نئی تعلیمی پالیسی بنانا بی جے پی سرکار کی اچھی کوشش

ڈاکٹر قمر تبریز
p-4نریندر مودی کی قیادت والی موجودہ مرکزی سرکار 29 سال کے بعد ملک میں ایک نئی تعلیمی پالیسی بنانے جا رہی ہے۔ اس کے لیے اس نے تعلیم سے متعلق 33 مختلف موضوعات کے تحت ملک و بیرونِ ملک کے دانشوروں، ماہرین تعلیم، صنعت کاروں اور ملک کے عام شہریوں سے مشورے طلب کیے ہیں۔ ان سبھی 33 موضوعات کو مرکزی سرکار کی ویب سائٹ www.mygov.in پر گزشتہ 25 جنوری کو اَپ لوڈ کیا گیا ہے، تاکہ لوگ سرکار کو براہِ راست اپنے مشورے اور تجویزیں بھیج سکیں۔ سرکار اِن سبھی مشوروں اور تجویزوں کو اسی سال جون میں قومی تعلیمی کمیٹی کے سامنے رکھے گی۔ اس کے بعد کمیٹی ان سبھی رائے مشوروں اور تجویزوں کی روشنی میں ایک نئی تعلیمی پالیسی بنائے گی، جسے آنے والے دنوں میں ملک میں نافذ کیا جائے گا۔ فی الحال ہندوستان بھر میں راجیو گاندھی حکومت کے ذریعے 1986 میں بنائی گئی قومی تعلیمی پالیسی نافذ ہے، جس میں 1992 میں تھوڑی بہت ترمیم کی گئی تھی۔ اس سے پہلے، آزاد ہندوستان میں پہلی بار 1968 میں اندرا گاندھی کی حکومت نے پہلی قومی تعلیمی پالیسی بنائی تھی۔ نئی تعلیمی پالیسی سے متعلق مودی سرکار کی اس پہل پر بات کرنے سے پہلے، آئیے دیکھتے ہیں کہ آزادی سے پہلے انگریزوں کے دور میں ہندوستان میں تعلیم کی کیا صورتِ حال تھی۔
ہم سبھی یہ جانتے ہیں کہ انگریز ہندوستان میں ایک تاجر کے طور پر آئے تھے۔ اُس وقت ہندوستان پر مغلوں کی حکومت تھی۔ مغلوں سے ایسٹ انڈیا کمپنی کے تحت تجارت کرنے کی منظوری حاصل کرنے کے بعد انگریزوں نے ملک بھر میں اپنی تجارتی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ لیکن کچھ دنوں بعد وہ اتنے طاقتور ہو گئے کہ انہوں نے مغلوں کو شکست دینے کے بعد ہندوستان پر اپنی حکومت قائم کر لی۔ شروع میں انگریزوں نے اپنی ہندوستانی رعایا کی تعلیم میں کوئی زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی۔ انگریزوں کے ذریعے 1792 میں بنارس میں سنسکرت کالج اور 1781 میں کلکتہ مدرسہ اس لیے قائم کیا گیا، تاکہ ان دونوں جگہوں سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے مذہبی قوانین کے ماہرین پیداکیے جا سکیں، جو عدالتی کارروائی میں انگریزوں کی مدد کر سکیں۔ لیکن وقت جیسے جیسے آگے بڑھتا گیا، ایسٹ انڈیا کمپنی پر عیسائی مشنریوں اور بعض ہندوستانیوں کی طرف سے جدید تعلیم کو فروغ دینے کے لیے دباؤ بڑھنے لگا۔ آخر کار ایسٹ انڈیا کمپنی 1813 کے چارٹر ایکٹ کی شکل میں ہندوستانیوں کی تعلیم کے لیے پہلا قانون لے کر آئی۔ اس قانون کے تحت پہلی بار ہندوستان میں ماڈرن سائنس کے فروغ اور اعلیٰ تعلیم کے شوقین ہندوستانیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے سالانہ ایک لاکھ روپے خرچ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن کچھ دنوں بعد ہی انگریزوں حکومت کے سامنے دو بڑے سوال کھڑے ہو گئے۔ پہلا سوال یہ تھا کہ کیا ہندوستانیوں کو مغربی تعلیم دی جائے یا پھر روایتی ہندوستانی تعلیم کو ہی آگے بڑھایا جائے؟ اور، دوسرا سوال یہ تھا کہ انہیں یہ تعلیم ہندوستانی زبانوں میں ہی دی جائے یا پھر انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے؟ ان دونوں سوالوں کا جواب 1835 میں اس وقت ملا، جب تھامس بیبنگٹن میکالے نے ہندوستانیوں کی تعلیم سے متعلق 36 نکات پر مبنی اپنا ایک تفصیلی خاکہ اس وقت کے گورنر جنرل ولیم بینٹنک کے سامنے رکھا۔ میکالے نے اس میں نہ صرف انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانے پر زور دیا، بلکہ اس نے ہندوستانیوں کو جدید سائنس پڑھانے کی بھی پوری وکالت کی۔ لیکن اس کی سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ اس میں عام ہندوستانیوں کی تعلیم پر بالکل بھی دھیان نہیں دیا گیا تھا۔ اس کے برعکس، انگریز ہندوستانیوں میں سے ہی چند ایسے افراد پیدا کرنا چاہتے تھے، جو دیکھنے میں تو ہندوستانی لگیں، لیکن ان کی سوچ اور آداب و اخلاق انگریزوں جیسے ہوں۔ یہی نہیں، انگریزوں نے انھیں ہندوستانیوں کو سرکاری نوکریاں دینے کا فیصلہ کیا، جنہوں نے انگریزی میڈیم اسکولوں اور کالجوں سے تعلیم مکمل کی ہو۔ انگریزوں کے ہی زمانے میں اس خامی کو اس وقت دور کر لیا گیا، جب 1854 میں سر چارلس ووڈ نے ایک نیا تعلیمی خاکہ پیش کیا، جو ووڈس ڈِسپیچ کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں نہ صرف عام ہندوستانیوں کی تعلیم پر زور دیا گیا، بلکہ لڑکیوں کی تعلیم، مقامی زبانوں کی اصلاح و ترقی اور سیکولر ازم پر مبنی تعلیم پر بھی زور دیا گیا تھا۔
آزادی کے بعد جب اندرا گاندھی کے دورِ حکومت میں 1968 میں پہلی قومی تعلیمی پالیسی بنائی گئی، تو اس میں آئین کے دفعہ 45 کو مد نظر رکھتے ہوئے 14 سال تک کے ملک کے ہر بچے کے لیے مفت اور لازمی بنیادی تعلیم کو یقینی بنایا گیا۔ اس کے علاوہ ٹیچروں کی بہتر تعلیم و تربیت، ہندی اور انگریزی کے ساتھ ساتھ دوسری علاقائی زبانوں کے فروغ، سب کو تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے، سائنس کی تعلیم و تحقیق اور زراعت و صنعت کی تعلیم پر بھی زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ اس نئی تعلیمی پالیسی کے تحت ملک بھر میں 10+2+3 نظامِ تعلیم کو بھی نافذ کیا گیا۔ اس سے پہلے 1961 میں نیشنل کونسل فار ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آرٹی) قائم کرکے، اسے پہلی سے بارہویں کلاس تک کے بچوں کے لیے نصابی کتابیں تیار کرنے کی ذمہ داری جواہر لعل نہرو کے دورِ حکومت میں ہی دی جا چکی تھی، جو کہ کم و بیش اب تک یہ ذمہ داری نبھا رہی ہے۔
اس کے بعد راجیو گاندھی کے دورِ حکومت میں 1986 میں دوسری بار قومی تعلیمی پالیسی بنائی گئی۔ اس کے تحت تعلیم تک سبھی طبقوں کی رسائی پر سب سے زیادہ زور دیا گیا، خاص کر خواتین اور ایس سی ؍ ایس ٹی کے لوگوں کی تعلیم پر۔ اس کے علاوہ 1992 میں ایک نئی ترمیم کرکے انجینئرنگ کورس میں داخلہ کے لیے پہلی بار تین امتحانوں کی شروعات کی گئی، جوائنٹ انٹرنس ایگزامنیشن (جے ای ای) اور آل انڈیا انجینئرنگ انٹرنس ایگزامنیشن (اے آئی ای ای ای) قومی سطح پر اور اسٹیٹ لیول انجینئرنگ انٹرنس ایگزامنیشن (ایس ایل ای ای ای) ریاستی سطح پر۔
اب اگر ہم مودی سرکار کی نئی تعلیمی پالیسی سے متعلق موجودہ پہل کا موازنہ 1986 کی قومی تعلیمی پالیسی سے کریں، تو اس میں زیادہ تر موضوعات تو پرانے ہی ہیں، البتہ ان موضوعات کو موجودہ تقاضوں کے تحت مزید وسعت دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر رائٹ ٹو ایجوکیشن (تعلیم کا حق) کے نافذ ہونے کے بعد اب ملک بھر کے سیکنڈری اور سینئر سیکنڈری اسکولوں پر زیادہ سے زیادہ بچوں کو داخلہ دینے کا دباؤ پڑنے لگا ہے۔ اسی کے مد نظر مودی سرکار نے لوگوں سے رائے مانگی ہے کہ کیسے اس مسئلہ کو بہتر ڈھنگ سے حل کیا جائے۔ اسی طرح ملک میں دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ تعلیم تو حاصل کر لیتے ہیں، لیکن چونکہ ان کے اندر کوئی ایسا ہنر نہیں ہوتا، جس کی بنیاد پر یہ سبھی لوگ کسی انڈسٹری میں ملازمت حاصل کر سکیں۔ اس کے لیے مودی سرکار شروع سے ہی ہنر مندی کے فروغ (اسکل ڈیولپمنٹ) پر زور دے رہی ہے۔ تعلیم کے میدان میں بھی اس کی کوشش ہے کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے دوران ہی اگر طالب علموں کو اسکل ڈیولپمنٹ سے جوڑ دیا جائے، تو وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اچھی نوکریاں بھی حاصل کر سکیں گے اور اس طرح بے روزگاری کے مسئلہ کو حل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے انڈسٹری اور تعلیم کے درمیان تال میل بنانے اور پی پی پی (پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ) ماڈل کو اپنانے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے پیچھے دلیل یہ ہے کہ ہائر ایجوکیشن کو بہتر بنانے کے لیے سرکاری مدد کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون کی بھی ضرورت ہے، تبھی جا کر مطلوبہ نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ نئی تعلیمی پالیسی میں پہلی بار نیا علم حاصل کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اس کے تحت سرکار کی یہ کوشش ہوگی کہ پوری دنیا میں نئی نئی ٹکنالوجیوں کی ایجاد کی وجہ سے علم کے جو نئے گوشے منظر عام پر آ رہے ہیں، ان کی نشاندہی کرکے ہندوستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بھی ان علوم پر مبنی شعبے قائم کیے جائیں، تاکہ ہندوستان کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کی ان ٹکنالوجیوں سے متعلق ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستانی سرکار کی گزشتہ کئی سالوں سے ایک تشویش یہ بھی رہی ہے کہ ہندوستانی یونیورسٹیاں عالمی درجہ بندی (ورلڈ رینکنگ) میں اپنا مقام نہیں بنا پاتیں۔ لہٰذا، مودی سرکار نے لوگوں سے یہ رائے بھی مانگی ہے کہ سرکار ایسے کون سے اقدام کرے، جن کی وجہ سے ہندوستانی یونیورسٹیوں کو عالمی درجہ بندی میں نمایاں مقام حاصل ہو سکے۔
اس کے علاوہ مودی سرکار تعلیم بہترین ٹیچرس بھی پیدا کرنا چاہتی ہے، جو پوری دنیا میں جاکر تعلیمی میدان میں اپنی خدمات انجام دے سکیں اور اس طرح ہندوستان کے دیرینہ ’وشو گرو‘ (ورلڈ ٹیچر) کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کر سکیں۔ ٹیچروں کی بہتر تعلیم و تربیت پر 1968 اور اس کے بعد 1986 کی قومی تعلیمی پالیسیوں میں بھی زور دیا گیا تھا۔ اب اس میں ’وشو گرو‘ لفظ کا اضافہ کرکے ملک میں بڑی تعداد میں ایسے ٹیچرس پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو نہ صرف ملک بھر کے اسکولوں میں ٹیچروں کی کمی کو پورا کرسکیں، بلکہ یہ ٹیچر میتھ اور سائنس بھی موجودہ تقاضوں کے مطابق پڑھا سکیں اور ایسے بچے پیدا کر سکیں، جو آگے چل کر میتھ اور سائنس کے میدان میں نئی ریسرچ کو آگے بڑھائیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ سرکار کب تک اس نئی تعلیمی پالیسی کو حتمی شکل دیتی ہے اور اس نے اس کے لیے جو خاکہ پیش کیا ہے، وہ کب تک عملی شکل اختیار کر پاتا ہے۔ 29 سال کے بعد ملک میں تعلیمی ڈھانچہ کو بہتر بنانے کی یہ کوشش اس لیے بھی قابل تعریف ہے کہ پرانے تعلیمی نظام پر قائم رہتے ہوئے ہم ملک میں ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل نہیں کر سکتے۔ دنیا بھر میں ہر روز تعلیم کے میدان میں کچھ نہ کچھ نیا ضرور ہوتا ہے۔ اگر ہمیں دوسرے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ خود کو آگے بڑھانا ہے، تو ہمیں خود کو بھی اَپڈیٹ کرنا ہوگا اور آنے والی نئی نسل کو بھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *