مودی حکومت نے نکالا مسلم اداروں کو نشانہ بنانے کا خطرناک طریقہ

ڈاکٹر وسیم راشد
ہم صحافیوں کو کبھی کبھی کچھ ایسے ایشوز مل جاتے ہیں جو کسی بھی طرح درگزر نہیں کئے جاسکتے ہیں۔ دہلی الیکشن کے ہنگاموں نے ایک ایسی خبر منظر عام پر آنے نہیں دی جو اقلیتوں کے تعلق سے بہت تشویشناک تھی ۔کہیں میں نے پڑھا کہ مودی حکومت مسلم تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کے لئے نئے نئے طریقے اختیار کررہی ہے اور وہ بھی کوئی ڈھکے چھپے طریقوں سے نہیں بلکہ کھلم کھلا۔
قومی سیکورٹی کے بہانے اقلیتی اداروں کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں۔ کسی نے اس خبر کو سنجیدگی سے لیا ہو یا نہیں لیکن ہم نے اس خبر کو بہت اہم جانتے ہوئے جب کھوج کی تو ایک خط یا سرکلر کی کاپی ہمارے ہاتھ لگی جو این سی پی یو ایل (NCPUL) کے تحت چلائے جانے والے تمام اسٹڈی سینٹرز کو جاری کی گئی ہے۔ اس کا متن کچھ اس طرح ہے کہ این سی پی یو ایل کو ٹاسک فورس آن نیشنل سیکورٹی (TFNS)کو لاگو کرنے کے لئے وزارت ِفروغ انسانی وسائل برائے اقلیتی بہبود کی جانب سے تمام اسٹڈی سینٹرز میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کی تفصیلات مہیا کرانے کی ہدایات جاری کی جاتی ہیں ۔ہم اس سرکلر کی فوٹو کاپی اپنے اس اداریئے میں شائع کررہے ہیں تاکہ سند رہے۔
ٹاسک فورس کمیٹی کا قیام جولائی 2011 میں یو پی اے حکومت نے کیا تھا ۔اس ادارے کا مقصد ملک کی نیشنل سیکورٹی سسٹم کو دیکھنا اور سیکورٹی نظام کو مضبوط کرنے پر غور کرنا اور اس کے ساتھ ہی دیگر متعدد اہم ایشوز بھی شامل گئے تھے جن میں چین،پاکستان اور نکسل ازم سے کیسے لڑا جائے کے امکانات کا جائزہ لینا بھی شامل تھا۔نریش چندرا اس کے سربراہ تھے ۔یو پی اے حکومت کے دوران جون ، جولائی 2011 میں ملک کے دفاعی انتظامات پر سفارشات نریش چندرا کمیٹی نے پیش کی تھی۔
این سی یو پی ایل کی جانب سے جو سرکولر تمام اسٹڈی سرکل کو جاری کئے گئے ہیں،اس میں کہا گیا ہے کہ تمام طلباء و طالبات کی مفصل تفصیلات فراہم کی جائیں۔اس سرکلر کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ مودی حکومت مسلم تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کے لئے ایک نیا حربہ استعمال کر رہی ہے اور قومی سیکورٹی کا بہانہ بنا کر ہمارے مدارس اور ہمارے تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔آخر ان کی تفصیلات جمع کرنے کا کیا تُک ہے اور کس آئینی حق کے تحت ایسا کیا جارہا ہے؟۔
ہمارے آئین کا آرٹیکل 30,29 اقلیتی اداروں کو اپنے تشخص کی حفاظت کا حق دیتا ہے ۔ ہمارے آئین میں باقاعدہ صاف طور پر لکھا گیا ہے کہ اقلیتیں اپنے تشخص کی حفاظت کے لئے اپنے تعلیمی ادارے قائم کرسکتی ہیں۔ان کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت پر ڈالی گئی ہے جس کے تحت کسی بھی شہری کو اپنی شناخت ، اپنے کلچر اپنے رسم الخط کو محفوظ کرنے کی پوری آزادی دی گئی ہے اور رنگ و نسل اور مذہب کی بنیاد پر کوئی بھی امتیاز نہیں برتا جائے گا اور آرٹیکل 30کے تحت تمام اقلیتوں کو اپنی زبان اپنے مذہبی اداروں اور اپنے تعلیمی اداروں کو قائم کرنے کی بھرپور آزادی حاصل ہے۔اقلیتیں اپنے تشخص کی حفاظت کے لئے اپنے ادارے اپنی مرضی سے ملک کے کسی بھی حصے میں قائم کرسکتی ہیں۔آرٹیکل 30 کو چارٹر آف ایجوکیشن رائٹس(Charter of Education Rights) کہا گیا ہے اور مدارس اسی آرٹیکل 30 کے تحت چلائے جاتے ہیں اور اسی آرٹیکل 30 کے تحت یہ اقلیتی ادارے بنا کسی رنگ و نسل اور جنس کی تفریق کے گرانٹ حاصل کرنے کے مجاز ہیں۔
جب آئین اقلیتوں کو مکمل طور پر اپنے تشخص کے لئے ادارے قائم کرنے ، ان اداروں کو اپنی مرضی سے چلانے اور حکومت سے امداد حاصل کرنے میں پوری آزادی کا حق دیتا ہے تو پھر ملک کی سلامتی کے لئے قائم کردہ ٹاسک فورس کمیٹی کی سفارشات کے لئے مسلم اداروں کو ہی نشانہ کیوں بنایا گیا۔ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کا بہانہ بنا کر حکومت مدارس اور مسلم تعلیمی اداروں کی معلومات حاصل کرے گی۔کیا دہشت گردی صرف مسلم اداروں میں ہی پنپتی ہے؟
این سی پی یو ایل کا قیام اردو کو فروغ دینے کے لئے کیا گیا تھا اور یہ ادارہ وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کے تحت کام کرتا ہے اور کئی مدرسے اور مسلم تعلیمی ادارے جن میں عربی اور فارسی کے ادارے بھی شامل ہیں، الحاق کے لئے اور امداد کے لئے اسی سے جڑے ہیں ۔اس ادارے کا کام ہی یہ ہے کہ پورے ملک میں اردو کے فروغ کے لئے کام کرے۔
این سی پی یو ایل نے جو نوٹس اپنے اسٹڈی سرکل کو جاری کیا ہے اس میں ملک کی سلامتی کے لئے ٹاسک فورس کمیٹی نے جو سفارشات کی ہیں ،ان کے تحت سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے ذریعہ انٹلی جنس بیورو شدت پسندوں کا پتہ لگائے اور اس میں وزارت برائے فروغ انسانی وسائل،وزارت اقلیتی بہبود،ریاستی پولیس فورس اور تمام ترقیاتی محکمے آپس میں تعاون کریں گے اور اس کی قیادت وزارت داخلہ کرے گی۔اس پورے سرکلر سے اس بات کا اندازہ ہورہا ہے کہ حکومت کو اقلیتی اداروں میں خاص طور پر مسلم اداروں میں اس طرح کی سرگرمویں کا شک ہے تبھی ایک ایک طالب علم کی تفصیلات مانگی جارہی ہیں۔
این سی پی یو ایل کے تحت تقریبا ً 278 عربک کے اسٹڈی سینٹرس ، اردو کے تقریباً 759 ،عربک سرٹیفکیٹ کورس کے 308 ،ایڈوانس کمپیوٹر ٹریننگ سینٹر کے 27 ،کیلی گرافی اور ڈیزائنس کے 53 اور ڈپلوما ان الکٹرانک ایلائنس کے 50 ادارے ہیں ۔ان سب میں ہزاروں مسلم طلباء و طالبات ٹریننگ لے رہے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ان تمام اسٹڈی سنٹرس کے طالب علموں کی تفصیلات کسے دی جائیں گی؟ کیا وہ مقامی پولیس اسٹیشنوں کو بھیجی جائیں گی اور پورے ملک کے تمام مسلم اداروں، مدرسوں، اسٹڈی سینٹرز سے حاصل شدہ معلومات کے ذریعہ ہمارے نوجوانوں پر نظر رکھی جائے گی تاکہ جیسے ہی کوئی بم دھماکہ یا دہشت گردانہ سرگرمی ہو تو فوراً ہمارے نوجوانوں کو پکڑ لیا جائے۔
جیسا کہ دہلی پولیس نے ایک کشمیری لیاقت شاہ کے خلاف فرضی چارج لگا کر اسے مارچ 2013 میں پکڑ لیا اور الزام بے شمار لگا دیئے ،یہی نہیں ۔اس کو Suicide Attacker کا لیبل لگا کر حزب المجاہدین دہشت گردانہ گروپ سے جوڑ کرکے جیل میں ڈال دیا۔ لیکن جب جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے غصہ کا اظہار اور جانچ کی مانگ کی تو یہ کیس NIA کے سپرد کردیا گیا اور این آئی اے نے اب تقریباً ڈھائی سال بعد یہ ثابت کردیا کہ لیاقت شاہ پر لگائے گئے سبھی الزامات جھوٹے و فرضی تھے ۔یہاں تک کہ جامع مسجد کے جس ہوٹل سے اسے پکڑا گیا وہاں پوری طرح یہ دکھانے کے لئے کہ یہ واقعی دہشت گرد ہے، آتشی مادہ اور ہتھیار بھی ضبط کرنے کا ڈرامہ کیا گیا۔دہلی پولیس نے یہی نہیں کیا بلکہ ہوٹل کے سی سی ٹی وی کیمرے تک توڑ ڈالے،اس لئے ہمیں شک ہے کہ ہمارے طالب علموں کی جب تفصیلات مقامی پولیس اسٹیشن پر مہیا کرادی جائیں گی تو پولیس کے لئے ان کا بیک گرائونڈ دیکھ کر انہیں بنا کسی وجہ کے کبھی بھی پکڑ نا آسان ہوجائے گا۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ لگاتار یہ سلسلہ جاری ہے ۔ہمارے نوجوان بچوں کو اسی طرح ستایا جاتا ہے۔خالد مجاہد اور قاسم کا کیس بھی ہمارے سامنے ہے۔ محمد عمران کا کیس ہمارے سامنے ہے اور اسی طرح کے لاتعداد کیس ہیں جو پولیس نے ہمارے نوجوانوں پر فرضی لگائے ہوئے ہیں۔ اگر عمر عبد اللہ غصہ نہ دکھاتے اور این آئی اے کو یہ کیس نہ سونپا جاتا تو شاید لیاقت شاہ کبھی بھی بے گناہ ثابت نہ ہوتا لیکن ہر نوجوان کا کیس تو این آئی اے کو نہیں دیا جائے گا پھر ان کو بے گناہ کون ثابت کرے گا۔ حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اتنی اہم خبر پر کسی اخبار نے توجہ نہیں دی ۔انگریزی اور ہندی کے اخبار تو دور اردو اخباروں نے بھی اس بارے میں کوئی توجہ نہیں دی۔
کچھ عرصہ قبل ایک سمینار میں راجندر سچر نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ اقلیتوں کو جو مراعات اور حقوق دیئے گئے ہیں اگر ان کی پاسداری نہیں ہوئی تو پھر جمہوری حکومت کبھی بھی جمہوری نہیں کہلا سکتی ہے اور یہ وہ حقوق ہیں جن کو دستور سے نکالا نہیں جاسکتا ۔یہ اقوام متحدہ تک نے اقلیتوں کے تحفظ اور تشخص کی ہدایات دی ہے اورانہیں اپنے ادارے آزادانہ کھولنے اور اپنے ڈھنگ سے چلانے کی آزادی بھی اس میں شامل ہے۔
اگر حکومت اسی طرح مسلم اداروں ، مدارس، اسکول،کالج، اسٹڈی سینٹرز وغیرہ کی تفصیلات طلب کرتی رہے تو یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی اور مسلمانوں کے ساتھ سخت ناانصافی۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *