دہلی کانگریس کے مسلم امیدواروں کو لے ڈوبی عدم کارکردگی

ڈاکٹر وسیم راشد
دہلی الیکشن میں ہر آدمی عام آدمی پارٹی کی تاریخی جیت پر حیران ہے اور سبھی اخباروں نے اپنے اپنے طریقوں سے تجزیئے اور رد عمل پیش کئے ہیں۔ میری خواہش یہ ہے کہ میں صرف دہلی کے مسلم علاقوں کے ان ایم ایل ایز کے چہروں سے آپ کو واقف کراسکوں جنہوں نے 15سالوں میں بھی کوئی کام نہیں کیا اور پوری دہلی کے مسلم علاقوں کو سلم بنا کر رکھ دیا۔ ایک سال پہلے صرف کانگریس سے جیتنے والے شعیب اقبال، حسن احمد، چودھری متین، آصف محمد خاں اور ہارون یوسف ان سب کی ہار کے کیا اسباب ہوئے؟کیا اس کی وجہ عام آدمی پارٹی کی لہر تھی جیسے اب سے 10 مہینے پہلے بی جے پی کی تھی اور دہلی کی ساتوں لوک سبھا سیٹ بی جے پی کی جھولی میں آگری تھیں یا پھر واقعی دہلی کے مسلم علاقوں میں رہنے والے چاہے وہ ہندو ہوں یا مسلمان ،سبھی نے ان مسلم امیدواروں کو بری طرح رد کردیا۔
مجھے دہلی کے مزاج کا تھوڑا بہت علم ہے ۔ میری نسلیں پشتیں دہلی والی تھیں اور اسی نسبت سے میں نے اپنے اس سفر میں دہلی کا بدلتا ہوا مزاج دیکھا ہے اور دہلی کے مسلمانوں کو بہت جاننے کا دعویٰ تو نہیں کرتی لیکن کچھ کچھ ضرور جانتی سمجھتی ہوں۔ مٹیا محل ،چاندنی چوک، بلی ماران،سیلم پور ، اوکھلا اور مصطفیٰ آباد ،سب مسلم اکثریتی علاقے ضرور ہیں لیکن یہاں کبھی بھی مذہبی تعصب کا نہیں بلکہ ہم آہنگی کا مظاہرہ ہوا ہے۔ایچ کے ایل بھگت ،جے پرکاش اگروال، کپل سبل، پرہلاد سنگھ ساہنی ،کرشنا تیرتھ اور سندیپ دیکشت ،یہ تو آج کے چہرے ہیں جنہیں ہمیشہ بھاری اکثریت سے مسلمانوں کا ووٹ ملا لیکن پرانے چہروں میں بھی مدن لال کھورانہ ، صاحب سنگھ ورما ،وجے گوئل وغیرہ کو بھی مسلم علاقوں میں بھاری اکثریت ملی ہے ،پھر ایسا کیا ہوا کہ خود مسلمانوں نے ان پانچوں مسلم چہروں کو جنہوں نے ایک عرصہ سے دہلی پر راج کیا اچانک ہی عوام نے اکھاڑ کر پھینک دیا۔
میری آنکھوں نے خود دہلی کے ان مسلم علاقوں کو کھنڈر بنتے دیکھا ہے ۔آج سے 20 سال پہلے کے مٹیا محل علاقہ کو دیکھئے اور آج جائیے تو عقل دنگ رہ جائے گی کہ جہاں دنیا آگے کی طرف جارہی ہے ،یہ مسلم علاقہ دن بدن گندگی ، تعفن، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور کوڑکے ڈھیر بنتا جارہا ہے۔
شعیب اقبال نے ان 15سالوں میں کیا کام کئے مجھے نہیں معلوم کیونکہ اس علاقے میں ترقی نام کی کوئی چیز میں نے وہاںرہ کر بھی نہیں دیکھی۔سڑکیں اتنی خراب اور ٹوٹی ہوئی ہیں کہ گزرنا محال ہے۔رکشہ اتنی تعداد میں چلتے ہیں کہ عام چلنے والوں کا راستہ مشکل ہوگیا ہے۔سڑک کے دونوں طرف کھانے پینے کے ہوٹل اور آدھی سے زیادہ سڑک کو گھیرے بیٹھے ہوئے بھکاری،ایسے میں وہاں سے رکشہ سے یا پیدل گزرا ہی نہیں جاسکتا۔ شعیب اقبال نے نہ تو دہلی والوں کے لئے بہتر اسپتال کھلوائے نہ ہی بہتر زچہ بچہ اسپتال اور نہ ہی کوئی بڑا ملٹی اسپیشلیٹی ہاسپیٹل کہ جہاں کم قیمت پر اچھا علاج ہوسکے۔ صرف ایک پرانا فرسودہ سا ہمارے بچپن کا کستوربا گاندھی اسپتال ہے جو آج بھی سہولیات سے محروم ہے جس کے سامنے اتنا بڑا کوڑا گھر ہے کہ کتنے کتے ٹہلتے ٹہلتے اسپتال کے اندر آجاتے ہیں اور نو زائیدہ بچوں کو کھاجاتے ہیں۔ مینا بازار گندگی کا ڈھیر ہے جہاں شرابی، اسمیکی، ،جواری ،سٹے باز کھیلتے رہتے ہیں یا پھر مینا بازار کی چاروں طرف دکانیں ہیں جہاں تختے اتنے آگے تک نکلے ہوئے ہیں کہ گراہک کا چلنا تک مشکل ہے ۔یہ تو بہت ہی کم لکھا ہے میں نے،اگر سچ جان جائیں گے تو آپ دنگ رہ جائیں گے کہ آخر اس علاقہ کے لوگوں نے کبھی متبادل کی کیوں نہیں سوچی۔کبھی کسی پارٹی میں اور کبھی کسی اور پارٹی میں جانے والا امیدوار ہر بار کیسے جیت جاتا ہے؟یہ سوال بہت اہم ہے لیکن آپ نے وہ کہاوت سنی ہوگی کہ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس ۔ اب کون اتنی بہادری دکھائے کہ ان بڑے ناموں کے خلاف کبھی کوئی نتیجہ آسکے۔
یہی حال بلی ماران حلقہ کا ہے۔ہارون یوسف بھی 15 سال سے دہلی کی مسند سیاست پر براجمان ہیں۔ان کے چہرے کی چمک بڑھتی جارہی ہے لیکن علاقہ کی قسمت ماند پڑتی جارہی ہے۔پورا علاقہ تنگ جگہوں کی وجہ سے ویسے ہی پریشانیوں کی آماجگاہ ہے ۔اس کے ساتھ ہی غیر قانونی پٹری والوں نے اپنے تختے اتنے آگے تک بڑھا لئے ہیں کہ علاقہ سے گزرنا مشکل ہوگیا ہے۔ ایسے میں رکشہ والے، ریڑھی والے اور اس پر ستم یہ کہ چھوٹے چھوٹے ٹرک بھی گزر جاتے ہیں جس سے راستہ پوری طرح جام ہوجاتاہے۔ سڑکیں وہی ٹوٹی پھوٹی،،وہی گلیوں میں سیور لائنیں کھلی ہوئیں۔کسی بھی گلی میں چلے جائیں ،پوری پوری سڑک ٹوٹی ہوئی ہے۔ گڈھے ہیں ،ملبہ ہے اور ان ہی میں سے علم کے متوالے نوجوان لڑکے لڑکیاں اسکول کالج جاتے ہوئے نظر آجاتے ہیں جن کو کسی بھی کالج یونیورسٹی تک پہنچنے کے لئے ان بدبودار گلیوں سے ہوکر اپنی منزل کی جانب بڑھنا پڑتا ہے۔ ہارون یوسف کو پرانی دہلی کا بچہ بچہ جانتا ہے لیکن اس الیکشن میں ہر شخص ان کے خلاف تھا۔وہاں رہنے والے کتنے ہی رشتہ داروں اور نوجوانوں سے بات ہوئی تو سبھی نے صرف ایک مدعا اٹھایا ۔وہ تھا 15 سالوں میں ہارون یوسف نے کیا کیا؟ تنگ وتاریک گلیوں میں تو چھوٹے چھوٹے ڈلیوری اسپتال کھل گئے ہیں لیکن بڑے اسپتال کے نام پر کچھ بھی نہیں ہوا۔ ایسے میں جب عمران حسین کی شکل میں انہیں ایک نوجوان متبادل نظر آیا تو انہوں نے جم کر اسے ووٹ دیا۔ عمران حسین کو خود میں بھی بہت اچھی طرح جانتی ہوں ۔نرم خوبرو نوجوان جوشیلا ہے،انقلابی ہے اور ابھی اس کے اندر کا م کرنے کا جذبہ بہت ہے۔
سیلم پور اور مصفطیٰ آباد کبھی آپ پہلے تشریف لے گئے ہوںگے تو دس سالوں میں ان علاقوں میں صرف اونچے اونچے فلیٹ ہر گلی میں بنے ہوئے نظرآجائیں گے۔ چودہری متین احمد کا جس گلی میں دفتر ہے وہ میں نے دیکھاہے ۔ اس دفتر تک آنے میں بے شمار ٹوٹی پھوٹی ،کیچڑ میں بھری تنگ سی گلیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ چودھری متین اس علاقے کی سڑکیں تک نہ بنواسکے۔پورا سیلم پور گندگی کا ڈھیر ہے ۔جیسے ہی پرانے پل اور نئے راستے سے آپ سلیم پور میں داخل ہوتے ہیں ایک بہت بڑا کورا گھر آپ کا استقبال کرتا ہے اور پھر کھلے ہوئے گٹر، سیویج، غلاظت بہتی ہوئی گلیاں ،یہ ہے کام چودہری متین کا۔انہوں نے نہ تو وقف بورڈ کے چیئر مین ہوتے ہوئے وقف جائدادوں کی بازیابی کے لئے کچھ کیااور نہ ہی اپنے علاقے کے ایم ایل اے رہتے ہوئے اپنے علاقے کے لئے کچھ کیا۔
اسی طرح 2008اور 2013 میں جیت کر آنے والے مصطفیٰ آباد سے حسن احمد ہیں۔ مصطفیٰ آباد کی حالت میں نے دیکھی ہے۔وہاں کی گلیاں وہاں کے راستے وہاں کے کوڑے گھر اتنی خراب حالت میں ہیں کہ لگتا ہے مسلمان صرف گٹر میں رہنے کے لئے ہی رہ گئے ہیں۔
اب آجائیے ، ذرا اوکھلا کی بھی سیر کرادوں ۔پرانی دہلی کے رئیسوں نے اپنے پیسے کے انوسٹمنٹ کے لئے اوکھلا بسایا ہے ۔جامعہ ملیہ جیسی بڑی یونیورسٹی ہونے کے بعد بھی اس علاقہ کی قسمت نہیں پلٹتی ۔ابھی تو پورا اوکھلا میٹرو کے لئے کھدا پڑا ہے لیکن سوائے قبرستان کی اونچی دیوار کے جو ابھی حال میں ہی تعمیرہوئی ہے ۔ اوکھلا والوں کے لئے کچھ نہیں کیاگیا۔ اگر آپ کو اصل حالت دیکھنی ہے تو برسات کے دنوں میں اس علاقہ کا دورہ کیجئے ۔آپ سوچیں گے کہ آپ کس خستہ حال ، گائوں میں آگئے ہیں جہاں کی سڑکیں ٹخنوں اور گھٹنوں تک پانی میں ڈوبی رہتی ہیں ۔پورا اوکھلا چاہے بٹلہ ہائوس ہو،ذاکر نگر ہو، اوکھلا وہار ہو، جوہری فارم ہو ،نور نگر ہو، شاہین باغ ہو یا ابوالفضل ،ہر علاقے کی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ مہینوں سے کھدی پڑی ہیں۔سیور کے ڈھکن کھلے ہوئے ہیں کہ راہ چلتے کوئی بھی اس میں گر سکتا ہے۔ یہ حال ہے اوکھلا کا ۔آپ سوچئے کہ دہلی کے پڑھے لکھے مسلمانوں کا ایریا اگر ایسی تصویر پیش کرسکتا ہے تو پھر باقی علاقوں کا تو کہنا ہی کیا؟ اب بتائیے کیوں 2015 کے الیکشن میں ان کو مسلمان ووٹ دیتے ؟پہلے تو ان کے پاس کوئی متبادل نہیں تھا۔ ان کو بی جے پی سے ڈرا کر ووٹ حاصل کرلئے جاتے تھے لیکن اس بار ان کے پاس بہتر متبادل تھا۔انہوں نے 2013 میں ان ہی پانچوں کو بھیجا تھا لیکن تب کانگریس بھی اتنا برا متبادل انہیں نہیں لگا۔
ان پانچوں مسلم ایم ایل ایز کو اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ آخر انہیں اس بار بھی ووٹ ملتا تو کیوں؟عام آدمی پارٹی کو بھی یہ خیال رہنا چاہئے کہ مسلمانوں کا ووٹ کسی کی بھی قسمت کا فیصلہ کرسکتا ہے ۔اس بار بغیر کسی شک و شبہ کے77فیصد مسلمانوں نے عام آدمی پارٹی کو ووٹ دیا ہے۔ اس لئے عام آدمی پارٹی کو بھی مسلمانوں کے لئے کام کرنا ہوگا ورنہ تختہ تو کسی بھی وقت، کسی کا بھی اور کبھی بھی پلٹا جاسکتاہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *