راہل تک نہیں پہنچ رہی ہے کانگریسیوں کے رونے کی آواز

سنتوش بھارتیہ
mastانیس سو چوراسی میں بی جے پی دو سیٹوں پر سمٹ گئی تھی اور آج بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکز میں سرکار ہے۔ تجزیہ کریں تو پاتے ہیں کہ تب بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوں کے من میں ناامیدی نہیں آئی تھی۔ وہ لگاتار کام کرتے رہے۔ اٹل بہاری واجپئی اور لال کرشن اڈوانی کی قیادت میں اعتماد رکھتے ہوئے انتخابی لڑائیاں لڑتے رہے۔ یہ الگ بات ہے کہ آج اٹل جی بیمار ہیں اور بی جے پی کے دوسرے قائد شری لال کرشن اڈوانی سیاسی جلا وطنی جھیل رہے ہیں۔ کوئی بھی انہیں یا مرلی منوہر جوشی کو فرنٹ لائن میں نہیں دیکھ پا رہا ہے۔ آج کے دور کے قائد کا چہرہ بدل چکا ہے۔ آج نریندر مودی بھارتیہ جنتا پارٹی کے نہ صرف مقبولِ عام لیڈر ہیں، بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے راہبر بھی ہیں۔
کانگریس کی حالت اس سے بالکل اُلٹ ہے۔ کانگریس نے آج سے دس سال پہلے اپنے کھاتے میں شکست کا سلسلہ درج کرنا شروع کیا۔ کانگریس راہل گاندھی کی قیادت میں بہار کا پہلا الیکشن ہاری۔ پھر وہ بہار کا دوسرا الیکشن بھی ہاری۔ بہار کے الیکشن میں ہارنے کے بعد یہ امید تھی کہ کانگریس راہل گاندھی کی قیادت میں سبق لے گی اور اتر پردیش میں کام کرنا شروع کرے گی۔ لیکن کانگریس نے کوئی سبق نہیں لیا اور اتر پردیش بھی دونوں بار اس کے ہاتھوں سے جاتا رہا۔ پھر، اس کے ہاتھ سے راجستھان گیا۔ ایک طرح سے پورا شمالی ہند کانگریس کے ہاتھوں سے نکل گیا اور اخیر میں مرکز کی سرکار بھی اس کے ہاتھوں سے نکل گئی۔ راہل گاندھی ثابت ہی نہیں کر پائے کہ کانگریس نام کی کوئی پارٹی ہے، جو بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقابلے اقتدار میں آنے کا دعویٰ پیش کر رہی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مرکزی حکومت کے بعد ہریانہ، جھارکھنڈ اور مہاراشٹر کانگریس کے ہاتھوں سے نکل گیا اور دہلی میں کانگریس کی تاریخ میں پہلی بار اسے ایک بڑے صفر کی بڑھت حاصل ہوئی اور اس کے کھاتے میں سیٹ بھی صفر ہی آئی۔
تب یہ سوال پیدا ہوا کہ آخر کانگریس میں ایسی کون سی چیز ہے، جو اسے لوگوں کی نظروں سے اتار رہی ہے۔ آج کانگریس کا مطلب کانگریس صدر شریمتی سونیا گاندھی، ان کے بیٹے اور کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی اور ان کی بیٹی پرینکا گاندھی ہیں۔ اگر ان تینوں ناموں کو ہم کنارے کر دیں، تو کانگریس کا کوئی وجود کہیں نظر نہیں آتا۔ اس لیے، ان تینوں کے بارے میں ملک کے لوگوں کو جاننا چاہیے کہ ان کی نفسیات کیا ہے، ان کے کام کرنے کا طریقہ کیا ہے، ایشوز کو سمجھنے کا ان کا طریقہ کیا ہے، تاکہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ کانگریس اگلے پانچ، دس، پندرہ سالوں میں کیا کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
راہل گاندھی ایک ایسے شخص ہیں، جو الجھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ راہل گاندھی کو لگتا ہے کہ ایسے لوگ، جو معمولی یا گندے کپڑے پہنتے ہیں، یا ایسے لوگ جو بڑی چیزوں کو نہیں جانتے ہیں، وہی عوام کے قریب ہیں۔ اور، اس عمل میں راہل گاندھی کے سب سے قریب پہنچنے والے لوگوں میں مدھو سودن مستری ہیں، میناکشی نٹراجن ہیں، موہن گوپال ہیں۔
اب ایک قصہ آپ کو بتاتے ہیں۔ میناکشی نٹراجن تھری وہیلر سے راہل گاندھی سے ملنے آتی ہیں اور راہل گاندھی کو لگتا ہے کہ میناکشی نٹراجن کتنی سیدھی ہیں، جو تھری وہیلر سے ان سے ملنے آتی ہیں، اس لیے وہی قیادت کر سکتی ہیں۔ ایک میٹنگ میں کوکا کولا کا کین بٹا۔ میناکشی نٹراجن، راہل گاندھی سے پوچھتی ہیں کہ سر، یہ کین کیسے کھلے گا؟ راہل جواب دیتے ہیں، تم کین نہیں کھول پاتی ہو۔ میناکشی ہلکے سے مسکرا دیتی ہیں۔ راہل کین کھول کر دیتے ہیں اور یہی میناکشی نٹراجن کا پلس پوائنٹ ہے۔ جیب میں اگر پلاسٹک کا پین ہے، تو وہ راہل کو پسند ہے اور اب جو راہل سے ملنے آتے ہیں، وہ پھٹے، مڑے تڑے کپڑے پہن کر، مونٹ بلینک پین چھپا کر، جیب میں پلاسٹک کی پین ڈال کر، خراب گھڑی پہن کر جاتے ہیں۔ دراصل، سب کو پتہ چل گیا ہے کہ راہل کو ناٹک پسند ہے۔ دوسرے الفاظ میں، وہ راہل کو بہت بھولا مانتے ہیں اور اس لیے راہل کے آس پاس زیادہ تر ویسے ہی لوگ ہیں، جو اس طرح کے ناٹک میں بھروسہ کرتے ہیں۔ دوسری طرف، راہل گاندھی اپنے لیے دوسرے ریکارڈ رکھتے ہیں۔ وہ خود فالکن ہوائی جہاز میں چلتے ہیں، جب کہ نہرو جی ملک میں سدبھاؤنا یاترا پر ٹرین سے نکلتے تھے۔ فالکن اور جیٹ ایسے ہوائی جہاز ہیں، جو چھوٹے ہوائی اڈوں پر نہیں اتر سکتے۔ تو، بڑے ہوائی اڈے پر راہل گاندھی فالکن یا سہارا کے بڑے جیٹ سے اتر کر، ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر جہاں میٹنگ ہوتی ہے، وہاں جاتے ہیں۔ الیکشن کے لیے جو پیسہ جمع کیا گیا، اس میں سے راہل گاندھی نے فالکن ہوائی جہاز کے کرایے پر ہی 400 کروڑ روپے خرچ کر دیے۔ راہل گاندھی کو چھوٹے جہاز میں چلنا پسند نہیں ہے۔ راہل گاندھی کے اوپر یہ کہاوت بہت سٹیک بیٹھتی ہے اور شاید کسی نے لکھا بھی ہے کہ ’سوشلسٹ بائی ڈے اینڈ ایلیٹسٹ بائی نائٹ‘۔ راہل گاندھی شام کے بعد لوگوں کی پہنچ سے باہر چلے جاتے ہیں، اور یہی راہل گاندھی کی شخصیت کا پہلا کنٹراڈکشن ہے کہ وہ اپنے لیے سادگی نہیں پسند کرتے، لیکن جو سادگی کا ناٹک کرتا ہے، اسے وہ صحیح مانتے ہیں۔ راہل گاندھی نے الیکشن میں کانگریس کو جتانے والے فورس، یوتھ کانگریس اور این ایس یو آئی کے اوپر سینکڑوں کروڑ روپے خرچ کر دیے اور نتیجہ کے طور پر کانگریس کو ہر جگہ گنتی گننے لائق ہی سیٹیں ملیں۔
راہل گاندھی کی شخصیت کی ایک اور مثال امینہ شیخ والا اشتہار ہے، جس کے اوپر راہل گاندھی نے 300 کروڑ روپے خرچ کیے، جس میں امینہ شیخ کہتی ہیں کہ وہ یوتھ کانگریس کی ممبر ہیں اور وہ راہل گاندھی کو ووٹ دیں گی۔ اس اشتہار کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ امینہ شیخ اگر یوتھ کانگریس کی ممبر ہیں، تو وہ راہل گاندھی کو نہیں تو کیا نریندر مودی کو ووٹ دیں گی؟ اس کی جگہ یہ ہوتا کہ، میں گوا یونیورسٹی کی طالبہ ہوں اور میں راہل گاندھی کو ووٹ دوں گی۔ لیکن راہل گاندھی کی ٹیم میں کسی نے اس اشتہار کے ذریعے ہونے والے نقصان کو دیکھا ہی نہیں۔ نتیجہ کے طور پر وہ 300 کروڑ روپے کا اشتہار برباد ہو گیا۔ کانگریس کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اسی طرح بغیر دماغ کے اشتہارات نے کانگریس کو لوک سبھا کے انتخابات میں کراری ہار دلوائی۔ راہل کی سائیکلوجی بھی مزیدار ہے۔ راہل ہارڈ ورکر مانے جاتے ہیں اور انہوں نے پچھلے دس سالوں میں بہت پڑھا لکھا بھی ہے۔ وہ ہر موضوع پر بات کر سکتے ہیں۔ وہ اپنے صلاح کاروں کی ٹیم کے ساتھ اپنی ایک رائے بناتے ہیں، تب انہیں جو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ اسے پسند نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر آنند شرما جیسوں کا نام، جو ہائی فائی ہاتھ ہلاتے ہوئے زبان میں جب بات کرتے ہیں، تو راہل کو یہ پسند نہیں آتا۔ یہ بھی صحیح ہے کہ وہ جلدی متاثر نہیں ہوتے ہیں۔ ان کی اپنی دلیلیں ہیں اور اس کی شروعات ان کی پڑھائی کے دنوں سے ہوئی۔ دہلی سے انہیں بچپن سے ہی باہر رکھا گیا۔ وہ امریکہ میں رہے، جہاں انہیں کمل ڈانڈونا کے ساتھ رہنا پڑا۔ کمل ڈانڈونا راجیو گاندھی کے دوست اور بڑے بزنس مین تھے، جہاں سے راہل میں ایک الگ طرح کا اعتماد آیا اور جس اعتماد کو آپ نک چڑھا اعتماد کہہ سکتے ہیں۔ ایک فطرت پیدا ہوئی، جس میں انہیں اپنے علاوہ سب غلط لگتے ہیں۔
والد کے قتل کے بعد راہل گاندھی ملک میں واپس آئے اور ماں کی خواہش کے مطابق دھیرے دھیرے ملک کی سیاست میں کھپے بھی، لیکن یہ ملک انہیں بہت پسند نہیں آیا۔ انہیں جب وقت ملتا، وہ اپنے دوستوں سے ملنے باہر چلے جاتے۔ ابھی بھی تقریباً ایسا ہی ہے۔ راہل کے بہت سے پروگرام ان کے غیر ملکی سفر کو دیکھ کر بنتے ہیں اور اس غیر ملکی سفر یا کہیں کہ اپنے دوستوں سے ملنے کی خواہش نے ان میں ایک اور عادت پیدا کر دی کہ وہ کسی بھی چیز پر کنسنٹریٹ نہیں کرتے۔ دس دن تک ایک اور دس دن کے بعد دوسرا موضوع۔ اوراس سارے عمل کے دوران چونکہ آپ ملک میں نہیں رہتے ہیں، تو آپ کو وہ لوگ پسند نہیں آتے ہیں، جن لوگوں میں اندرونی طاقت ہے اور جو پارٹی کے لیے کچھ کر سکتے ہیں۔ اسی حالت نے ان کے اندر ایک اور خامی پیدا کر دی ہے۔ وہ کہتے ہیں ’آئی نو ایوری تھنگ، وہاٹ آئی ایم سیئنگ اِز رائٹ، وہاٹ یو آر سجیسٹنگ یو آر رانگ‘۔ اور اس نے راہل گاندھی کی شخصیت میں ایروگینس کو پیدا کر دیا ہے، اور جہاں ایروگینس ہوتا ہے اور جب وہ پبلک کے سامنے آ جاتا ہے یا پارٹی کے سامنے آ جاتا ہے، تو اس کے نتیجے بہت خراب ہوتے ہیں۔
راہل گاندھی کا دماغ بنانے والے موہن گوپال سے پہلے یہ کام جے رام رمیش کرتے تھے، لیکن اب وہ اس دائرے سے باہر ہیں۔ موہن گوپال بھی مڑے تڑے کپڑے پہنتے ہیں۔ وہ پہلے این ایس یو آئی میں تھے۔ وہ پہلے امریکہ گئے اور وہاں سے ملک کی سیاست سیکھ کر آئے ہیں۔ اوبی سی حامی ہیں اور وہ راہل گاندھی کو مختلف موضوعات پر نوٹس بنا کر دیتے رہتے ہیں۔ راجو آندھرا پردیش کے رہنے والے ہیں اور ایس سی؍ ایس ٹی طبقہ سے آتے ہیں۔ راہل گاندھی کی تقریروں میں جب ایس سی ؍ ایس ٹی کا ذکر آتا ہے، تو اس کے پیچھے راجو کا تعاون شامل حال ہوتا ہے۔ کچھ رول مدھو سودن مستری، سی پی جوشی اور کبھی موہن پرکاش بھی نبھاتے ہیں۔ یہ ہیں راہل گاندھی کے راست طور پر دماغ بنانے والے دوست۔ کیرل سے آنے والے موہن گوپال موٹا کرتا پہنتے ہیں۔ ابھی راہل گاندھی سے دہلی الیکشن سے ٹھیک پہلے غلطی ہوئی۔ غلطی یہ کہ انہوں نے یوتھ کانگریس کی ایک میٹنگ بلائی، جس میں ایک نتیجہ نکلا کہ چونکہ کانگریس مسلم حامی زیادہ ہو گئی ہے، اس لیے کانگریس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اب سوال یہ ہے کہ جب میٹنگ ہی کرنی تھی، تو دہلی الیکشن کے بعد ہی کر تے۔ اس حقیقت کے اجاگر ہوتے ہی آپ کو ملنے والا ایک دو فیصد ووٹ بھی صفر ہو گیا۔
سی پی جوشی صاحب وزیر اعلیٰ بنتے بنتے رہ گئے تھے۔ ایک ووٹ سے نہیں ہارتے، تو وہ راجستھان میں گہلوت کی جگہ وزیر اعلیٰ ہوتے۔ انہیں گجرات سونپا گیا۔ انہوں نے وہاں تھیوری نکالی کہ جو دو بار ہار گیا ہے، اسے ٹکٹ نہیں دینا چاہیے۔ اور اس اصول نے گجرات میں سب کے ٹکٹ کٹوا دیے، جس میں نرہری امین جیسا بڑا نام بھی شامل ہے۔ جو ہارڈ کور کانگریسی رہے، وہ بھی کانگریس سے دور جانے لگے۔ خود سی پی جوشی ہمیشہ غصے میں رہنے والے شخص دکھائی دیتے ہیں۔ پارٹی ایک طرح کے بھرم میں جی رہی ہے۔ شمالی ہند کی سیاست کے تضاد کو مدھو سودن مستری نہیں سمجھتے۔ انہوں نے اتر پردیش میں، جہاں ذات کی سیاست بری طرح چلتی ہے، ان کے مشورے پر نرمل کھتری پارٹی کے صدر بنے ہوئے ہیں۔

کھتری لگاتار کہہ رہے ہیں کہ وہ بیمار ہیں۔ وہ پارٹی کو آگے نہیں لے جا سکتے۔ لیکن چونکہ مدھو سودن مستری نے مشورہ دیا ہے، تو راہل گاندھی انہیں ہی صدر بناکر الیکشن کی لڑائی لڑنا چاہتے ہیں۔ راہل گاندھی اس رائے پر بھی گئے کہ سمجھوتے نہیں کرنے ہیں، اتحاد میں نہیں جانا ہے، تو انہوں نے مہاراشٹر میں بنتا ہوا اتحاد توڑ دیا۔ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس سے رشتہ توڑ دیا، جب کہ جموں میں آٹھ سیٹیں کانگریس ایک ہزار سے کم ووٹوں سے ہاری ہے۔ راہل گاندھی کے بارے میں، جو ان کے ساتھ میٹنگوں میں بیٹھتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ مشتعل ہو کر (انگریزی میں ہائپر کہتے ہیں) فیصلے لیتے ہیں۔ ان کے اس جملہ کو ’یو ڈونٹ نو وہاٹ آئی ایم سیئنگ اِز رائٹ‘، لوگ اکثر سنتے ہیں۔
کانگریس کم ہو رہی ہے، سکڑ رہی ہے یا کانگریس کارکنوں کے الفاظ میں، کانگریس ڈوب رہی ہے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے لیڈروں نے سونیا گاندھی کا نام گاندھاری رکھ دیا ہے، جسے اپنے بیٹے کا کوئی بھی نگیٹو پوائنٹ، شخصیت میں کوئی بھی کمی دکھائی ہی نہیں دیتی۔ لوک سبھا الیکشن ہارنے کے بعد، جس میں پہلی بار راہل کو ایک بڑے لیڈر کے طور پر پروجیکٹ کیا گیا تھا، ماں، یعنی سونیا گاندھی راہل کو لے کر اووَر پروٹیکٹو ہو گئی ہیں۔ کانگریس کے ایک بہت بڑے لیڈر نے ایک کہانی سنائی کہ یہ ہوبہو کسی ایک واقعہ کا دوبارہ رونما ہونا ہے۔ جب کانگریس الیکشن ہار گئی، تو سنجے گاندھی کو لے کر شریمتی اندرا گاندھی بھی بہت اووَر پروٹیکٹو ہو گئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ 1977 کی ہار کے بعد رام لیلا میدان میں ایک اجلاس ہو رہا تھا۔ سنجے گاندھی نیچے سامعین کے ساتھ بیٹھے تھے۔ کچھ لوگوں نے شور مچایا کہ سنجے گاندھی کو اوپر لاؤ، تو کچھ بڑے کانگریسی لیڈروں نے اس کی مخالفت کی۔ اس میں بسنت ساٹھے کا نام سب سے اوپر تھا۔ جب پروگرام ختم ہو گیا، تو اندرا جی نے اس لیڈر کو بلایا اور کہا کہ آپ کے پاس جو کار ہے، اسے جانے دیجیے، آپ میری کار میں چلئے۔ راستے میں انہوں نے اس لیڈر سے کہا کہ وسنت ساٹھے سے کہیے کہ اگر آگے انہوں نے ایسا کیا، تو میں انہیں پارٹی سے نکال کر پھینک دوں گی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سنجے گاندھی کے سارے نزدیک کے لوگوں کو بلائیے اور انہیں اِنکریج کریے اور انہیں پارٹی سے جو مدد مل سکتی ہے، وہ دیجیے۔
لوگ سونیا جی سے کہتے ہیں کہ کانگریس سمٹ رہی ہے۔ وہ سب سن رہی ہیں، مگر خاموش رہتی ہیں۔ شاید یہ اس حقیقت کو پختہ کرتا ہے کہ وہ راہل کو لے کر اووَر پروٹیکٹو ہو گئی ہیں۔ حالانکہ ماں دیکھ رہی ہے کہ نقصان ہو رہا ہے، لیکن کچھ کر نہیں پا رہی ہیں۔ وہ بیٹے اور پارٹی کی حالت کے درمیان شاید کوئی راستہ تلاش کر رہی ہیں۔ دوسری طرف، راہل گاندھی بات کرنے میں بہت تیز ہیں۔ مجھے جس لیڈر نے یہ واقعہ بتایا، اس نے کہا کہ وہ بہت استاد ہیں۔ وہ ہر بار اپنی ماں کو کنونس کر لیتے ہیں اور ماں سے کہتے ہیں کہ ماں ایسے پارٹی کو ٹھیک کروں گا، ویسے ٹھیک کروں گا، ایک الیکشن باہر رہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ میں پارٹی کو ایسے بناؤں گا، یوتھ کانگریس کو اس طرح مضبوط کروں گا اور سیاست میں اچھے لوگوں کو لا کر دس سال بعد، پچاس سال کے لیے کانگریس پارٹی کو اقتدار میں لے آؤں گا، یعنی 2025 میں سرکار ہماری ہوگی، مطلب کانگریس کی ہوگی۔ شاید راہل گاندھی کی انہی باتوں سے متاثر ہو کر سونیا گاندھی ستمبر میں راہل گاندھی کو کانگریس صدر بنانے جا رہی ہیں۔
کانگریس کا مستقبل کس کے ہاتھ
راہل یا پرینکا
راہل کی بہن پرینکا گاندھی، جو اب تک لگاتار کہہ رہی ہیںکہ وہ سیاست میں کبھی نہیں آئیں گی۔ دراصل، راہل گاندھی کے ساتھ پرینکا کا رشتہ بھی عجیب ہے۔ سارے کارکن چاہتے ہیں کہ پرینکا آئیں، لیکن پرینکا کا ماننا ہے کہ اگر وہ بغیر راہل کو کامیابی ملے سیاست میں آتی ہیں، تو لوگ مانیں گے کہ انہوں نے سیاست سے راہل گاندھی کو باہر کر دیا اور یہ خود پرینکا کا بھی ماننا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک قریبی دوست سے کہا کہ میں اگر ابھی آتی ہوں، اگر راہل کو کامیابی نہ ملے، تو راہل کو ’ڈِس لاج‘ کرنا مانا جائے گا۔ پرینکا یہ جانتی اور مانتی ہیں کہ جس دن وہ کانگریس میں آ گئیں، اس دن ایک بھی آدمی راہل کے پاس نہیں جائے گا۔ اُس دن راہل پر ینکا کی جگہ ہوں گے اور ’آئیسو لیٹ‘ ہو جائیں گے۔ پرینکا نے اپنے قریبی لوگوں سے کہا کہ یہ غلط ہے کہ راہل ان کے سیاست میں آنے کے خلاف ہیں۔ دراصل، راہل نے انہیں اتر پردیش کانگریس کی صدر بننے کی تجویز رکھی تھی اور یہ بھی کہا کہ وہ مرکز میں جنرل سکریٹری بن جائیں اور ان کے ساتھ گھومیں۔ سونیا گاندھی کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ سونیا گاندھی ہاں بھی نہیں کہہ رہی ہیں۔ شاید وہ بھی اس صورتِ حال کو سمجھ رہی ہیں کہ اگر پرینکا سیاست میں آئیں گی، تو راہل گاندھی کو کوئی نہیں پوچھے گا۔ سونیا گاندھی بھی آخرکار ریٹائرمنٹ لینا چاہتی ہیں، اس لیے وہ ستمبر میں صدر کا عہدہ چھوڑ رہی ہیں۔ اس کی شروعات انہوں نے کر بھی دی ہے۔ پچھلے چھ مہینے سے سارے اختیارات انہوں نے راہل گاندھی کو دے دیے ہیں۔ راہل اپنے ساتھیوں سے کہتے ہیں کہ ان کے پاس اختیار ہی نہیں ہیں۔ شاید وہ ماں کے مکمل ریٹائرمنٹ کے بعد ہی خود کو با اختیار مان پائیں گے، ایسا ان کے دوستوں کا کہنا ہے۔ راہل اکثر کہتے ہیں کہ ’ممی کے لوگ‘ انہیں کچھ کرنے ہی نہیں دیتے۔ ’ممی کے لوگوں‘ سے سیدھا مطلب احمد پٹیل، جناردن دویدی اور موتی لال ووہرہ سے ہے۔
پرینکا گاندھی سے ان کی دوست نے کہا کہ راہل کو آدمیوں کی پہچان نہیں ہے۔ اس پر پرینکا نے کہا کہ یہ غلط ہے۔ راہل کو آدمیوں کی پہچان ہے، لیکن ان کی کمزوری یہ ہے کہ وہ جسے پسند نہیں کرتے، اس کے منھ پر کہہ دیتے ہیں، جب کہ میں کہتی نہیں ہوں۔ پرینکا کا ماننا ہے کہ راہل ٹیکٹ فل نہیں ہیں۔ پرینکا کی اس دوست کا یہ بھی کہنا ہے کہ پرینکا ماں اور بھائی کے مسئلے اور تضادات کو سمجھتی ہیں۔ کانگریس کا ہر کارکن کہہ رہا ہے کہ راہل فیل ہو گئے ہیں۔ پرینکا سے تو لوگوں نے یہاں تک کہا کہ بیمار کو تو آپ بچا سکتی ہیں، لیکن مردوں کو کیسے زندہ کریں گی؟ پرینکا لوگوں کی تشویشوں کو سنتی ہیں۔ ان کی اپنی حالت بھی پچھلے کچھ دنوں میں بدلی ہے۔ پہلے وہ کہتی تھیں کہ سیاست میں نہیں آئیں گی، لیکن اب وہ آئیں گی۔ کب آئیں گی، یہی فیصلہ پرینکا گاندھی کو کرنا ہے اور کانگریس کے کارکن اس کا انتظار کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی کہتے ہیں کہ پرینکا کو اتر پردیش کا صدر بننے کے بعد مرکز میں آنا چاہیے۔ لیکن پرینکا کو لگتا ہے کہ جس نے بھی راہل کو یہ مشورہ دیا ہے، وہ پرینکا کو سیاست میں ناکام کرنا چاہتا ہے۔ پرینکا کو لوگ صلاح دے رہے ہیں کہ انہیں جنرل سکریٹری انچارج آرگنائزیشن بن کر سیاست میں آنا چاہیے۔ اندازہ یہ ہے کہ مدھو سودن مستری جیسوں نے راہل کے دماغ میں پرینکا کو اتر پردیش کا صدر بنانے کا آئڈیا ڈالا ہے۔
سونیا یہ مانتی ہیں کہ نریندر مودی کو نہ نتیش روک پائیں گے، نہ ملائم سنگھ، صرف راہل گاندھی روک پائیں گے۔ کانگریس کے بقیہ لیڈروں کا ماننا ہے کہ انہیں صرف پرینکا روک سکتی ہیں۔ راہل تو پہلے دور میں انہیں 2025 تک وزیر اعظم بنے رہنے کا راستہ دے رہے ہیں۔ کانگریس کے کچھ لیڈروں کا ماننا ہے کہ اب اکیلے پرینکا بھی نہیں روک سکتیں، کیوں کہ آج کی سیاسی سچائیاں بدل گئی ہیں۔ انہیں علاقائی طاقتوں سے اتحاد یا سمجھوتہ کرنا پڑے گا، تبھی نریندر مودی کا راستہ روکنے کا طریقہ تلاش کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے وہ راہل گاندھی سے زیادہ پرینکا گاندھی کو موزوں مانتے ہیں۔ ایک بڑے لیڈر کا کہنا ہے کہ اروِند کجریوال، ملائم سنگھ، نتیش کمار، لالو یادو، اوم پرکاش چوٹالہ وغیرہ سے اتحاد کرنا اب ضروری ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی جگن موہن ریڈی اور ممتا بنرجی سے بھی تعلقات دوبارہ بڑھانے پڑیں گے۔ اس لیڈر کا کہنا ہے کہ 1991 کی بی جے پی کو کانگریس نہیں ہٹا پائی یا نہیں رِپلیس کر پائی، 1993 کی ایس پی اور بی ایس پی کو رِپلیس نہیں کر پائی، بلکہ کانگریس سکڑتی اور ہارتی چلی گئی۔ تب یہ کیسے مانا جائے کہ کانگریس اکیلے نریندر مودی کا مقابلہ کرلے گی؟ انہیں لگتا ہے کہ ان سب لوگوں کو ساتھ لے کر ہی نریندر مودی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
بہار میں ایک عجیب صورتِ حال ہے۔ نتیش کمار کانگریس کے حامی ہیں، وہیں لالو یادو کانگریس کے مخالف ہو گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں راہل کیا کریں گے؟ اگر پرینکا ساتھ آئیں، تو کانگریس کے لیڈروں کو کچھ امید ہے۔ اس میں تضادات کس طرح کے پیدا ہوں گے، اس پر بھی کانگریسی لیڈروں کو ڈر ہے۔ ویسے کانگریس کے لیڈروں کا ماننا ہے کہ بہن، یعنی پرینکا گاندھی اس سیاست کو، جس میں نریندر مودی کا طوفان چل رہا ہے، روکنے میں زیادہ اثر دار ثابت ہوں گی۔ کانگریس میں امید ہے کہ پرینکا گاندھی کے آنے سے کارکنوں میں جوش آ جائے گا۔ دوسرا، انہیں اچھی سیاسی صلاح دی جا سکتی ہے، جو راہل گاندھی کو نہیں دی جاسکتی، کیوں کہ راہل سنتے ہی نہیں ہیں، جیسے بہار میں کس کے ساتھ جانا چاہیے، جگن کو واپس لانا چاہیے۔ اب ایک نئی جانکاری ملی ہے کہ پرینکا گاندھی گزشتہ انتخابات میں چاہتی تھیں کہ راہل گاندھی اکھلیش یادو کے پاس لکھنؤ ملنے جائیں اور ساتھ میں چائے پی کر آ جائیں۔ وہ خود مایاوتی سے ملنے خاموشی سے آٹو رکشہ میں بیٹھ کر جانا چاہتی تھیں، لیکن وہ راہل گاندھی کی ناراضگی کی وجہ سے نہیں گئیں۔ ان کے بارے میں ماننا ہے کہ وہ سیاسی اتحاد کے لیے کھلی ہیں۔ شرد پوار کی بیٹی سے ان کی دوستی ہو سکتی ہے۔ کانگریس کے لوگوں کا ماننا ہے کہ پرینکا سیاست میں ناک آگے کرکے نہیں چلیں گی، جب کہ راہل آج ایسا ہی کر رہے ہیں۔ کانگریس کودوبارہ اقتدار میں آنے کے لیے ایک بڑا اتحاد بنانے کی ضرورت ہے، جسے کانگریسی لیڈروں کی رائے میں صرف پرینکا بنا سکتی ہیں۔
کانگریس کے کچھ لیڈروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ کچھ ریاستوں کو وہاں کے لیڈروں کے لیے چھوڑ دینا چاہیے، جیسے ممتا بنرجی کے لیے مغربی بنگال چھوڑ دیں، جگن موہن ریڈی کے لیے آندھرا پردیش چھوڑ دیں، شرد پوار کے لیے مہاراشٹر چھوڑ دیں اور ان کی پارٹیوں کو کانگریس میں ضم کر لیں۔ لیکن انہی لیڈروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اسے صرف پرینکا گاندھی ہی ممکن بنا سکتی ہیں، راہل گاندھی نہیں۔ بہت ساری چیزوں کو دوبارہ متعارف کرنے کی ضرورت ہے، جس سے کانگریس کی حکمت عملی سامنے آئے گی۔ کانگریس کی ناک کے نیچے سے برہمن اور دلت بھارتیہ جنتا پارٹی اور الگ الگ ریاستوں میں الگ الگ لیڈروں کے پاس چلا گیا۔ ان طبقوں کو واپس لانے میں صرف اور صرف پرینکا گاندھی کامیاب ہو سکتی ہیں۔لیکن کانگریس کے لیڈروں کا یہ جنگل میں ماتم ہے۔ وہ رو رہے ہیں، وہ چیخ رہے ہیں، وہ ہاتھ جوڑ رہے ہیں،دوبارہ سیاست میں کھڑے ہونا چاہتے ہیں۔ لیکن کسی بھی طرح ان کی بات نہ سونیا گاندھی سن رہی ہیں، نہ راہل گاندھی سن رہے ہیں اور پرینکا گاندھی بے دلی سے سن رہی ہیں۔ اس کانگریس کا بکھرنا جمہوریت کے لیے نیک فال نہیں ہے، ایسا خود کانگریس کے لیڈروں کا کہنا ہے۔ لیکن جنگل میں رونا ہو رہا ہے۔ نہ کوئی سن رہا ہے، نہ کوئی آنسوؤں کو دیکھ رہا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *