عظیم ملک کے عظیم لیڈر

سنتوش بھارتیہ
نریندر مودی کی سرکار کو آئے آٹھ مہینے ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے 64 برسوں تک مرکز اور ریاستوں میں تقریباً ہر سیاسی پارٹی کی سرکار رہی ہے۔ اس کے باوجود ملک میں ہر الیکشن میں بنیادی مدعا بجلی، پانی، سڑک اور بدعنوانی ہی بنتا ہے۔ جن مسائل کو آزادی کے پانچ سال کے اندر حل ہو جانا چاہیے تھا، وہ مسائل آج بھی ویسے کے ویسے ہی ہیں اور الیکشن کا مدعا ہیں۔ پانچ سال کے بعد جب اگلا الیکشن آتا ہے، تو پھر وہی مسائل دوبارہ مدعوں کی شکل میں سامنے آ جاتے ہیں۔
سوال اتنا ہی نہیں ہے، اس سے آگے کا سوال یہ ہے کہ ہر گزرتا ہوا سال حالات خراب کرتا جاتا ہے۔ ہر گزرتے ہوئے سال بجلی کی پیداواری صلاحیت گھٹتی جاتی ہے، پانی کی نافراہمی ہوتی جاتی ہے، سڑکیں ٹوٹتی جاتی ہیں اور بدعنوانی بڑھتی جاتی ہے۔ جو بھی پارٹی اقتدار میں ہوتی ہے، الیکشن کے بعد سب سے پہلے انھیں مدعوں کو اپنی ترجیحات سے ہٹا دیتی ہے۔ یہ ہر پارٹی کے اوپر لاگو ہوتا ہے اور یہ راز سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں بدعنوانی کے علاوہ باقی تین مدعے حل کرنے پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا ہے، لیکن ہمارے ملک میں انہیں سب سے زیادہ اندیکھا کیا جاتا ہے۔ جرمنی کی مثال ہے۔ پوری جرمنی کی گندگی لے کر راٹر ڈیم شہر کے پاس رائن ندی سمندر میں ملتی ہے اور یہ ندی پینے کے پانی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ لیکن رائن ندی کے پانی کو صاف کرکے ہر گھر میں پانی دینا سرکار کی ترجیحات میں شامل ہے اور سرکار سینکڑوں برسوں سے یہ کرتی چلی آ رہی ہے اور آج بھی رائن ندی کے پانی سے صاف کیا ہوا پانی دنیا کے سب سے بہتر پیمانوں کے اوپر کھرا اترتا ہے۔
ہمارے ملک میں ہر سرکار نے وہ سارے کام کیے، جن سے پیسے آئیں۔ کم از کم پچھلے دو ڈھائی سال یا پچھلے پانچ سال یا پچھلے دس سال کا تو یہی قصہ ہے۔ لیکن کسی بھی سرکار نے بجلی، پانی اور سڑک کے اوپر کام نہیں کیا۔ ریاست چاہے اتر پردیش کی ہو، بہار ہو، مدھیہ پردیش ہو، راجستھان ہو، مغربی بنگال ہو، اڑیسہ ہو، کہیں پر بھی یہ بنیادی سوال سرکاروں کی فکرمندی کے موضوع نہیں رہے۔ لیکن ترجیحات میں سارے ایسے پروجیکٹ آئے، ان میں پیسے خرچ ہوئے اور یہ بلا شبہ آسانی سے کہا جا سکتا ہے کہ ان میں پیسہ سیدھے افسروں اور سیاسی لیڈروں کی جیب میں گیا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ رشوت مت لیجیے۔ آپ رشوت لیجیے، کیوں کہ رشوت کو سیاسی لیڈروں اور افسروں نے ہمارے ملک کی شریانوں میں گھول دیا ہے۔ لیکن کچھ تو کام عوام کے لیے کیجیے! کچھ تو ایسے کام کیجیے، جن سے لوگوں کی زندگی میں کچھ بہتری آئے۔ مثال کے طور پر پاور پروجیکٹس ہیں۔ ایسی کتنی ریاستیں ہیں، جن میں پاور پروجیکٹس پانچ سال، دس سال، پندرہ سال میں پورے ہوئے ہوں اور انہوں نے بجلی کی پیداوار شروع کی ہو؟
اور، اس سے بھی مزیدار بات دوسری یہ ہے کہ ایسی ٹکنالوجی آ گئی ہے، جس سے بجلی پیداوار 11 سے 12 مہینے میں شروع ہو سکتی ہے۔ ایسی ٹکنالوجی بھی آ گئی ہے، جس سے ہوا سے پانی بنایا جا سکتا ہے۔ کرۂ باد میں موجود نمی کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن سرکاریں، جن میں سکریٹریوں سے لے کر وزرائے اعلیٰ تک شامل ہیں، ان تکنیکوں کا استعمال نہیں کرنا چاہتیں۔ وجہ صاف ہے، کیو ںکہ اس طرح کی تکنیکوں میں ان کی جیب میں پیسہ نہیں پہنچتا۔ اس طرح کی تکنیکوں سے عوام کو تو فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن افسروں اور سیاسی لیڈروں کو فائدہ نہیں ہوتا۔ اور چونکہ فائدہ نہیں ہوتا، اس لیے ایسے پروجیکٹس ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں۔
یہی حالت مرکزی حکومت کی ہے۔ آٹھ مہینے سے زیادہ گزر گئے، کسی بھی محکمہ میں کوئی کام نہیں ہوا اور کسی محکمہ کی پالیسی نہیں بنی۔ کسی محکمہ میں کام شروع نہیں ہوا اور خاص کر بجلی، پانی کی سطح پر مرکزی حکومت بھی پرانے راستے پر چل رہی ہے کہ جس پروجیکٹ میں پیسہ نہیں ہے، اس میں اگر لوگوں کا فائدہ ہے، تو اس پروجیکٹ کو پیچھے رکھو۔ میں ایک ریاست کا حال جانتا ہوں، جہاں پینے کے پانی کا پروجیکٹ تین ہزار کروڑ روپے میں بنا اور وہ جلدی سے پاس ہو گیا، کیوں کہ اس پروجیکٹ سے کسی وزیر اعلیٰ کی جیب میں 400 کروڑ روپے پہنچ گئے۔ اتنی ہی صلاحیت کا پروجیکٹ اسی سرکار نے دوسرے محکمہ میں 500 کروڑ روپے میں لگایا، لیکن اس پروجیکٹ کو خود وزیر اعلیٰ نے آگے بڑھنے نہیں دیا۔
مرکزی حکومت کے وزیروں کے بارے میں بات کریں۔ خود وزیر توانائی کے محکمہ میں زور شور سے تشہیری مہم چلائی جا رہی ہے کہ شمسی توانائی سے ملک کی بجلی کی ضرورت پوری ہوگی، کیوں کہ نہ اب پانی ہے، نہ کوئلہ ہے۔ لیکن، خود وزیر توانائی سوئے ہوئے ہیں اور شمسی توانائی کے پروجیکٹس کو ترجیح نہیں دے رہے ہیں۔ شاید وہاں بھی تلاش ہے کہ کون سا پروجیکٹ کتنا پیسہ انہیں دیتا ہے۔
یہ سوال سیدھے سوال ہیں اور ان سیدھے سوالوں کو حل کرنا نریندر مودی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اگر وہ مرکز کی سطح پر اور ریاستوں کی سطح پر تال میل قائم نہیں کریں گے اور مرکز اور ریاستوں کو موٹی ویٹ نہیں کریں گے، تو ان کا یہ پورا پانچ سال کا دور بھی وعدوں کا دور رہ جائے گا، کیوں کہ ملک میں آج بھی سڑک، بجلی، پانی کی حالت ویسی ہی ہے، جیسی آٹھ مہینے پہلے تھی۔ نریندر مودی کے دورِ حکومت میں ان میں کوئی تبدیلی آتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
فیصلہ لیڈر کو لینا ہوتا ہے۔ ہمارے ملک کے نظام میں وزیر اعظم بہت بڑے عنصر (فیکٹر) کا رول نبھاتا ہے۔ اس لیے وزیر اعظم کو شاید بنیادی ترجیحات کی شکل میں بجلی، پانی اور سڑک کو رکھنا چاہیے۔ ملک کے گاؤوں میں پینے کا پانی ختم ہو رہا ہے۔ جس پینے کے پانی کے مسئلہ کا حل سات سے دس مہینوں میں نکل سکتا ہے، اسے بیس سال کے بعد نکالنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں ندیوں سے جوڑنے کی بات کہی جا رہی ہے اور ملک کے لوگوں میں یہ بھرم پھیلایا جا رہا ہے کہ جب ندیاں جڑیں گی، تب پینے کا پانی دستیاب ہوگا۔
نریندر مودی جی، سائنس بہت آگے بڑھ گیا ہے۔ ٹکنالوجی دستیاب ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے کرۂ باد سے پانی بنتے ہوئے دیکھا ہے اور ایک مشین روز ایک ہزار لیٹر پینے کا پانی بنا سکتی ہے، یعنی ایک گاؤں کے لیے دو ہزار لیٹر پینے کا پانی کافی ہے۔ لیکن ایسی مشینیں نہ نریندر مودی سرکار کی ترجیحات میں شامل ہے اور نہ ہی ریاستی سرکاروں کی۔ یہ سب ایسے پروجیکٹس کی تلاش میں ہیں، جن میں وزیر اور وزیر اعلیٰ کی جیب میں پیسہ پہنچے، وہی پروجیکٹ منظور ہوں۔ وہ پروجیکٹ نہ منظور ہوں، جن سے لوگوں کو پانی ملے۔ سوال نریندر مودی سے شروع ہوتا ہے اور ملک کے سبھی وزرائے اعلیٰ تک جاتا ہے۔
مجھے پورا یقین ہے کہ اس ملک کے لوگوں کو ابھی بجلی، پانی اور سڑک کی قلت جھیلنی پڑے گی اور یہ شاید اس ملک کی تقدیر ہے کہ ہم جسے بھی چنیں گے، وہ بدعنوانی کی گنگا سے نئی نہر نکالنے کا منصوبہ بنائے گا۔ بدعنوانی ختم کرکے لوگوں کو بجلی، پانی اور سڑک نہیں مہیا کرائے گا۔ شاباش ہے یہ عظیم ملک اور شاباش ہیں اس کے سیاسی لیڈر۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *