کیا کہتی ہیں دہلی خواتین کرن بیدی کے بارے میں

ڈاکٹر وسیم راشد
p-3دہلی کا سیاسی پارہ اس وقت اپنے شباب پر ہے۔پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے بعد تقریباً ہر پارٹی کے امیدواروں کے چہرے سامنے آچکے ہیں اور اب کون کتنا مشہور ہے؟کتنا طاقتور ہے؟ اور عوام کے دل کے قریب ہے ؟اس پر پورا میڈیا کھیل رہاہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ دہلی میں سیدھا مقابلہ اس وقت کرن بیدی اور کجریوال میں ہے۔ کانگریس کے اجے ماکن خود ہی اپنے بیان دیتے پھر رہے ہیں جبکہ اس وقت ان کی پارٹی کا یہ حال ہے کہ ’’پھرتا ہے میرخوار کوئی پوچھتا ہی نہیں ‘‘۔
کرن بیدی کو بی جے پی نے اپنے وزیر اعلیٰ کا چہرہ بنایا ہے اور بیدی کے آنے کے بعد سچ مانئے تو اس الیکشن میں مزہ آ ئے گا ورنہ روکھا پھیکا سا معاملہ تھا۔ کرن بیدی کا نام دہلی والوں کے لئے نیا نہیں ہے۔پہلی آئی پی ایس خاتون ہونے کی وجہ سے دہلی کا بچہ بچہ انہیں جانتا ہے۔40 سال سے وہ عوامی رابطے میں ہیں۔ دہلی کے عوام نے اس وقت بھی ان پر فخر کیا تھا جب 1975 میں پہلی بار انہوں نے راج پتھ پر پہلی خاتون آئی پی ایس افسر ہونے کی وجہ سے دہلی پولیس کو لیڈ کیا تھا۔دہلی کے عوام اور خاص طور پر خواتین کے لئے وہ ایک ماورائی شخصیت کی طرح سامنے آئی تھیں خواتین ان پر فخر کرتی تھیں ۔وہ ایک سخت گیر ، بے حد ڈسپلن رکھنے والی ’پولیس والی‘ کہلاتی تھیں۔وہ جب دہلی میں ڈی سی پی (ٹریفک ) کے عہدہ پر تعینات تھیں تب وہ نوپارکنگ ژون میں کھڑی گاڑی کو کرین کی مدد سے اٹھوالیتی تھیں اسی لئے انہیں’ کرین بیدی‘ کہا جانے لگا تھا۔
بی جے پی کے تھینک ٹینک کو اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا کہ دہلی کا الیکشن دوسری ریاستوں سے الگ ہے اورکجریوال کے چہرے کے سامنے اگر کوئی بی جے پی کا بڑا چہرہ تھا تو وہ مودی کا تھا ۔ظاہر ہے مودی تو یہ الیکشن لڑنہیں سکتے تھے ،اب کیا ہو؟اس کا توڑ یہی تھا کہ کوئی ایسا چہرہ ہو جس کو دہلی والے جانتے ہوں، پہچانتے ہوں ،سمجھتے ہوں اور اعتبار کرتے ہوں ۔ظاہر ہے کرن بیدی کی معتبریت ، تجربہ ، شہرت اور ان کی ساکھ کسی بھی طرح کجریوال سے زیادہ ہے۔ حالانکہ دونوں ہی انا تحریک کے روح رواں تھے لیکن کجریوال عام آدمی پارٹی کا ایک ایسا چہرہ تھے جو اکیلے اپنے دم پر لڑ رہے ہیں، نہ ان کے پاس کوئی واضح پالیسی ہے نہ کوئی سوچ ہے نہ ایجنڈا ہے نہ ویژن ہے اور نہ ہی کوئی کیڈر بیسڈ تنظیم ۔وہ ایک Superman کی طرح ہیں۔ صرف ایک اچھی بات یہ ہے کہ جو بھی جیسی بھی ہے ان کی رائے اپنی رائے ہے ۔ان کا ویژن اپنا ہے،ان کی سوچ اپنی ہے ، ان کے اقدامات اپنے ہیں۔ جبکہ کرن بیدی کی رائے بی جے پی کی رائے ہے۔ لیکن پھر بھی 40سالہ تجربہ والی یہ خاتون بے پناہ صلاحیتوں کی مالک ہیں، خواتین میں وہ بے حد مقبول ہیں۔ وہ اپنی تقریروں میں بار بار خواتین کی سیکورٹی کی بات کررہی ہیں ۔دہلی کی خواتین ان کے بارے میں کیا سوچتی ہیں، کیا محسوس کرتی ہیں اور کیا وہ بحیثیت خاتون وزیر اعلیٰ دہلی کے عوام بالخصوص خواتین کے لئے کیا کچھ کر پائیں گی۔ اس سلسلے میں دہلی کے بیشتر علاقوں کی خواتین سے ہم نے بات کی اور مختلف سوالات کئے اور یہ سوالات تقریباً ہر شعبہ کے خواتین سے کئے گئے جن میں ٹیچر ،ڈاکٹر، طلبائ، وکیل، فزیوتھراپسٹ اور عام گھریلو خواتین بھی شامل ہیں اور ہر مذہب کی خواتین بھی کہ کرن بیدی وزیر اعلیٰ بن جاتی ہیں تو ایک خاتون ہونے کی حیثیت سے کیا آپ کو لگتا ہے کہ کچھ تبدیلی آئے گی اور کرن بیدی سے دہلی کی خواتین کو کیا امیدیں ہیں اورخواتین ان پر کتنا بھروسہ کرتی ہیں ؟کیا کوئی بیوروکریٹ ایک اچھا لیڈر بن سکتاہے؟خواتین کے تحفظ کا وعدہ تو عام آدمی پارٹی بھی کررہی ہے، پھر آپ کرن بیدی پر کتنا بھروسہ کرتی ہیں؟
دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ زیادہ تر پڑھی لکھی خواتین تو کرن بیدی کے حق میں بولتی نظر آئیں لیکن عام خواتین جو نچلے طبقے سے تعلق رکھتی ہیں ،وہ بیزار ہیں۔
روہنی دہلی کی 60 سالہ مارگریٹ واٹرس جو سینٹ زیوئر اسکول میں ٹیچر رہی ہیں،وہ کرن بیدی پر بہت اعتماد رکھتی ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ پولیس میں رہنے کی وجہ سے وہ خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو بہتر طور پر سمجھتی ہیں یعنی اندر تک کی برائیوں سے واقف ہیں ۔وہ جانتی ہیں کہ خواتین ایک بار چوروں اور غنڈوں پر بھروسہ کرلیں گی لیکن پولیس پر ان کو بھروسہ نہیں ہے ۔وہ Eve Teasing سے لے کر زنا بالجبر ، عصمت دری اور جہیز جیسے معاملات سے جوجھتی رہی ہیں ۔اس لئے وہ بہتر جانتی ہیں کہ خواتین کو کہاں ،کیسے ، کس سے اور کس طرح بچانا ہے۔ان میں ایک اچھے لیڈر کی سبھی خصوصیات ہیں جو کہ ایک اچھے Administrator میں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ وہ ایک اچھے آفیسر کی طرح ایک اچھی وزیر اعلیٰ بھی ثابت ہوں گی اور وہ ایک اچھی پارٹی کا چہرہ ہیں اور یہ پارٹی مرکز کی پارٹی ہے ‘‘۔
پیتم پورہ دہلی کی 34سالہ ٹیچر گوری شرما کرن بیدی کو ایک غیر معمولی صلاحیتوں کی خاتون مانتی ہیں۔ان کے مطابق کرن بیدی کی پوری زندگی ہی سخت ڈسپلن اور ایکشن لیتے ہوئے گزری ہے۔ایک ہندوستانی شہری ہونے کے ناطے مجھے لگتا ہے کہ وہ بہترین امیدوار ہیں اور انہوں نے پہلی خاتون آئی پی ایس آفیسر ہونے کے بعد خود کو منوا یا بھی ہے۔اگر وہ چیف منسٹر بنتی ہیں تو یقینا تبدیلی ضرور آئے گی اور دہلی شہر جو کہ نربھیا کی وجہ سے پوری دنیا میں بدنام ہوا ہے اس کی تصویر ہی بدل جائے گی۔جعفرآباد کریسنٹ اسکول کی پرنسپل نوشابہ کا کہناہے کہ وہ شہرت کی بھوکی ، موقع پرست ہیں اور بے حد کمیونل مزاج عورت ہیں۔
سیلم پور جعفر آباد کی رہنے والی 43 سالہ گیتا شرما جو کہ ایک این جی او چلاتی ہیں ،وہ کرن بیدی کو بالکل پسند نہیں کرتی ہیں۔ان کے مطابق پہلے بھی ایک خاتون ہی دہلی کی چیف منسٹر رہی ہیں،اس سے کیا بدل گیا؟ان کے ایم ایل اے جو ہمارے علاقے میں 10سال سے ہیں انہوں نے ہمارے علاقے کو گندگی کا ڈھیر بنا دیا ۔اسی لئے اب اگر کرن بیدی وزیر اعلیٰ بنتی بھی ہیں تو ہمارے علاقوں کی تقدیر تھوڑی بدل جائے گی۔ہماری بچیوں کو راستہ چلتے غنڈے پہلے بھی چھیڑتے تھے ،اب کیا کرن بیدی خود آئیں گی ان کے تحفظ کے لئے ؟۔

27سالہ ساکشی جو فزیو تھراپسٹ ہیں اور دہلی یونیورسٹی میں رہتی ہیں ۔اس وقت ہولی فیملی اسپتال میں فزیو تھراپی شعبہ میں ہیں ۔ان کے تایا ایم ایم سچدیوا کرن بیدی کے ساتھ سب انسپکٹر رہے ہیں۔ ساکشی کرن بیدی کے چیف منسٹر بننے ، خواتین کی سیکورٹی اور دہلی کی خواتین کے حالات بہتر ہوں گے،کے بارے میں بے حد پُر امید ہیں۔اس لئے کہ ان کے تایا مسٹر سچدیوا اکثر انہیں بتاتے تھے کہ وہ ایک ایسی پولیس آفیسر کے ساتھ کام کرتے ہیں جو کہ بے حد نڈر ہیں ،کہیں سے بھی فون آجائے وہ اندھیرے میں بھی اکیلی ہی نکل جاتی تھیں۔ ساکشی کے مطابق وہ ڈسپلن کی پابند اور سخت گیر آفیسر تھیں۔ان پر کبھی رشوت خوری کا کوئی الزام نہیں لگا سکا۔اس لئے ساکشی کا ماننا ہے کہ کرن بیدی سے یقینا دہلی کی خواتین کی حالت بھی سنبھلے گی ۔

جینتی دیوان جو دلشاد گارڈن میں رہتی ہیں ۔پیشے سے وہ ٹیچر ہیں اور کرن بیدی کے انتخاب پر بہت پُر اعتماد ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ بیدی یقینا نوجوانوں کی ذہنیت بدلنے میں کامیاب رہیں گی جیسیانہوں نے نامزدگی کا پرچہ بھرنے جاتے وقت ایک نوجوان کو ہیلمیٹ کے لئے ٹوک دیا تھا۔اسی طرح ان کی چھوٹی چھوٹی بات پر نظر ہے ۔ اس سے یقینا نوجوانوں کا نظریہ بدلے گا ۔وہ خواتین کی تمام پریشانیوں سے واقف رہی ہیں ۔ہم ان کو چیف منسٹر بنا کر خود کو محفوظ تصور کریں گے۔
اوکھلا مسلم اکثریتی علاقہ ہے ،وہاں بھی کرن بیدی کا جادو کافی چلتا ہوا نظر آیا۔ ایک 35سالہ گھریلو خاتون تنویر شاید جو کہ 3بچوں کی ماں ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ کرن بیدی کو وہ ایک امید کی کرن کی طرح دیکھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میری 18سالہ لڑکی جب اسکول جاتی ہے تب سے اور جب تک گھر واپسی نہیں آجاتی، میں پریشان رہتی ہوں۔کیونکہ لڑکے اسکول کے باہر کھڑے رہتے ہیں جو گھٹیا جملے کستے ہیں ۔کرن بیدی خواتین کے تحفظ کی بات اگر کررہی ہیں تو وہ کرکے دکھائیں گی۔کجریوال کیا جانیں کہ لڑکیوں اور عورتوں کو کیا پریشانی ہے؟کرن بیدی ان سب باتوں کو خوب سمجھتی ہیں ،ہمیں ان پر بھروسہ ہے۔
اوکھلا سے ہی جامعہ کی طالبہ عائشہ سے بات ہوئی تو ان کا کہنا ہے کہ 10دن پہلے وہ کچھ اور کہتی تھیں۔10دن میں ان کا لب و لہجہ ہی بدل گیا ہے۔
میتر کالج کی ڈاکٹر ہرچرن کور کرن بیدی کے جارحانہ انداز کو پسند نہیں کرتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بیوروکریٹ اچھے سیاست داں نہیں بن سکتے ۔کیونکہ ان کے یہاں ڈپلومیسی نہیں ہوتی اور یہ بھی حقیقت ہے کہ افسروں کی افسری کبھی نہیں جاتی ۔لوگوں کو ہڑکانے کی عادت انہیں لوگوں کا مخالف بنادیتی ہے ۔ان کا Straight Forward اپروچ سب کو کھَلتا ہے اور یہ افسرا خود کو Superior سمجھتے ہیں ۔یہی حال کرن بیدی کا ہے ۔ پہلے دن ہی بی جے پی دفتر میں جب انہوں نے پہلی تقریر کی تھی تو یہ کہہ دیا کہ ہم کام کرنا بھی جانتے ہیں اور کروانا بھی۔یہ ان کے تیور ہیں۔ آگے کچھ کرپائیں گی ،ہمیں امید نہیں ہے ۔
جامعہ ملیہ کی طالبہ عائشہ کے مطابق ان کے پرانے ویڈیوز اور ٹوئیٹر دیکھئے تو الگ لگتا ہے کہ مودی کو برا کہنے والی کرن بیدی طاقت کے پیچھے کسی کو بھی خدا بنالیں گی۔جے این یو کی طالبہ شہلا کے مطابق وہ کرن بیدی اور کجریوال میں سے کسی کوبھی پسند نہیں کرتی ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ہی انا کے چیلے ہیں۔ دونوں کو شہرت کی بھوک ہے ۔دنوں نے انا کو دھوکہ دیا ہے ۔ کرن بیدی 40 سالہ سروس کی بات کہہ کر خود کو Promote کررہی ہیں جبکہ وہ بے حد ہٹ دھرم اور خود پرست ہیں۔ جب انہوں نے وکیلوں پر لاٹھی چارج کرایا اور ابھی تک اس کی معافی نہیں مانگی۔کیا کرن بیدی سسٹم کو جانتی نہیں ہیں ،کیا وہ خواتین کو صحیح معنوں میں سیکورٹی دے پائیں گی جو 10سالوں میں شیلا دیکشت نہیں دے پائیں۔
آر کے پورم کی دلشاد حمید جو کہ ایک ہائوس وائف ہیں،کے مطابق کیا کرن بیدی گیس سیلنڈر کی سبسڈی براہ راست دلا پائیں گی ۔کرن بیدی کی پارٹی کے لیڈران کبھی 10بچوں کی کبھی 4بچوں کی بات کرتے ہیں ۔کیا عورتیں صرف بچے پیدا کرنے کی مشین ہیں؟کیا کرن بیدی اپنی پارٹی کے پاس جاکر اس مدعے کو اٹھا پائیں گی ۔کیا کرن بیدی نہیں جانتی ہیں کہ پیسہ کون لیتا ہے؟ کون دیتا ہے۔ پھر وہ کیوں ٹھیلے والوں اور فٹ پاتھ پر خوانچہ لگائے لوگوں سے سوال کرتی ہیں کہ کوئی پیسہ تو نہیں مانگتا، بڑی ہی عجیب بات ہے خود آئی پی ایس ہوکر انہیں نہیں معلوم کہ پیسہ لئے دیئے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتا ۔کوئی پھیری ،خوانچہ دکان بنا پولیس کو پیسہ کھلائے بنا لگا نہیں ۔
27سالہ ساکشی جو فزیو تھراپسٹ ہیں اور دہلی یونیورسٹی میں رہتی ہیں ۔اس وقت ہولی فیملی اسپتال میں فزیو تھراپی شعبہ میں ہیں ۔ان کے تایا ایم ایم سچدیوا کرن بیدی کے ساتھ سب انسپکٹر رہے ہیں۔ ساکشی کرن بیدی کے چیف منسٹر بننے ، خواتین کی سیکورٹی اور دہلی کی خواتین کے حالات بہتر ہوں گے،کے بارے میں بے حد پُر امید ہیں۔اس لئے کہ ان کے تایا مسٹر سچدیوا اکثر انہیں بتاتے تھے کہ وہ ایک ایسی پولیس آفیسر کے ساتھ کام کرتے ہیں جو کہ بے حد نڈر ہیں ،کہیں سے بھی فون آجائے وہ اندھیرے میں بھی اکیلی ہی نکل جاتی تھیں۔ ساکشی کے مطابق وہ ڈسپلن کی پابند اور سخت گیر آفیسر تھیں۔ان پر کبھی رشوت خوری کا کوئی الزام نہیں لگا سکا۔اس لئے ساکشی کا ماننا ہے کہ کرن بیدی سے یقینا دہلی کی خواتین کی حالت بھی سنبھلے گی ۔
34سالہ ڈاکٹر دیویا جنوبی دہلی کی رہنے والی ہیں۔ وہ کرن بیدی کو اس لئے چاہتی ہیں کہ کوئی ایسا ہو جو پورے سسٹم کو بدلے ۔کرن بیدی نے چونکہ پولیس ڈپارٹمنٹ میں کام کیا ہے،تہاڑ جیل کے قیدیوں کے لئے بہت اچھا کام کیا ہے۔ لہٰذا وہ نظم و نسق کو سنبھالنے بہتر کام کرسکتی ہیں۔
مٹیا محل مسلم اکثریتی علاقہ ہے جہاں کانگریس کا بہت زور ہے اور وہاں کے ایم ایل اے شعیب اقبال لگاتار 3بار سے جیت رہے ہیں ۔وہاں کی ایک کانگریس کارکن زبیدہ بیگم سے جب کرن بیدی کے بارے میں سوال کیا گیا تو وہ بھی کرن بیدی کو بی جے پی کا بہترین چہرہ مانتی ہیں۔لیکن وہ کجریوال کی مقبولیت سے بھی انکار نہیں کررہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کرن بیدی اگر سی ایم بن جاتی ہیں تو انہیں پرانی دہلی کوخواتین کی حالت زار کو بدلنا ہوگا جہاں گھریلو تشدد ، جنسی جرائم ،اور عصمت دری کے واقعات عام ہیں۔
ترکمان گیٹ سے گلشن سرتاج کرن بیدی کے آنے سے بہت پُر امید نہیں ہیں۔ان کے مطابق کرن بیدی Law and Order کا تجربہ ضرور رکھتی ہیں لیکن عملی سیاست کا نہیں ۔اسی لئے انہیں پہلے تجربے کی ضرورت ہے ۔پہلے اقتدار اور تبدیلی کا سوال تو بعد میں پیدا ہوتا ہے۔ دہلی کی عورتوں کو کرن بیدی کی افسری کے زمانے کا حال بھی یاد ہے ۔کیا اس وقت عورتوں پر مظالم یا عصمت دری کے واقعات نہیں ہوتے تھے۔ہر لیڈر سیکورٹی کا دعویٰ کرتا آرہا ہے لیکن اگر سیکورٹی اچھی ہوتی تو نربھیا واقعہ کبھی نہ ہوتا پھر ہم کرن بیدی سے کیسے امید کرسکتے ہیں جبکہ دہلی پولیس بھی ان کے ماتحت نہیں ہے۔
25سالہ نورین انوار جو کہ پیشہ سے وکیل ہیں وہ بیدی کی بڑی مداح ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کجریوال اور بیدی کا کوئی مقابلہ نہیں ہے ۔قابلیت ،تجربہ اور انتظامیہ کا تجربہ کرن بیدی کا کہیں زیادہ ہے۔خواتین یقینا ان کے ہوتے ہوئے خود کو محفوظ تصور کریں گی ۔اس کے علاوہ وہ کرن کی ’کچہری پروگرام‘ بچپن سے دیکھتی آئی ہیں۔اس لئے وہ خواتین کے معاملات کو بہتر جانتی ہیں۔
خواتین سے بات چیت کرتے ہوئے یہ احساس ضرور ہوا کہ کانگریس پارٹی کہیں بھی اس مقابلے میں نہیں ہے۔ اس بات کا احساس ہر شعبہ کی خواتین کو خوب ہے اور سیدھی ٹکر کجریوال اور کرن بیدی میں ہے۔ لیکن کیا کرن بیدی حقیت میں مودی سے بڑا چہرہ بن پائیں گی؟بی جے پی کا انتخاب تو خوب ہے اور بیدی کی وہ لوگ بھی تعریف کررہے ہیں جو بی جے پی میں نہیں ہیں۔ اس میں شانتی بھوشن کا بیان اہم ہے جس میں انہوں نے بیدی کی ستائش کی ہے ۔عام آدمی پارٹی کے بانی اور بزرگ لیڈر شانتی بھوشن کجریوال کو لالچی اور دھوکے باز کہتے ہوئے یہ مان رہے ہیں کہ بی جے پی نے کرن بیدی کو چیف منسٹر امیدوار بنا کر ایک مضبوط کارڈ کھیلا ہے۔
شانتی بھوشن کی یہ تعریف عام آدمی پارٹی کو کتنی مہنگی پڑے گی، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔اس کے علاوہ دہلی کی خواتین کا ووٹ کرن بیدی کے کھاتے میں کتنے فیصد جائے گا اور دہلی کا مستقبل کیا ہوگا، اس کے لئے ابھی تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *