بی جے پی اپوزیشن کی طرح سلوک کر رہی ہے

کمل مرارکا
پچھلے دنوں ہر طرف دہلی انتخاب کا چرچا تھا۔ ایک مرکز کے زیر انتظام ریاست کے اسمبلی انتخاب کے لیے اتنا ہنگامہ سمجھ سے باہر ہے۔ اس میں دو باتیں ہیں، پہلی یہ کہ ایک مرکز کے زیر انتظام ریاست کے انتخاب کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی گئی۔ چاہے وہ ریاست دہلی ہی کیوں نہ ہو۔ اور دوسری یہ کہ ’پرچار‘ کی سطح، زبان کے استعمال اور جو الزام لگائے گئے، اس سے ہندوستانی جمہوریت کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ سب سے بد تر بات یہ کہ نہ جانے کس کی صلاح پر خود وزیر اعظم نے ایسی زبان کا استعمال کیا جیسی زبان کااستعمال ان جیسے قد آور لیڈر کو کون کہے، کسی عام پارٹی کے لیڈر کے ذریعے نہیں کیا جاناچاہیے تھا۔ نریندر مودی نے اپنے دم پر لوک سبھا کے انتخاب میں 281سیٹیں حاصل کی تھیں۔ انھیں اس انتخاب سے باہر رکھنا چاہیے تھا۔ وہ کہہ سکتے تھے کہ بی جے پی یہ انتخاب یقیناً جیت جائی گی۔ پارٹی کی مقامی اکائی یہ انتخاب لڑے گی۔ وزیر اعظم یہ کہہ سکتے تھے کہ میں نے’ کانگریس مکت بھارت ‘ کی بات کی تھی اور دہلی کے عوام نے پہلے سے ہی کانگریس کو مسترد کر دیا ہے۔ اس لیے میرا کام پورا ہو گیا۔ اب اگر بی جے پی جیتتی ہے اور کجریوال کی پارٹی سخت مقابلہ کرتی ہے، تو جمہوریت میں نئے لوگوں کو سامنے آنا چاہیے۔ کجریوال کا خیر مقدم ہے، لیکن مجھے یقین ہے کہ میری پارٹی محنت کرے گی اور انتخاب جیت جائے گی۔ انھیں اس لڑائی کو یہیں چھوڑ دینا چاہیے تھا، کیونکہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے۔ پولیس اور لاء اینڈ آرڈر لیفٹیننٹ گورنر کے ہاتھ میں ہے اور زمین کا اختیار ڈی ڈی اے کے پاس ہے۔ دہلی سرکار کے پاس بہت کم اختیار ہیں۔ لیکن کل ملاکر اس سے ایک سوچنے وچار کرنے والے شخص کے منہ کاذائقہ بگڑ جاتا ہے۔
جس دن کرن بیدی کو انتخاب میں اتارا گیا، اسی دن سے منہ کاذائقہ بگڑ گیا۔ کیونکہ دہلی میں بی جے پی کی جڑیں بہت مضبوط ہیں۔ اس کے پاس دہلی میں قیادت کی ایک لمبی قطار ہے۔ پھر بھی ایک باہری شخصیت کو لیڈر بنایا گیا، جو بی جے پی کو بھلا برا کہتی تھیں۔ ایک ایسی باہری شخصیت جو بی جے پی کے لیے ہمدردی نہیں رکھتی تھیں۔ ان کو پارٹی میں لانا اور کہیں سے انتخابی میدان میں اترنا تو ٹھیک ہے، لیکن پارٹی کی قیادت ان کے ہاتھ میں دے دینا میرے خیال سے خود کشی ہے۔ بی جے پی سے ہمدردی رکھنے والے بہت سارے لوگ خاص طور پر سنگھ سے جڑے لوگ اس کو لے کر بہت مایوس ہیں۔ وہ بی جے پی کے روزانہ کے معاملے میں مداخلت نہیں کرتے، لیکن جب اکیلے میں ملتے ہیں، تو اپنی مایوسی بھی نہیں چھپاتے اور پچھلے دنوں میں، میں ایسے کئی لوگوں سے مل چکا ہوں۔
دوسرا، ہندوستان سے واپس جانے کے بعد مجھے لگتا ہے کہ صدر اوبامہ نے اپنے دورے پر دوبارہ غور کرنے کے بعد یہ پایا کہ ہندوستان میں مذہبی اختلاف ایک سنگین مسئلہ بن گیا ہے۔ انھوں نے واشنگٹن میں کہا کہ آج اگر مہاتما گاندھی زندہ ہوتے، توہندوستان میں آج کے حالات دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاتے۔ یہ ہندوستانی میڈیا میں پیش کی گئی اس تصویر سے بالکل الگ ہے، جس میں یہ کہا گیا تھا کہ اوبامہ اس دورے سے بہت خوش تھے او ریہ دورہ بہت ہی کامیاب رہا تھا۔ مذہبی اختلاف ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ایک کیسریا کپڑے پہنے پارلیمنٹ یا سنگھ پریوار کے دوسرے لیڈروں کا اس طرح بیان عام ملک کے ماحول کے لیے خاص طور سے جمہوریت کے لیے اچھا نہیں ہے۔
گھر واپسی ایک ایسا تصور تھاجوکسی کی سمجھ میں نہیں آیا۔ ہندو دھرم گرنتھوں میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے۔ میں ایک اچھا ہندو ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہوں جس نے مذہبی کتابیں پڑھی ہوئی ہیں۔ لیکن یہ لوگ ہندوستان کو پاکستان کی طرز پر بنانا چاہتے ہیں۔ یعنی ہندوستان، پاکستان کا ہندو ورزن ہو۔ لیکن اس سے ہندوتوواد کی اہمیت گھٹے گی۔ اس لیے ہندوازم کا مقابلہ دیگر سے کر کے آپ ہندو فلسفہ کو کمتر بنا دیتے ہیں۔ اس بات پر آر ایس ایس کو دھیان دینا چاہیے تھا نہ کہ بی جے پی کو۔ آر ایس ایس کوسنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ اگر وہ ہندو دھرم کی واقعی خدمت کرنا چاہتے ہیں، توانھیں اپنی حکمت عملی بدلنی ہوگی۔ انھیں مسلمانوں او رعیسائیوں کو کیسے مین اسٹریم میں شامل کیا جائے، اس پر غور کرنا ہوگا۔ ایسے لوگوں کے اس طرح کے بیان جو اپنے لیڈروں کو خوش کرنا چاہتے ہیں، واقعی قابل مذمت ہیں، غلط ہیں۔ زبان غلط ہے، سوچ غلط ہے۔ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔ اگر وہ مودی کے پانچ سال کو لڑائی جھگڑے میں نمٹادینا چاہتے ہیں، توبات الگ ہے۔ لیکن میرے خیال سے انھیں مودی سرکار کو چلانے میں مدد کرنی چاہیے، تاکہ ایسے بیکار کے مدعوں کو الگ رکھا جاسکے۔
دہلی انتخاب کی بات۔ جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ چاہے جو ہو، یہاں جو بھی ہوا، اچھا نہیں ہوا۔ بی جے پی نے لوک سبھا انتخاب کے بعد ہریانہ کو چھوڑ کر کہیں بھی واضح اکثریت نہیں حاصل کر سکی۔ مہاراشٹر، جھارکھنڈ میں واضح اکثریت نہیں ملی۔ کشمیر کا تو سوال ہی الگ ہے۔ میرے حساب سے اگر وہ لمبے وقت میں کانگریس کو اہم پارٹی کے طر پر ہرانا چاہتے ہیں، تو کانگریس سے قوت برداشت بھی سیکھنی چاہیے۔ جس طرح کے واقعات ہوئے، مضحکہ خیز ہے۔ بی جے پی اقتدار میں رہ کر بھی اپوزیشن کی طرح سلوک کرتی دکھائی دی۔ کانگریس سب کچھ کھو چکی ہے، لیکن اس کا انداز بتاتا ہے کہ گویا وہ ابھی اقتدار میں ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ انھیں یہ محسوس کرنا چاہیے کہ سیاست بھی زندگی کی طرح ایک ایسا منچ ہے، جہاں اپنے لیے چنا گیا کردار نبھانا ہے۔ بی جے پی کو سرکار کی طرح سلوک کرنا چاہیے۔ کانگریس کو نرم بن کر اپنی پارٹی کی ازسر نو تعمیر کرنی چاہیے۔ انتخاب کے بعد میں نے کانگریس کی ایک بھی میٹنگ ہوتے نہیں دیکھی۔ کانگریس کی صدر اور نائب صدر سے ان کے لیڈروں کا ملنا مشکل ہو گیا ہے۔ کانگریس کو اپنے سینئر لیڈروں کی ایک کمیٹی بنانی چاہیے، جو ہر ایک ریاست میں جائے اور پارٹی کی میٹنگ کرے اور کانگریس میں توانائی بھرنے کا کام کرے۔ میں نہیں جانتا کہ کانگریس کی حکمت عملی کیا ہے؟ ابھی انتظار کیجئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *