ہیلتھ پالیسی 2015: رائٹ ٹو ہیلتھ کی طرف بڑھتے قدم

نوین چوہان
p-5وزیر اعظم نریندر مودی نے پچھلے سال 27 ستمبر کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان ملینیم ڈیولپمنٹ گول کے ٹارگیٹ کو پورا کرنے میں تھوڑا پیچھے چھوٹ گیا ہے۔ ہندوستانی سرکار کے ذریعے پچھلی دہائی میں صحت سے متعلق سہولیات کے فروغ کے لیے اٹھائے گئے قدم ناکافی رہے۔ اس وجہ سے سال 2000 سے 2015 تک کے لیے متعینہ اہداف تک ہندوستان نہیں پہنچ سکا۔ ان میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی شرحِ اموات، نوزائیدہ بچوں اور زچگی کے دوران ماؤں کی شرحِ اموات پر قابو پانے میں چوک شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان تربیت یافتہ طبی ملازمین کے ذریعے زچگی کرانے کے ہدف کو حاصل نہیں کر سکا ہے۔ آج بھی ہندوستان میں 27 فیصد بچوں کی پیدائش گھروں میں ہوتی ہے۔ ہر ایک لاکھ پیدا ہونے والے بچوں میں سے 178 موت کے منھ میں چلے جاتے ہیں۔ ایسے میں مودی سرکار ملک کے لیے ایک نئی ہیلتھ پالیسی لے کر آئی ہے۔ اس سے پہلے سال 1983 اور 2002 میں بھی سرکار ہیلتھ پالیسی لے کر آئی تھی۔ ان پالیسیوں کے تحت طے کیے گئے اہداف (ٹارگیٹس) کو پنج سالہ منصوبوں کی بنیاد پر سرکار حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ سرکار ہیلتھ سیکٹر میں جی ڈی پی کے ذریعے مختص کی گئی دو فیصد رقم کو پوری طرح خرچ کرنے میں بھی ناکام رہی۔ اس کی سیدھی مثال اقوامِ متحدہ کے ذریعے متعینہ ملینیم ڈیولپمنٹ گول کو پندرہ سال کے طویل عرصے میں بھی حاصل نہیں کر پانا ہے۔
نیشنل ہیلتھ پالیسی کا ڈرافٹ مودی سرکار نے عوام کے سامنے صلاح و مشورہ اور رائے دینے کے لیے رکھا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد اور ہدف سبھی کے لیے طبی سہولیات کو آسان بنانا ہے۔ رائٹ ٹو ہیلتھ (صحت کا قانون) کی سمت میں بھی مرکزی حکومت کی یہ ایک اچھی کوشش ہے۔ اس پالیسی کے تحت طبی خدمات کے بجٹ میں اضافہ کرکے کل جی ڈی پی کا 2.5 فیصد خرچ کرنے کی سمت میں سرکار کام کرے گی۔ صحت کے لیے جی ڈی پی کے فیصد میں خرچ کے معاملے میں ہندوستان دنیا کے سر فہرست ممالک سے بہت پیچھے ہے۔ صحت کے کل بجٹ کا 40 فیصد ریسرچ، مین پاور کے فروغ، کنٹرول اور مہنگی دواؤں کو تھوک میں خریدنے میں خرچ کیا جائے گا۔ سرکار کا مقصد بنیادی سطح پر ہی بہتر طبی سہولیات فراہم کرانا ہے، جس سے کہ دوسری اور تیسری سطح پر بوجھ کم ہوگا اور وہاں بھی لوگوں کو بہتر سہولیات فراہم کرائی جا سکیں گی۔
ہندوستان میں ہیلتھ انڈسٹری ہر سال 15 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔ یہ شرحِ ترقی ملک کے دیگر کسی بھی صنعتی شعبے سے دو گنی اور ملک کی جے ڈی پی سے تین گنی ہے۔ صحت کے رکھ رکھاؤ کا خرچ لگاتار بڑھتا جا رہا ہے۔ اسے ملک میں غریبی بڑھانے کی سب سے بڑی وجہ مانا جا رہا ہے، جس سے ملک میں سرکار کے ذریعے غریبی ہٹانے کی سبھی کوششیں بے اثر ثابت ہو رہی ہیں۔ اس لیے ملک کے لیے ایک ایسی ہیلتھ پالیسی کی ضرورت ہے، جو موجودہ تقاضوں کے مطابق ہو۔ گلوبلائزیشن کے دور میں دنیا میں اشیاء اور لوگوں کی آمد و رفت بڑھی ہے، جس کی وجہ سے کسی مخصوص علاقے کی بیماری اب پوری دنیا میں پھیلنے لگی ہے۔ مثال کے طور پر ایبولا اور سوائن فلو جیسی بیماریوں نے عالمی بیماریوں کی شکل اختیار کر لی ہے۔ مہاماری پھیلنے کی صورت میں ایمرجنسی رِسپانس سسٹم کو ہیلتھ پالیسی میں شامل کیا گیا ہے۔
ملک میں ہیلتھ انڈسٹری کے فروغ کے ساتھ ساتھ ایک نیا مسئلہ بھی پیدا ہوا ہے۔ پرائیویٹ اسپتالوں میں علاج کی قیمت بے تحاشہ بڑھ گئی ہے۔ جن لوگوں کے پاس میڈیکل انشورنس ہے، وہ اپنا علاج بغیر کسی مول بھاؤ کے اِن اسپتالوں میں کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، لیکن عا م آدمی، جن کے پاس بیمہ نہیں ہے، ان کے لیے ان پانچ ستارہ ہوٹلوں میں علاج کروانا ناممکن ہے۔ پرائیویٹ اسپتالوں میں علاج کی قیمتوں کو ریگولیٹ کرنے کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ ایسے میں ہیلتھ ٹورزم کی وجہ سے ان اسپتالوں میں علاج کروانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ہندوستان دنیا بھر میں سستی طبی سہولیات فراہم کروانے کے لیے مشہور ہے۔ نئی پالیسی میں ان اسپتالوں کے علاج کی قیمت کے ریگولیشن کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ حالانکہ، پہلے کی طرح ضروری دواؤں کی قیمتوں کا تعین، معیاری ہیلتھ ایجوکیشن، غذائی اشیاء کا تحفظ، کلینکل اسٹیبلشمنٹ کا تعین پہلے کی طرح قائم اداروں کے ذریعے ہی ہوگا۔
نئی ہیلتھ پالیسی میں 58 نئے میڈیکل کالج کھولنے کا سرکار نے منصوبہ بنایا ہے۔ اگلے پانچ سالوں میں آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) کی طرز پر ملک بھر میں 14 نئے میڈیکل کالج و اسپتال کھولے جائیں گے۔ نئے میڈیکل کالجوں کے کھلنے کے بعد ملک میں سرکاری اور پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کی تعداد 600 کے آس پاس پہنچ جائے گی۔ فی الحال ملک کے 398 میڈیکل کالج ایم بی بی ایس کی ڈگری دیتے ہیں، جن میں کل 52 ہزار 105 سیٹیں ہیں۔ یہ عدد ہندوستان جیسی وسیع آبادی والے ملک کے لیے ناکافی ہے۔ جنوبی ہند کی ریاستوں میں آبادی کم ہے اور میڈیکل کالجوں کی تعداد زیادہ ہے، لیکن شمالی ہند میں میڈیکل کالجوں کی تعداد آبادی کے لحاظ سے بے حد کم ہے۔ مثال کے طور پر اتر پردیش میں 32 اور بہار میں صرف 12 میڈیکل کالج ہیں۔ لیکن سرکار کے سامنے سب سے بڑی چنوتی ان نئے اداروں کے لیے معیاری ورک فورس کا انتخاب کرنا ہے، تاکہ یہ نئے ادارے ایمس کے معیار کے مطابق کام کر سکیں۔
نئی پالیسی میں سرکاری اسپتالوں کی حالت کو بہتر کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ سرکاری اسپتالوں کو سماجی ادارہ ماننے کی سوچ سے باہر نکلنا ہوگا۔ اب سرکاری اسپتالوں کو ٹیکس فائنینسڈ سنگل پلیئر ہیلتھ کیئر سسٹم کے طور پر کام کرنا ہوگا، جہاں لوگوں کا علاج مفت میں نہیں ہو رہا ہے۔ سرکار نے لوگوں کے علاج کے لیے پہلے ہی رقم ادا کر دی ہے، جیسا کہ کمرشیل ہیلتھ انشورنس میں ہوتا ہے، جو کہ لوگوں کی صحت سے متعلق ضروریات کو پورا کرنے کا ایک مؤثر لاگت والا پروگرام ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں لوگوں کو مفت دوائیں، جانچ اور علاج کی سہولیات مہیا ہوں۔ اسپتالوں کو دوسروں سے بہتر خدمات دینے کے مقصد سے کام کرنا ہوگا۔ سرکاری خدمات کو مفت کی جگہ پری – پیڈ کی شکل میں دیکھنے سے لوگوں کے اور اسپتال میں کام کرنے والوں کے نظریہ میں تبدیلی ضرور آئے گی۔
ملک میں صحت کے شعبہ میں تربیت یافتہ ملازمین کی بے حد کمی ہے۔ ملک کے کئی حصوں میں اسپتال بنے ہیں، لیکن وہاں ڈاکٹروں اور صحت سے وابستہ دیگر ملازمین کی کمی کی وجہ سے لوگوں کا علاج پورا نہیں ہو پا رہا ہے۔ لوگوں کو بنیادی صحت کے علاوہ اعلیٰ سطحی علاج کے لیے قریب کے میڈیکل کالجوں یا ضلع اسپتالوں کی طرف رخ کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنا سرکار کے لیے ایک بڑی چنوتی ہے۔ پرائیویٹ اسپتالوں کی طرف ڈاکٹروں کے رخ کرنے کی وجہ سے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی ہو رہی ہے۔ سرکار کا منصوبہ ہے کہ ہر دس لاکھ کی آبادی کے لیے ایک ہزار بستروں والا اور تمام سہولیات سے بھرپور اسپتال ہونا چاہیے۔ سرکار اسپتالوں کے سدھار کے لیے وقفہ وقفہ سے اسپتالوں کا جائزہ لے گی۔ اسپتالوں کی کم از کم پیمانوں کی بنیاد پر درجہ بندی کی جائے گی۔ اسپتالوں کو ان کے معیار کی بنیاد پر سرٹیفکیٹ دیا جائے گا، ساتھ ہی متعینہ مدت کے اندر اپنے معیار کو مزید بہتر بنانے والے اسپتالوں کو انعام سے بھی نوازنے کا منصوبہ ہے۔
ملک میں ہر سال لاکھوں لوگ بلڈ بینکوں میں خون کی کمی کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ضلعی سطح پر بلڈ بینک اور خون کو بحفاظت رکھنا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اس وقت منظور شدہ بلڈ بینکوں کی تعداد ضلع اور تحصیل کی سطح پر اتنی نہیں ہے کہ لوگوں کے لیے بیماریوں سے پاک اور صاف شفاف خون کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ رپورٹوں کے مطابق، ملک میں دیہات اور تحصیل کی سطح پر زیادہ تر خون کی سپلائی غیر بلڈ بینک ذرائع سے ہوتی ہے، اس لیے سرکار اس سمت میں کام کرے گی اور لوگوں کے لیے محفوظ بلڈ کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔ ملک میں لمبے عرصے سے نیشنل بلڈ ٹرانس فیوژن اتھارٹی بنانے کی بات کہی جا رہی ہے۔ سابقہ یو پی اے سرکار نے اس سمت میں کچھ قدم بھی اٹھائے تھے، لیکن بعد میں اسے ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا۔ بدلتے وقت کے ساتھ بلڈ ڈونیشن کے شعبہ میں بھی تبدیلی کی ضرورتوں کو جانتے پرکھتے ہوئے بلڈ ٹرانس فیوژن کے لیے اتھارٹی بنانے کی سمت میں آگے بڑھنا چاہیے تھا۔
سرکار کا مقصد آبادی کنٹرول کے ساتھ ساتھ جنس کی جانچ پر پابندی لگانا بھی ہے۔ سرکار نے خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں کی نس بندی میں اضافہ کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ فی الحال نس بندی کی شرح صرف 5 فیصد ہے، جسے بڑھا کر 30 فیصد کرنے کا ہدف متعین کیا گیا ہے۔ قومی صحت پالیسی میں یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ نس بندی کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے زور زبردستی والے طریقے نہ تو مناسب ہیں اور نہ ہی اثر انگیز۔ تعلیم تک رسائی کے مواقع میں اضافہ کرکے ہی بڑھتی ہوئی آبادی پر لگام لگائی جا سکتی ہے۔ ٹی بی اور ایڈز جیسی بیماریوں کے ساتھ ذہنی امراض کو بھی اس پالیسی میں ترجیحی طور پر شامل کیا گیا ہے اور اس میں آیوش کو بھی جگہ دی گئی ہے۔
مجموعی طور پر یہ پالیسی ہندوستان کے شعبۂ صحت میں بہت جلد کوئی بڑی تبدیلی نہیں لانے جا رہی ہے۔ اگر اس پالیسی کی بدولت سرکار سب کے لیے بہتر بنیادی صحت سے متعلق خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے میں کامیاب رہتی ہے، تبھی اس پالیسی کو کامیاب کہا جائے گا۔ لوگوں کے مشوروں کو نئی صحت پالیسی کے ڈرافٹ میں شامل کیا جانا باقی ہے، حالانکہ سرکار رائٹ ٹو ہیلتھ نافذ کرنے کی سمت میں کام کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوتی ہے، تو یہ اس کی سب سے بڑی حصولیابیوں میں سے ایک ہوگی۔

منھ کی بیماریوں کو ہیلتھ پالیسی میں جگہ نہیں ملی
ہندوستان میں تمباکو سے ہونے والے کینسر کی بیماری میں مبتلا افراد کی بھرمار ہے۔ تمباکو کھانے والوں کو زیادہ تر منھ کا کینسر ہوتا ہے۔ نئی پالیسی میں منھ سے متعلق بیماریوں کے علاج کا واضح طور پر ذکر نہیں ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ منھ کی صحت اچھی صحت کی علامت ہوتی ہے۔ منھ میں ہونے والی بیماریوں کا انفیکشن جسم کے کسی بھی حصے میں پھیل سکتا ہے۔ یہ تصور غلط ہے کہ منھ کی بیماریاں جان لیوا نہیں ہوتی ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، منھ کا کینسر ہندوستان میں سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔ منھ کے کینسر کا علاج مؤثر ڈھنگ سے اسی صورت میں کیا جا سکتا ہے، جب اس کی پہچان شروعاتی دور میں ہو۔ سرکار تمباکو اشیاء پر ٹیکس تو لگا رہی ہے، لیکن تمباکو بنانے والی کمپنیوں کو بند نہیں کر رہی ہے۔ ظاہر ہے، اس طرح تو تمباکو سے متعلق بیماریوں کو تو کبھی بھی ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *