فرانس دہشت گردانہ حملہ ,اسلامی عمل تو ہر گز نہیں ہو سکتا ہے

ڈاکٹر وسیم راشد
ایک صحافی سے ایک شخص نے ایک عام سا سوال کیا کہ کون سی کار سب سے اچھی جدید ٹکنالوجی سے لیس ہے۔ صحافی نے جواب دیا ’’اولس رائس‘‘ اور اس کے ساتھ ہی اس نے اسی کار کے بہترین ہونے کے کئی ثبوت بھی پیش کئے کہ جدید مشینری اور جدید آلات سے سجی ہوئی یہ کار یقینا بہترین کہی جاسکتی ہے۔اسی شخص نے پھر سوال کیا کہ اگر یہ کار کسی ناتجربہ کار ڈرائیور کے ہاتھوں میں سونپ دی جائے اور حادثہ کا شکار ہوجائے تو کون ذمہ دار ہوگا؟ صحافی نے جواب دیا یقینا ڈرائیور ہی ذمہ دار ہوگا ۔اس شخص نے پھر سوال کیا کہ پھر اس روئے زمین پر اسلام کو کیوں بدنام کیا جارہا ہے جبکہ ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو اس مذہب پر جان دینے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن اس کو پوری طرح سمجھتے نہیں ہیں۔ یہ ایک عام سا سوشل میڈیا پر آنے ولا پیغام تھا جو میں نے لکھا ہے۔ لیکن اس میں واقعی ایک بڑا سبق پوشیدہ ہے کہ پوری دنیا اسلام سے نفرت کررہی ہے۔ اسلام مخالف بیان دینا اور اسلام کے خلاف ہتک آمیز جملے استعمال کرنا اور اہانت رسول ، سبھی نے شیوہ بنا لیا ہے۔ لیکن صحیح معنوں میں جو اسلام کا نام لے کر دہشت گردی کررہے ہیں اور بے گناہوں کا خون بہا رہے ہیں ،وہ ہر گز مسلمان نہیں ہیں۔ وہ ناستک اور بے دین سے بھی بد تر ہیں ۔ناستک اور بے دین کم سے کم کھل کر خدا کے نہ ہونے کا اقرار تو کرتا ہے ۔یہ بدبخت تو خدا اور رسول کے عاشق ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے بے گناہ معصوموں کا خون بہا رہے ہیں ۔ ان کو کیا کیا جائے ۔فرانس میں جس طرح ایک میگزین کے صحافیوں پر حملہ ہوا اور اس میں کئی صحافی مارے گئے ۔ اس کی یوں تو چاروں طرف سے شدید مذمت ہورہی ہے ۔خود مسلم تنظیمیں اس عمل کو وحشیانہ اورغیر اسلامی قرار دے رہی ہیں۔
ہندوستان میں بھی جماعت اسلامی ہند، جمعیت علماء ہند، ملی کونسل، ویلفیئر وغیرہ سبھی نے شدید مذمت کی ہیں ،لیکن مجھے یہاں پر ایک بات کہنی ہے کہ ہر حملہ ہر دہشت گردانہ عمل کے بعد اس طرح کے مذمتی بیانات شائع ہوجاتے ہیں اور ہر طرف سے شدید نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے لیکن اس کا حل کوئی نہیں نکلتا ہے۔ اصل میں لبرل ازم اور اظہار رائے کی آزادی نے ایک بڑا نقصان یہ کیا ہے کہ جن کو کسی نفرت کا اظہار کرنا ہوتا ہے ،وہ اس اظہار رائے کی آزادی کا استعمال غلط طریقے سے کرتا ہے ۔
دنیا میں اہانت رسول ایک فیشن سا بن گیا ہے ۔کبھی حضور کا کارٹون بنانا ،کبھی کسی پیغمبر کی تصویر شائع کرنا اور کبھی مسلمانوں سے نفرت کے اظہار کے لئے تحریروں کا سہارا لینا ۔یہ جذبات کو برانگیختہ کرنے والی چیزیں ہیں اور اس سے مشتعل ہوکر انتہا پسند تنظیمیں اپنی روٹیاں سینکنی شروع کردیتی ہیں۔یہ فرانسیسی میگزین چار ہیبڈو لی بھی سالوں سے اسلام اور پیغمبر اسلام حضرت محمد کی اہانت کرنے میں پیش پیش ہے۔ اس میگزین کا طرز عمل اسلام ہی نہیں بلکہ دیگر مذاہب اور عقائد سے وابستہ دنیا بھر کے افراد کے لئے شدید دل آزادی اور توہین کا باعث ہے۔حالیہ عمل یقینا انتقامی عمل ہے ۔ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ اس طرح کے بہیمانہ تشدد کی اسلام تو کیا ،کوئی مذہب اجازت نہیں دیتا ۔مذہب تو کوئی بھی ہو ،سچائی ،ایمانداری اور انسانوں سے محبت کرنا سکھاتا ہے پھر یہ کون سا مذہب ہے جو انتہا پسند اور دہشت گرد بنا رہے ہیں۔
کبھی کبھی اس طرح کے واقعات کو سن کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے گلی محلوں میں بچے کسی کو تنگ کرنے کے لئے اس کا کوئی نام شرارت سے رکھ کر چھیڑنا شروع کرتے ہیں اور وہ بے چارہ تنگ آکر پیچھے پیچھے بھاگتا ہے اور مارنا پیٹنا شروع کردیتا ہے۔ مسلمانوں کا بس یہی حال ہے کہ پوری دنیا میں چاروں طرف سے کوئی نہ کوئی چھیڑ خانی کا پہلو ہر وقت نکال لیاجاتاہے ۔کبھی کارٹوں بنایا جاتا ہے ،کبھی قرآن کو تختہ مشق بنایا جاتا ہے ،کبھی قرآن کی آیتوں سے چھیڑ خانی کی جاتی ہے اور جب یہ حد سے بڑھ جاتا ہے تو پھر اس کا رد عمل شروع ہوجاتا ہے۔
پچھلے ہفتے پورے تین دن لگاتار فرانس کی خبر چلتی رہی۔پوری دنیا کا میڈیا پیرس پہنچ گیا اور براہ راست رپورٹنگ ہوئی۔جبکہ اسی دوران نائجیریا کے شہر پر بوکو حرام کا قہر جاری رہا۔ نائجیریا کے شمال مشرقی شہر باگا پر حملہ کیا گیا۔پورے شہر کو نذر آتش کردیا گیا اور یہ حال ہوا کہ وہاں کی گلیو ں میں لوگوں کی لاشیں پڑی ہوئی ملیں۔لیکن چونکہ وہ افریقی ملک کی بات تھی اور میڈیا یوروپ کا غلام ہے،اس لئے پیرس سرخیوں میں رہا اور افریقہ کے بھیانک حادثے کو وہ کوریج نہیں ملا جو ملنا چاہئے تھا ۔
بوکو حرام ہماری نظر میں نہ مسلمان ہیں اور نہ ہی کسی مہذب قوم کے فرد۔یہ وہ وحشی ہیں جو اسلام کے نام پر قتل و غارت گری کررہے ہیں ۔نہ تو داعش،نہ القاعدہ ،نہ طالبان اور نہ ہی بوکو حرام یا دیگر دہشت گرد تنظیمیں ہماری نظر میں مسلمان ہیں۔یہ تو وحشی درندے ہیں جو اسلام کی آڑ میں دہشت گردی کے ذریعہ اپنا دبدبہ قائم رکھنا چاہتے ہیں۔اس لئے اگر ان تنظیموں کی وجہ سے پوری دنیا کے مسلمانوں پر عتاب نازل کیا جائے تو یہ غلط ہے۔
میں تقریبا ً ہند و پاک کے سبھیاخبارات کا مطالعہ کرتی رہی ہوں اور لندن، امریکہ ،جرمنی ،کینڈا سے شائع ہونے والے اردو اخبارات بھی اکثر سامنے رہے ہیں لیکن کہیں کسی بھی ملک میں کسی بھی مسلمان نے ان میں سے کسی بھی گروپ کی حمایت کبھی نہیں کی ۔سبھی مسلم ادارے، تنظیمیں ،علمائ، مفکرین، اس دہشت گردانہ عمل کی مذمت کرتے رہے ہیں ۔لیکن بار بار مسلمانوں کو چھیڑا جاتا ہے اور ان کو اسلام کے نام پر بے عزت کرنے کے نت نئے طریقے نکالے جاتے ہیں۔ اس پر روک لگنی بے حد ضروری ہے۔
پورے یوروپ اور امریکہ میں اس وقت اظہار رائے کی آزادی کے نام پر اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی روش عام ہوگئی ہے۔ سویڈن ،فرانس ، برطانیہ ،جرمنی، اٹلی اور امریکہ سبھی ممالک اس میں پیش پیش رہے ہیں۔ایک اور اہم بات یہ ہے کہ 9/11 کے حملے کے بعد مسلمانوں کے لئے پوری دنیا میں نفرت کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے ،وہ بھی نسل پرستی اور تعصب کو ہوا دے رہا ہے۔ہاں ایک اور اہم نکتہ پر بھی سوچا جاسکتا ہے کہ فرانس آزادی فلسطین کی حمایت کررہا تھا اور یو کے اور سویڈن فلسطین کی آزادی کی حمایت میں بھر پور طریقے سے شامل تھا۔ اس کے برعکس امریکہ اور اسرائیل اس حمایت کے سخت خلاف ہے۔ لہٰذا ہوسکتا ہے کہ فرانس پر دہشت گردانہ حملہ امریکی جارحیت پسند تنظیمیں اور اسرائیل کی حکمت عملی کا نتیجہ ہوں کیونکہ اس کا سیدھا فائدہ ان ہی دو ممالک کو ہوتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خود فرانس کے اندر موجود مذہبی شدت پسند طبقے نے اس دہشت گردی کو انجام دیا ہو ۔یہ طبقہ کئی ہفتوں سے اسلام مخالف مظاہرے کررہا تھا جس کو وہاں کی حکومت نے نا پسند کیا تھا۔ ان شدت پسندوں کا مطالبہ تھا کہ شام اور عراق کے پناہ گزیں بڑی تعداد میں فرانس میں آکر پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ان کی وجہ سے یہاں مسلمانوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ لہٰذا انہیں واپس ان کے ملک بھیجا جائے لیکن حکومت نے اس مطالبے کو یہ کہہ کر قبول نہیں کیا کہ یہ پناہ گزیں پریشان حال ہیں اور پریشان حالوں کو پناہ دینا ہماری روایت کا ایک حصہ ہے ۔اب شدت پسندوں نے یہ حملہ کرکے حکومت کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی ہو کہ عراق و شام کے یہ پناہ گزیں ہمارے لئے خطرہ ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی مسلم دہشت گرد تنظیم نے ہی اسے انجام دیا ہو۔
قیاس لگاتے جائیے ،اس طرح کے شکوک و شبہات تو پیدا ہوتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس وقت پوری دنیا کا مسلمان چاروں طرف سے کبھی دہشت گردو ں کے ہاتھوں کبھی نسل پرستوں کے ہاتھوں ،کبھی تعصب کرنے والوں کی وجہ سے ماراجاتا ہے،بے گناہ اور معصوم عوام پس رہے ہیں۔
فرانس میں اس دہشت گردانہ حملے کا خمیازہ یوروپ کے مسلمانوں کو بھی بھگتنا پڑے گا ۔فرانس پر حملے کے ساتھ ہی پوری دنیا میں مسلمانوں پر یلغار شروع ہوگئی ہے اور فرانس ،سویڈن ،برطانیہ ، اٹلی، جرمنی وغیرہ میں مساجد کو شہید کرنے کی مہم بھی شروع ہوگئی ہے ۔ یوروپی ممالک میں فرانس وہ ملک ہے جہاں مسلمانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور 50سے 75لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ جبکہ جرمنی اور برطانیہ میں مسلمانوں کی آبادی باالترتیب 40اور 30لاکھ ہے یعنی کل آبادی کا 5فیصد۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ فرانس جو اس وقت مظلوم بنا ہو اہے ،وہ اظہار رائے کی آزادی کا بھرپور فائدہ بھی اٹھاتا ہے اور جب وہاں کا ایک ناول نگار مشعل ہولے بیک اس اظہار رائے کو اپنا حق سمجھ کر ایک ناول لکھتا ہے جس میں وہ 2020 کے فرانس کا مستقبل ایک مسلمان کا مرہون منت دکھاتاہے اور لکھتا ہے کہ 2020 تک فرانس ایک اسلامی مملکت بن چکا ہوگا ،جہاں یونیورسٹیوں میں قرآن پڑھایا جارہا ہوگا،خواتین حجاب میں ملبوس ہوں گی اور ایک سے زیادہ بیویاں رکھنا قانونی حق بن جائے گا۔ اس ناول کے مصنف نے یہ تک لکھا ہے کہ فرانسیسی معاشرہ آہستہ آہستہ مسلمانوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گا۔ ان تمام باتوں سے آپ اور ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ کتاب کس قدر متنازع ہوسکتی ہے۔ اس ناول کا نام ’ سبمشن ‘ ہے ۔مشعل ہولے ینگ وہی ناول نگار ہیں جس نے ماضی میں اسلام کو سب سے زیادہ احمقانہ مذہب قرار دیا تھا۔حالانکہ یہ ناول ابھی شائع نہیں ہوا ہے لیکن اس پر بحث کافی عرصے سے کی جارہی ہے۔
فرانس پر اس وقت جو انتہا پسندانہ حملہ ہوا ۔اس کے پیچھے یہی عوامل کار فرما ہوسکتے ہیں ،جہاں مسلمانوں سے نفرت کرنا ،ان کو دہشت گرد بتایا جارہا ہے اور آج کی نسلوں کے اندر یہی نفرت اتاری جارہی ہے ۔ اس لئے پوری دنیا میں چاروں طرف مسلمانوں سے جیسے جیسے نفرت کا گراف اونچا ہوتا جارہا ہے ،مسلمانوں کا رد عمل بھی سامنے آتا جارہا ہے۔ لیکن جو بھی ہو، نفرت سے نفرت کو مارنا بزدلی ہے ،نفرت کا تریاق محبت ہے اور جس رسول کی محبت میں ہم یہ تشدد انگیز قدم اٹھاتے ہیں، اس رسول کے اسوہ ٔ اخلاق کو سمجھا جائے تو کبھی بھی کسی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں اسلام کو بدنام نہیں کریں لیکن اس کے برعکس ہورہا ہے ۔آگ چاروں طرف لگی ہوئی ہے، اللہ خیر کرے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *