انا کے بچے کام پر لگ گئے

ڈاکٹر وسیم راشد
ایک کارٹون پر نظر پڑی جو کہ مشہور کارٹونسٹ نیلبھ ٹوسن کا تھا جس میں کجریوال اور کرن بیدی پریس کانفرنس کررہے ہیں اور سیاست میں داخل ہورہے ہیں، وہیں دوسری طرف انا ہزار ے خاموش کھڑے ہیں ۔اس کارٹون کا عنوان بھی یہی تھا کہ ’کجریوال اور کرن بیدی سیاست میں داخل ہو گئے اور انا اکیلے کھڑے رہ گئے‘۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک ایک کرکے انا کے سبھی ساتھی سیاست میں داخل ہوچکے ہیں۔انا ہزارے نے جو تحریک شروع کی تھی اس وقت ان کے ساتھ کجریوال ، کرن بیدی، شاذیہ علمی منیش سسودیا ،کمار وشواس،گوپال رائے ،یوگیندر یادو ، جنرل وی کے سنگھ سبھی شامل تھے۔ انا ہزارے کا مقصد جن لوک پال لانا تھا لیکن شاید اس وقت بھی ان کے ساتھیوں کے اندر سیاست کی کرسی اور اقتدار کا کیڑا کلبلا رہا تھا۔پہلے کجریوال ، منیش سسودیا،شاذیہ علمی ،گوپال رائے اور کمار وشواس الگ ہوئے۔ کجریوال نے بد عنوانی ختم کرنے کی قسم کھائی اور اسی ہتھیار کو لے کر دہلی کی سیاست پر چھا گئے۔ عام آدمی پارٹی نے وہ کر دکھا یا جس کا کسی کو خواب میں بھی اندازہ نہیں تھا ۔خود انا بھی نہیں سوچ سکتے تھے کہ ان کے سکھائے ہوئے ان کے چیلے ان کی بچھائی بساط پر اپنے مہرے کھیلیں گے اور ایک دن پورے ملک کی سیاست پر چھا جائیں گے۔
کرن بیدی ،کجریوال ،منیش سسودیا اور کمار وشواس انا ہزارے کے اسٹیج کے ہیرو تھے ۔پورا انا آندولن ان ہی لوگوں نے سنبھال رکھا تھالیکن اقتدار کی ہوس کجریوال اور ان کے ساتھیوں کو سیاست کے بازار میں لے آئی ۔پہلے اسمبلی الیکشن پھر 49دن کی حکومت اور پھر لوک سبھاکا لالچ اور شاید وزیر اعظم بننے کا بھی لالچ رہا ہو کہ کجریوال نے سوچا ہوگا کہ جب وہ دہلی کی ملکہ شیلا دیکشت کو ہرا سکتے ہیں تو لوک سبھا میں بھی وہ مودی کو ہرا جائیں گے لیکن ہوا اس کے برعکس اور اس نوٹنکی کا انجام بھی جلد ہی سامنے آگیا۔
کجریوال اور ان کے ساتھیوں کے بعد جنرل وی کے سنگھ نے بہت عرصے تک ان کا ساتھ دیا۔شاید وی کے سنگھ کو بھی یہی لگ رہا تھا کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی شہرت کیسے قائم رکھ سکیں گے اور انہوں نے انا کا سہارا لیا۔ پر یہ سہارا انہیں وہ شہرت نہیں دلا سکتا تھا جو انہیں چاہئے تھی اور پھر وی کے سنگھ نے وہی پارٹی جوائن کی جس کی لہر پورے ملک میں چل رہی تھی ۔غازی آباد حلقہ کی لوک سبھا سیٹ ان کی جھولی میں آگری ۔انا کے یہ کجریوال، منیش سسودیا،کمار وشواس، گوپال رائے اور یوگیندر یادوSet ہوئے ۔پھر وی کے سنگھ بی جے پی کے ٹکٹ پر ایم پی بنے اور ریاستی وزیر برائے خارجی امور اور ریاستی وزیر برائے نارتھ ایسٹ بنائے گئے اور اس طرح آر ایس ایس کا ایک اور پرچارک بی جے پی میں شامل ہوگیا۔اور فرمانبردار اولاد کی طرح اب انا کی پاس صرف کرن بیدی رہ گئی تھیں۔وہ کافی وقت تک انا کے ساتھ تھیں اور انہوں نے عام آدمی پارٹی بھی جوائن نہیں کی تھی لیکن وہ انا تحریک کی بڑی ہی مضبوط شخصیت تھیںاور جب سب نے ساتھ چھوڑ دیا تھا تب بھی وہ انا کے اسٹیج پر جھنڈا لہراتی ہوئی نظر آتی تھیں۔ اناکی پوری ٹیم عام آدمی پارٹی کی شکل میں سیاست کے میدان میں اپنے جوہر دکھا رہی تھی لیکن کرن بیدی ابھی بھی انا کے ساتھ تھیں ۔پھر شاید وہ بھی کسی مناسب موقع کا انتظار کررہی تھیں اور ان کو اندازہ ہوگیا تھا کہ بی جے پی اس وقت سب سے مضبوط پارٹی ہے اور ان کو بھی کسی پلیٹ فارم کی ضرورت ہے تو اس وقت جبکہ دہلی کی سیاست گرمائی ہوئی ہے انہوں نے بی جے پی جوائن کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے تو ’بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا‘ ۔اس کے پاس بھی کجریوال کے سامنے کوئی مضبوط دعویدار نہیں تھا جو وزیر اعلیٰ کے عہدے کے قابل ہو۔ ان کے مقابلے میں کرن بیدی زیادہ معتبر، تجربہ کار ہیں۔ کرن بیدی کو دہلی کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ وہ کجریوال سے زیادہ مقبول ہیں۔ پہلی آئی پی ایس خاتون ہونے کا جو شرف انہیں حاصل رہا ،اس سے بھی ان کو بہت شہرت ملی۔کرن بیدی کے بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد عام آدمی پارٹی کا ایک اور مقبول چہرہ شاذیہ علمی بی بی جے پی میں شامل ہوگئیں۔ یعنی ایک ایک کرکے انا کے سبھی ساتھی سیاست کی ہوڑ میں لگ گئے ۔بی جے پی نے کرن بیدی اور شاذیہ علمی کو اس لئے بھی خوش آمدید کہا کہ شاذیہ پہلا مسلم چہرہ ہے جو کافی مشہور ہے ۔اس کے علاوہ پھر کجریوال کے خیمہ میں ہلچل مچانا بی جے پی کی بڑی جیت تھی۔ شاذیہ علمی کافی عرصے سے بی جے پی کے گن گارہی تھیں اور لگ رہا تھا کہ وہ اس موقع کو ہرگز نہیں گنوا ئیں گی۔
سیاست کے بازار میں سب موقع شناس ہیں۔کسی کو قوم و ملک کی فکر نہیں ہے۔ شاذیہ بار بار کہہ رہی ہیں کہ وہ الیکشن نہیں لڑیں گی ۔صرف بی جے پی کے ساتھ کام کریں گی لیکن یہ صرف چرب زبانی ہے،لبھانے والی باتیں ہیں ،اقتدار کی ہوس ان کو یہاں لے کر آئی ہے۔ دوبار بی جے پی کے امیدواروں سے ہار جانے والی شاذیہ علمی ہمیشہ ہی بی جے پی کو برا بھلا کہتی رہی ہیں۔ خود کرن بیدی کے ٹویٹ پڑھئے تو اندازہ ہوگا کہ انہوں نے مودی کو کس قدر برا بھلا کہا ہے ۔ آج وہ پریس کانفرنس میں مودی کے گن گان کررہی ہیں ۔ان کی شخصیت ان کے کاموں کو سراہ رہی ہیں۔ گجرات فساد پر بھی انہوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا تھا کہ بے شک کورٹ مودی، کو کلین چٹ دے دے لیکن انہیں گجرات کا حساب ایک دن دینا پڑے گا۔ خیر سیاست میں کوئی ہمیشہ کا دوست یا دشمن نہیں ہوتا۔لیکن اس قدر موقع شناسی سے شخصیت مجروح ہوتی ہے۔
میں اپنے ایک بہت ہی سینئر صحافی سے بات کررہی تھی اور کرن بیدی موضوع بحث تھیں۔انہوں نے 1987 کے میرٹھ فساد کے بعد جب دہلی کی فضا گرم تھی،اس وقت کا آنکھوں دیکھا ایک قصہ سنایا کہ دہلی میں بھی میرٹھ فساد کے بعد پہ درپہ چھوٹے موٹے فساد ہورہے تھے۔ اس وقت کرن بیدی Advisor to Governer تھیں جو کہ آئی جی جیل کے بعد بنائی گئی تھیں۔ نئی سڑک پر لوگوں نے اور میرے سینئر صحافی نے دیکھا کہ ایک پولیس کی گاڑی رکتی ہے۔ اس میں سے کرن بیدی اترتی ہیں۔ وہ اس کیمپ کے پاس جاتی ہیں جہاں سے کھانے کے پیکٹ کرفیو زدہ علاقے میں بانٹے جارہے تھے۔وہ جاکر کہتی ہیں کہ ایک پیکٹ انہیں بھی دیا جائے۔ وہ پیکٹ لیتی ہیں اور اچانک اسے دونوں ہاتھوں سے پھاڑ دیتی ہیں۔ لوگ بھونچکا رہ جاتے ہیں۔ اس کھانے کے ڈبہ میں ایک ترشول تھا۔
لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ وہ پیکٹ اس وقت کے ایم پی جے پرکاش اگروال کی جانب سے بانٹے جارہے تھے ۔انہوں نے آئو دیکھا نہ تائو نہ پوچھ تاچھ کی ۔ جے پرکاش اگروال کو وہیں سے اپنے دفتر لے گئیں اور حراست میں رکھا۔ اسی دوران دو سے ڈھائی کے بیچ یہ خبر آگئی کہ پارلیمنٹ میں یہ سوال اٹھا یا گیا ہے کہ کانگریس کا ایک ایم پی کھانے کے ڈبے میں ترشول بانٹتا ہوا ملا۔
یہ واقعہ میں نے اس لئے بیا ن کیا کہ اس سے کرن بیدی کی ایک سیکول شبیہ ابھرتی ہے۔ اب انہوں نے بی جے پی کا انتخاب کیا سوچ کر کیا۔پتہ نہیں یہ قدم انہوں نے کیوں اٹھایا ؟ لیکن کیا وہ اس سیکولر ذہن کے ساتھ سیاست کریں گی یا پھر آر ایس ایس کے ایجنڈے پر کام کریں گی۔یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کیونکہ انتظامیہ سے سیاست میں آنے پر ذہن نہیں بدلتا ،اس لئے اچھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ انا کے سارے بچے ایک ایک کرکے کام پر لگ گئے ہیں اور جس طرح چڑیا کے بچے پر نکالتے ہی اڑ جاتے ہیں،انا کے یہ بچے بھی اپنے اپنے پروں پر اڑنا سیکھ گئے ہیں۔
دہلی کا الیکشن اس وقت بہت ہی دلچسپ ہوگیا ہے۔کجریوال VSبیدیVSکرن والیہ ہوگا یا یوں کہنا چاہئے کہٖFemel vs Maleہوگا ۔کیونکہ کرن والیہ کانگریس سے کرن بیدی بی جے پی سے اور کجریوال عام آدمی پارٹی سے ایک ہی سیٹ کے لئے لڑ رہے ہیں۔ اب ٹکر برابر کی ہے اور کرن بیدی اور کجریوال آمنے سامنے ہیں ۔حالانکہ بی جے پی میں ایک گروہ کرن بیدی کو اتنی اہمیت دینے پر ناراض ہے لیکن حقیقت پوچھئے تو ان میں سے کوئی بھی چہرہ کجریوال کی ٹکر کا نہیں تھا۔ عام آدمی پارٹی جگدیش مکھی کو سامنے لاکر پرچار تو کررہی تھی جس سے یہ پیغام بھی جارہا تھا کہ کجریوال کے مقابلے میں بی جے پی کے پاس کوئی چہرہ نہیں ہے لیکن اب ٹکر برابر کی ہے۔
آج انا ہزارے خاموشی سے اپنے گائوں رالے گن سدھی میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔ایک بوڑھے نحیف و نزار باپ کی طرح جس کی ساری اولادیں جوا ن ہوکر اپنے بوڑھے باپ کو چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *