کیا دہلی میں کانگریس واپسی کر سکتی ہے؟

ڈاکٹر قمر تبریز
p-5دہلی کی 70 سیٹوں والی اسمبلی کے لیے ووٹنگ میں اب کچھ ہی دن بچے ہیں۔ ہر پارٹی اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لیے محنت کر رہی ہے۔ لیکن ایک غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اس الیکشن میں کانگریس پارٹی اتنی سرخیوں میں نہیں ہے، جتنی کہ عام آدمی پارٹی یا بھارتیہ جنتا پارٹی۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے تو یہ لڑائی دہلی میں اگلی سرکار بنانے کو لے کر ہے، لیکن کانگریس کے لیے یہ اپنے وجود کو بچانے کی لڑائی ہے۔ کانگریس اس بات کو اچھی طرح جانتی ہے کہ اگر اس نے اس بار اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا، تو پھر اگلے 10-20 برسوں تک دہلی میں اس کا کوئی نام لینے والا بھی نہیں بچے گا۔ اسی لیے، پچھلے الیکشن کے مقابلے کانگریس پارٹی کی اس بار کی انتخابی حکمت عملی کچھ زیادہ پختہ نظر آ رہی ہے۔ اس کی پہلی مثال تو یہی ہے کہ اپنی پرانی روایت کو توڑتے ہوئے، کانگریس نے اس بار اپنے امیدواروں کی پہلی لسٹ الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہونے سے پہلے ہی جاری کر دی تھی۔ امیدواروں کے ناموں کا اعلان پہلے کر دینے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ووٹروں کو کم از کم یہ جانکاری تو مل ہی جاتی ہے کہ وہ جس پارٹی کو ووٹ دینے جا رہے ہیں، ان کے علاقے میں اس پارٹی کا چہرہ کون ہے۔ ظاہر ہے، جب امیدوار مضبوط ہوتا ہے، تو ووٹروں کو اس کا انتخاب کرنے میں بھی آسانی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس پارٹی میں یہ بھی پہلی بار ہو رہا ہے کہ دہلی میں پارٹی کے سابق ممبرانِ پارلیمنٹ کو اسمبلی الیکشن کا امیدوار بنایا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر اجے ماکن کو صدر بازار اور مہابل مشرا کو دوارکا سیٹ سے امیدوار بنایا گیا ہے۔ 2014 کے پارلیمانی الیکشن میں کانگریس کے یہ دونوں لیڈر جیت حاصل کرپانے میں ناکام ہوئے تھے۔
دوسرا عقلمندی کا کام اِس بار کانگریس پارٹی نے یہ کیا ہے کہ اس نے اروِندر سنگھ لولی کو چھوڑ کر 2013 کے اسمبلی انتخاب میں جیتنے والے سبھی ممبرانِ اسمبلی کو دوبارہ ٹکٹ دیا ہے۔ ان میں چار مسلم امیدوار ہارون یوسف، حسن احمد، چودھری متین احمداور آصف محمد خان بھی شامل ہیں، جنہیں دوبارہ ٹکٹ دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس نے حال ہی میں پارٹی میں شامل ہونے والے اور اسمبلی میں پانچ بار سے مٹیا محل حلقہ کی نمائندگی کرنے والے شعیب اقبال کے ساتھ ساتھ مسلم اکثریتی علاقہ بابر پور سے حاجی دلشاد کو میدان میں اتارا ہے۔ اس طرح دہلی میں کانگریس کے مسلم امیدواروں کی کل تعداد اس بار چھ ہے اور ایسی امید ہے کہ ان میں سے چھ نہیں تو پانچ اس بار بھی اپنی جیت درج کراپانے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ یہی نہیں، کانگریس نے اپنے اُن سبھی 12 امیدواروں کو بھی دوبارہ ٹکٹ دیاہے، جو پچھلی بار کے الیکشن میں اپنے اپنے علاقوں میں دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ مثال کے طور پر راج کمار چوہان کو منگول پوری سے دوبارہ کھڑا کیا گیا ہے، پچھلی بار وہ عام آدمی پارٹی کی راکھی بڑلا سے دس ہزار سے کچھ زیادہ ووٹوں سے ہار گئے تھے۔ اسی طرح رام سنگھ نیتا جی کو بدر پور سے دوبارہ امیدوار بنایا گیا ہے، پچھلی بار وہ بی جے پی کے امیدوار رام بیر سنگھ بدھوڑی کے مقابلے تقریباً چودہ ہزار ووٹوں سے الیکشن ہار گئے تھے۔ اے کے والیا ایک بار پھر لکشمی نگر سے میدان میں ہیں، پچھلی بار اس سیٹ پر انہیں ونود کمار بنی نے 7752 ووٹوں سے ہرایا تھا۔
اس کے علاوہ کانگریس نے اس بار دہلی الیکشن کا انچارج اُس شخص کو بنایا ہے، جس کی نہ صرف دہلی کی سیاست پر گہری پکڑ ہے، بلکہ یہاں کے عوام نے انہیں تین بار اسمبلی اور دو بار پارلیمنٹ تک بھی پہنچایا ہے۔ ہم بات کر رہے ہیں اجے ماکن کی، جنہیں اس بار کانگریس نے دہلی الیکشن کی کمان سونپی ہے۔ پارٹی نے صدر بازار سے انہیں اپنا امیدوار بھی بنایا ہے۔ شروع میں ایسا لگ رہا تھا کہ دہلی کانگریس کے صدر اروندر سنگھ لولی ہی اِس بار یہ ذمہ داری نبھائیں گے، لیکن الیکشن سے ٹھیک پہلے کانگریس نے اجے ماکن کو یہ ذمہ داری سونپ دی۔ ظاہر ہے، سیاسی سمجھ بوجھ کے معاملے میں وہ اجے ماکن کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اس کے علاوہ اجے ماکن کی شبیہ بھی اب تک صاف ستھری رہی ہے۔ شیلا دکشت کے بعد دہلی میں کانگریس کی ختم ہو چکی ساکھ کو اب اجے ماکن کہاں تک بحال کر پاتے ہیں، یہ تو 10 فروری کو ہی پتہ چل پائے گا، جب انتخابی نتائج کا اعلان ہوگا، لیکن اجے ماکن کے آنے سے دہلی کے کانگریس حامیوں اور کارکنوں میں جو نیا جوش دکھائی دے رہا ہے، اس سے فی الحال کانگریس پارٹی بھی مطمئن نظر آ رہی ہے۔
کانگریس کے لیے اچھی بات یہ ہے کہ اس بار اسے عوام کے درمیان جا کر اپنا دفاع نہیں کرنا پڑ رہا ہے، بلکہ پچھلی بار دہلی میں عام آدمی پارٹی کی سرکار اور اس وقت مرکز میں بی جے پی سرکار ہونے کی وجہ سے اسے ان دونوں ہی پارٹیوں پر سوال اٹھانے کا موقع ملا ہے، جس کا وہ بھرپور استعمال کر رہی ہے۔ مثال کے طور پر کانگریس پارٹی جہاں ایک طرف کالے دھن کی واپسی اور نریندر مودی کے ’یو ٹرن‘ جیسے مدعے پر بی جے پی کو گھیرنے کی کوشش کر رہی ہے، وہیں پچھلے دنوں اس نے ’یو ٹرن کجریوال‘ کے نام سے ایک کتابچہ جاری کرکے عام آدمی پارٹی پر بھی نشانہ لگایا ہے۔ اس کتابچے میں کانگریس نے اروِند کجریوال کے ان وعدوں کو گنوایا ہے، جن وعدوں سے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد وہ پلٹ گئے تھے۔ مثال کے طور پر لال بتی کی گاڑی، سرکاری بنگلہ اور سیکورٹی جیسی سہولیات لینے سے کجریوال نے پہلے منع کیا تھا، لیکن بعد میں انہوں نے ان ساری سہولیات کا مزہ لیا۔
لیکن، پچھلے دنوں کچھ ایسے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں، جو کانگریس کی پریشانی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ کانگریس پارٹی کو پہلا جھٹکا اس وقت لگا، جب کرشنا تیرتھ نے پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی۔ پارٹی کے لیے دوسرا بڑا جھٹکا دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اروِندر سنگھ لولی کا اس بار الیکشن نہ لڑنا بھی ہے۔ اروِندر سنگھ لولی نے پچھلی بار دہلی کی گاندھی نگر سیٹ سے اپنی جیت درج کرائی تھی۔ تیسری اہم بات یہ ہے کہ اس الیکشن میں جہاں عام آدمی پارٹی کی طرف سے اروِند کجریوال اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے کرن بیدی کو وزیراعلیٰ کا امیدوار بنایا گیا، وہیں کانگریس پارٹی کی طرف سے وزیر اعلیٰ کا امیدوار کسی کو بھی نہیں بنایا گیا ہے۔ یہ بھی اسی بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کانگریس پارٹی دہلی میں اگلی حکومت بنانے کی نہیں، بلکہ اپنے وجود کو بچانے کی ہی لڑائی لڑ رہی ہے۔
پچھلی بار کانگریس کو دہلی کے اسمبلی الیکشن میں کل 8 سیٹیں ملی تھیں۔ اگر اس بار اسے ایک بھی زیادہ سیٹ ملتی ہے، تو اسے کانگریس کی واپسی تو کہا ہی جا سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کی سیٹ پہلے کے مقابلے ایک بھی کم ہو گئی، تو پھر آنے والے 10-20 سالوں تک دہلی میں اس کی واپسی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ضرور لگ جائے گا۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *