پشاور میں مر گئی انسایت

پاکستان کے پشاور میں تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں نے ایک اسکول پر حملہ کرکے بچوں سمیت تقریباً 150 لوگوں کو قتل کر دیا، ساتھ ہی اس حملے میں سینکڑوں لوگ زخمی بھی ہوئے۔ پاکستان دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ اب تک پاکستان میں موجود دہشت گرد تنظیمیں صرف ہندوستان اور دوسرے ملکوں کے شہریوں کو نشانہ بناتی رہی ہیں، لیکن اس بار پاکستان کے پشاور میں دہشت گردی کا ایسا کھیل کھیلا گیا، جس سے انسانیت مر گئی۔ تمام میڈیا رپورٹس، اخباروں اور چشم دیدوں نے اسکول کے اندر کی جو کہانی بیان کی، اس سے ہر انسان کا دل دہل اٹھتا ہے۔ پیش ہے، پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں ہوئے حملے کی پوری کہانی …

mastسولہ دسمبر کا وہ منحوس دن۔ پاکستان کے پشاور شہر میں سب کچھ نارمل تھا۔ کسی کو اس بات کی بھنک تک نہیں تھی کہ آنے والے چند گھنٹوں میں پشاور شہر میں موت کا ایسا کھیل کھیلا جانے والا ہے، جو پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دے گا۔ شہر کے کینٹ علاقے کے بیچوں بیچ آرمی پبلک اسکول واقع ہے۔ یہیں پاس میں فوج کے کور کمانڈر کا دفتر ہے۔ فرنٹ گیٹ پر سیکورٹی تھی۔ گیٹ پر اسکول کا موٹو لکھا ہے ’رائز اینڈ شائن‘۔ مطلب یہ کہ بڑا بنو اور پوری دنیا میں چھا جاؤ۔ یہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اسکول کے بچے نہ تو بڑے ہو پائیں گے اور نہ ہی اپنی چمک سے دنیا کو روشن کر پائیں گے۔ اسکول کے اندر ہر دن کی طرح بچے اپنی اپنی کلاس میں پڑھ رہے تھے۔ کچھ کلاس کے بچوں کا امتحان تھا۔ کچھ بچے امتحان ختم کرکے دھوپ میں ہنسی مذاق کر رہے تھے۔ اسکول کے آڈیٹوریم میں کچھ بچوں کو فرسٹ ایڈ کی ٹریننگ دی جا رہی تھی۔ زیادہ تر بچے کلاس روم میں تھے۔ ٹیچرس انہیں پڑھا رہے تھے۔
اس آرمی پبلک اسکول کے پیچھے ایک قبرستان ہے۔ قبرستان سے ملحق ایک محلہ ہے، جسے پشاور میں بہاری کالونی کہا جاتا ہے۔ پاکستانی سیکورٹی ایجنسیوں کے مطابق، دہشت گرد ایک کار میں آئے تھے۔ یہ کار اسلام آباد سے چوری کی گئی تھی۔ لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے دہشت گردوں نے اسکول کے پیچھے بہاری کالونی کے پاس کار میں آگ لگا دی تھی اور قبرستان کی طرف سے اسکول کی جانب بڑھ گئے۔ قریب پونے بارہ بجے قبرستان کی طرف سے، یعنی اسکول کے پیچھے کی دیوار کو پھاند کر تحریک طالبان پاکستان کے چھ دہشت گرد اسکول کے احاطہ میں داخل ہوئے۔ دہشت گردوں کو معلوم تھا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ انہیں نہ کسی کو دھمکی دینی تھی، نہ ہی کسی کو اغوا کرنا تھا۔ انہیں صرف موت کا کھیل کھیلنا تھا۔ اس لیے اسکول کے احاطہ میں داخل ہوتے ہی انہیں جہاں کہیں بھی بچے نظر آئے، وہ ان پر گولیاں داغنے لگے۔
اجمل خان اور عامر امین دونوں امتحان دینے کے بعد کالج کے کوریڈور میں ٹہل رہے تھے کہ اچانک انہیں گولیوں کی آواز سنائی دی۔ دونوں نے جب پلٹ کر دیکھا، تو انہیں دو دہشت گرد نظر آئے، جو گولیاں چلاتے اور چیختے ہوئے ان کی طرف بڑھ رہے تھے۔ دونوں انٹرمیڈیٹ کے طالب علم تھے۔ انہیں یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ اسکول پر دہشت گردوں کا حملہ ہو گیا ہے۔ دونوں بھاگنے لگے۔ دونوں کیمسٹری لیب میں جاکر چھپ گئے، لیکن ایک دہشت گرد ان کے پیچھے پیچھے کیمسٹری لیب تک پہنچ گیا اور اندھا دھند گولیاں داغنے لگا۔ عامر پیچھے تھا، اجمل سامنے تھا، گولیاں اجمل کو لگ رہی تھیں، خون کے چھینٹے عامر کے جسم کو لہولہان کر رہے تھے۔ جب دہشت گردوں کو یہ بھروسہ ہو گیا کہ دونوں مر گئے ہیں، تو وہ وہاں سے چلا گیا۔ عامر کی گود میں اجمل کی جان گئی۔ وہ صدمے میں تھا۔ وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتا تھا، کیوں کہ اسے ڈر تھا کہ کہیں دہشت گرد پھر سے واپس نہ آ جائیں۔ عامر کو بھی گولیاں لگی تھیں۔ اس کے جسم سے بھی خون نکل رہا تھا۔ درد اور صدمے کو یہ بچہ برداشت نہیں کر سکا اور بیہوش ہو گیا۔ اب وہ اسپتال میں ہے، سہما ہوا ہے، دوستوں کو یاد کرتا ہے اور کیمسٹری لیب کے واقعہ کو یاد کرتا ہے۔ اس نے بتایا کہ کیمسٹری لیب میں 4 ٹیچر اور 6 لڑکے تھے، جو وہاں چھپنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن دہشت گردوں نے سب کو مار ڈالا۔ مرنے والوں کے سر پر گولیاں لگی تھیں۔
ایک دہشت گرد کیمسٹری لیب میں گھسا تھا، لیکن باقی دہشت گرد کلاس روم کی طرف بڑھ گئے۔ ہر کلاس کی ایک ہی کہانی تھی۔ دہشت گرد کلاس میں داخل ہوتے اور اندھا دھند گولیاں چلانے لگتے۔ گولیوں کی آواز سن کر بچے دہشت میں آ جاتے۔ بچوں کے سر میں گولی، سینے میں گولی، آنکھ میں گولی۔ جو بچہ ان دہشت گردوں کے سامنے آیا، اسے ان حیوانوں نے چھلنی کر دیا۔ حادثے میں بچے ایک بچہ نے بتایا کہ دہشت گرد اس کی کلاس میں داخل ہوتے ہی گولیاں چلانے لگے۔ پوری کلاس کے سامنے خاتون ٹیچر کے جسم میں آگ لگا دی، پھر گولیوں سے ان کے جلتے ہوئے جسم کو بھون ڈالا۔ چوتھی کلاس کے ایک طالب علم ذیشان نے بتایا کہ دہشت گرد کلاس میں داخل ہوتے ہی گولیاں برسانے لگے۔ سب سے پہلے ٹیچر کو نشانہ بنایا، اس کے بعد بندوق کی نلی بچوں کی طرف موڑ دی۔ کلاس روم میں بچے اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھے تھے، اس لیے ان درندوں نے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کے سینے اور سر کو نشانہ بناکر گولیاں داغیں۔ کچھ کلاس میں بھگدڑ مچ گئی۔ اس دوران کچھ بچے زمین پر گر گئے، تو ان بزدلوں نے ان کی پیٹھ پر گولیاں داغ دیں۔
چودہ سال کا شاہنواز خان اسپتال میں بھرتی ہے۔ وہ اپنی کلاس کی کہانی بتاتا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ دہشت گرد کتنے بے رحم اور ظالم تھے۔ اس کی کلاس میں ٹیچر انگلش گرامر پڑھا رہے تھے۔ جب اچانک سے گولیوں کی آواز سنائی دی، تو ٹیچر نے کہا کہ شاید یہ آواز آڈیٹوریم میں چل رہے فرسٹ ایڈ کے ڈیمونسٹریشن سے آ رہی ہے۔ لیکن جیسے ہی گولیوں کے ساتھ بچوں کی چیخ سنائی دی، تو سب سہم گئے۔ اس کے بعد ٹیچر نے دروازے سے باہر جھانک کر دیکھا اور گھبراتے ہوئے بچوں سے بینچ کے نیچے چھپ جانے کو کہا۔ جب تک ٹیچر گیٹ بند کر پاتے، دروازے پر ایک زوردار دھکا لگا اور وہ زمین پر گر گئے۔ شاہنواز نے بتایا کہ اس کے بعد دو آدمی ہاتھ میں بندوق لیے کلاس میں داخل ہوئے۔ دونوں نے آرمی کی ڈریس پہن رکھی تھی۔ کلاس میں داخل ہوتے ہی ایک دہشت گرد نے کہا کہ سب خاموش ہو کر بیٹھ جاؤ اور جیسا کہا جائے، ویسا کرو۔ اس کے بعد ایک دہشت گرد نے کہا کہ آٹھ لوگ، جو یہاں سے باہر جانا چاہتے ہیں، اپنے اپنے ہاتھ کھڑے کریں۔ اتنا بولتے ہی کلاس کے سبھی بچوں نے اپنے ہاتھ کھڑے کر دیے۔ سبھی بچے کانپ رہے تھے اور ڈر کے مارے سہمے ہوئے تھے۔ اس کے بعد دہشت گردوں نے آٹھ بچوں کو چنا اور انہیں بلیک بورڈ کے سامنے کھڑا کر دیا اور کہا کہ اپنے دوستوں کو دیکھو۔ دھکا دے کر ٹیچر کو ان کی چیئر پر بیٹھایا اور کہا کہ اپنے پیاروں کو مرتے ہوئے دیکھو، اسی طرح ہمارے بچوں کو بھی مارا جا رہا ہے۔ اتنا کہتے ہی ایک دہشت گرد نے آٹھوں بچوں کے جسم کو گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ کچھ تو دھڑام سے زمین پر گر گئے اور کچھ درد سے کراہتے ہوئے موت سے لڑتے رہے۔ جب تک ان کی موت نہیں ہو گئی، تب تک گولیاں چلتی رہیں۔ اس کے بعد دوسرے دہشت گرد نے کہا کہ اب آٹھ اور بچے مجھے چاہیے۔ کون کون باہر جانا چاہتا ہے؟ اپنے اپنے ہاتھ کھڑے کرو۔ اس بار کلاس میں ایک بھی ہاتھ اوپر نہیں اٹھا۔ اس کے بعد دہشت گرد نے ایک ایک بچے کو پکڑ کر کھینچنے کی کوشش کی، لیکن اسے کچھ بچوں نے پکڑ لیا۔ بچے آپس میں ایک دوسرے کو پکڑے ہوئے تھے۔ اس کے بعد دونوں دہشت گردوں نے اندھا دھند گولیاں چلانی شروع کردیں۔ شاہنواز کو دو گولیاں لگیں۔ اس کی کلاس کے کئی بچوں کی موت ہو گئی۔ ٹیچر کے کندھے میں ایک اور سینے میں ایک گولی لگی، باوجود اس کے وہ بچ گئے۔ ان کا بھی علاج اسپتال میں چل رہا ہے۔ صحافیوں نے جب ان سے بات کی، تو وہ چیخ چیخ کر رونے لگے۔ وہ کہنے لگے کہ اللہ گواہ ہے کہ میں نے اپنے بچوں کی مدد کرنے کی بہت کوشش کی، لیکن انہیں بچا نہیں پایا۔
سب سے زیادہ موتیں آڈیٹوریم کے اندر ہوئیں۔ یہاں کافی بچے تھے۔ یہاں بچوں کو فرسٹ ایڈ کی ٹریننگ دی جا رہی تھی۔ دہشت گرد یہاں سب سے آخر میں پہنچے تھے۔ آڈیٹوریم کے پیچھے کا دروازہ بند تھا۔ دہشت گرد آڈیٹوریم میں سامنے والے دروازے سے داخل ہوئے۔ سب سے زیادہ خون خرابہ آڈیٹوریم کے اسی دروازے پر ہوا۔ جب سیکورٹی اہل کار وہاں پہنچے، تو آڈیٹوریم کے گیٹ پر انہوں نے بچوں کی لاشوں کا ڈھیر دیکھا۔ بچے اپنی جان بچا کر آڈیٹوریم سے باہر نکلنا چاہتے تھے، لیکن دہشت گردوں کی نظر شاید اسی گیٹ پر لگی تھی۔ جس کسی نے بھی آڈیٹوریم سے باہر نکلنے کی کوشش کی، دہشت گردوں نے اسے مار گرایا۔ اسی وجہ سے گیٹ پر ایک کے اوپر ایک لاشیں جمع ہوتی گئیں۔
سولہ سال کا شاہ رخ اس وقت آڈیٹوریم میں تھا۔ اس نے بتایا کہ اچانک چار بندوق بردار دہشت گرد آڈیٹوریم میں داخل ہوئے اور وہاں موجود بچوں پر اندھا دھند گولیاں چلانی شروع کردیں۔ گولیوں کی آواز کے درمیان اس نے اپنے ٹیچر کو یہ چلاتے ہوئے سنا کہ نیچے لیٹ جاؤ، ڈیسک کے نیچے چھپ جاؤ۔ گولیوں کی آواز بند ہوتے ہی شاہ رخ کو ایک بھاری سی آواز سنائی دی۔ اس نے کہا کہ بہت سارے بچے بینچ کے نیچے چھپے ہیں، مارو انہیں، بینچ کے نیچے گولیاں چلاؤ۔ شاہ رخ بینچ کے نیچے چھپا تھا۔ اس نے دیکھا کہ دو کالے جوتے اس کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اسے سمجھ میں آ گیا کہ یہ جوتے انہیں دہشت گردوں کے ہیں، جو بچوں پر گولیاں چلا رہے ہیں۔ شاہ رخ کے دونوں پیروں پر گولیاں لگی تھیں۔ گھٹنوں کے نیچے اسے زور کا درد ہو رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ کالے جوتے والا شخص بینچ کے نیچے بچوں کو ڈھونڈ رہا تھا۔ بچوں کو دیکھتے ہی ان پر گولیاں داغ رہا تھا۔ شاہ رخ کی آنکھوں کے سامنے موت منڈلا رہی تھی، لیکن اس کا دماغ چل رہا تھا۔ اس نے اپنی ٹائی نکالی اور موڑ کر اپنے منھ کے اندر ٹھونس لی، تاکہ پیروں کے درد کی وجہ سے اس کی آہ نہ نکلے۔ وہ آنکھیں بند کرکے ایک مردہ ہونے کی ایکٹنگ کرنے لگا۔ ڈر کے مارے اس کا جسم کانپ رہا تھا۔ آنکھیں بند کرکے وہ پھر سے گولی لگنے کا انتظار کرتا رہا۔ کچھ دیر بعد گولیوں کی آواز بند ہو گئی۔ اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا، تو دہشت گرد وہاں سے جا چکے تھے۔ شاہ رخ نے اٹھنے کی کوشش کی، لیکن اس کے پیروں نے جواب دے دیا۔ وہ رینگنے لگا۔ رینگتے ہوئے جب وہ آڈیٹوریم سے باہر نکلا اور دوسرے کمرے میں پہنچا، تو وہاں اس نے اسکول کی ایک خاتون ملازمہ کو دیکھا۔ وہ کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی اور اس کا جسم جل رہا تھا۔ اس کے جلتے ہوئے جسم سے خون نکل رہا تھا۔ شاہ رخ رینگتے ہوئے اس کمرے کے دروازے کے پیچھے چھپ گیا اور تھوڑی دیر بعد بیہوش ہو گیا۔ جب اس کی آنکھیں کھلیں، تو وہ اسپتال کے بیڈ پر تھا۔
اسکول کے اندر دہشت گرد خون کی ہولی کھیل رہے تھے اور باہر پاکستان آرمی اسکول کے اندر داخل ہونے کی تیاری کر رہی تھی۔ کینٹ ایریا نزدیک تھا، اس لیے مدد وقت پر پہنچ گئی۔ اسکول کے باہر کے علاقے کو آرمی نے اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔ اسکول کے اوپر ہیلی کاپٹر منڈلانے لگے۔ آرمی نے اندر کا جائزہ لیا اور آرمی اسکول کے اندر داخل ہوگئی۔ دہشت گرد جگہ بدل بدل کر آرمی سے لڑتے رہے۔ اسکول احاطہ کے اندر آرمی نے ایک طرف سے دہشت گردوں کی تلاش شروع کی۔ یہی وہ وقت تھا، جب اسکول کے زخمی بچوں اور بچوں کی لاشوں کو باہر بھیجا جانے لگا۔ ٹی وی کے ذریعے پوری دنیا اس خوفناک منظر کو دیکھ رہی تھی۔ ایک طرف آرمی بچوں کو اسپتال بھیج رہی تھی اور دوسری طرف دہشت گردوں کے ساتھ ان کی جھڑپ بھی جاری تھی۔ آرمی اسکول کے باہر اسٹوڈنٹس کے والدین کی بھیڑ جمع تھی۔ بے انتہا ہمت والے باپوں کا چہرہ سہما ہوا نظر آ رہا تھا۔ گود سونی ہوجانے کا خوف اسکول کے باہر کھڑی ہر ماں کی آنکھوں میں صاف صاف نظر آ رہا تھا۔ اسکول کے باہر عالم یہ تھا کہ جن کے بچے اس اسکول میں نہیں پڑھتے تھے، وہ بھی پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔
پاکستانی ایجنسیوں کے حوالے سے یہ خبر آئی کہ حملہ آور لگاتار اپنے گروہ کے سرغنہ سے بات کر رہے تھے۔ ایک دہشت گرد نے اپنے آقاؤں سے فون پر بات کرکے یہ پوچھا کہ سارے بچوں کو انہوں نے مار دیا ہے، اب انہیں آگے کیا کرنا ہے؟ انہیں حکم ملا کہ آرمی بھی اسکول کے اندر داخل ہو گئی ہے۔ آرمی سے لڑو اور انہیں مارو۔ پکڑے جانے سے پہلے خود کو بم دھماکے سے اڑا لو۔ دہشت گردوں نے اپنے آقاؤں کے ہر حکم کی پیروی کی اور ایک ایک کرکے چھ میں سے چار دہشت گردوں نے خود کش بم دھماکے میں خود کو مار ڈالا۔ باقی دو دہشت گردوں کو پاکستان آرمی کے جوانوں نے مار گرایا۔
اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے لی۔ یہ فضل اللہ کا نیٹ ورک ہے۔ سبھی حملہ آور تحریک طالبان پاکستان کے رکن تھے۔ یہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے، لیکن یہ خود کو اسلامی جہاد کرنے والے فوجی قرار دیتے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کے ذریعے اعلان کردہ تین بنیادی مقاصد یوں ہیں : پاکستان میں شرعیہ قانون نافذ کرنا، پاکستان کی حکومت کے خلاف بغاوت اور افغانستان میں ناٹو فورسز کے خلاف مہم چلانا۔ فضل اللہ کے ترجمان محمد خراسانی کے مطابق، اسکول پر حملہ کرکے وہ پاکستان حکومت سے بدلہ لے رہے ہیں۔ یہ شمالی وزیرستان میں چل رہے فوجی آپریشن اور پولس کسٹڈی میں مارے گئے طالبانی ساتھیوں کی موت کا بدلہ ہے۔ اسکول میں حملہ ہونے کے دو گھنٹے کے اندر ہی تحریک طالبان پاکستان نے پشاور حملے کی ذمہ داری لے لی، نہیں تو پاکستان میں یہ افواہ پھیلنے لگی تھی کہ یہ حملہ ہندوستان کے ذریعے اسپانسرڈ ہے۔ جس وقت اسکول کے اندر آرمی آپریشن چل رہا تھا، اس وقت ہی تحریک طالبان پاکستان نے یہ بھی کہا کہ اسکول میں داخل ہونے والے دہشت گرد لگاتار ان کے رابطے میں ہیں۔ پاکستانی طالبان نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردوں کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ وہ چھوٹے بچوں کو نہ ماریں۔ عجیب بات ہے کہ بڑوں کو ڈھونڈنے وہ اسکول میں جاتے ہیں۔ جب بچوں کو نہیں مارنا تھا، تو اسکول میں یہ دہشت گرد کیا کرنے گئے تھے؟
پاکستان میں اس حادثے کو لے کر لوگوں میں بہت ناراضگی ہے۔ پاکستان حکومت کی طرف سے دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کی بات ہو رہی ہے۔ نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ طالبان کے ذریعے اسکول پر حملہ کرنے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ حقوق انسانی کی تنظیموں کے مطابق، پاکستان میں ایک ہزار سے زیادہ اسکولوں پر حملے ہو چکے ہیں۔ سینکڑوں بچے اور بچیوں کی موت پہلے بھی ہو چکی ہے۔ لیکن پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کی بالا دستی تب بھی قائم تھی اور آج بھی قائم ہے۔ پشاور حملے کے بعد سب سے بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا پاکستان میں دہشت گردی ختم ہو پائے گی؟ کیا پاکستان میں پھل پھول رہی دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ ہو پائے گا؟ کیا پاکستان کی آرمی ان دہشت گردوں کو پاکستانی سرزمیں سے باہر پھینکنے میں کامیاب ہو پائے گی؟ یا یہ واقعہ بھی پچھلے ہزاروں حملوں کی طرح بھلا دیا جائے گا؟
باکس
ہندوستان میں بھی ہوئیں آنکھیں نم
پاکستان کے پشاور میں حملے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف سے فون پر بات کی۔ مودی نے نواز سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ملک دکھ کی اس گھڑی میں آپ کے ساتھ ہے۔ نریندر مودی نے کہا کہ تعلیم کے مندر میں اس طرح معصوم بچوں کا بے رحمانہ قتل نہ صرف پاکستان، بلکہ پوری انسانیت کے خلاف حملہ ہے۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اور ہندوستان کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے بھی پشاور کے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بھی اس دردناک قتل عام پر زبردست غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ لوک سبھا نے سبھی طرح کی دہشت گردی سے پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے ایک مذمتی قرارداد بھی پاس کی۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں تھوڑی دیر تک خاموشی اختیار کرکے دہشت گردانہ حملے میں مارے گئے لوگوں کے تئیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے سڈنی اور پشاور کے دہشت گردانہ حملوں پر اپنی طرف سے لوک سبھا میں دیے گئے بیان میں کہا کہ یہ دونوں واقعات انسانیت میں یقین رکھنے والے سبھی لوگوں کے لیے ایک پکار ہے کہ وہ مل کر دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کریں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی اپیل کے بعد ملک بھر کے تمام اسکولوں میں اسمبلی کے وقت دو منٹ کی خاموشی اختیار کرکے پشاور کے دہشت گردانہ حملے میں مارے گئے بچوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *