آئی او ایس سیمنار : مساوات کا گراف نیچے آیا ہے

اے یو آصف

مساوات ایک ایسا موضوع ہے جو کہ مختلف مذاہب اور قوانین کے ساتھ ساتھ ملکوں کے آئین کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ مساوات کس کے درمیان،یہ سوال بھی بڑا اہم ہے۔ اس ضمن میں کہیں بات گورے اور کالے کی ہوتی ہے تو کہیں اکثریتی اور قلیتی طبقات کی ہوتی ہے اور کہیں نسلوں اور مذاہب کے درمیان بھی ہوتی ہے۔ہمارے ملک میں یہ ایشو مذہبی اور آئینی طور پر ہمیشہ موضوع بحث رہاہے۔ابھی حال میں 17جنوری2015 کو نئی دہلی کے’ انڈین لاء انسٹی ٹیوٹ ‘میں معروف تھینک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف آبجکٹیو اسٹڈیز( آئی او ایس) کے زیر اہتمام ’’ ہندوستان میں قانونی طور پر مساوات کا عمل، آئینی مینڈیٹ اور موجودہ رجحان‘‘کے موضوع پر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس اے ایم احمدی کی صدارت میں ایک اہم سمینار میں دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس راجندر سچر کی تاریخی نوعیت کی تقریر نے ارباب علم و قانون کے نزدیک تحقیقی بحث چھیڑ دی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ تحقیقی بحث ہے کیا اور جسٹس احمدی و دیگر ماہرین آئین و قانون نے کیا کہا؟

p-2یوں تو علمی و تحقیقی تقریریں عام طور پرہوتی ہی رہتی ہیں مگر کچھ تقریریں تاریخی حیثیت اختیار کرلیتی ہیں اور نوعیت جب قانونی اور آئینی ہو تو وہ اور بھی زیادہ اہم ہوجاتی ہیں۔ایک تقریر جوکہ ممتاز ماہر قانون جسٹس فالی سیم نریمن کی کم و بیش 4 ماہ قبل قومی کمیشن برائے اقلیت کے 7ویں سالانہ لکچر کے طور پر 12ستمبر 2014 کو نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ’’ اقلیتیں دو راہے پر ‘‘ کے عنوان سے ہوئی تھی ،اسے بھی تاریخی کہا جاتا ہے۔اس تقریر میں انہوں نے تلخ و شیریں بات کہتے ہوئے مرکز میں نریندر مودی کی سربراہی اور ان کی حکومت کو اکثریتی حکومت کے طور پر جہاں ایک طرف خیر مقدم کیا تھا وہیں اس سے خوفزدہ ہونے کا بھی اظہار خیال کیا تھا۔اس سلسلے میں انہوں نے 1970 کی دہائی میں اندرا گاندھی کی سربراہی والی کانگریس حکومت کے ذریعے ملک میں اندرونی ایمرجینسی نافذ کرکے شہریوں کی لبرٹیز کو سلب کرنے کا حوالہ دیا تھا اور کہا تھا کہ ’’ میں اور میری بیوی اس دور سے گذرے ہیں اور جانتے ہیں کہ کس طرح لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے اسے بھگتا‘‘۔انہوں نے قومی کمیشن برائے اقلیت کو حکومت کا کنٹرول کردہ نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے ذریعے ایک آزاد کمیشن کے طور پر تشکیل کردہ کمیشن بتایا تھا جس کا کام اقلیتوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے سرگرم عمل رہنا ہے۔ نریمن نے اپنی تلخ و شیریں باتیں کہتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ’’ حق گو نہ ہونے سے مقبول نہ ہونا بہتر ہے‘‘
اس لحاظ سے 17جنوری2015 کو جسٹس راجندر سچر کی30 منٹ کی تقریر بھی تاریخی ہے۔انہوں نے بھی اپنی اس تقریر میں کچھ ایسا ہی اپروچ اختیار کیا ۔ انہوں نے بنیادی طور پر چار نکات کو اٹھایا اور اس سلسلے میں سب سے پہلے نریمن کے انداز میں واضح طور پر کہا کہ مرکز میں قائم کوئی بھی حکومت محض اس دعویٰ کے ساتھ کہ اس نے اکثریت حاصل کرلی ہے، وہ سیکولر زم کے تعلق سے آئینی تمہید (Preamble) کی خلاف ورزی نہیں کرسکتی ہے ،جسے کبھی تبدیل نہیں کیا جاسکتاہے۔ انہوں نے اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ عوام کو نئی حکومت کے بارے میں خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اسے محض 31فیصد ووٹ کا شیئر ملا ہے جوکہ ایک مرکزی حکومت کے ذریعے حاصل کیا گیا سب سے کم ووٹ شیئر ہے۔ اس ضمن میں ان کا سوال تھا کہ آخر سیکولرزم کا مطلب کیا ہے ؟خود ہی جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ ایسے متعدد حقوق ہیں جو کہ ہمیں آئین نے دیئے ہیں۔ انہیں میں سے ایک حق دفعہ 14کے تحت مساوات کا ہے جوکہ خصوصی طور پر اقلیتوں کے لئے ہے۔ اس سے ان کی زندگی محفوظ ہوتی ہے اور وہ اقلیتی تعلیمی ادارے قائم کرکے انہیں چلا سکتے ہیں۔ یہ وہ حقوق ہیں جو کہ خصوصی طور پر اقلیتوں کو دیئے گئے ہیں اور بنیادی ڈھانچہ کے اجزاء ہیں۔ سیکولرزم ایک ایسے مساوی ڈھانچہ کا جز ہے جو کہ ہمیشہ اہم ہے۔
جسٹس سچر کا دوسرا نکتہ مشہور ہندو آئیڈیا لاگ سوامی وویکانند کے ذریعے 10جون 1898 کو المورا سے نینی تال کے محمد سرفراز حسین کو لکھے گئے مکتوب میں مساوات کے تعلق سے اسلام کے عملی کنٹری بیوشن کا اعتراف ہے۔ سوامی جی نے مکتوب میں لکھاہے کہ ہم اسے ویدانتزم (Vedantism) کہیں یا کوئی اور ازم ، سچ تو یہ ہے کہ ایدونتزم (Advaitism)مذہب اور فکر و نظریہ کا آخری لفظ ہے اور یہ واحد پوزیشن ہے جہاں سے ایک شخص مذاہب اور مکاتب فکر کو محبت سے دیکھ سکتا ہے۔ میرا یقین ہے کہ یہ مستقبل کی روشن انسانیت کا مذہب ہے۔ ہیبرو( Hebrew) یا عرب کے مقابلے پرانی نسل ہوتے ہوئے ہندو قبل کی دیگر نسلوں کے بالمقابل اس منزل تک قبل پہنچ سکتا ہے مگر عملی ایدو تیزم جو کہ پوری انسانیت کو ایک دیکھتا ہے اور اس کے ساتھ ایک جیسا برتائو کرتاہے ہندوئوں کے درمیان کبھی بھی ڈولپ نہیں کیا گیا جبکہ دوسری طرف میرا تجربہ ہے کہ اگر کبھی بھی کسی مذہب نے اس مساوات پر عملی طور پر مظاہرہ کیا تو یہ اسلام اورصرف اسلام ہے۔ لہٰذا میری پورے یقین کے ساتھ سوچ ہے کہ عملی اسلام کے بغیر ویدانتزم کی تھیوری چاہے وہ کتنی ہی اچھی اور تعجب خیز کیوں نہ ہوں، پورے طور پر بنی نوع انسان کی بڑی اجتماعیت کے لئے بے وزن ہے ۔
جسٹس سچرنے اقلیتوں اور ان کے مذاہب کے خلاف ’گھر واپسی‘کے نام پر چلائی جارہی مہم کا ذکر کرتے ہوئے سوامی وویکانند کے مذکورہ بالا حوالہ کا ذکر کیا اور یہ بھی کہا کہ پیغمبر ؐمحمد نے بیسویں صدی کے وسط میں ڈاکٹر مارٹن لوتھرکنگ کے ذریعے امریکہ میں کالے اور گوروں کے درمیان مساوات کی باتوں سے تقریبا 14سو برس قبل عرب کے معاشرہ میں عملی طور پر مظاہرہ کیا تھا اور پھر اس زمانے میں اپنے آخری خطبہ حجۃ الوداع میں گوروں کی کالوں اور عربوں کی غیر عربوں پر فوقیت نہ دینے کی تاکید کی تھی۔ اس سلسلے میں ’’ چوتھی دنیا‘‘ سے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زید بن حارث ؓ اور بلال حبشی جیسی تابناک مثالیں ہیں جن میں سے ایک کو محمد ؐ نے اپنا منہ بولا بیٹا اور دوسرے کو ’مؤذن اسلام‘ بنا کر مساوات کا عملی ثبوت پیش کیا تھا۔
انہوں نے اپنی پُر مغز تقریر میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ آخر اقلیتوں کو خصوصی حقوق کیوں دیئے جاتے ہیں اور ان کے لئے خصوصی ٹارگیٹیڈ سرگرمیاں کیوں کی جاتی ہیں؟اس کا جواب بھی خود ہی دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ کسی بھی مہذب معاشرہ کا امتحان اس سوال کے جواب میںہوتا ہے کہ اس کی اقلیتی کردار کے بارے میں وہ اقلیت کیا محسوس کررہی ہے ۔حتی کہ اقوام متحدہ نے بھی اپنے ہیومن رائٹس کو نسل فورم میں 2010میں کہا ہے کہ کسی بھی حکومت کو ہر ایک سطح پر مساوات کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ہوئے معیشتی زندگی میں پُر اثر انداز میں شرکت کر کے اقلیتوں کے حقوق کے نفاذ کو سنجیدگی سے لینا چاہئے۔حکومتیں ٹارگیٹیڈ اور شمولیاتی اپروچوں کو اقلیتوں کی معاشی اور معاشرتی عدم شمولیت کو دور کرنے کے لئے اختیار کرسکتی ہیں۔ میں ٹارگیٹیڈ لفظ پر زور اس لئے دے رہا ہوں کہ آخر یہ کیوں نہیں کہا گیا کہ جب سبھی لوگ غریب ہیں تو پھر آپ سبھی کو برابر سے اسکالر شپ کیوں نہیں دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کا ہیومن رائٹس فورم کہتا ہے کہ آپ کو اقلیتوں کو ٹارگیٹ کرنا ہے تاکہ وہ یہ محسوس کرسکیں کہ وہ تعداد کے لحاظ سے اقلیت ہوسکتی ہیں مگر تمام معاملوں میں انہیں صرف خصوصی مساوی حقوق ہی حاصل نہیں ہیں بلکہ خصوصی انداز میں انہیں ان کی پسماندگی کے سبب زیادہ حقوق اور ٹارگیٹیڈ حقوق فراہم کئے گئے ہیں۔
جسٹس اے ایم احمدی نے اپنے صدارتی خطبہ میں فرمایا کہ آئین کی تمہید یہ بنیادی آئیڈیا بتاتی ہے کہ کس طرح ملک میں سوشل آرڈر بحال کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مساوات جو کہ آئین کا بنیادی ویلیو ہے، دراصل سوشل آرڈر کے لیبرٹی ،انصاف اور اخوت کے ساتھ اجزاء ہیں جسے ہم قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ مساوات کا گراف 2000 کی دہائی سے 2010 کی دہائی تک نیچے آیا ہے۔ لہٰذا ضرورت ہے کہ پھر پیچھے کی طرف واپس جایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پیچھے لوٹنا تفریق و امتیاز نہیں بلکہ مثبت عمل ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے سچر کمیٹی کے سفارش کردہ یکساں مواقع کمیشن کو اب بھی ایک خواب ہی بتایا اور کہا کہ انہوں نے اس کے بارے میں اولین وزیر اقلیتی امور مرحوم عبد الرحمن انتولے سے لے کر آخری وزیر کے رحمن خاں تک رجوع کیا تھا مگر نتیجہ صفر رہا۔ انہوں نے ابھی حال ہی میںریاست مہاراشٹر کی حکومت کے ذریعے وہاں کے اقلیتی کمیشن کے چیئر مین کو ہٹائے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر ریاستی حکومت نے انہیں صرف اس بات پر عہدہ سے بر طرف کردیا کہ انہوں نے ریاست میں جیلوں میں بند مسلم قیدیوں کی تعداد حاصل کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔ تو یہ جمہوریت کی واقعی ناکامی ہے۔
جسٹس اے ایم احمدی کا یہ جملہ بڑا ہی غیر معمولی اور اہم تھا کہ جمہوریت میں حکومت کو عوام سے خوفزدہ ہونا چاہئے کیونکہ حکومت عوام سے ڈرتی ہے تو وہ جمہوریت ہوتی ہے اور جب عوام حکومت سے ڈرنے لگتے ہیں تو وہ جمہوریت نہیں بلکہ تاناشاہی ہوجاتی ے۔
یہ کہا جاسکتاہے کہ مساوات کے تعلق سے ماہرین کی آراء پر مبنی تھینک ٹینک آئی او ایس کا یہ فکر انگیز سمینار قانونی اور معاشرتی لحاظ سے ملک کے موجودہ حالات میں مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے اور اس سے مساوات کی تشریح اور توضیح میں یقینا مدد ملے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *