ایک بار پھر مظفر پور فساد مسلمانوں پر قہر بن کر ٹوٹا

ڈاکٹر وسیم راشد 

دہلی کی فضا الیکشن کے ہنگاموں سے گرمائی ہوئی ہے ۔پورا میڈیا صرف کرن بیدی ،کجریوال اور اجے ماکن اور ان کے ترجمان سے انٹرویو کرنے اور بحث و مباحثہ میں لگا ہوا ہے ۔کسی کو یہ خیال نہیں کہ اس ہندوستان کی بے حد اہم ریاست بہار کے عزیز پور میں شر پسندوں کے ہاتھوں آدھے درجن مسلمان شہید کر دیئے گئے ہیں۔ہندی ،انگریزی اردو اخبارات نے تو اس پر کافی کچھ لکھا لیکن الکٹرانک میڈیا خاموش رہا اور شور مچا تو صرف سیاسی بازی گروں پر ہر چینل میں پرائم ٹائم،سوپر پرائم ٹائم ، مختلف Debats لگاتار دہلی کے الیکشن پر ٹی آر پی بڑھانے کا عمل جاری رہا۔ بہار کے مظفر پور ضلع کے عزیز پور میں ایک گائوں جل کر ملبہ اور راکھ کا ڈھیر بن گیا ۔ہر بار جب بھی کہیں فساد ہوتا ہے تب مجھے سعادت حسن منٹو کا افسانچہ ’فساد کیسے ہوا‘یاد آجاتا ہے۔جس میں صرف ایک پتھر کہیں سے آجانے پر فساد ہوجاتاہے اور جب پورا شہر فساد کی آگ مں جل جاتا ہے اور چاروں طرف لاشیں بکھر جاتی ہیں تب کوئی ایک ذی ہوش پوچھتا ہے ۔بھائی آخر فساد کیسے ہوا؟اور تب ایک چشم دید گواہ بتاتا ہے کہ صرف ایک پتھر کہیں سے آکر گرا اور فساد ایسے ہوا؟۔
مظفر پور میں 18جنوری کو اس وقت فساد بھڑکا جب مظفرپور ہیڈ کوارٹر سے 40کلو میٹر دور سریّا تھانہ کے تحت عزیز پور کوٹھی کے ایک کھیت میں گزشتہ 11دنوں سے لاپتہ ایک غیر مسلم نوجوان بھارتیزو ساہنی کی لاش ملی۔ 19 سالہ طالب علم بھارتیندو ساہنی مالی ٹولا کے ایک شخص کمل ساہنی کا بیٹا تھا ۔اس کے والد نے 11جنوری کو ایف آئی آر درج کرائی تھی اور اس ایف آئی آر میں عزیز پور گائوں کے محمد وصی احمد کے بیٹے صداقت علی کو نامزد کیا گیا تھا۔ بہار کے ایڈیشنل پولیس ڈی جی نے اس پورے واقعہ کو ایک مسلمان لڑکی اور ایک ہندو لڑکے کے درمیان محبت کا معاملہ بتایا تھا۔حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ لاش ملنے کی خبر عام ہونے کے بعد ابھی گائوں والے جائے وقوعہ پر پہنچے ہی تھے اور لاش کا جائزہ لے ہی رہے تھے کہ آناً فاناً میں آس پاس کے گائوں کے تقریبا ً 5ہزار افراد پر مشتمل ایک ہجوم نے مسلمانوں کی ایک بستی کو گھیر کر آگ لگادی اور اسی طرح ایک بار پھر مسلمانوں کے ساتھ ان حملہ آوروں نے وہ وحشت کا ننگا ناچ کیا کہ انسانیت بھی شرمسار ہوجائے لیکن مسلمان تو اب اس طرح کے فساد کے عادی ہوچکے ہیں۔انہیں معلوم ہے کہ فساد کی وجہ جو بھی ہو، مارے وہی جائیں گے،ان کے ہی گھر جلائے جائیں گے ،ان کو ہی جیلوں میں ٹھونسا جائے گا ،ان کو ہی دہشت گرد کہا جائے گا، ان کو ہی فسادی بھی قرار دیا جائے گا اور یہی ہوا ۔اس کھلی ہوئی دہشت گردی کے نتیجے میں تقریبا ً16افراد زندہ جل گئے اور درجنوں افراد جن میں چھوٹے چھوٹے معصوم بچے شامل ہیں اب تک لاپتہ ہیں۔
کیسی دردناک صورت حال ہے کہ پورے گائوں کی ناکہ بندی کرکے خوب لوٹ مار مچائی ،قیمتی سامان بھی لوٹا اور عورتوں ،بچوں اور بزرگوں کو خوب مارا پیٹا اور خواتین کے سامنے ہی ان کے بچو ں اور شوہر کو زندہ جلا دیا۔ فسادیوں نے کئی موٹر سائیکل ،ایک ماروتی اور ایک ٹریکٹر کو بھی نذر آتش کردیا۔ہر بار فساد میں ہزاروں لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر چلے جاتے ہیں ،کچھ کے مکانات جل جاتے ہیں ،کسی کے گھر کے سبھی افراد فسادیوں کی بربریت کا نشانہ بن جاتے ہیں اور حکومت اس وقت جاگتی ہے جب سب کچھ ہو چکا ہوتاہے۔
4دن بعد وزیر اعلیٰ مانجھی کو دھیان آتا ہے تو وہ عزیز پور کا رخ کرتے ہیں۔ ان کے جاتے ہی لالو یادو عزیز پور پہنچتے ہیں اور فساد سے ہلکان لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کہیں کسی ریاست میں فساد ہورہا ہواور اس ریاست کا وزیر اعلیٰ،گورنر یا دوسرے اعلیٰ عہدیداران وہاں فوراًپہنچے ہوں بلکہ ہمیشہ ہی 4 یا 5دن بعد ٹہلتے ہوئے جاتے ہیں اور چند لوگوں سے ملاقات کرکے گنے چنے لوگوں کو تسلی دے کر لوٹ آتے ہیں۔
دراصل جیتن رام مانجھی کو وزیر اعلیٰ بنا کر نتیش کمار یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ مانجھی پر ریموٹ کنٹرول کے ذریعہ حکومت چلا سکیں گے لیکن جلد ہی مانجھی نے یہ ثابت بھی کردیاکہ وہ کسی کے اشارے پر نہیں چلیں گے اور اس سیاسی بحران میں جبکہ نتیش اور مانجھی میں زبردست رسہ کشی چل رہی ہے ،بہار کا سیاسی بحران اور گہرا ہوگیا ہے اور بہار کا نظم و نسق بہت ہی متاثر ہوا ہے۔اس میں جرائم پیشہ اور فرقہ پرست افراد نے پوری ریاست میں اپنی غنڈہ گردی کا جال بچھا رکھا ہے۔ اسی لئے مظفر پور کا فساد بہت ہی منظم طریقے سے کیا گیا جس میں ایک ہی فرقہ کو نشانہ بنایا گیا جیسے ہمیشہ ہوتا آیا ہے جیسے میرٹھ ، ہاشم پورہ ، ملیانہ میں ہوا اور جیسے گجرات فساد میں مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی جیسے مظفر نگر کا فساد ہوا۔انتظامیہ کی سرد مہری کا یہ حال تھاکہ کئی گھنٹے تک فسادی مسلمانوں کے گھروں کو نذر آتش کرتے رہے ،لوٹ مار مچاتے رہے اورضلع انتظامیہ سوتا رہا ۔یہ پولیس اور انتظامیہ کی لاپرواہی ہی تھی کہ پورا گائوں نذر آتش کردیا گیا۔سونے چاندی کے زیورات لوٹ لئے گئے ،تعلیمی اسناد کو نذر آتش کردیا گیا۔
آج 15دن بعد بھی گائوں کے گھروں میں دھوان اٹھتا ہوا نظر آرہا ہے۔گائوں کے لوگ اپنی پوری زندگی کی کمائی سے محروم ہوگئے ہیں۔ اس کڑاکے کی سردی میں جو لوگ بے گھر ہوئے ہیں ،وہ کہاں دھکے کھارہے ہیں۔ یہ کوئی نہیں جانتا لیکن جو بچ گئے ہیں ان کا سب کچھ لُٹ گیا ہے یا جل گیا ہے۔
ہر فساد کے بعد حکومت معاوضہ کا اعلان کرتی ہے۔ لیکن کبھی اس پر عمل نہیں ہوتاہے کہ آیا یہ معاوضہ حقداروں کو ملا یا نہیں۔مظفر نگر فساد زدگان کو آج تک بھی معاوضہ کا پیسہ نہیں ملا ہے۔ حقدار آج بھی ترس رہے ہیں اور اس کڑاکے کی سردی میں آج بھی کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔یہ حال ہر جگہ ہوا ہے۔ اب مظفر پور کے فساد زدگان کو یہ معاوضہ ملے گا یا نہیں ملے گا،اگر ملے گا تو صحیح حقداروں تک پہنچے گا یہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے ۔جو ہونا تھا ہوگیا لیکن ایک سوال آج بھی اپنی جگہ ہے کہ کیا اتنا بڑا فساد اچانک ہوسکتاہے اور برسوں سے مل جل کر رہنے والے اچانک ایک دوسرے کی جان کے دشمن کیسے بن سکتے ہیں۔ مظفر نگر میں امیت شاہ جاتے ہیں ،تقریر کرتے ہیں اور کچھ دن بعد فساد ہوجاتا ہے۔اسی طرح عزیز پور میں فسادسے چند دن قبل بی جے پی کے متنازعہ ایم پی یوگی آدتیہ ناتھ جاتے ہیں ،تبدیلی مذہب کا جلسہ کرتے ہیں اور پھر فساد ہوجاتاہے۔
جہاں بھی فسا د ہوتا ہے ،کوئی نہ کوئی ایسی باہمی محبت کی مثال مل جاتی ہے کہ ایک بار پھر انسانیت پر یقین ہوجاتا ہے جس کی تعریف نہ کرنا غیر منصفانہ لگتا ہے ،شیل دیوی بھی ایک ایسی ہی مثال ہیں جنہوں نے اپنی جان پر کھیل کر 10مسلمانوں کو اپنے گھر میں پناہ دی اور اپنی 2بیٹیوں کے ساتھ دروازے پر ڈٹی رہیں یہاں تک کہ پانچ ہزار فسادیوں کے گڑھ نے بھی ان کے انسانی جذبے کو نہیں مارا اور انہوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور فسادیوں کے لاکھ کوشش کرنے پر بھی وہ یہ کہہ کر کہ یہ ایک ملاح کا گھر ہے ڈٹی رہیں لیکن انسانیت کی اس دیوی کو اس نیک کام کی بدولت بے حد سراہا جارہا ہے ۔حالانکہ ان کو بھی پھر فسادیوں نے دھمکیاں دیں اور پھر ان کو بھی ایک مسلم خاندان میں اپنی دو بیٹیوں اور بیٹے کے ساتھ پناہ لینی پڑی لیکن جب انتظامیہ نے ان کو حوصلہ دیا تو وہ واپس اپنے گھر لوٹ آئی ہیں۔ چیتن رام مانجھی نے 5100 روپے کا انعام ان کو اور 20,20ہزار روپے ان کی بیٹیوں کو انعام کے طور پر دیئے ہیں جو یقینا قابل ستائش ہے۔
اگر ایسے فرشتہ صفت انسانیت کے ہمدرد لوگ اس دنیا میں نہ ہوں تو شاید فساد میں اتنا نقصان ہو جس کا اندازہ بھی کوئی نہیں لگا سکتا ۔ایسے لوگوں کی وجہ سے ہی انسانیت زندہ ہے ۔تشدد اور خوف کا یہ عالم ہے کہ 15 دن گزرنے کے بعد ابھی تک لوگ واپس اپنے گھروں کو نہیں لوٹے ہیں۔ ہر فساد کا انجام عصمت دری، قتل ، خون ، آتش زنی، معصوم بچوں کی جانوں کا زیاں ہی ہوتا ہے۔
سب کچھ ہوگا فسادیوں کو ڈھونڈ کر پکڑا بھی جائے گا ۔مظلومین کو شاید معاوضہ بھی مل جائے لیکن اس ماں کو صبر کیسے آئے گا جس کے تین میں سے دو بیٹوں کو آنکھوں کے سامنے مار دیا گیا جس کی تین بیٹیوں کو فسادیوں نے دبوچ دبوچ کر مار ڈالا جس سلمیٰ کا اس فساد میں سب کچھ لٹ گیااور اس کے شوہر کو اس کی آنکھوں کے سامنے زندہ جلا ڈالا گیا ۔ اس کے بیٹے کو اٹھا کر لے گئے جس کا آج تک علم نہیں ۔نجمن خان کی بیٹیوں کی شادی کا ڈیرھ دو لاکھ روپیہ اور گھر میں نقد زیورات سب لوٹ کر لئے گئے ۔ وہ اپنی لڑکیوں کی کہاں اور کیسے شادی کر یں گی ،جس لڑکے کے تعلیمی اسناد نذر آتش کردیئے گئے اس کا مستقبل کیا ہوگا؟بھائی کو بچانے گئی شکیلہ کے سر پر پے درپے وار کئے گئے اور وہ آج بھی اسپتال میں ہے۔لوگوں کے تن پر کپڑے نہیں اور کھانے کو اناج نہیں۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ سبھی مسلم تنظیمیں ، ادارے ، این جی اوز اور دوسرے مذاہب کے ادارے بھی آگے آئیں اور باز آباد کاری کا کام کریں تاکہ کچھ تو زخموں پر مرہم لگا یا جاسکے ورنہ حقیقت تو یہ ہے جو لٹ گیا وہ کبھی نہیں بس سکتا ۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *