مودی کا رتھ روکیں گے نتیش کمار

سروج سنگھ
mastکہتے ہیں سیاست اور سانپ سیڑھی کا کھیل ایک ہی طرح کا ہوتا ہے۔ دونوں کھیل کے طریقے بھلے ہی الگ الگ ہوں، لیکن دونوں ہی کھیلوں میں نقصان کا اندیشہ اور فائدے کے امکانات بے شمار ہوتے ہیں۔ اسے کھیلنے والا کھلاڑی اپنی ایک صحیح چال سے فرش سے عرش تک جا سکتا ہے اور ایک غلط چال اسے عرش سے لاکر فرش پر پٹک سکتی ہے۔ صحیح چال سیڑھی تک لے جاتی ہے اور غلط چال سانپ کے منھ میں۔ 2005 میں بہار کی سیاست میں سپر ہیرو کے طور پر ابھرے نتیش کمار کا 2014 تک کا سیاسی سفر کئی سانپ و سیڑھیوں سے گزرتے گزرتے آج سمپرک یاترا کے ذریعے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم لوگ سمپرک یاترا کی کہانی شروع کریں، یہ جان لینا بے حد ضروری ہے کہ آخر ایسے کون سے سیاسی حالات ریاست بہار میں پیدا ہو گئے کہ دو تہائی اکثریت سے اقتدار سنبھالنے والے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے کر سمپرک یاترا کے کانٹوں بھرے راستے پر نکلنا پڑا؟ جس بہار کے عوام کے درمیان نتیش کمار سپر ہیرو کے طور پر ابھرے اور 2005 کے بعد 2010 میں بھی ریکارڈ توڑ کامیابی حاصل کرکے ریاست کی کمان سنبھالی، اس نتیش کمار کو عوام نے لوک سبھا الیکشن میں آخر کیوں ٹھکرا دیا؟ جس بہار کے لیے یہ مان لیا گیا تھا کہ اس ریاست میں کچھ نہیں ہو سکتا ہے، وہاں نتیش کمار جیسے لیڈر نے امید کی ایک نئی کرن جگاکر ملک اور دنیا میں ثابت کر دیا کہ اگر ارادے بلند ہوں اور کام کرنے کا جذبہ ہو، تو پھر کوئی بھی کام کیا جا سکتا ہے۔ نتیش کمار نے کام شروع کیا اور بہار دھیرے دھیرے آگے بڑھنے لگا، اسے نتیش کمار کے مخالفین بھی تسلیم کرنے لگے۔
اب، آج آخر ایسا کیا ہوگیا کہ نتیش کمار کو اپنا عہدہ چھوڑ کر سمپرک یاترا پر نکلنا پڑ گیا؟ ہم جن سیاسی سوالوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، شاید نتیش کمار بھی ان دنوں انھیں سوالوں سے روبرو ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے عہدہ سے استعفیٰ دینے کے بعد نتیش کمار اپنی رہائش گاہ پر تقریباً دو مہینے تک ان سوالوں کا جواب ڈھونڈنے میں مصروف رہے۔ اس دوران وہ ان سبھی لوگوں سے انفرادی طور پر ملے، جن کا ان سوالوں سے تعلق ہے۔ پارٹی کے بڑے سے لے کر چھوٹے لیڈروں تک سے نتیش کمار آمنے سامنے ہوئے۔ ضلع وار پارٹیوں کے اہم کارکنوں سے ملے۔ صحافیوں، ڈاکٹروں اور سماجی کارکنوں کے علاوہ الگ الگ شعبہ میں اہم کام کرنے والے لوگوں کے ساتھ مل کر انہوں نے بات کی اور اوپر اٹھائے گئے سوالوں کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ سوچنے سمجھنے کی اس لمبی کارروائی کے دوران نتیش کمار نے سامنے والوں کو کھل کر اپنی بات رکھنے کی اجازت دی اور پوری توجہ سے ان کی باتوں پر غور کیا۔ اس دوران نتیش کمار کو دھیرے دھیرے یہ احساس ہونے لگا کہ جس نتیش کمار کو 2010 میں عوام نے اور پارٹی کے جانثار کارکنوں نے دو تہائی اکثریت کے ساتھ تخت پر بیٹھایا تھا، وہ نتیش کمار تو عوام اور جانثار کارکنوں سے بہت دور جاکر کچھ چنندہ اقتدار کے سوداگروں کی بازیگری میں الجھ کر رہ گیا تھا۔ اقتدار کے سوداگروں کی اسی بازیگری نے نتیش کمار کو عوام اور کارکنوں کی بات سننے ہی نہیں دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اقتدار تو چلتا رہا، لیکن اقتدار کا راستہ عام عوام اور کارکنوں کے گھروں تک نہیں جاکر اقتدار کے سوداگروں کے محلوں تک جانے لگا۔ عوام اور کارکنوں نے اپنے سپر ہیرو کو اپنے سے کافی دور رکھا۔ ان کی آواز نتیش کمار کے کانوں تک پہنچنی مشکل ہو گئی۔ اب بس ایک ہی آواز نتیش کمار کے کانوں تک پہنچ رہی تھی، اور وہ آواز تھی اقتدار کے سوداگروں کی۔
دیر سے ہی سہی، لیکن لوک سبھا الیکشن کے بعد نتیش کمار کو یہ احساس ہوا کہ کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے، ورنہ جس عوام اور کارکنوں نے انہیں سپرہیرو بنایا آج وہی لوگ انہیں وِلین کیوں مان رہے ہیں؟ اس کے بعد نتیش کمار نے اپنی نئی رہائش گاہ میں گہرائی کے ساتھ غور و فکر کا دور شروع کیا، جس کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں۔ نتیش کمار نے موٹے طور پر اپنی شکست کا جو محاسبہ کیا، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسباب بہت سے تھے، لیکن تین چار وجہیں ایسی تھی، جس نے سارا کھیل ہی بدل دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ نتیش کمار کی سمجھ یہ بنی کہ عام عوام اور جانثار کارکنوں سے ان کی دوری نے بہت فرق پیدا کر دیا۔ تقریروں میں بھلے ہی یہ جاتا رہا کہ کارکن ہی پارٹی کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں، لیکن کارکنوں سے سیدھے رابطہ کے سارے راستے بند کر دیے گئے۔ اس کا سیدھا نقصان یہ ہوا کہ زمینی سیاسی سچائی کے بارے میں نتیش کمار کی جانکاری کم ہونے لگی۔ چاپلوس کارکنوں اور لیڈروں نے نتیش کمار کو سیدھے دہلی بھیج کر وزیر اعظم بننے کا خواب دکھانا شروع کر دیا۔ انہیں یہ جانکاری نہیں مل پا رہی تھی کہ بہار کے عوام ان سے کتنا پیار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ ریاست میں رہ کر ہی اس ریاست کو ملک کی نمبر ایک ریاست بنائیں، کیوں کہ ان کے بعد بہار میں کوئی دوسرا چہرہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ عوام کہہ رہے تھے کہ لوک سبھا میں مودی اور ریاستی اسمبلی میں نتیش۔ لیکن صحیح سیاسی فیڈ بیک نتیش کمار تک پہنچ ہی نہیں رہی تھی اور نتیجہ یہ ہوا کہ غلط معلومات کے سہارے بنے راستے پر چلتے چلتے وہ سانپ کے منھ تک چلے گئے اور سیاسی طور پر کافی اوپر سے کافی نیچے اتر گئے۔
نتیش کمار نے گہرائی سے غور و فکر کرنے کے بعد اس سچائی کو سمجھا اور بغیر وقت برباد کیے انہوں نے پورے بہار میں سمپرک یاترا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس میں ایک سمجھداری یہ بھی دکھائی گئی کہ اس یاترا کو صرف جانثار کارکنوں کے لیے ہی رکھا گیا ہے۔ اقتدار کے نام نہاد سوداگر یاتراؤں سے دور رکھے گئے۔ ہر بوتھ سے پانچ جانثار کارکنوں کو بلایا گیا، تاکہ بوتھ سطح پر اپنی طاقت کا اندازہ لگایا جا سکے۔ ان کارکنوں سے ایک فارم بھی بھروایا جا رہا ہے، جس میں موبائل نمبر سے لے کر اس کارکن کی سبھی ضروری جانکاری پٹنہ کے پارٹی ہیڈکوارٹر میں ہمیشہ دستیاب رہ سکے اور کارکنوں سے دو طرفہ بات چیت کی جا سکے۔ شکست کے محاسبہ کے دوران نتیش کمار نے یہ بھی جانا کہ ان کی پارٹی بی جے پی کے حملہ آور پرچار کا جواب نہیں دے پائی۔ اس کے علاوہ مضبوط تنظیم کی کمی بھی محسوس کی گئی۔ سوچنے سمجھنے کی لمبی کارروائی کے بعد نتیش کمار سمجھ گئے تھے کہ سانپ کے منھ میں جا کر وہ سیاسی طور پر کافی نیچے اتر گئے ہیں اور انہیں اب ہر حال میں سیڑھی تک پہنچنا ہے، اسی لیے انہوں نے چمپارن سے اپنی سمپرک یاترا کا آغاز کر دیا۔
سمپرک یاترا کے اپنے پہلے ہی مرحلہ میں نتیش کمار نے پبلک پلیٹ فارموں سے اپنے وفادار کارکنوں کے درمیان اس بات کو قبول کیا کہ میں آپ سے کافی دور چلا گیا تھا۔ آپ سے میرا سیدھا رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا، جس سے ضلعوں کی زمینی سیاسی سچائیوں کو میں سمجھ نہیں پایا۔ نتیش کمار کہتے ہیں، میں ہار رہا تھا، اس کا مجھے غم نہیں۔ جمہوریت میں ہار جیت چلتی رہتی ہے، لیکن افسوس بس اس بات کا ہے کہ ہمارے کچھ ساتھی بھی مجھے اس بارے میں نہیں بتا رہے تھے۔ نتیش کمار سمپرک یاترا میں اس کے بعد کارکنوں سے وعدہ کرتے ہیں کہ اب آئندہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ آپ سے ہمارا رابطہ چوبیسوں گھنٹے بنا رہے گا۔ نتیش کمار کارکنوں کو بھروسہ دلاتے ہیں کہ اگر آپ نے ساتھ دیا، تو میں دوبارہ بہار کی خدمت کرنے کو تیار ہوں۔ جلسہ میں بیٹھے کارکن ہاتھ اٹھا کر نتیش کمار کی باتوں کی حمایت کرتے ہیں۔ کارکنوں کا بھروسہ جیتنے کے بعد نتیش کمار بی جے پی کے پروپیگنڈے کا مدعا اٹھاتے ہیں۔

نتیش کمار سمپرک یاترا میں اپنے کارکنوں کو سمجھا رہے ہیں کہ مرکزی حکومت کسانوں کی بجائے کاروباروں کے مفاد میں کام کر رہی ہے۔ لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کو کسانوں کا ووٹ مانگنا تھا، تو ان کے مفاد کی باتیں کہیں، لیکن جب کام کرنے کی باری آئی، تو کسانوں کی بجائے کاروباریوں کے حق میں کام کر رہی ہے۔ ان کاروباریوں نے ہی ہزاروں کروڑ کی پرچار مشینری میں بی جے پی کی مدد کی تھی۔ موجودہ وزیر اعظم نے 24 اپریل، 2014 کو مدھے پورہ میں اعلان کیا تھا کہ بی جے پی کی سرکار بننے کے بعد ملک کے کسانوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔ بی جے پی کا مینی فیسٹو اعلان کرتا ہے کہ کسانوں کو ایسا تحفہ دیں گے، جو ساٹھ سالوں میں کسی نے نہیں دیا۔ کھیتی میں جتنا خرچ ہوتا ہے، بجلی، پانی، بیج، کھاد سمیت کھیتی میں ہونے والے ہر طرح کے خرچ، سب کچھ کو جوڑا جائے گا، ساتھ ہی اس پر 50 فیصد اضافہ کرکے جو رقم بنے گی، وہ کسانوں کو منیمم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) کی شکل میں دی جائے گا۔ اس کے بعد نتیش کمار کارکنوں کو بتاتے ہیں کہ مرکز کے ذریعے ریاستوں کو بھیجے گئے خط میں صاف ہے کہ مودی سرکار 50 فیصد اضافی ایم ایس پی طے کرنا تو دور پہلے سے طے ایم ایس پی میں 3.5 فیصد کا اضافہ بھی نہیں کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ ریاستی سرکاروں کو دھمکی بھی دی ہے کہ اگر ایم ایس پی پر کسانوں کو بونس دیا، تو ریاستوں سے اناج لینا کم کر دیں گے اور کسانوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں گے۔ نتیش کمار کارکنوں کو بتا رہے ہیں کہ بی جے پی کو جمہوریت پر بھروسہ نہیں ہے۔

نتیش کمار سمپرک یاترا میں اپنے کارکنوں کو سمجھا رہے ہیں کہ مرکزی حکومت کسانوں کی بجائے کاروباروں کے مفاد میں کام کر رہی ہے۔ لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کو کسانوں کا ووٹ مانگنا تھا، تو ان کے مفاد کی باتیں کہیں، لیکن جب کام کرنے کی باری آئی، تو کسانوں کی بجائے کاروباریوں کے حق میں کام کر رہی ہے۔ ان کاروباریوں نے ہی ہزاروں کروڑ کی پرچار مشینری میں بی جے پی کی مدد کی تھی۔ موجودہ وزیر اعظم نے 24 اپریل، 2014 کو مدھے پورہ میں اعلان کیا تھا کہ بی جے پی کی سرکار بننے کے بعد ملک کے کسانوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔ بی جے پی کا مینی فیسٹو اعلان کرتا ہے کہ کسانوں کو ایسا تحفہ دیں گے، جو ساٹھ سالوں میں کسی نے نہیں دیا۔ کھیتی میں جتنا خرچ ہوتا ہے، بجلی، پانی، بیج، کھاد سمیت کھیتی میں ہونے والے ہر طرح کے خرچ، سب کچھ کو جوڑا جائے گا، ساتھ ہی اس پر 50 فیصد اضافہ کرکے جو رقم بنے گی، وہ کسانوں کو منیمم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) کی شکل میں دی جائے گا۔ اس کے بعد نتیش کمار کارکنوں کو بتاتے ہیں کہ مرکز کے ذریعے ریاستوں کو بھیجے گئے خط میں صاف ہے کہ مودی سرکار 50 فیصد اضافی ایم ایس پی طے کرنا تو دور پہلے سے طے ایم ایس پی میں 3.5 فیصد کا اضافہ بھی نہیں کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ ریاستی سرکاروں کو دھمکی بھی دی ہے کہ اگر ایم ایس پی پر کسانوں کو بونس دیا، تو ریاستوں سے اناج لینا کم کر دیں گے اور کسانوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں گے۔ نتیش کمار کارکنوں کو بتا رہے ہیں کہ بی جے پی کو جمہوریت پر بھروسہ نہیں ہے۔ بی جے پی والے صرف ووٹوں کے سوداگر ہیں اور انہیں ہر قیمت پر اقتدار چاہیے۔
اس کے بعد نتیش کمار کچھ الگ انداز میں اپنے کارکنوں سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ کالے دھن پر نریندر مودی کی تقریر اپنے کارکنوں کو سناتے ہیں۔ جب ٹیپ ختم ہوتا ہے، تو نتیش کمار کہتے ہیں کہ جب ووٹ مانگنا تھا، تو موجودہ وزیر اعظم کہتے تھے کہ سرمایہ داروں کا کالا دھن بیرونِ ملک جمع ہے، بی جے پی سرکار پائی پائی لائے گی اور لوگوں کے بیچ اسے بانٹ دے گی۔ اب ووٹ مل گیا اور سرکار بن گئی، تو زبان ہی بدل گئی۔

من کی بات لوگوں کو سنا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ بیرونی ممالک میں کتنا کالا دھن ہے، اس بات کی جانکاری کسی کے پاس نہیں ہے۔ اس سے صاف ہے کہ یا تو وہ پہلے جھوٹ بول رہے تھے یا اب جھوٹ بول رہے ہیں۔ اس کے بعد نتیش کمار خصوصی ریاست پر نریندر مودی کے وعدے کا ٹیپ لوگوں کو سناتے ہیں۔ ٹیپ ختم ہوتا ہے، تو نتیش کمار لوگوں سے پوچھتے ہیں، سن لیا نہ آپ نے۔ کہہ رہے تھے کہ بہار کے لوگوں نے جتنا پیار دیا، اسے سود سمیت لوٹائیں گے، اسپیشل پیکیج بھی دیں گے اور درجہ بھی دیں گے۔ لیکن ان کے ساتھی یہاں کہہ رہے ہیں کہ خصوصی ریاست سے کچھ نہیں ہوگا۔ ارے، کچھ نہیں ہوگا تو کیوں بہار قانون ساز کونسل سے اتفاقِ رائے کی تجویز پاس کراکے بھیجا تھا؟ اس وقت کیوں مخالفت نہیں کی؟ اقتدار میں تھے، تو کیوں ساتھ دے رہے تھے؟ اب اقتدار سے باہر ہو گئے، تو زبان ہی بدل گئی۔ تقریر کے اخیر میں نتیش کمار ایک بار پھر عوام سے سیدھا رابطہ قائم کر تے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بھاجپائی کہتے ہیں کہ جے ڈی یو کے پاس ویسی تنظیم ہی نہیں ہے، جس سے بی جے پی کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ہم نے محسوس کیا کہ پارٹی کی تنظیم کچھ کمزور ہے، لیکن جو نتیش کمار بہار کو مضبوط کر سکتا ہے، وہ اپنی پارٹی کی تنظیم کو بھی آپ کی مدد سے مضبوط کر سکتا ہے، بس آپ لوگوں کا دل سے ساتھ چاہیے۔ اتنا کہتے ہی پورا مجمع ’نتیش کمار زندہ باد‘ کے نعروں سے گونج اٹھتا ہے۔ اس کے بعد نتیش کمار کی سمپرک یاترا پھر کسی دوسرے ضلع کے لیے نکل پڑتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کار مانتے ہیں کہ ہار کا سبق نتیش کمار نے قاعدے سے سیکھا ہے اور اب اسی ہار کو جیت میں بدلنے کے لیے قاعدے سے اپنی سیاسی حکمت عملی کو انجام دے رہے ہیں۔ پہلے مرحلہ میں وہ کارکنوں کے ساتھ دوری کو ختم کر رہے ہیں، ان سے سیدھے مل رہے ہیں، بات کر رہے ہیں اور اس کے بارے میں پوری جانکاری درج کر رہے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہو رہا ہے کہ جو کارکن ایک طرح سے جے ڈی یو کے لیے سرد پڑ گئے تھے اور بی جے پی کی جانب رخ کرنے لگے تھے، وہ اب ایک بار پھر ایک نئے نعرے کے ساتھ بھاجپائیوں کو جواب دے رہے ہیں۔ ان کا نعرہ ہے ’بہار کی جنتا نے بھری ہنکار – ایک بار پھر نتیش سرکار‘۔
سمپرک یاترا سے کارکن جوش سے لبریز ہو چکے ہیں اور نتیش کمار کے اگلے آرڈر کا انتظار کر رہے ہیں۔ نتیش کمار بی جے پی کے ہائی ٹیک پرچار کا جواب بھی ہائی ٹیک طریقے سے دے رہے ہیں۔ نریندر مودی کی انتخابی تقریروں کے ٹیپ کو سناکر نتیش کمار اپنے لوگوں کو یہ سمجھا رہے ہیں کہ نریندر مودی کوئی بھگوان نہیں ہے، دیکھو انہوں نے عوام کو دھوکہ دیا، الیکشن میں کچھ وعدہ کیا اور اب وعدے سے مکر رہے ہیں۔ نتیش کمار چاہتے ہیں کہ نریندر مودی کے دامِ فریب میں گرفتار لوگوں کو ان کی دو طرح کی باتیں سناکر اس سے باہر نکالا جائے اور بہار کی جو سچائی ہے، اس کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کے لیے آمادہ کیا جائے۔ سمپرک یاترا کی اپنی کامیابی سے پرجوش نتیش کمار کی اگلی تیاری اسمبلی حلقوں کا دورہ کرکے عوام سے سیدھا رابطہ قائم کرنا ہے۔ شاید 15 جنوری سے یہ یاترا شروع ہو سکتی ہے۔
نتیش کمار ہر حال میں نریندر مودی کی رفتار کو بہار میں روکنا چاہتے ہیں اور اس وقت ان کا پورا دھیان اسی طرف ہے۔ لالو یادو کا ساتھ ملنے سے ان کا حوصلہ بڑھا ہے۔ لالو یادو بھی چاہتے ہیں کہ نریندر مودی کو بہار میں روک دیا جائے۔ لالو نے حال ہی میں کہا ہے کہ فرقہ پرست طاقتوں کو روکنے کے لیے وہ کوئی بھی قربانی دینے کو تیار ہیں۔ مطلب صاف ہے کہ لالو یادو اور نتیش کمار ایک ہی طرف دیکھ رہے ہیں، اس لیے ایک ہی راستے پر چلنا دونوں کی مجبوری ہے۔ نتیش جانتے ہیں کہ لڑائی مشکل ہے، اس لیے سب سے پہلے اپنی پارٹی اور اپنی تنظیم کو تروتازہ کرنے میں لگے ہیں۔ سمپرک یاترا اسی مہم کی ایک کڑی تھی۔ یہ کارواں اب آگے جانا ہے، کیوں کہ نتیش کمار نے زمینی کارکن اور اقتدار کے سوداگروں کے درمیان کا فرق سمجھ لیا ہے۔ اس لیے، وہ اب جہاں جا رہے ہیں، کارکن انہیں ہاتھوں ہاتھ لے رہے ہیں۔ ’پھر ایک بار – نتیش کمار‘ کے نعرے بھی لگ رہے ہیں۔ لگتا ہے نتیش کمار ایک بار پھر اپنے لوگوں کے درمیان لوٹ آئے ہیں۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *