ایک بار پھر خطرے میں دہلی کی 123 وقف املاک

اے یو آصف

تقریباً ایک برس قبل 2 مارچ، 2014 کو دہلی کی 123 وقف املاک کی ملکیت دہلی وقف بورڈ کے حوالے کر دی گئی تھی۔ بعد ازاں، 22 مئی کو وشو ہندو پریشد نے دہلی ہائی کورٹ میں یو پی اے حکومت کے مذکورہ بالا آرڈر کو چیلنج کر دیا۔ عدالت نے موجودہ این ڈی اے حکومت کی وزارتِ شہری ترقیات کو ہدایت دی کہ وہ تمام فریقین بشمول دہلی وقف بورڈ، وشو ہندو پریشد، دیگر تنظیموں اور سرکاری باڈیز کے نمائندوں کی میٹنگ بلائے اور پھر ان کی تفصیلات اسے پیش کرے۔ مذکورہ میٹنگ تو ابھی ہونی ہے۔ دریں اثنا یہ خبر بھی گشت کر رہی ہے کہ حکومت نے یہ جاننے کے لیے انکوائری شروع کر دی ہے کہ کہیں دہلی وقف بورڈ کو سابقہ مرکزی حکومت کے ذریعے ان املاک کو غیر قانونی طور پر تو ٹرانسفر نہیں کیا گیا ہے؟ اس طرح 123 وقف املاک کا معاملہ حل ہونے کے بعد بھی مزید الجھتا ہی جا رہا ہے اور یہ املاک بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں اور غیر قانونی قبضہ کا شکار ہیں۔ ’چوتھی دنیا‘ کو یہ کریڈٹ حاصل ہے کہ اس نے 2 مارچ، 2014 کو ڈی نوٹیفکیشن سے پونے دو ماہ قبل (27 جنوری، 2014 کے اپنے شمارہ میں) اس تعلق سے 123 وقف املاک کی مکمل فہرست کے ساتھ انکشافاتی رپورٹ پیش کی تھی اور پھر اپنے 17 مارچ کے شمارہ میں اس تاریخی فیصلہ کو کور کیا تھا۔ اب یہ جائزہ لینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کیا ہے نیا واویلا اور اس کا پس منظر؟

میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالب
مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے
mastہندوستان کی کل 6 لاکھ ایکڑ اراضی پر پھیلے ہوئے 4.9 لاکھ رجسٹرڈ وقف املاک میں سے بیشتر کی حالت دگرگوں ہے۔ مفاد پرست عناصر کی نظر ہمیشہ سے ان پر رہی ہے اور آج بھی ہے۔ کیا سرکاری، کیا غیر سرکاری، حد تو یہ ہے کہ واقف کی منشا کے خلاف ان پر ناجائز قبضے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر ایک، بقول مرزا غالبؔ ’مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے‘ پر عمل پیرا ہے۔ عجیب بات تو یہ ہے کہ مسلمان اور ان کی بعض تنظیمیں اور ادارے بھی اس سے مبرا نہیں ہیں۔ دہلی کی 123 وقف املاک، جو کہ سابقہ منموہن سنگھ حکومت کے ذریعے ڈی نوٹیفکیشن کے فیصلے کی رو سے دہلی وقف بورڈ کی تحویل میں تقریباً ایک برس قبل آ چکی ہیں، کا بھی کم و بیش یہی حشر ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی وقف بورڈ کی موجودہ چیئر پرسن رعنا پروین صدیقی سارے جہاں سے ناراض ہیں۔ انہیں شکایت سرکار، انتظامیہ، مسلمان اور ان کی بعض تنظیموں اور اداروں کے ساتھ ساتھ دیگر شخصیات سے بھی ہے۔ انہیں اس بات کی شکایت کے ساتھ اعتراف بھی ہے کہ ان 123 وقف املاک میں آئی ٹی او پر واقع مسجد عبدالنبی اور مسجد غوثیان عرف جھیل کی پیاؤ پر جمعیت علماء ہند کے دونوں دھڑے (مولانا محمود مدنی اور مولانا ارشد مدنی کی قیادت والے) اس کے اطراف کی اراضی سمیت قابض ہیں۔ دہلی وقف بورڈ کی چیئر پرسن، جو کہ معروف وکیل بھی ہیں، کے نزدیک 123 وقف املاک کو بورڈ کو ٹرانسفر کرنے کے تعلق سے 2 مارچ، 2014 کے ڈی نوٹیفکیشن کے منموہن سنگھ حکومت کے فیصلہ پر نریندر مودی کی موجودہ حکومت کے ذریعے انکوائری شروع کرنا ناقابل فہم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تمام جائدادیں وقف کی ہوئی ہیں۔ لہٰذا 103 برس کے بعد ان کی واپسی پر انکوائری کی آخر ضرورت کیوں آ پڑی ہے؟ ان کے مطابق، عجلت یا دیر سے کیا گیا فیصلہ آخر ہے تو حکومت کا ہی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وشو ہندو پریشد نے دہلی ہائی کورٹ میں اپنا ری پریزنٹیشن 22 مئی، 2014 کو دیا ہے، جس کے بعد مرکزی حکومت نے اب انکوائری شروع کی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ دہلی وقف بورڈ بھی اپنا ری پریزنٹیشن عدالت میں عنقریب پیش کرے گا۔
اس قضیہ کا تجزیہ کرتے وقت پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ 123 وقف املاک آخر ہیں کیا؟ عیاں رہے کہ برطانوی حکومت نے 1911-15 میں کلکتہ سے ہٹ کر دہلی کو قومی راجدھانی بناتے وقت یہاں کے مختلف مقامات پر اراضی کو ایکوائر کیا، جن میں بہت سی زمینیں مساجد، درگاہوں، قبرستانوں و دیگر اوقاف کی بھی تھیں، جنہیں بغیر الگ کیے ہوئے سرکار کی تحویل میں لے لیا گیا۔ اس سلسلے میں اس دور میں اس کے خلاف مقدمات بھی دائر کیے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی مجلس اوقاف، جس کا جانشین دہلی وقف بورڈ ہے، نے اوقاف کی اراضی کا معاوضہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ ملک کے آزاد ہونے کے بعد تک یہ مقدمات مختلف عدالتوں میں لٹکے رہے۔ وقف بورڈ کے قیام کے بعد وقف املاک، خصوصاً ان مذہبی مقامات کی واپسی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا، جو کہ ایکوائر ہونے کے باوجود بورڈ کی دیکھ بھال اور نگرانی یا مسلمانوں کے استعمال میں تھیں۔ تب 1970 کی دہائی میں مرکزی حکومت نے ایک انکوائری کمیٹی بنادی، جس کی رپورٹ سید مظفر حسین برنی مرحوم کی سربراہی میں تیار ہوئی۔ اس رپورٹ کو برنی رپورٹ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اس کمیٹی نے ایسی 250 املاک کی شناخت کی، جو قف کی جائدادیں تھیں۔ ان پر عمل درآمد کے لیے میر نصراللہ کی سربراہی میں ایک اور کمیٹی قائم کی گئی، جس نے ان 250 املاک میں سے 123 ایسے املاک کا خلاصہ کیا، جنہیں وقف بورڈ کو ٹرانسفر کیا جا سکتا تھا۔ حکومت نے اوائل 1984 میں فیصلہ کیا کہ ان 123 املاک کا مالکانہ حق دہلی وقف بورڈ کو واپس کر دیا جائے اور اس سلسلے میں 27 مارچ، 1984 کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔
سنٹرل وقف کونسل کے سابق سکریٹری ڈاکٹر محمد رضوان الحق کہتے ہیں کہ اس وقت دو غلط واقعات ہوئے۔ نوٹیفکیشن شائع ہونے سے دو دن پہلے یہ بات میڈیا تک پہنچ گئی، جس کی وجہ سے نوٹیفکیشن سے ایک روز قبل اس خبر کو اس طرح شائع کیا گیا کہ حکومت ان املاک کو ایک روپیہ سالانہ فی ایکڑ کی شرح سے لیز پر دے رہی ہے۔ پھر دوسرا واقعہ یہ ہوا کہ نوٹیفکیشن میں ان املاک کو وقف املاک کے طور پر دہلی وقف بورڈ کو سونپنے کے بجائے ایک روپیہ سالانہ فی ایکڑ کی شرح سے ہی اسی بورڈ کو لیز پردینے کی بات کہی گئی، جو کہ سرے سے ناجائز تھی اور حکومت کے فیصلہ اور منشا کے برعکس بھی تھی۔ اس وقت محترمہ محسنہ قدوائی مرکزی وزیر برائے ورکس اینڈ ہاؤسنگ تھیں۔
پھر ان دونوں واقعات کا اثر یہ ہوا کہ راتوں رات ایک تنظیم اندر پرستھ ہندو مہا سبھا کے نام سے وجود میں آ گئی اور اس نے نوٹیفکیشن جاری ہوتے ہی دہلی ہائی کورٹ میں رِٹ دائر کی اور نوٹیفکیشن پر اسٹے لے لیا۔ یہ اسٹے 24 سال تک برقرار رہا۔ پھر 2008 میں دہلی ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران ججوں نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ وقف املاک اللہ کے نام پر فلاحِ عام کے لیے بنائی جاتی ہیں، لہٰذا حکومت اس طرح کی املاک کی مالک نہیں بن سکتی ہے۔ اس لیے اگر وہ انہیں وقف املاک مانتی ہے، تو اسے انہیں دہلی وقف بورڈ کو ٹرانسفر کر دینا چاہیے اور یہ کام پرپیچوئل لیز اور ہولڈ بیسس پر نہیں ہونا چاہیے۔ ریکارڈ سے یہ بات صاف تھی کہ لیز کی بنیاد پر دہلی وقف بورڈ کو ٹرانسفر کرتے وقت اقف املاک کا مالکانہ حق قائم رکھنے میں اتفاقِ رائے نہیں تھا۔ عدالت کو اس پر حیرت تھی، تبھی تو اس نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کو ہدایت دی کہ وہ اس سلسلے میں حکومت سے مشورہ لیں اور پھر حکومت کی رائے سے عدالت کو واقف کرائیں۔
ڈاکٹر رضوان الحق، جو کہ اس زمانے میں سنٹرل وقف کونسل کے سکریٹری تھے، نے ’چوتھی دنیا‘ کو بتایا کہ اس وقت سنٹرل وقف کونسل کی پیش رفت پر 7 اپریل، 2008 کو ان دنوں مرکزی وزیر برائے شہری ترقیات جے پال ریڈی کے چیمبر میں میٹنگ بلائی گئی، جس میں وہ خود بھی موجود تھے۔ اس دوران وزیر موصوف نے کہا کہ اس ضمن میں ضروری فیصلے گروپ آف منسٹرس کے ذریعے ہی لیے جا سکتے ہیں۔ اس طرح مرکزی حکومت اس ایشو پر ٹال مٹول کرتی رہی۔ تب دہلی ہائی کورٹ نے 12 جنوری، 2011 کو 123 وقف املاک سے متعلق مذکورہ بالا اندر پرستھ ہندو مہا سبھا کی رِٹ پٹیشن (سی) نمبر 1512/1984 کو خارج کر دیا اور حکومت کو یہ ہدایت دی کہ وہ اس سلسلے میں 6 ماہ کے اندر حتمی فیصلہ کرے، مگر حکومت وقت پر وقت لیتی رہی۔
بہرحال، اس تعلق سے منموہن سنگھ حکومت نے 2 مارچ، 2014 کو حتمی فیصلہ لیتے ہوئے ان 123 وقف املاک کو ڈی نوٹیفائی کرتے ہوئے دہلی وقف بورڈ کو دہلی ہائی کورٹ کی ہدایت کی روشنی میں ٹرانسفر کر دیا۔

تب وشو ہندو پریشد نے 22 مئی کو دہلی ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشن دائر کی اور کہا کہ املاک کا دہلی وقف بورڈ کو ٹرانسفر لینڈ ایکیوزیشن ایکٹ کے سیکشن 48 کی خلاف ورزی ہے۔ وی ایچ پی کا پٹیشن میں دعویٰ تھا کہ املاک، جو 1911-15 میں سرکار کے ذریعے ایکوائر کرکے قبضے میں لے لی گئی ہیں، کو نہ ڈی نوٹیفائی کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے ایکیوزیشن سے ریلیز کیا جا سکتا ہے۔
اس ضمن میں موجودہ شہری ترقیاتی وزیر ایم وینکیا نائڈو کا کہنا ہے کہ انہیں سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید کے خلاف ایک ری پریزنٹیشن ملا ہے، جس میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ وہ ان املاک کے ٹرانسفر میں محرک تھے۔ وزارتِ شہری ترقیات کو اندیشہ ہے کہ اس وقت پورا فیصلہ جلد بازی میں لیا گیا۔ لہٰذا متعلقہ وزارت نے وزارتِ قانون سے اس سلسلے میں تحریری رائے مانگی ہے۔
عیاں رہے کہ گزشتہ برس ڈی نوٹیفکیشن کے وقت ان 123 وقف املاک میں 61 لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس، جب کہ بقیہ 62 دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) کی تحویل میں تھیں، جن میں سے کچھ تو سرکار کے استعمال میں تھیں، تو کچھ بعض مسلم تنظیموں اور اشخاص کے قبضے میں تھیں۔ ان املاک میں بیشتر کناٹ پلیس، متھرا روڈ، لودھی روڈ، مان سنگھ روڈ، پنڈارہ روڈ، اشوک روڈ، جن پتھ، پارلیمنٹ ہاؤس، قرول باغ، صدر بازار، آزاد مارکیٹ، دریا گنج، آئی ٹی او، نظام الدین اور جنگ پورہ میں واقع ہیں۔ ہر ایک سے مسجد منسلک ہے، جب کہ کچھ میں دکانیں اور رہائش گاہیں بھی ہیں۔
اس طرح ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان 123 وقف املاک پر ایک بار پھر خطرات کے باڈل منڈرا رہے ہیں۔ پچھلی بار تو اندر پرستھ ہندو مہا سبھا نے 1984 میں حکومت کے نوٹیفکیشن پر اسٹے لے لیا تھا، مگر 24 برس بعد 2008 میں دہلی ہائی کورٹ کے ججوں نے سماعت کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ان املاک کو وقف املاک مانتی ہے، تو اسے انہیں دہلی وقف بورڈ کو ٹرانسفر کر دینا چاہیے اور پھر 12 جنوری، 2011 کو مذکورہ رِٹ پٹیشن کو خارج بھی کر دیا اور حکومت سے کوئی حتمی فیصلہ کرنے کو کہا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 2 مارچ، 2014 کے حتمی فیصلہ کو وشو ہندو پریشد کے رِٹ پٹیشن سے جو چیلنجز درپیش ہیں، ان کا کیا ہوتا ہے اور عدالت اس تعلق سے کیا فیصلہ کرتی ہے؟ نیز موجودہ حکومت کا رخ کیا ہوتا ہے؟
مسلم شخصیات و ماہرین
وقف املاک سے کھلواڑ اور سیاست نہ کریں
اوقاف فلاحِ عام کا بہترین اور مؤثر ذریعہ ہے۔ مسلمانوں میں یہ سلسلہ ابتدا سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان سمیت پوری دنیا میں بہت بڑی تعداد میں وقف املاک موجود ہیں۔ لیکن، یہ ستم ظریفی ہے کہ ان املاک کے ساتھ بھی کھلواڑ اور سیاست کا بازار گرم ہے اور بعض املاک کے ساتھ تو سودے بازی تک ہو رہی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ بھی اس تعلق سے کھل کر سامنے نہیں آتا ہے۔ تبھی تو ممبئی میں معروف صنعت کار مکیش امبانی کے ذریعے مسجد اور یتیم خانہ کو توڑ کر وقف اراضی کو خریدنے کے بعد 27 منزلہ انتیلیا محل کے ایشو کو بورڈ کے اجلاس میں اٹھانے سے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا سید نظام الدین نے چند برسوں قبل یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ تو صرف بابری مسجد اور اس کے ساتھ منسلک وقف اراضی کے معاملہ کو دیکھتا ہے، دیگر معاملوں کو نہیں دیکھتا ہے۔ نیز بورڈ کے قانونی مشیر اور معروف وکیل یوسف حاتم مچھالہ اس معاملہ میں بامبے ہائی کورٹ میں مکیش امبانی کے وکیل بنے تھے اور ان کے حق میں فیصلہ کرانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ نیز بعد میں معاملہ کے سپریم کورٹ میں آنے پر وہاں بھی اسے بار بار اسٹے دلانے میں ابھی تک دلچسپی لے رہے ہیں۔ خود دہلی میں وقف املاک کا معاملہ بھی بہت تشویش ناک ہے۔ عوام میں مسلم و غیر مسلم سبھی اور سرکاری محکمات کی تحویل میں فلاح عام کی غرض سے وقف کی ہوئی یہ جائدادیں دیگر اغراض کے لیے غیر قانونی قبضہ کرکے استعمال ہو رہی ہیں اور بعض املاک تو بزنس اور بعض دیگر اغراض کے لیے وقف ہو گئی ہیں۔ اسی طرح کا معاملہ کلکتہ کے بجائے دہلی کو قومی راجدھانی بناتے وقت 1911-15 میں پیش آیا تھا۔ تب برطانوی حکومت نے اس کاز کے لیے جن زمینوں کو ایکوائر کیا، ان میں اوقاف کی بھی زمینیں تھیں۔ اس وقت یہ احتیاط نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے وقف جیسے پاکیزہ جذبہ کا خون ہو گیا۔ ان دنوں برطانوی حکومت کے خلاف مقدمات بھی دائر کیے گئے۔ یہ مقدمات ملک کی آزادی کے بعد بھی مختلف عدالتوں میں لٹکے رہے۔
اسی دوران وقف جائدادیں، جو کہ ایکوائر ہونے کے باوجود آزادی کے بعد قائم ہوئے وقف بورڈ کی دیکھ بھال اور نگرانی یا مسلمانوں کے استعمال میں تھیں، کے تعلق سے ان کی واپسی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔ برنی کمیٹی اسی مطالبہ کے نتیجے میں بنی اور اس نے ایسی 250 املاک کی شناخت کیں، جسے بعد میں میر نصراللہ کمیٹی نے خلاصہ کیا اور کہا کہ ان میں سے 123 املاک کو دہلی وقف بورڈ کو ٹرانسفر کیا جا سکتا ہے۔ حکومت نے اسی کے پیش نظر 27 مارچ، 1984 کو اس تعلق سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا، مگر یہ بھی اندر پرستھ ہندو مہا سبھا کے دہلی ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشن کے چلتے اس وقت تک الجھا رہا، جب تک عدالت نے اسے 12 جنوری، 2011 کو خارج نہیں کر دیا اور حکومت کو کوئی حتمی فیصلہ لینے کو کہا۔ تب 2 مارچ، 2014 کو منموہن سنگھ حکومت نے حتمی فیصلہ لیتے ہوئے ان املاک کو دہلی وقف بورڈ کے حوالے کر دیا۔ پھر 22 مئی کو وشو ہندو پریشد نے اسے اسی عدالت میں چیلنج کر دیا۔ مذکورہ عدالت نے حکومت سے فریقین کی میٹنگ کراکے رپورٹ پیش کرنے کو کہا۔ اسی دوران حکومت نے اس تعلق سے سابق حکومت کے پارلیمانی انتخابات سے عین قبل عجلت میں ڈی نوٹیفکیشن کے طریقہ کار پر انکوائری شروع کر دی، جب کہ اسے عدالت کی ہدایت کے مطابق اسٹیک ہولڈرس کی فوری میٹنگ کرانی اور عدالت کو رپورٹ پیش کرنی ہے۔
مرکزی حکومت کے اس رویہ پر ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم کہتے ہیں کہ حکومت کو اس معاملے میں سیاست کے بجائے عدالتی ہدایت پر یکسوئی سے عمل کرنا چاہیے، ورنہ اوقاف کے عظیم مقصد کے ساتھ یہ سب کچھ کھلواڑ ہوگا اور عدالت کی توہین ہوگی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کی سیاست سے 103 برسوں بعد سلجھا یہ معاملہ پھر سے الجھایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر عالم نے تھنک ٹینک آئی او ایس کے تحت متعدد قومی و بین الاقوامی وقف سیمینار کرائے ہیں اور اوقاف کے ایشوز پر ان کی گہری نظر ہے۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی مدنی کا کہنا ہے کہ اوقاف کے ساتھ سیاست اور مفاد پرستی ہرگز نہیں ہونی چاہیے، کیوں کہ اس سے وقف کی روح ہی متاثر ہو جاتی ہے۔ ان کے خیال میں ان 123 املاک کو جب وقف املاک ماننے میں کسی کو اعتراض نہیں ہے، تو پھر اسے دہلی وقف بورڈ کے حوالے کرنے کے فیصلے پر اتنا واویلا آخر کیو ںہو رہا ہے؟
قیم جماعت اسلامی ہند مولانا نصرت علی کہتے ہیں کہ جب مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ کی واضح ہدایت کی روشنی میں ایک واضح فیصلہ لیا تھا اور دہلی وقف بورڈ کو ان 123 املاک کو سونپ دیا تھا، تو پھر دوبارہ تنازع کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ ان کا خیال ہے کہ یہ مسئلہ بہت ہی حساس ہے۔ لہٰذا حکومت کو عدالت کی حالیہ ہدایت کی روشنی میں اسٹیک ہولڈرس کی میٹنگ جلد کراکے رپورٹ عدالت کو سونپ دینا چاہیے، تاکہ عدالت کوئی حتمی فیصلہ کر سکے۔
ریاست بہار کے سابق چیف سکریٹری ڈاکٹر ایم اے ابراہیمی، جن کی بطور آئی اے ایس افسر اوقاف مسائل پر گہری نظر رہی ہے، کہتے ہیں کہ یہ ایشو بہت ہی اہم ہے، کیوں کہ اس کا تعلق فلاحِ عام سے ہے۔ انہوں نے ’چوتھی دنیا‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس تعلق سے اپنے عملی تجربات کو اپنی کتاب ’مائی ایکسپیرئینس اِن گورننس‘ میں ڈیل کیا ہے۔ ان کا واضح طور پر کہنا ہے کہ 123 وقف املاک کا معاملہ عدالت پر چھوڑ دینا چاہیے۔ 2011 میں دہلی ہائی کورٹ نے اندر پرستھ ہندو مہا سبھا کے 1984 کے پٹیشن کو بحسن و خوبی نمٹایا ہے۔ توقع ہے کہ یہ 2014 میں وشو ہندو پریشد کے ذریعے دائر کیے گئے پٹیشن کو بھی اسی طرح نمٹائے گی اور پھر اس سلسلے میں انصاف ہو پائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سبھی فریقین اور خود مرکز میں برسر اقتدار سیاسی پارٹی کو عدالت پر پورا بھروسہ کرنا چاہیے اور جو بھی ہدایت وہاں سے ملے، اس پر عمل پیرا ہونا
چاہیے، ورنہ ایک معاشرتی ایشو خوامخواہ پھر سے الجھ جائے گا۔

وقف آخر ہے کیا؟
حدیث میں وقف کی تشریح کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اصل کو اس طرح خیرات میں دو کہ وہ نہ بیچی جا سکے، نہ ہی اس کو تحفہ میں دیا جا سکے اور نہ ہی اس میں وراثت کا سلسلہ جاری ہو، بلکہ اس کے فائدے عام لوگوں کو ملا کریں۔ مذکورہ حدیث کے مطابق، پوری دنیا کے مسلمانوں میں وقف کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور یہ فلاح عام کا ایک مفید اور مؤثر ذریعہ بنا ہوا ہے۔ جہاں تک ہمارے ملک ہندوستان کا معاملہ ہے، 17 نومبر، 2006 کو ڈاکٹر منموہن سنگھ حکومت کو سونپی گئی سچر رپورٹ کے مطابق، ملک بھر میں 6 لاکھ ایکڑ اراضی پر محیط 4.9 لاکھ رجسٹرڈ وقف املاک پائی جاتی ہیں، جن کی قیمت کا گزشتہ برس اندازہ 6 ہزار کروڑ روپے کیا گیا تھا اور اس سے سالانہ آمدنی کم از کم 163 کروڑ روپے بتائی گئی تھی۔ اسی رپورٹ میں صفحہ نمبر 382-93 پر دہلی کی 318 وقف املاک کی فہرست شائع کی گئی ہے اور ان پر تمام قبضوں کو ناجائز اور غیر قانونی بتایا گیا ہے۔ انہی میں فی الوقت موضوع بحث 123 وقف املاک شامل ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *