جے پی عوام کی نبض پہچانتے تھے

bookجب جے پی نہیں رہے، تو’رویوار‘ و ’سنڈے‘ نے ان پر کَوَرٹُوکَوَر شمارے نکال کراپنا خراج عقیدت پیش کیا۔ میری دونوں میگزینوں میں الگ الگ مضمون چھپے۔ یہاں سبھی ایک ساتھ اس لیے دینے کی کوشش کی ہے، تاکہ آپ جذبوں کی، سچ کی اور ان کے بکھرے خوابوں کے درد کی جھلک پا سکیں، اسے محسوس کر سکیں۔ کئی سارے شمارے نہیں مل سکے، جن میں جے پی سے جنتا سرکار کولے کر بات چیت کی تھی۔ آخری دنوں میں جے پی بہت ہی مایوس تھے اور اپنے کو زخمی سپاہی کہتے تھے۔ مجھ سے انھوں نے کہا تھا کہ اگر طبیعت ٹھیک ہوتی، تو دوبارہ تحریک شروع کر دیتا۔ میں نے گنگا شرن سنگھ سے، جو مشہور ادیب اورجے پی کے گہرے دوست تھے، بات چیت کی تھی، اسے مضمون کے طور پر ان ہی کے نام سے دیا تھا۔ جے پی نے ان سے جب کہا ہوگا کہ موت کی کوئی تدبیر کیجئے،توکیسا لمحہ رہا ہوگا۔جے پی بے مثال جنگجو تھے۔ کبھی انھوں نے ہارنا سیکھا ہی نہیں تھا۔ وہ بہت بڑے ٹیچر بھی تھے۔ آج بھی انھیں یاد کر کے ترغیب ہی ملتی ہے۔

جے پرکاش جی کے انتقال کے تیسرے دن اچانک پہلی بار خیال آیا کہ جے پی سے میرا تعارف دس سال لمبا ہوچکا تھا۔ جب خود پر نگاہ ڈالتاہوں، تو اس اتفاق پر تعجب ہوتا ہے کہ کیسے میں ان کے رابطے میں آگیا،ان کے پیار کیقابل بن گیا۔شاید8اکتوبر 1979تک دل میں یہ غروربھی تھا کہ میں کچھ ہوں، کیونکہ جے پی کو جانتا ہوں، ان کے کمرے میں سیدھا گھس جاتا ہوں۔ لیکن آج میں بہت کمزور اور تنہا محسوس کر رہا ہوں۔ہاں، قسمت کے سبب اس بات کی تسلی ضرور ہے کہ میں نے نہ صرف جے پرکاش جی کو جانا، بلکہ ان کی وجہ سے تاریخ کے ایک ٹکڑے کا عینی شاہد بن سکا۔ شاید اگست 1969کو وارانسی میں ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ جے پرکاش جی نے ان دنوں پہلی بار یہ کہا تھا کہ جن کا اس تعلیمی نظام میں بھروسہ نہیں ہے، انھیں اسے چھوڑ دینا چاہیے اور میں ان کی طرف محض اس لیے کھنچ گیا تھا۔ امر ناتھ بھائی نے مجھے وارانسی میں جے پی سے ملوایا تھا، تب تک جے پی اپنی مشہور ’مُسہری مہم‘ شروع کر چکے تھے۔ جے پرکاش جی نے مجھ سے گنی چنی باتیں کیں اور کہا، مُسہری آئیے، وہیں باتیں کریں گے۔ میں پہلی بار حیران ہوا تھا۔ اکثر لوگ کمرے میں بیٹھ کر سنہرے خوابوںکو دکھاتے ہیں، اس آدمی نے سیدھے گاؤں ، اپنے دائرہ کار میں آکر حالات کو دیکھنے کی دعوت دی تھی۔ میں نے اسے جے پی کی انقلابی کیفیت کو سمجھنے کا پہلا قدم مانا۔
مُسہری، مظفر پور ضلع کا ایک ڈیولپمنٹ سیکشن ہے، جہاں غریبی اتنی زیادہ تھی کہ لگتا ہی نہیں تھا کہ وہاں آدمی بھی رہتے ہیں۔نکسل وادیوں نے اسے ملک کے پانچ دائرہ کار علاقوں میں سے ایک چنا تھا۔یہیں کام کر رہے دو سروودے کارکنوں کوجب نکسل وادیوںنے مارنے کی دھمکی دی، تو جے پی اترا کھنڈ سے دوڑے آئے، جہاں وہ آرام کر رہے تھے۔ اور اس واقعہ کے بعد ہی انھوں نے سنجیدگی سے فیصلہ کیا تھا کہ انھیں باقی زندگی گاؤں کے لیے ہی کام کرنا ہے۔ میں مسہری پہنچا، تو جے پی نے استقبال کیا۔ انھیں بھروسہ نہیں تھا کہ شہر چھوڑ کر گاؤں میں کام کرنے بھی لوگ آسکتے ہیں۔ جے پی نے پہلے ہفتے کچھ کہا نہیں،صرف گاؤں گھومنے کے لیے کہا۔ گاؤں میں بارہ آنے، ایک روپیہ پورے خاندان کی مزدوری تھی ان دنوں۔ میں نے جتنا گاؤں دیکھا، اُتناہی جوش بھرااورجتنا جے پی کو دیکھا، اُتنا ہی حیران ہوا۔ روز جے پی آس پاس کے گاؤں میں جاتے تھے، سبھا کرتے تھے۔ دس آدمیوں کی ٹکڑی کو دو گھنٹے تک گرام سوراج کا نظریہ سمجھاتے ہوئے جے پی کو میں نے خوددیکھاہے۔ان دنوں اس کا مطلب سمجھ پانا میرے لیے کافی مشکل تھا، کیونکہ اب تک میں نے ہزاروں کی بھیڑ میں ہی تقریر کے بارے میں سنا تھا۔کوئی اکیلا بھی آگیا، تو جے پی اسے بھی پورا وقت دیتے تھے۔ ایک دن صبح تقریباً تین بجے نیند کھلی، تو دیکھا کہ جے پرکاش جی اپنے بستر کا کونا موڑے، لالٹین کی روشنی میں مچھر دانی کے اندر ڈائری میں کچھ لکھ رہے ہیں۔ ان دنوں جے پی گاؤں سے باہر پرائمری اسکو ل کی کچی عمارت میں رہ رہے تھے۔ انھیں اس طرح رہتے دیکھنا اپنے آپ میں حوصلہ افزا تھا۔ شہر کے نوجوان اکثر ان کے پاس جاتے تھے، جن سے وہ کافی جوش سے باتیں کرتے تھے۔ جے پی کے کرشمے کی جزوی جھلک مسہری میں اب بھی دیکھی جاسکتی ہے۔
بنگلہ دیش کی جنگ آئی۔ جے پی اس میں پوری طرح شامل ہوئے۔ انھوں نے کسی بھی سروودے نیتا سے نہیں کہا کہ وہ لوگ اس میں مدد کریں۔ پتہ نہیں کون سی طاقت تھی، جو بنگلہ دیش کی جنگ میں منظم طور پر مدد کر رہی تھی۔ میرے ایک دوست نے اسے جے پی کی بلیک فورس نام دیا تھا۔ اکیلا آدمی دنیا میں الکھ جگا آیا۔ اکثر واقعات سناتے تھے کہ کون،کیا،کیسے مدد کررہا ہے بنگلہ دیش کی۔ اسی وقت ونوبا نے گرام دان آندولن کے لیے کہہ د یا، یا تو ایک سال میں کام پورا کرو یا تالا لگاؤ۔سہرسہ ضلع قومی سطح پر چنا گیا۔ جے پی اس حکمت عملیسے متفق نہیں تھے، لیکن جی جان سے اسے پورا کرنے میں لگ گئے۔ ایک طرف بنگلہ دیش کی جنگ، دوسری طرف سہرسہ، جے پی دونوں کاموں میں پوری طاقت سے لگے رہے۔
جاری

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *