ملک کا زرعی شعبہ سب سے بے بس ہے، جسے نہ کوئی سہولت ہے، جس کے اوپر نہ کسی کا دھیان ہے اور جسے چوپٹ کرنے میں قومی اور بین الاقوامی طاقتیں لگی ہوئی ہیں۔ غیر ملکی طاقتیں چاہتی ہیں کہ اس ملک کی زراعت مکمل طور پر ان کے قبضے میں آ جائے، تاکہ ملک کا اقتصادی نظام ان کے قبضے میں چلا جائے۔ اور، دوسری طرف ملک کے بڑے پیسے والے چاہتے ہیں کہ زرعی شعبہ کا سب سے اہم حصہ، یعنی زمین ان کے قبضے میں آ جائے اور سرکاریں ان دونوں طاقتوں کے حق میں کام کر رہی ہیں اور وہ بھی صرف اس لیے، کیوں کہ کسان تنظیمیں آپس میں مل کر کسانوں کو متحد کرنے کی باتیں نہیں کرتیں اور پھر بنیادی سوال، وہ ساتھ کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتیں اور اپنی قیادت میں سب کو لانا چاہتی ہیں۔

Read more

گھوٹالوں کا کارپوریشن این ٹی پی سی

نیشنل تھرمل پاور کارپوریشن لمیٹڈ (این ٹی پی سی) نے سرکاری پروجیکٹ کے لیے قبضے میں لی گئی زمین خفیہ طریقے سے بوفورس – فیم ہندوجا گروپ کو دے دی۔ سرکار کے سیمادری پروجیکٹ کی سینکڑوں ایکڑ زمین ہندوجا گروپ کو دیے جانے کے معاملے میں وزارتِ توانائی مشتبہ طریقے سے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، جب کہ سنٹرل وجیلنس کمیشن (سی وی سی) نے ضروری کارروائی کے لیے اسے وزارتِ توانائی کو پہلے ہی بھیج دیا تھا۔ یہاں تک کہ وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) تک کو اس کا علم ہے۔ این ٹی پی سی کے چیئر مین و منیجنگ ڈائرکٹر (سی ایم ڈی) اروپ رائے چودھری نے آندھرا پردیش کے وشاکھاپٹنم میں واقع سیمادری پروجیکٹ کی تحویل میں لی گئی زمین ہندوجا گروپ کو دے کر قانون کی تو دھجیاں اڑائیں ہی، این ٹی پی سی اور ملک کو زبردست اقتصادی اور تجارتی نقصان بھی پہنچایا۔ 19 جون، 2014 کو این ٹی پی سی بورڈ کی میٹنگ میں تجویز پاس کرکے ہندوجا گروپ کو زمین دے دی گئی تھی۔

Read more