اڑیسہ میں جندل کا میگا مائننگ گھوٹالہ

وبھوتی پتی

اڑیسہ کے جندل گروپ کی کمپنی جے ایس پی ایل (جندل اسٹیل اینڈ پاور لمیٹڈ) نے جنگلاتی و ماحولیاتی قوانین کی کھلے طور پر خلاف ورزی کی ہے۔ ’چوتھی دنیا‘ نے پہلے بھی جندل گروپ کے غیر قانونی اور بے ضابطہ کام کاج کو اجاگر کرتے ہوئے ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ (دیکھیں: http://www.eng .chauthiduniya.com/habitat -natural-resources-poor-people -all-under-threat-locals -suffer-as-jindal-group) ۔یہ کہا جارہا ہے کہ اڑیسہ سرکار اور اس کے اعلیٰ افسروں کی ملی بھگت سے جندل گروپ کے غیر قانونی کام کاج پھل پھول رہے ہیں اور انہیں قانون کی خلاف ورزی کرنے کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ جندل گروپ کے ذریعے قانون کی خلاف ورزی کا ایک اور سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ذریعے تشکیل کردہ مرکزی اختیار والی کمیٹی (سی ای سی) نے اپنی جانچ بھی اسی پر مرکوز کی ہے۔

mastہندوستان میں سب سے زیادہ اسٹیل پیدا کرنے والوں میں سے ایک، جندل گروپ اڑیسہ کے ایک بڑے مائننگ گھوٹالے میں ملوث دکھائی دے رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے ذریعے تشکیل کردہ ایک کمیٹی نے اپنی حالیہ رپورٹ میں شاردا مائنس پرائیویٹ لمیٹڈ (ایس ایم پی ایل) کے ذریعے مائننگ کے قوانین کی خلاف ورزی اور غلط استعمال کے کئی معاملوں کا ذکر کیا ہے۔ جندل اسٹیل اینڈ پاور لمیٹڈ (جے ایس پی ایل) اورایس ایم پی ایل کے درمیانتجارتی معاہدہ ہے، جس کے تحت جندل اسٹیل اپنی اڑیسہ اور چھتیس گڑھ کے رائے گڑھ میں واقع اسٹیل اکائیوں کے لیے ایس ایم پی ایل سے کچا لوہا خریدتا ہے۔

سپریم کورٹ نے پی وی جیہ کرشنن کی صدارت میں غیر قانونی کانکنی کی جانچ کے لیے سی ای سی کی تشکیل کی۔ سی ای سی نے ایس ایم پی ایل کی کانوں کا دورہ کیا اور سپریم کورٹ کے سامنے اس کی تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں ایس ایم پی ایل کے ذریعے کی گئی کئی بے ضابطگیوں کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کس طرح کچے لوہے کی کانکنی کا فائدہ جے ایس پی ایل کو ملا۔ جانچ میں یہ بھی پایا گیا کہ جے ایس پی ایل نے سال 2000 میںایس ایم پی ایل کے ساتھ ایک متنازعہ معاہدے کے تحت شاردا مائنس کے لیز ہولڈ ایریا میں ایک کچے لوہے کا کرشر نصب کیا، جب کہ ریاست کا مائننگ قانون اس کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ اس قانون کے تحت کان کے لیز ایریا کے اندر تیسرے فریق کے ذریعے کسی بھی طرح کا کرشر لگانے یا پروسیسنگ اکائی چلانے کی پابندی ہے۔
ایس ایم پی ایل اڑیسہ کے کیونجھر ضلع میں واقع ٹھکورانی مائنس کے بلاک – جی کی وسیع کچے لوہے کی کانوں کو آپریٹ کرتا ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق، اس کان میں 45 ہزار کروڑ روپے کے کچے لوہے کا ذخیرہ موجود ہے۔ سی ای سی کے مطابق، مائنس اینڈ منرلس ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن (ایم ایم ڈی آر) ایکٹ، 1957 کی دفعہ 19 اور منرل کنسیشن رولس (ایم سی آر)، 1960 کی اندیکھی کرتے ہوئے کانوں کے لیز کی غیر قانونی طریقے سے جدید کاری کی گئی، جسے 14 اگست، 2001 سے نافذ العمل مانا گیا، جب کہ ایم ایم ڈی آر کی دفعہ 19 کے مطابق، کانکنی قانون کی خلاف ورزی کرکے کی گئی۔ اس طرح کی جدید کاری شروع سے ہی غیر قانونی تھی اور اسے نافذ العمل نہیں مانا جا سکتا۔ اس طرح، گزشتہ 12 برسوں میں اس کان سے کروڑوں روپے کی قیمت کی غیر قانونی پیداوار ہوتی رہی ہے۔ ایم ایم ڈی آر، 1957 کی دفعہ 21(5) کے مطابق، ریاستی حکومت کو یہ اختیار ہے کہ وہ اس قسم کی پیداوار کی قیمت کا تخمینہ لگا کر اس کی وصولی کرے۔ دراصل، جے ایس پی ایل اس وقت سے اس کان کی پیداوار سے منافع حاصل کرتی رہی ہے، جب سے اس نے اڑیسہ اور چھتیس گڑھ میں اپنے اسٹیل پلانٹوں کے لیے اس کان سے کچے مال کی خریداری کرنی شروع کی۔
سی ای سی کے تبصروں سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ریاستی حکومت کے اہل کاروں کو اس بات کا علم تھا کہ 616 ہیکٹیئر کے ایک علاقے کو بطور جنگلاتی علاقہ محفوظ کرنا ضروری تھا، باوجود اس کے انہوں نے کانکنی کے لیے 367 ہیکٹیئر زمین الاٹ کرنے کی سفارش کی۔ اس سے صاف ہو جاتا ہے کہ اہل کاروں اور پٹے داروں کی ملی بھگت سے یہ سب کچھ ہوا۔ چونکہ اس کی جانچ ریاستی حکومت کے وجیلینس ڈپارٹمنٹ سے نہیں کرائی گئی ہے، اس لیے الزام طے کرنے کے لیے سی بی آئی سے جانچ کرانا ضروری ہے۔
ٹھکورانی خام لوہا کان کے بلاک – بی کا کل لیز ایریا 947.06 ہیکٹیئر ہے، جس میں سے 941.49 ہیکٹیئر زمین محفوظ جنگل کے دائرے میں آتی ہے۔ کانکنی کے لیے الاٹ کی گئی 249.276 ہیکٹیئر زمین میں سے 166.320 ہیکٹیئر زمین کو کانکنی (کانوں سے معدنیات کی کھدائی) کے لیے، 20.351 ہیکٹیئر نچلی سطح سے معدنیات کے ذخیرہ کے لیے، 32.104 ہیکٹیئر اضافی بوجھ کو کم کرنے کے لیے، 0.150 ہیکٹیئر بارود رکھنے کے لیے، 11.650 ہیکٹیئر بنیادی سہولیات کے لیے اور 18.521 ہیکٹیئر سڑک، روپ وے اور ریلوے لائن بچھانے کے لیے الاٹ کیا گیا تھا۔ سی ای سی کی رپورٹ کے مطابق، ریاستی حکومت نے مذکورہ بالا تجویز کی سفارش کرتے وقت لیز ایریا میں غیر جنگلاتی استعمال کو واضح کیا تھا، جو کہ فاریسٹ پروٹیکشن ایکٹ، 1980 کی خلاف ورزی تھی۔ رپورٹ میں ایک بہت بڑے واشنگ پلانٹ کی تعمیر کی بات بھی کہی گئی ہے۔
ریاستی حکومت کے ذریعے کانکنی کے لیے 367.832 ہیکٹیئر اضافی جنگلاتی علاقہ الاٹ کرنے کی تجویز وزارتِ ماحولیات و جنگلات کے پاس زیر غور تھی۔ سی ای سی کے مطابق، 29 اکتوبر، 2008 کو ملی ماحولیاتی منظوری اس وقت تک قابل عمل نہیں ہوگی، جب تک کہ محکمہ جنگلات سے اس کے لیے منظوری نہیں مل جاتی۔ کانکنی اور اس سے متعلق سرگرمیوں کے لیے اضافی جنگلاتی زمین کے الاٹمنٹ کو اس صورت میں درست مانا جائے گا، جب اس کی منظوری فاریسٹ پروٹیکشن ایکٹ، 1980 کے مطابق لی گئی ہو۔ بہرحال، شاردا مائنس نے اس کان سے کل 15 ملین میٹرک ٹن کچے لوہے کی پیداوار کی۔ سی ای سی کے مطابق، یہ پیداوار محکمہ جنگلات کی منظوری کے بعد ہی کی جا سکتی تھی، جب کہ 22 ستمبر، 2004 کے ماحولیاتی کلیئرنس میں متعینہ 4.0 ملین میٹرک ٹن سے زیادہ سالانہ پیداوار کو ماحولیاتی منظوری کے برخلاف مانا جائے گا۔
معدنیات کی پیداوار تبھی بڑھ سکتی ہے، جب پٹے دار اس ورجِن فاریسٹ لینڈ (اصلی جنگلاتی زمین) کا استعمال کرتا۔ اس زمین پر کانکنی کرنے کی تجویز محکمہ جنگلات کے پاس زیر التوا تھی۔ ریاست کے محکمہ ماحولیات و جنگلات کے افسروں کو معلوم تھا کہ 15 ملین ٹن ہر سال کی بڑھی ہوئی پیداواری سطح تبھی حاصل کی جا سکتی ہے، جب محکمہ جنگلات کمپنی کو ورجِن فاریسٹ لینڈ میں کانکنی کرنے کی اجازت دیتا۔ اس کے باوجود انہوں نے اضافی پیداوار پر روک نہیں لگائی۔ اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب ریاستی حکومت کی ملی بھگت سے ہو رہا تھا۔ چونکہ اسٹیٹ وجیلینس ڈپارٹمنٹ نے اس کا نوٹس نہیں لیا اور قصوروار افسروں کے خلاف کارروائی نہیں کی، اس لیے اس معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کروانے کی ضرورت ہے۔
14 اگست، 2001 کو مائننگ پٹے کو رِینیو کرنے کے بعد کان سے نکلنے والے کچے لوہے کی کرشنگ اور اسکریننگ کا ٹھیکہ جے ایس پی ایل کو دے دیا گیا۔ کرشنگ اور اسکریننگ کے بعد پٹے دار اس کچے لوہے کو جے ایس پی ایل کو بیچ دیتا تھا۔ بہرحال، 27 مارچ، 2004 کے بعد ڈپٹی ڈائرکٹر آف مائنس (ڈی ڈی ایم)، جوڑا، نے پٹے دار کو یہ منظوری دی تھی کہ وہ بغیر پروسیس کیا کچا لوہا جے ایس پی ایل کو بیچ سکتا ہے، بشرطیکہ پٹے دار (شاردا مائنس) 63.7 فیصد لوہے کی مقدار والے کچے لوہے (رَن آف دی مائن، آر او ایم) کے لیے اعلیٰ متعینہ رائلٹی ادا کرے۔ اس کے بعد سے پٹے دار آر او ایم کی شکل میں معدنیات کی اپنی پوری پیداوار جے ایس پی ایل کو بیچ رہا ہے۔
سی ای سی کی ٹیم نے اپنی جانچ میں پایا کہ مائننگ لیز ایریا میں جے ایس پی ایل کے ذریعے مقررہ 3000 ٹن فی گھنٹہ اور 1000 ٹن فی گھنٹہ کی استعداد والے دو کرشر کام کر رہے تھے، جب کہ ریاستی پالوشن کنٹرول بورڈ نے ان دونوں کرشروں کے آپریشن کا سرٹیفکیٹ جے ایس پی ایل کے نام سے جاری کیا تھا۔ یہ سراسر غیر قانونی تھا، لیکن ریاستی حکومت پر جے ایس پی ایل کے غیر معمولی اثر کے سبب اسٹیٹ پالوشن کنٹرول بورڈ نے اس معاملے میں کوئی کارروائی نہیں کی۔ جے ایس پی ایل کو آر او ایم کی شکل میں کچا لوہا سال 2007-08 کے دوران 239 روپے فی میٹرک ٹن اور 2012-13 کے دوران 2,113 روپے فی میٹرک ٹن کی قیمت پر بیچا گیا، جو کہ بازار کی قیمت سے کم تھا، کیوں کہ 2007-08 میں ایسیل مائننگ نے پیدا ہوئے کچا لوہا لمپس (گریڈنگ) کو 4,351 روپے فی میٹرک ٹن اور رونگٹا مائنس نے 4,253 روپے فی میٹرک ٹن کی شرح سے بیچا تھا۔ ریاست کے افسر اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ آر او ایم کی شکل میں کچے لوہے کو بیچنا غیر قانونی ہے۔ کچا لوہا لمپس (گریڈنگ) کے بجائے آر او ایم کی بنیاد پر قیمت کے تعین کی وجہ سے ریاست کو رائلٹی ؍ ویٹ کی شکل میں ریوینیو کا کافی نقصان اٹھانا پڑا۔ ریوینیو کا یہ نقصان مائننگ ڈپارٹمنٹ اور سیلز ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی ملی بھگت سے ہوا۔
سی ای سی نے اپنی جانچ میں یہ بھی پایا کہ پوری ریاست میں جے ایس پی ایل ہی ایک ایسی کمپنی تھی، جسے ریاستی حکومت سے کسی دوسری کمپنی کے لیز ایریا میں کرشنگ اور اسکریننگ یونٹ نصب کرنے کی اجازت ملی تھی۔ مائننگ سے متعلق قانون کسی مائننگ لیز کے اندر کسی تیسرے فریق کو کرشنگ اکائی نصب کرنے یا آپریٹ کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اڑیسہ سرکار کا کہنا ہے کہ اس نے کسی دوسرے معاملے میں کسی تیسرے فریق کو مائننگ لیز کے اندر 25 کلومیٹر کے دائرے میں کرشنگ اکائی نصب کرنے یا آپریٹ کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ سی ای سی نے بھی کہا ہے کہ ریاستی حکومت نے (1) پٹے دار کو آر او ایم کی شکل میں معدنیات کو بیچنے کی اجازت دی تھی، اور (2) کسی تیسرے فریق کے لیز ایریا میں کرشنگ اور اسکریننگ پلانٹ لگانا ہی سبھی غیر قانونی کاموں اور بے ضابطگیوں کی جڑ ہے۔
آر او ایم (راست کانکنی سے نکلا خام لوہا) کی شکل میں کچے لوہے کو بیچنا غیر قانونی تھا اور اس بات کو ریاست کے افسران جانتے تھے۔ لمپ (گریڈنگ) کے بجائے آر او ایم کی بنیاد پر قیمت طے کرنے کی وجہ سے ریاست کو رائلٹی ؍ ویٹ کی شکل میں ریوینیو کا کافی نقصان اٹھانا پڑا اور ریوینیو کا یہ نقصان مائننگ ڈپارٹمنٹ اور سیلز ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی ملی بھگت سے ہوا۔

چونکہ اسٹیٹ وجیلینس ڈپارٹمنٹ نے ایسے افسروں پر آج تک کارروائی نہیں کی، اس لیے اس معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کروانی چاہیے۔ سی ای سی نے اس معاملے میں رائلٹی اور وَیٹ کا دوبارہ تخمینہ لگا کر اسے پٹے دار سے وصول کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ لیکن ریاستی حکومت نے اس مشورہ پر ابھی تک کوئی عمل نہیں کیا ہے۔ حالانکہ ایسا کرکے ریاستی حکومت کروڑوں روپے کا ریوینیو وصول کر سکتی تھی۔
9 نومبر، 2011 کو ریاستی حکومت نے ضابطہ 37 کی خلاف ورزی کی جانچ کرنے کے لیے پی سی پاترا، ڈپٹی ڈائرکٹر آف مائنس (بھونیشور) کی صدارت میں ایک کمیٹی کی تشکیل کی۔ اس کمیٹی کی جانچ پورٹ میں کہا گیا کہ مائننگ کا سب سے زیادہ فائدہ جے ایس پی ایل کو ملا۔ رپورٹ میں جے ایس پی ایل کے ذریعے کرشر نصب کرنے، ریاستی حکومت کے ذریعے وَیٹ کی کم وصولی اور ایس ایم پی ایل کے ذریعے کچا لوہا ڈھونے کے لیے پائپ کنویئر لگوانے کی اجازت مانگنے جیسی بے ضابطگیوں کو اجاگر کیا گیا۔ سرکار پہلی جانچ رپورٹ سے مطمئن نہیں تھی، اس لیے ریاستی حکومت نے دوسری جانچ کمیٹی کی تشکیل کی۔ 30 جولائی، 2012 کو دوسری جانچ رپورٹ میں کہا گیا کہ پٹے دار نے آر او ایم کی شکل میں معدنیات کو بیچنے کی اجازت ڈائرکٹر آف مائنس سے لی تھی اور ساری سرگرمیاں قانون کے مطابق چل رہی تھیں۔ اس جانچ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ریاستی حکومت کو رائلٹی کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ حالانکہ، یہ کمیٹی اس نتیجہ پر پہنچی تھی کہ ضابطہ 37(1) کی پوری طرح سے پہلی نظر میں خلاف ورزی کو خارج نہیں کیا جا سکتا ہے، کیو ںکہ کمیٹی کے سامنے جے ایس پی ایل کا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔ بہرحال، سی ای سی نے اس جانچ کمیٹی کی رپورٹ پر اپنی نا اتفاقی جتائی ہے، کیوں کہ اس رپورٹ میں بازار کی قیمت کے مقابلے بہت کم قیمت پر معدنیات کی فروخت جیسے اہم مدعے کو نظر انداز کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی، نتیجتاً ایم سی آر، 1960 کے ضابطہ 37 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مائننگ لیز کا فائدہ کسی تیسرے فریق کو منتقل کیا گیا تھا۔
جب پہلی جانچ کمیٹی نے پٹے دار کے ذریعے ایم سی آر، 1960 کے ضابطہ 37 کی خلاف ورزی اور دوسری بے ضابطگیوں پر اپنی سخت رپورٹ پیش کی، تو ریاستی حکومت نے اس پر نا اتفاقی جتاتے ہوئے دوسری جانچ کمیٹی تشکیل کی۔ یہ کمیٹی اس لیے تشکیل کی گئی تھی، تاکہ پٹے دار کے ذریعے قانون کی اندیکھی پر پردہ ڈالا جا سکے۔ یہ کمیٹی کسی نتیجے پر صرف اس لیے نہیں پہنچ سکی، کیوں کہ جے ایس پی ایل سے متعلق ریکارڈ اس کے سامنے نہیں رکھے گئے تھے۔ اس طرح ریاستی حکومت نے دکھاوے کے لیے ایک جانچ کمیٹی کی تشکیل کی، جس کا واحد مقصد پٹے دار کو بچانا تھا۔ سرکار نے دوسری کمیٹی بنا کر ضابطہ 37 کی خلاف ورزی کو چھپانے کی کوشش کی۔ اب ضرورت یہ ہے کہ سی بی آئی اس معاملے کی جانچ کرے اور ان افسروں کی پہچان کرے، جنہوں نے اس معاملے کو چھپانے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے ریاستی حکومت کو کروڑوں روپے کے ریوینیو کا نقصان ہوا۔
ضابطہ 37 کی خلاف ورزی کے پورے معاملے کو منطقی طریقے سے تبھی نمٹایا جا سکتا ہے، جب ایس ایم پی ایل کے شراکت داروں اور اس سے فائدہ اٹھانے والی دوسری اکائیوں کی پہچان ہو سکے اور ان کی جانچ کرکے کمپنی میں ان کی شراکت داری کا صحیح صحیح حساب لگایا جا سکے۔ سی ای سی نے اس نظریہ سے اس معاملے کی جانچ نہیں کی، کیوں کہ سپریم کورٹ نے 13 جنوری، 2014 کے اپنے آرڈر میں کہا تھا کہ سی ای سی اپنی جانچ کا دائرہ جنگلات اور ماحولیات قانون کی خلاف ورزی تک ہی محدود رکھے۔ لہٰذا، اس بات کی جانچ ضروری ہے کہ ایس ایم پی ایل کا اصلی مالک کون ہے؟ سی ای سی نے ریاست کے چیف سکریٹری کی فائل نوٹنگس کی بنیاد پر سخت تبصرہ کیا ہے کہ اڑیسہ کے چیف سکریٹری نے اپنی 13 اپریل، 2002 کی نوٹنگ میں یہ لکھا ہے کہ یہ سب کو معلوم ہے کہ مائننگ کا کام جندل گروپ کے ذریعے کیا جا رہا ہے، تو کیا یہ دھوکہ دہی نہیں ہے؟
حالانکہ، سال 2002 میں اڑیسہ کے چیف سکریٹری نے لیز ٹرانسفر کے وقت قانون کے تحت اعتراض جتایا تھا، لیکن اسے خارج کرکے مائننگ لیز ایس ایم پی ایل کو دے دیا گیا۔ نوین پٹنائک لمبے عرصے سے ریاست کی وزارتِ جنگلات کا کام سنبھالے ہوئے ہیں اور انہی کی حکومت کے دوران ضابطوں کی خلاف ورزی کی بات کی گئی تھی، جسے بعد میں نظر انداز کر دیا گیا۔ اسی طرح، اس دوران بھی کانکنی کے قوانین کی دھجیاں اڑائی گئی تھیں، لیکن اس پر بھی ریاستی حکومت نے لیپا پوتی کر دی۔ جندل گروپ نے کوڑیوں کے دام خریدے گئے کچے لوہے سے بہت منافع کمایا، جب کہ وہ کان کے اصلی پٹے دار نہیں تھے، دوسری طرف ریاست کا سرکاری عملہ اس غیر قانونی کام میں اس کا معاون تھا۔ اب سب کی نگاہیں سپریم کورٹ کی جانب لگی ہوئی ہیں، جو سی ای سی کی رپورٹ کی بنیاد پر اپنا فیصلہ سنائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *