مذہبی غیر قانونی قبضہ ہٹانے پر یو پی سرکار اچانک سرگرم کیوں؟

p-4bاتر پردیش میں اب نئی قسم کا فرقہ وارانہ بکھیڑا شروع ہونے والا ہے۔ 2009 میں دیئے گئے سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے اتر پردیش میں عوامی مقامات پر کئے گئے مذہبی نوعیت کے قبضے کو ہٹانے کا حکم دیا گیا ہے۔ دھیان رہے کہ اتر پردیش سرکار نے یہ حکم 2014کے آخر میں جاری کیا ہے جب ریاست میں اسمبلی انتخابات کے لئے تقریبا ً دو یا ڈھائی سال ہی بچے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ کہیں سوچے سمجھے ارادے سے یہ حکم تو نہیں جاری کیا جارہا ہے ۔ اس حکم پر اگر ریاست میں تعمیل شروع ہو گئی تو یو پی میں پھر سے فرقہ وارانہ تنائو کو آپ طے مانئے ۔ اتر پردیش سرکار نے یہ حکم جاری کرتے ہوئے انتظامیہ کو کسی بھی فرقہ کے ساتھ تنائو میں نہیں پڑنے کی خاص ہدایت دینے کی رسم بھی نبھائی ہے۔ لیکن انتظامیہ کے ہی اعلیٰ افسروں کا کہنا ہے کہ مذہبی نوعیت کے قبضے ہٹانے کی بات ہو یا سماجی نوعیت کے قبضے کی،اسے ہٹانے کے لئے طاقت کا استعمال کرنا ہی پڑے گا اور اس سے پیدا ہونے والے تنائو کو ٹالا نہیں جاسکتا۔ سپریم کورٹ کے 2009 کے فیصلے کی تعمیل کے لئے 2014 میں حکم جاری کرنے کی وجہ بھی انتظامیہ کے افسروں کو سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔

بہر حال، پہلے اترپردیش سرکار کا وہ حکم دیکھتے چلیں کہ اس میں کیا کہا گیا ہے۔ ریاست کے چیف سکریٹری الوک رنجن کی طرف سے 14نومبر 2014 کو ہدایت جاری کی گئی ہے۔ اس میں سبھی منڈل نمائندوں،زونل پولیس انسپکٹر جنرل ،کلکٹروں، پولیس سپرینٹنڈنٹ،ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کے وائس پریسڈنٹ اور نگر میونسپل کمشنر کو ہدایت دی گئی ہے کہ عوامی مقامات پر مذہبی نوعیت کے قبضے ہٹائے جانے کے بارے میں سپریم کورٹ 29 ستمبر 2009 کے فیصلے کی تعمیل کرائیں۔حکومت نے عوامی جگہوں پر مذہب کے نام پر غیر قانونی قبضہ کی پہچان کرنے کے لئے ٹیمیں تشکیل کرنے اور مقبوضہ جگہوں کی پہچان کرنے کو کہا ہے۔ ٹیم میں ریونیو،پولیس اور مقامی یونٹ کے افسروں کو شامل کیا جائے گا۔ ٹیم کے ذریعہ نشان زدہ غیر قانونی مقبوضہ جگہ کی پہچان کے بعد اس کو خالی کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔چیف سکریٹری نے اس بات پر زور دیا ہے کہ غیر قانونی قبضہ کی پہچان کے دوران یہ دھیان رکھا جائے کہ انتظامیہ اور پورے سماج کے بیچ ممکنہ ٹکرائو کی صورت حال نہ پیدا ہو ۔ قبضہ ہٹائے جانے کے لئے پولیس ملازمین ضروری آلات سے لیس ہوکر تعینات ہو۔ سرکاری حکم کے ان اشاروں کے مطلب آپ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔

غیر قانونی مذہبی قبضہ کی شناخت کرنے کے لئے ٹیموں کی تشکیل کرنے اور اس کے لئے تمام جد و جہد کرنے کی نئے سرے سے کردار ادا کرنے والی سرکار کے پاس پہلے سے پوری ریاست کے غیر قانونی قبضے کی لسٹ ہے۔ چاہے وہ مذہبی قبضہ ہو یا عوامی۔ مرکز سے لے کر ریاست تک کی خفیہ ایجنسیاں وقت بہ وقت سرکار کو خاص طور پر غیر قانونی قبضے کی جانکاری دیتی رہی ہیں۔ قبضہ کرکے کتنے مندر بنے یا کتنی غیر قانونی مسجدیں کھڑی ہوئیں۔ اس کا پورا بیورا سرکار کے پاس پہلے سے ہے۔ کئی بار عدالت نے ریاستی سرکار سے ریاست میں ہوئے غیر قانونی مذہبی قبضہ کا بیورا بھی لیاہے۔ سرکار نے کئی بار وہ بیورا عدالت کے سامنے پیش بھی کیا ہے ،لیکن ریاست میں الگ قسم کا سیاسی ناٹک کھڑا کرنے کی سستی سیاست کے لئے اس طرح کا نیا حکم جاری کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کچھ ہی دن پہلے اس کے پہلے کے چیف سکریٹری اتول کمار گپتا نے منڈل کمیشن و ضلع افسروں کی صدارت میں دو الگ الگ کمیٹیاں تشکیل کرکے مذہبی قبضے کو ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ لیکن کسی بھی ضلع میں کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔تب ضلع انتظامیہ کی طرف سے حکومت کو یہ اطلاع کی گئی تھی کہ غیر قانونی قبضہ ہٹانے پر نظم و نسق کی صورت حال بگڑ سکتی ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے سرکار نے اپنی کارروائی آگے نہیں بڑھائی یایہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اسے انتخابات نزدیک آنے تک کے لئے ملتوی کردیا تھا۔

ابھی کچھ عرصہ پہلے کورٹ کی طرف سے پوچھے جانے پر ریاست کی وزارت داخلہ کے چیف سکریٹری نے بتایا تھا کہ ریاست میں غیرقانونی مذہبی مقامات کی تعداد 45,152 ہے۔سپریم کورٹ کے حکم کے ایک سال بعد اس کی تعمیل کے لئے 12اکتوبر 2010کو سرکولر جاری کیا گیا اور کہا گیا کہ سرکاری زمین ،سڑک و پارک میں 4، فروری 2010 کے بعد کی تعمیر روک دی جائیں۔لیکن اس حکم کی تعمیل کے لئے کوئی کام نہیں ہوا۔ نتیجتاً پوری ریاست میں اندھا دھند غیر قانونی مذہبی تعمیر ات ہوئیں۔2014تک صورت حال بھیانک ہوچکی ہے ۔لیکن اس میں اضافہ جاری ہے۔اگر کچھ سال پہلے کے سرکاری اعداد و شمار کو ہی سامنے رکھیں تو سوال اٹھتا ہے کہ اتر پردیش کی سرکار عوامی جگہوں پر بنے 45ہزار سے زیادہ غیر قانونی مذہبی جگہوں کو اب تک کیوںنہیں ہٹواپائی۔کیا اسے 2015کے لئے روک کر رکھا گیا تھا۔ ریاست کی راجدھانی لکھنؤ میں ہی ایسے غیر قانونی جگہوں کی تعداد 971ہے۔سب سے زیادہ 4706 غیر قانونی قبضہ سدھارتھ نگر میں ہے۔سرکاری زمین کا قبضہ کرکے جب غیر قانونی تعمیر ہو رہی تھی تب تو انتظامیہ خاموش تھی، اب سپریم کورٹ کے پانچ سال پرانے حکم کے بہانے مذہبی نام پر سیاست چمکانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سپریم کورٹ نے 2009 میں ہی یہ حکم دیا تھا کہ عوامی جگہوں پر مندر ، مسجد ، گرجا گھر ، گرودوارا، نیز دیگر کسی مذہبی ڈھانچے کی تعمیر کی منظوری نہ دی جائے، سرکار نے اس حکم پر کیا کارروائی کی۔ اسے بتانے کے لئے انتظامیہ کا کوئی نمائندہ آگے نہیں آرہا ۔ سپریم کورٹ کے حکم پر پورے پانچ سال ریاستی سرکار نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ سپریم کورٹ نے ناراضگی بھی ظاہر کی لیکن سرکار پر کوئی فرق نہیں پڑا ۔ غیر قانونی مذہبی قبضہ کا بیورا کورٹ کو دے دیا اور پھر اطمینان سے بیٹھ گئی۔افسوس کی بات یہ ہے کہ تب بھی انتظامیہ کے چیف سکریٹری آلوک رنجن ہی تھے، جو آج ریاست کے چیف سکریٹری ہیں۔ وہ پھر سے پانچ سال بعد وہی حکم کیوں جاری کر رہے ہیں اور اس کے پیچھے کے سیاسی مقاصد کیا ہیں۔یہ تو وہی بتا سکتے ہیں۔
اتر پردیش میں مذہبی مقامات غیر قانونی قبضہ کی ضلعی سطح پر تعداد دیکھتے چلیں۔ لیکن اس کے پہلے یہ سمجھتے چلیں کہ سرکاری اعداد و شمارکیا ہیں۔ یعنی سرکار کو پہلے سے پتہ ہے کہ ریاست میں غیر قانونی قبضے کی تعداد کتنی ہے۔ پھر نئے حکم کے پیچھے کوئی سیاسی تکڑم نہیں ہے ، تو پھر اس کا مطلب کیا ہے۔ غیر قانونی مذہبی قبضہ کی لسٹ میں مندر ، مسجد ،گردوارا اور گرجا گھر کافائنل بیورا ہے۔ لیکن مذہبی حساسیت کی وجہ سے ہم اس کا الگ الگ بیورا پیش نہیں کررہے ہیں،لیکن ریاستی سرکار اسی حساسیت کا فائدہ اٹھانے کے ارادے سے ابھی اچانک اس مسئلے پر سرگرم ہو گئی ہے۔

کیا اکھلیش ایسا کرپائیں گے
غیر قانونی مذہبی قبضے کی شکار اتر پردیش کوئی اکیلی ریاست نہیں ہے ۔ لیکن دو سال کے بعد انتخاب تو اتر پردیش میں ہی ہونے ہیں۔ مذہب کے نام پر غیر قانونی زمین پر قبضے میں تمل ناڈو اول ہے جہاں 77,450 غیر قانونی مذہبی مقامات ہیں۔راجستھان میں یہ تعداد 58,253ہے۔مدھیہ پردیش میں 51,647 ہیں تو چھتیس گڑھ میں ان کی تعداد 30,000ہے۔گجرات میں 15,000 اراضی پر غیر قانونی قبضہ کرکے مذہبی عمارتیں بنی ہیں۔لیکن جب نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تب انہوں نے درجنوں مذہبی عمارتوں کومنہدم کرکے قبضہ ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ اتر پردیش سرکار کے نئے حکم سے یہ سوال تو اٹھتا ہی ہے کہ جب سخت شبیہ والے نریندر مودی نے غیر قانونی مقامات کو ہٹوانے سے پرہیز نہیں کیا تھا تو کیا مذہبی شبیہ والے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو غیر قانونی طریقے سے بنے مندر مسجد منہدم کرپائیںگے۔

 
چوتھی دنیا بیور

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *