دہلی اسمبلی انتخابات: یہاں مدعے نہیں شخصیت کی لڑائی ہے

ڈاکٹر منیش کمار 

دہلی اسمبلی الیکشن میں تیزی سے تبدیلی دکھائی دے رہی ہے۔ سبھی پارٹیاں حملہ آور نظر آ رہی ہیں۔ تشہیر و تبلیغ میں کوئی کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ سبھی پارٹیاں پانی کی طرح پیسہ بہا رہی ہیں۔ لیکن، افسوس اس بات کا ہے کہ دہلی اسمبلی الیکشن مدعے سے خالی ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی، عام آدمی پارٹی اور کانگریس پارٹی دہلی کے عوام سے جڑے مدعوں پر انتخاب نہیں لڑ رہی ہیں۔ یہ تینوں پارٹیاں مدعوں کو چھوڑ کر چہرے کے بھروسے الیکشن لڑ رہی ہیں۔ ان کے درمیان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی مقابلہ آرائی چل رہی ہے۔ ایک دوسرے پر الزام لگا کر بحث جیتنے کی ہوڑ لگی ہے۔ عوام کا دل جیتنے کی کوشش کوئی بھی نہیں کر رہا ہے۔ تینوں پارٹیوں نے الیکشن کو مدعوں سے بھٹکا کر شخصیت کی لڑائی بنا دیا ہے۔ اس درمیان عام آدمی پارٹی کی الجھنیں بڑھ گئی ہیں۔ پارٹیوں کو مخالفین سے زیادہ اپنے ہی لیڈروں کے بیانوں سے نقصان ہو رہا ہے۔

mastدہلی اسمبلی الیکشن کی سرگرمیاں پچھلے چھ مہینے سے چل رہی تھیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس الیکشن کا ایجنڈا عام آدمی پارٹی نے طے کیا۔ سب سے پہلے اس نے اپنے امیدواروں کو میدان میں اتارا۔ سب سے زیادہ پرچار عام آدمی پارٹی نے ہی کیا۔ چناؤ پرچار کے جتنے بھی طریقے ہیں، جیسے کہ پوسٹر، پمفلیٹ، ہورڈنگ، ریلیوں، جلسوں اور ریڈیو میں عام آدمی پارٹی چھائی ہوئی تھی۔ کجریوال دہلی کے لوگوں کی پہلی پسند بن چکے تھے۔ کہنے کا مطلب یہ کہ عام آدمی پارٹی الیکشن کے اعلان کے وقت سب سے آگے چل رہی تھی۔ الیکشن کی تیاریوں کے لحاظ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کافی پیچھے تھی۔ لیکن، دہلی کی سیاست میں سب سے بڑا بھوچال تب آیا، جب بھارتیہ جنتا پارٹی نے ملک کی پہلی خاتون آئی پی ایس افسر اور جن لوک پال تحریک میں انا ہزارے کی ساتھی رہیں کرن بیدی کو اپنا وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا امیدوار بنا کر میدان میں اتار دیا۔
اروِند کجریوال اور عام آدمی پارٹی اس چنوتی کا اندازہ صحیح ڈھنگ سے نہیں لگا پائے۔ کجریوال اور ان کے ساتھی ریلیاں کر رہے تھے، زمینی سطح پر محنت کرنے میں جٹے تھے۔ وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرکردہ لیڈروں نے صورتِ حال کا جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ وقت کی کمی کی وجہ سے زمینی سطح پر عام آدمی پارٹی سے نمٹنا مشکل ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے زمین کی لڑائی چھوڑ کر عام آدمی پارٹی کے خلاف نفسیاتی جنگ شروع کر دی۔ عام آدمی پارٹی کے ناراض لیڈروں سے رابطہ قائم کیا گیا۔ اور، انہیں ایک ایک کرکے بی جے پی میں شامل کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پہلے چھوٹے چھوٹے لیڈروں اور کارکنوں کو پارٹی نے رکنیت دینی شروع کی۔ یہ سلسلہ تین چار دنوں تک چلا۔ پھر عام آدمی پارٹی کے تین مسلم امیدواروں کو توڑ کر پارٹی میں شامل کیا گیا۔ اس کے بعد کرن بیدی کو بڑی دھوم دھام سے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل کیا گیا۔ اس کے ایک دن بعد عام آدمی پارٹی کا چہرہ رہیں شاذیہ علمی کو پارٹی سے جوڑا گیا۔ اگلے دن کانگریس پارٹی کی سابق مرکزی وزیر اور دلت لیڈر کرشنا تیرتھ کو بھی پارٹی نے رکنیت دی۔ اس کے بعد عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے رہے ونود کمار بنی کو بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل کیا گیا۔ اس پورے معاملے کو میڈیا کی کوریج لگاتار مل رہی تھی۔ ہر دن ان خبروں کو سرخیاں ملیں۔ ٹی وی پر بحث کا مدعا بنایا گیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا مقصد کامیاب ہوتا گیا۔ اس طرح وہ مخالفین کا حوصلہ توڑنے میں کامیاب ہوئی۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس کامیابی میں عام آدمی پارٹی کی سیاسی ناپختگی نے بھی کافی مدد کی۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہوئے عام آدمی پارٹی کے سارے لیڈر کافی وقت سے ناراض تھے۔ پارٹی کی سرگرمیوں میں وہ حصہ نہیں لے رہے تھے۔ اس سے پارٹی کو کوئی خاص نقصان بھی نہیں ہونے والا تھا۔ لیکن، بھارتیہ جنتا پارٹی کی نفسیاتی جنگ کی اس حکمت عملی کو عام آدمی پارٹی کی سیاسی ناپختگی نے کامیاب بنایا اور وہ بی جے پی کے جال میں پھنس گئی۔ وہ جتنا بولتے گئے، پارٹی کی حمایت اور کارکنوں کا حوصلہ اتنا ہی ٹوٹتا گیا۔
عام آدمی پارٹی نے بی جے پی میں شامل ہونے والے لیڈروں کے خلاف مورچہ کھول دیا۔ کل تک جو اُن کی پارٹی میں تھے، انہیں موقع پرست اور دلال کہنا شروع کر دیا گیا۔ عام آدمی پارٹی کے لیڈروں کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے ٹی وی ڈِبیٹ کو جیتنے کے چکر میں اپنے ہی کارکنوں کا اعتماد کھو دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عام آدمی پارٹی کا نظریاتی اور تنظیمی تضاد کھل کر سامنے آ گیا۔ کجریوال پر پھر سے دہلی کا وزیر اعلیٰ بننے کی ایسی دھن سوار ہے کہ وہ بھول گئے کہ دہلی الیکشن پارٹی کے لیے وجود کا سوال ہے، اس لیے پارٹی کو متحد رکھنا ضروری ہے۔ حالات ایسے بن گئے کہ کجریوال اپنی پارٹی کے ہی بانیوں کو مطمئن کر پانے میں ناکام ثابت ہوئے۔ اور، مصیبت یہ ہے کہ الیکشن سے ٹھیک پہلے عام آدمی پارٹی نظریات اور تنظیم کی سطح پر بکھرتی نظر آ رہی ہے۔ کل تک جو پارٹی کے چہرے ہوا کرتے تھے، آج وہی لوگ یا تو پارٹی چھوڑ رہے ہیں یا پھر اپنے گھر میں بیٹھ گئے ہیں۔ کارکن ناراض ہیں۔ دہلی کے زیادہ تر اسمبلی حلقوں میں پارٹی کے خلاف نعرے بازی ہو رہی ہے۔ کارکن کجریوال کے خلاف نعرے بازی اور بیان بازی کر رہے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ لیڈر ریلیاں اور جلسے کر رہے ہوتے ہیں اور اسٹیج کے نیچے عوام کے درمیان عام آدمی پارٹی کے کارکن رہ چکے نوجوان پارٹی اور کجریوال کے خلاف پرچے بانٹتے نظر آتے ہیں۔ پارٹی کے کئی لیڈر بی جے پی میں شامل ہو چکے ہیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان میں چار مسلم لیڈر بھی تھے، جو 2013 کے اسمبلی الیکشن میں عام آدمی پارٹی کے امیدوار تھے۔ عام آدمی پارٹی ان جھٹکوں سے سنبھل بھی نہیں پائی تھی کہ اس کے سرپرست اور نہایت اہم بانی رکن شانتی بھوشن نے ایسا بیان دے دیا کہ پارٹی چاروں خانے چت ہو گئی۔
عام آدمی پارٹی کے سرپرست شانتی بھوشن نے بی جے پی کی وزیر اعلیٰ کے عہدہ کی امیدوار کرن بیدی کی تعریف کر دی۔ یہ خبر ایک اخبار میں شائع ہوئی۔ خبر میں صرف اتنا لکھا تھا کہ شانتی بھوشن نے کہا کہ کرن بیدی کجریوال جیسی ہی ایماندار وزیر اعلیٰ ہوں گی۔ لیکن، عام آدمی پارٹی کے ناپختہ ترجمانوں نے رائی کا پہاڑ بنا دیا۔ اگر کجریوال کی طرح عام آدمی پارٹی کے سارے لیڈروں نے اسے نظر انداز کر دیا ہوتا، تو شاید بات آگے نہیں بڑھتی۔ لیکن، پارٹی ترجمانوں نے شانتی بھوشن پر دنا دَن سوال داغنا شروع کر دیا۔ وہ یہ بھول گئے کہ وہ جس پارٹی میں ہیں اور جس تحریک کی پیداوار ہیں، وہ اسی پارٹی اور تحریک کے بانی پر ہی سوال اٹھا رہے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے کچے ترجمانوں کے جواب میں شانتی بھوشن نے ایک پختہ سیاسی ردِ عمل کااظہار کیا۔ ٹی وی چینلوں پر وہ کھل کر سامنے آ گئے۔ انہوں نے کہا کہ کرن بیدی کو سی ایم امیدوار بنانا بی جے پی کا ماسٹر اسٹروک ہے۔ اتنا ہی نہیں، انہوں نے کجریوال کو قابلیت کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر رکھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے اجے ماکن بھی کجریوال سے بہتر وزیر اعلیٰ ہوں گے۔ غور طلب ہے کہ جب عام آدمی پارٹی کی تشکیل ہوئی تھی، تب انہی شانتی بھوشن نے ایک کروڑ روپے دے کر پارٹی کا کام کاج شروع کرنے کے لیے آشیرواد دیا تھا۔ شانتی بھوشن کا کجریوال پر یہ حملہ محض اتفاق نہیں ہے، بلکہ پارٹی کے اندر چل رہی گروہ بندی کا نتیجہ ہے۔
لوک سبھا الیکشن کے پہلے سے ہی پارٹی کے اندر دو گروہ ہیں۔ ایک گروہ چاہتا ہے کہ پارٹی ان قدروں کو ترجیح دے، جن کی بنیاد پر پارٹی کی شروعات ہوئی۔ یہ پارٹی اندرونی جمہوریت، اقتدار کی لامرکزیت اور نظام میں تبدیلی جیسی قدروں کو لے کر بنائی گئی، جس سے عام آدمی کی سیاست اور اقتدار میں حصہ داری ہو۔ اس گروہ کو اروِند کجریوال کے برتاؤ سے پریشانی ہوتی ہے۔ اس کے ممبران کا کہنا ہے کہ پارٹی بناتے وقت یہ تصور تھا کہ اس میں کوئی صدر نہیں ہوگا، کوئی پارٹی کا سپریمو نہیں ہوگا۔ یہ ایک قومی کردار والی کمیٹی ہوگی، جو مدعوں پر اپنی رائے رکھے گی اور پارٹی کا کنوینر ہوگا، جو کمیٹی کے ممبران کی رائے کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرے گا۔ اس گروہ کا الزام ہے کہ کجریوال اقتدار کے بھوکے ہو گئے ہیں اور پارٹی میں وہ کنوینر نہیں، بلکہ کسی سپریمو کی طرح برتاؤ کرتے ہیں۔ وہ کسی سے رابطہ نہیں رکھتے، کسی کی رائے نہیں سنتے۔ وہ خود فیصلہ کرتے ہیں اور اسے پارٹی پر تھوپ دیتے ہیں۔ اس گروہ کا یہ بھی الزام ہے کہ پارٹی کو ایک پرسنالٹی کلٹ میں بدل دیا گیا ہے۔ اس گروہ کا ماننا ہے کہ پارٹی کو ایک شخص ایک عہدہ کی پالیسی پر عمل کرنا چاہیے۔ اس کی شکایت یہ بھی ہے کہ ہر جگہ صرف کجریوال نظر آتے ہیں اور پارٹی کی سبھی قدروں کو طاق پر رکھ دیا گیا ہے۔ شانتی بھوشن نے یہ کہہ کر اس گروہ کے جذبات کو آواز دی ہے کہ کجریوال اقتدار کے بھوکے ہو گئے ہیں اور کجریوال پارٹی کے اندر ایک ڈکٹیٹر (تانا شاہ) کی طرح کام کرتے ہیں۔ ساتھ ہی شانتی بھوشن نے یہ بھی کہا کہ کارکنوں سے شکایت مل رہی ہے کہ دہلی الیکشن میں عام آدمی پارٹی نے پیسے لے کر ٹکٹ بیچے ہیں۔ سب سے بڑی بات شانتی بھوشن نے یہ کہی کہ اروِند کجریوال پارٹی کنوینر کے عہدہ سے استعفیٰ دیں، پارٹی کی قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ بلائی جائے اور نیا کنوینر مقرر کیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ کجریوال مخالف گروہ چاہتا ہے کہ یوگیندر یادو کو پارٹی کا نیا کنوینر مقرر کیا جانا چاہیے۔
یہاں یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ اگر پارٹی میں شانتی بھوشن جیسے لوگ سرپرست ہوں گے، تو دشمنوں کی ضرورت نہیں ہے۔ الیکشن میں 15 دن بھی نہیں بچے تھے، جب شانتی بھوشن نے اپنا ہتھیار چلا دیا۔ شانتی بھوشن کا حملہ عام آدمی پارٹی کے کارکنوں کو مایوس کرنے والا ضرور ہے، لیکن اس کے لیے ذمہ دار بھی عام آدمی پارٹی کے کچے لیڈر ہی ہیں۔ سیاست کا کھیل ذہنی طور پر ناپختہ لوگوں کے لیے نہیں ہے۔ یہ ایک سنجیدہ کام ہے اور اس سے کروڑوں لوگوں کا مستقبل طے ہوتا ہے۔ عام آدمی پارٹی کا لا ابالی پن اور ذاتی اغراض ہی اس کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ عام آدمی پارٹی کو پچھلے لوک سبھا الیکشن میں 33 فیصد ووٹ ملے تھے۔ پارٹی لیڈروں کی حکمت عملی صرف یہ ہونی چاہیے تھی کہ تنظیم کو متحد رکھ کر اور ناراض لیڈروں کو مطمئن کرکے اس میں دو تین فیصد ووٹوں کا اضافہ کیا جائے۔

یوگیندر یادو جیسے انتخابی تجزیہ کار پارٹی میں ہوتے ہوئے بھی یہ بات کجریوال کو کیوں سمجھ میں نہیں آئی کہ دہلی میں جس کسی پارٹی کو 35 فیصد سے زیادہ ووٹ ملیں گے، وہ پارٹی آرام سے اکثریت حاصل کر لے گی۔ جس طرح کی غلطیاں عام آدمی پارٹی نے پچھلے اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات کے دوران کیں، وہی غلطیاں اس دہلی الیکشن میں بھی دوہرائی جا رہی ہیں۔ پختہ لیڈروں کی یہ نشانی ہوتی ہے کہ وہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ کب، کہاں اور کیسے کسی مدعے کو اجاگر کرنا ہے اور کن مدعوں پر خاموشی اختیار کرنی ہے۔ کجریوال اور عام آدمی پارٹی کے لیڈر اب تک خاموشی اختیار کرنے کا ہنر نہیں سیکھ پائے ہیں۔
عام آدمی پارٹی کے ترجمانوں اور لیڈروں میں سیاسی ناپختگی تو ہے ہی، ساتھ ہی حد سے زیادہ جوش میں وہ سچ اور جھوٹ کا فرق بھی مٹا دیتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ عام آدمی پارٹی اس تھیوری پر کام کرتی ہے کہ عوام کی یادداشت کمزور ہوتی ہے، اس لیے میڈیا میں کچھ بھی سچ جھوٹ بول دو، عوام کو پتہ نہیں چلے گا۔ یہی وجہ ہے کہ شانتی بھوشن کے حملے کے بعد پارٹی ترجمان اتنے پریشان ہو گئے کہ وہ ایک کے بعد ایک جھوٹ بولتے چلے گئے۔ سب سے بڑا جھوٹ شاعر سے لیڈر بنے کمار وشواس نے ٹائمس ناؤ چینل پر بولا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق آرمی چیف اور موجودہ مرکزی وزیر جنرل وی کے سنگھ نے ان کے سامنے انا ہزارے کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف بیان دینے یا مورچہ کھولنے سے منع کیا تھا۔ سچائی یہ ہے کہ انا ہزارے، جنرل وی کے سنگھ اور کمار وشواس کی ایک ساتھ کبھی ملاقات ہوئی ہی نہیں۔ دراصل، جھوٹ بولنے کی ساری حدیں پار کرتے ہوئے کمار وشواس یہ بھول گئے کہ جب رام لیلا میدان میں انا کی تحریک چل رہی تھی، تب جنرل وی کے سنگھ اس تحریک کا حصہ نہیں تھے، بلکہ اس وقت وہ ملک کے فوجی سربراہ تھے۔ کمار وشواس نے جو بیان دیے، وہ نہ صرف جھوٹے ہیں، بلکہ ان کی پارٹی کے لیے نقصاندہ بھی ہیں۔ مزیدار بات یہ ہے کہ کمار وشواس کی ملاقات جنرل وی کے سنگھ سے صرف ایک بار ہوئی، وہ بھی آدھے گھنٹے کے لیے کروکشیتر کے سرکٹ ہاؤس میں۔ یہ اس وقت کی بات ہے، جب اروِند کجریوال نند نگری میں بجلی بل کو لے کر بھوک ہڑتال کر رہے تھے۔ بھوک ہڑتال کو عوام کی حمایت نہیں مل رہی تھی۔ اس دوران انا ہزارے اور جنرل وی کے سنگھ ہریانہ میں جن تنتر یاترا کر رہے تھے۔ کجریوال اپنی بھوک ہڑتال کی ساکھ بچانے کے لیے چاہتے تھے کہ انا دہلی آکر ان کی بھوک ہڑتال کو، انہیں پانی پلا کر ختم کریں۔ اسی دوران کمار وشواس اور منیش سیسودیا کی جنرل وی کے سنگھ سے پہلی اور آخری بار ملاقات ہوئی تھی۔ عام آدمی پارٹی کے لیڈروں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ٹی وی چینلوں پر آکر سفید جھوٹ بولنا مستقبل کے لیے مناسب نہیں ہے۔ اس طرح کی بیان بازی دو ہی وجہوں سے ہوتی ہے۔ ایک تو جب لیڈر عوام کو بیوقوف سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں یا پھر وہ عادتاً ایسا کام کرتے ہیں۔
عام آدمی پارٹی کا چناؤ پرچار اور زبان اس کے اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔ پارٹی کے ترجمان اور لیڈر سر عام اپنے ہی ناراض کارکنوں کو برا بھلا کہنے کا ایک بھی موقع نہیں چھوڑتے۔ اس کا گہرا اثر پارٹی کے لیے کام کر رہے کارکنوں پر پڑتا ہے۔ کئی کارکن پارٹی کے طریق کار سے پریشان ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 2013 کی طرح اس بار پارٹی کارکن دہلی کی سڑکوں پر نظر نہیں آ رہے ہیں۔ زیادہ تر کارکنوں کی شکایت یہ ہے کہ پارٹی میں ان لوگوں کو درکنار کر دیا گیا ہے، جنہوں نے اپنا خون پسینہ بہا کر جن لوک پال تحریک کو کامیاب بنایا تھا اور پھر اس کے بعد پارٹی کو دہلی میں کھڑا کیا تھا۔ ان کی شکایت یہ بھی ہے کہ پارٹی کے اونچے مقام پر باہر کے لوگ ایک گینگ بناکر فائز ہو گئے ہیں۔ وہ کارکنوں سے بات تک نہیں کرتے۔ وہی لوگ پارٹی کے نام پر ہر جگہ اپنا چہرہ چمکاتے ہیں۔ وہی لوگ ٹی وی پر بھی نظر آتے ہیں۔ باہر سے آئے لوگوں کو پارٹی میں زبردست ترجیح دی جاتی ہے، جس سے کارکن ناراض ہیں۔ سب سے زیادہ مایوس وہ کارکن ہیں، جو اپنی نوکری، اپنا مستقبل اور اپنا کریئر داؤ پر لگا کر اس تحریک سے جڑے تھے۔ عام آدمی پارٹی کے سامنے بڑی چنوتی ہے۔ پارٹی ایک چکرویو میں پھنسی ہے۔ اگر وہ دہلی الیکشن جیت گئی، تو اس چکرویو سے باہر آنے کے راستے کھل جائیں گے اور اگر وہ دہلی الیکشن ہار جاتی ہے، تو اس چکرویو میں اور بھی زیادہ پھنس جائے گی۔ اور، تب پارٹی کا حشر وہی ہوگا، جو چکرویو میں پھنسے ابھیمنیو کا ہوا تھا۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *