پشاور اسکول سانحہ ایک اور زخم دے گیا

ڈاکٹر وسیم راشد
ایسا لگتا ہے 16دسمبر کی تاریخ ہندوستان و پاکستان کے لئے ایک منحوس تاریخ بن گئی ہے۔دو سال پہلے 16دسمبر 2012 کو ہندوستان میں ایک معصوم لڑکی گھنائونے عمل سے گزرتی ہوئی کچھ بھیڑیوں کی ہولناک درندگی کا شکار ہوگئی اور تمام دنیا اس بہیمانہ عمل پر ساکت ہوکر رہ گئی ۔ایک بار پھر یہ تاریخ ایک ایسا زخم دے گئی ہے جس کو شاید ہی صدیاں بھلا پائیں گی۔16دسمبر پاکستان کے لئے بھی قیامت لے کر آئے گا ،ایساکوئی سوچ بھی نہیں سوچ سکتا تھا، وہ بھی ان معصوم بچوں کے لئے جو صبح صبح نہا دھوکر اپنا بستہ اور ٹفن لے کر معصوم آرزوئوں کے ساتھ گھر سے نکلے تھے ،جن کی مائوں نے صبح صبح اٹھ کر ان کے لئے ناشتہ بنایا ہوگا ،اپنے ہاتھوں سے ان کو سجایا سنوارا ہوگا اور اسکول کی محفوظ پناہ گاہ میں بھیجا ہوگا،یہ سوچ کر یہ بچے بڑے ہوکر اپنا اور ان کا مستقبل سنواریں گے لیکن ان کی آن میں کھلکھلاتے ،ہنستے یہ پھول خاک و خون میں نہا گئے۔
یہ کون سا مذہب ہے جسے دہشت گرد اپنا رہے ہیں ۔دہشت گردوں کو یہ کس مذہب کی تعلیم دی جارہی ہے ۔کون دے رہا ہے انہیں یہ سب تخریب کاری کا سبق اور کہاں سے ان کو ہتھیار مل رہے ہیں؟کہاں سے ان کو فنڈنگ ہورہی ہے ؟افغانستانی طالبان کچھ کم تھے جو اَب پاکستانی طالبانی دہشت و بربریت کا ننگا کھیل کھیل رہے ہیں؟شرمناک بیان ہے تحریک طالبان کے ترجمان محمد خراسانی کا، جس نے یہ کہہ کر انسانیت کو شرمندہ کردیا کہ اس کی تنظیم نے خود کش حملہ آوروں کو آیریشن ضرب عضب کا انتقام لینے کے لئے بھیجا تھا لیکن چھوٹے بچوں کو نہیں صرف بڑے بچوں کو نشانہ بنانے کے لئے کہا تھا۔اف کس قدر گھٹیا، انسانیت سوز بیان ہے یہ بھلا بڑے بچے بھی کتنے بڑے تھے ،یہی کوئی 12,13,14 سال کے، یہ بچے تو یہ تک نہیں سمجھ پائے کہ ان کو جو لائن بناکر کھڑا کیا جارہا ہے شاید کوئی ڈرل یا کوئی گیم کرایا جارہا ہے۔نہایت شرمناک ہے بے غیرتی کا یہ جواب۔
پاکستان کو آزادی کے بعد سے اب تک اسکون کا سانس لینا نصیب نہیں ہوا ۔کوئی ہمدرد، کوئی ملک کا وفادار ایسا نہیں ملا اس ملک کو۔ سیاست داں سب اپنی روٹیاں سینکنے میں لگے رہے ۔پرویز مشرف نے کارگل جنگ کے دہانے پر لاکر ملک کو چھوڑ دیا ۔ فوجی حکومت نے پورے ملک کی معیشت برباد کردی۔پاکستان آج جس دہشت گردی کے نشانے پر ہے وہ پاکستان کے ناعاقبت اندیش حکمرانوں کی غلط، خود غرضانہ اور مفاد پرستانہ پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔ اس حملے کے بعد پوری دنیا سوگ میں ڈوب گئی ہے اور زیادہ تر تجزیہ کار عمران خاں، آئی ایس آئی،فوج سبھی کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ یہ سب پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں۔
وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب پاکستان کو نہایت مجبوری میں شروع کرنا پڑا تھا۔ اس آپریشن سے کافی حد تک دہشت گردی کم ہوئی تھی ۔حالانکہ اس آپریشن کی وجہ سے تقریبا ً 15 لاکھ لوگ بے گھر ہوگئے تھے۔لیکن پھر بھی جہاں کے عوام نے وہاں کے لوگوں نے فوج کا ساتھ دیا اور شاید اسی وجہ سے پاکستان حکومت نے ایک دوسرا آپریشن خیبر 1 شروع کیا تھا اور اس میں بھی حکومت کو کامیابی ملی تھی۔ اب اگرصرف سوال دہشت گردوں کو اپنے ٹھکانے ڈھوندنے کا ہے اور انہیں پناہ چاہئے تو اس کے لئے یہ حملہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے پیچھے دراصل وہ طاقتیں ہیں جو چاہتی ہی نہیں کہ پاکستان میں امن قائم ہو۔
حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ تمام دنیا پاکستان سے اور مسلمانوں سے نفرت کرتی ہے ۔ مغربی ممالک ان بے رحم طالبانیوں کو مسلمان کہتے ہیں ،لیکن یہ تو کسی بھی حال میں مسلمان ہو ہی نہیں سکتے۔انہوں نے ڈاڑھی لگا کر اور شرعی پائجامہ پہن کر اسلام کے نام پر بد نما داغ لگایا ہے۔
اس حملہ نے ایک اچھا کام ضرور کیاہے اور وہ یہ کہ پوری دنیا اس وقت ان طالبانیوں کو نفرت سے دیکھ رہی ہے اور پاکستان کے عوام سے ہمدردی رکھتی ہے۔ اس دردناک واقعہ نے سب کو پاکستان سے ہمدردی کرنے پر مجبور کردیا ہے ۔سب کو اندازہ ہوگیا کہ ان درندوں کا ان جانوروں کا اسلام سے تو تعلق ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ درندے کسی کے نہیں ہیں۔
ایک اور اچھی بات یہ ہوئی کہ ہندوستانی میڈیا کے وہ لوگ جو پاکستان کے خلاف نفرت اگلنے میں کوئی موقع نہیں چھوڑتے تھے،وہ بھی اس سانحہ سے دم بخود رہ گئے ۔ سرجھکائے آنسو بہاتے ہوئے پاکستان سے ہمدردی کا اظہار کرتے نظر آئے۔ ہاں آئی ایس آئی اور فوج پر سبھی نے نشانہ سادھا لیکن پاکستانیوں کے ساتھ سب کو ہمدردی تھی۔
بر سر اقتدار بی جے پی کے تمام لیڈران بشمول مودی اور ان کے وزراء اس سانحہ پر اشکبار نظر آئے۔ پارلیمنٹ میں سوگ منایا گیا۔ دو منٹ کی خاموشی ہوئی اور مرنے والے بچوں اور دیگر کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔سشما سوراج کے یہاں ڈنر تھا ،انہوں نے ایک انتہائی دانشمندانہ اور ہمدردانہ فیصلہ لیتے ہوئے اپنے یہاں ہونے والا ڈنر کینسل کردیا ۔سب سے زیادہ متاثر کن پورے ملک کے اسکولوں میں بچوں کے تاثرات تھے اور سبھی اسکولوں میں جس طرح دو منٹ کی خاموشی کرا کے خراج عقیدت پیش کیا گیا وہ قابل تحسین بھی تھا اور اس بات کی علامت بھی کہ پوری دنیا ان معصوم بچوں کے دُکھ میں شریک ہے ۔سارے اسکولوں میں بچوں نے موم بتیاں جلا کر خاموشی اختیار کرکے بھی اپنے غم کا اظہار کیا اور یہ ثابت کردیا کہ دہشت گرد اکیلے ہیں ،وہ جس مذہب کا نام لے کر لڑ رہے ہیں وہ خود اپنے مذہب کے قاتل ہیں اور دنیا کا ایک آدمی ایک ایک بچہ ان سے نفرت کررہا ہے ۔ اسکولوں میں تو بچوں نے آنسوئوں کے ساتھ خراج عقیدت پیش کیا۔
مودی حکومت قابل تحسین ہے کہ ایسے مشکل وقت میں سب کچھ بھلا کر پاکستان کے غم میں شریک رہی اور ہر طرح سے اس دردناک اور خوفناک عمل پر غم و غصہ کا بھی اظہار کیا اور پاکستان سے ہمدردی بھی دکھائی ۔
اس سانحہ سے عمران خان نے بھی اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر اپنا احتجاجی دھرنا ختم کردیا اور ہنگامی اجلاس میں شرکت کی۔ ورنہ اس سے پہلے سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے یہی عمران خاں تھے جنہوں نے پاکستان میں جہاں نواز حکومت کو چیلنج کیا اور جمہوری اقدار کو بچانے کے لئے گزشتہ الیکشن میں ہوئی دھاندلیوں کی جانچ کرانے کی مانگ کی لیکن ان کا یہ جمہوری عمل خود دہشت گردی میں بدل گیا ۔اسلام آباد سے کراچی اور فیصل آباد تک ان کے کارکن توڑ پھوڑ اور تشدد کرتے رہے اور پھر جوڈیشیل کمیشن قائم کرکے جانچ کی مانگ پر آکر وہ رک گئے لیکن اب یہ ایک اچھا پہلو ہے کہ انہوں نے اپنا دھرنا ختم کرکے پیشاور میں نواز شریف کے زیر صدارت کل جماعتی کانفرنس میں شرکت کی۔ اس دہشت گردانہ بربریت سے جہاں پورا پاکستان سوگوار ہے ،وہیں حکومتِ پاکستان نے ایک اور اہم فیصلہ لیا ہے ۔ پاکستان نے سزائے موت پر عائد پابندی ختم کردی ہے اور ساتھ ہی اچھے اور برے طالبان میں کوئی امتیاز نہ کرتے ہوئے سزا دینے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن ایک بات یہ سمجھ میں نہیں آئی کہ طالبان کی یہ کٹیگری اچھے اور برے طالبان کس نے وضع کیا ۔کیا طالبان اچھے بھی ہوسکتے ہیں؟یہ تو نام ہی ایسا ہے کہ پوری دنیا میں کسی کو اگر دہشت گردی کی گالی دی جاتی ہے تو طالبانی کہہ کر دی جاتی ہے ۔ایسے میں یہ تفریق طالبان کو اور حوصلہ بخشے گی لیکن اگر اب حکومت پاکستان یہ تفریق ختم کرکے سب کو برابر سے کھڑا کرے گی اور سزائے موت برقرار رہے گی تو شاید ایک بار دہشت گردی پر کچھ لگام لگ سکے گی ۔ حالانکہ جو اپنی جاں کو ہتھیلی پر لے کر بم باندھ کر چلتے ہیں ان کے لئے پھانسی کی سزا بھی کوئی معنی نہیں رکھتی ،لیکن اگر بروقت سزا مل جائے گی تو کم سے کم ایک خود کش حملہ آور کے ساتھ جو ہزاروں معصوم مارے جاتے ہیں وہ تو بچ جائیں گے۔
اس وقت پاکستان کو ہم سب کی ہمدردیوں کی ضرورت ہے۔ خود پاکستان کو بھی عملی طور پر دہشت گردانہ سرگرمیوں کے خلاف قدم اٹھانا ہوگا ۔یقینا یہ بدترین حملہ تھا جس پر انسانیت خون کے آنسو رو رہی ہے اور یہ کہہ رہی ہے کہ
کس مذہب میں معصوموں کی جان لینا
جائز ٹھہرایا گیا ہے۔
قرآن کی کس آیت میں
یہ لفظ پایا گیا ہے۔
سبق بہت مل گیا اب
دہشت گردی کو ختم کرنی میعاد ہے۔
طالبان یہ کیسا تیرا
مذہب کے نام جہاد ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *