کیا پی ڈی پی بن پائے گی جموں و کشمیر کے عوام کی پہلی پسند

ڈاکٹر قمر تبریز
p-5ریاست جموں و کشمیر میں 87 اسمبلی سیٹوں کے لیے ووٹنگ کا سلسلہ 25 نومبر سے شروع ہونے والا ہے۔ ہر سیاسی پارٹی، چاہے وہ بھارتیہ جنتا پارٹی ہو، کانگریس ہو، نیشنل کانفرنس یا پھر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی)، سبھی اس بار اپنی حکومت بنانے کا دعویٰ کر رہی ہیں۔ ان پارٹیوں کے لیے دعوے کرنا جتنا آسان ہے، وہاں کے عوام کا اعتماد حاصل کر پانا اتنا ہی مشکل۔ پچھلی بار کے اسمبلی انتخابات کی بات کریں، تو 2008 کے الیکشن میں 28 سیٹوں کے ساتھ نیشنل کانفرنس سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی، جب کہ 21 سیٹوں کے ساتھ پی ڈی پی دوسرے نمبر پر، 17 سیٹوں کے ساتھ کانگریس تیسرے نمبر پر اور 11 سیٹوں کے ساتھ بی جے پی چوتھے نمبر پر تھی۔ نیشنل کانفرنس نے کانگریس کے ساتھ مل کر حکومت بنائی اور عمر عبداللہ کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا۔ عمر عبداللہ نے اپنے 6 سالہ دورِ حکومت میں جو کام کیے، اس سے ریاست کے عوام کو بہت زیادہ خوشی حاصل نہیں ہو سکی اور ان کی حکومت کا دور ختم ہوتے ہوتے اب ایسا لگنے لگا ہے کہ وہاں کے لوگ حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں، یعنی وہ نیشنل کانفرنس کی جگہ اب اقتدار میں کسی اور پارٹی کو دیکھنا چاہتے ہیں۔
اب یہ لاکھ ٹکے کا سوال ہے کہ آخر وہ خوش قسمت پارٹی کون ہے، جسے ریاست جموں و کشمیر کے لوگ اقتدار پر فائض کرنا چاہتے ہیں؟ اس سوال کا سیدھا جواب تو ہمیں تبھی ملے گا، جب الیکشن کمیشن کی جانب سے 23 دسمبر کو اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوگا۔ لیکن، اگر وقت سے پہلے ہم اس سوال کا جواب تلاش کرنا چاہیں، تو اس کے لیے سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ متعدد سیاسی پارٹیوں کے بارے میں ریاست کے لوگوں کا نظریہ کیا ہے؟ سب سے پہلے بات کرتے ہیں نیشنل کانفرنس کی۔ نیشنل کانفرنس کے بارے میں ہم سبھی جانتے ہیں کہ اس نے ریاست جموں و کشمیر میں اسی پارٹی نے سب سے زیادہ حکومت کی ہے، ٹھیک اسی طرح، جیسے کانگریس پارٹی کو ہندوستان میں سب سے زیادہ دنوں تک حکومت کرنے کا موقع ملا۔ وجہ اس کی یہی ہے کہ جس طرح ہندوستان کے لوگ پنڈت جواہر لعل نہرو کو ایک عظیم مجاہد آزادی اور سب سے بڑا لیڈر مانتے تھے، ٹھیک اسی طرح جموں و کشمیر کے لوگ شیخ عبداللہ کو اپنا مسیحا سمجھتے تھے۔ اسی لیے جس طرح مرکزی اقتدار میں آزادی کے بعد سے حالیہ دنوں تک گاندھی – نہرو خاندان کی سربراہی والی کانگریس پارٹی کا دبدبہ رہا، اسی طرح ریاست کشمیر میں بھی عبداللہ خاندان کی سرپرستی میں نیشنل کانفرنس کا دبدبہ رہا۔ لیکن، یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ جس طرح اب ہندوستان کے عوام گاندھی – نہرو خاندان اور کانگریس پارٹی سے اوب چکے ہیں، اسی طرح ریاست جموں و کشمیر میں بھی وہاں کے لوگ عبداللہ خاندان کے قبضے والی نیشنل کانفرنس سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لوگو ں کی شکایت ہے کہ عمر عبداللہ ریاست جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ کم، دہلی کے نمائندہ زیادہ لگتے ہیں۔ ان کا یہ بھی گلہ ہے کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت نے عوام سے جتنے وعدے کیے تھے، ان وعدوں کو پورا نہیں کیا گیا۔ گزشتہ دنوں کشمیر میں آنے والے سیلاب میں عمر عبداللہ حکومت کی ناکامی نے ان کے تئیں عوام کے غصے میں مزید اضافہ کیا ہے۔ یہی وہ سارے اسباب ہیں، جن کی بناپر اب ریاست کے عوام کسی اور پارٹی کو اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں۔
کانگریس کی بات کریں، تو ریاست جموں و کشمیر کے عوام کانگریس کو شک کی نظروں سے دیکھتے رہے ہیں، اسی لیے کانگریس کو ریاست کے اندر کبھی بھرپور عوامی حمایت نہیں مل سکی۔ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ مرکزی اقتدار پر سب سے زیادہ دنوں تک قابض رہنے کے باوجود کانگریس نے کشمیر مسئلہ کو حل کرنے میں کبھی سنجیدگی نہیں دکھائی، ورنہ یہ مسئلہ اب تک حل ہو گیا ہوتا۔ اس کے علاوہ ریاست میں فوج کا پہرہ بیٹھانے اور آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ (ایفسپا) نافذ کرنے کے لیے بھی وہاں کے لوگ کانگریس کو ہی ذمہ دار مانتے ہیں۔
بی جے پی کی اگر بات کریں، تو چونکہ جموں و کشمیر ایک مسلم اکثریتی ریاست ہے، لہٰذا وہاں کے زیادہ تر لوگ اس پارٹی کو مسلم مخالف پارٹی سمجھتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اٹل بہاری واجپئی نے وزیر اعظم رہتے ہوئے، جس طرح کشمیر مسئلہ کو حل کرنے میں دلچسپی دکھائی اور ہندو پاک کے درمیان تعلقات کو استوار کرنے اور خاص کر کشمیریوں کے لیے سرحد پار تجارت کرنے کی سہولیات فراہم کیں اور سڑک اور ہوائی راستے کھولے، اس سے وہاں کے کاروباری حلقے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے تئیں کچھ حد تک عزت و احترام کا جذبہ ضرور پیدا ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت جب نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی مرکز میں برسر اقتدار ہے، ریاست جموں و کشمیر کے کچھ حلقوں میں اس پارٹی کو لے کر امید کی کرن نظر آ رہی ہے، لیکن وہاں کے اکثریتی طبقہ کو اب بھی اس پارٹی پر پورا اعتماد نہیں ہے۔ ایسے میں بی جے پی جموں کشمیر میں اگلی حکومت بنا پانے میں کامیاب ہو پائے گی، یہ کہنا بہت مشکل ہے۔
جہاں تک پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کا سوال ہے، تو اِس بار جموں کشمیر کے لوگوں میں اس پارٹی کے تئیں اچھا خاصا اعتماد دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہ بات ابھی چند ماہ قبل ہوئے پارلیمانی انتخابات میں پی ڈی پی کو ملنے والے ووٹ فیصد سے بھی ثابت ہو تی ہے۔ دراصل، 2002 سے 2005 تک مفتی محمد سعید کی حکومت نے ریاست کے عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے جتنے کام کیے، جس طرح نوجوانوں کے لیے روزگار کے دروازے کھولے گئے، سیکورٹی فورسز کی زیادتیوں سے پی ڈی پی نے جس طرح لوگوں کو راحت دلائی، وہ ایک بار پھر وہاں کے لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ عمر عبداللہ کے مقابلے مفتی محمد سعید کی حکومت ہی ان کے لیے بہتر تھی۔ مفتی محمد سعید نے نومبر 2002 میں وزیر اعلیٰ بنتے ہی ملی ٹینسی سے متاثرہ ریاست کے لوگوں کے لیے ’ہیلنگ ٹچ‘ پالیسی کا اعلان کیا، جس نے عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کا کام کیا۔ مفتی سرکار نے ان تمام قیدیوں کی رہائی کی راہ ہموار کی، جنہیں شک کی بنیاد پر جیلوں میں بند کر دیا گیا تھا اور جو بغیر کسی گناہ اور ثبوت کے سالوں سے جیلوں میں بند تھے۔ حالانکہ اپوزیشن پارٹیو ںکی طرف سے ان کے اس قدم کی کافی تنقید بھی ہوئی اور اسے ملی ٹینٹوں کی حوصلہ افزائی بھی قرار دیا گیا، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مفتی محمد سعید کے اس قدم سے نہ صرف ملی ٹینسی کے واقعات میں کمی آئی، بلکہ ریاست کے لوگ انہیں اپنا مسیحا بھی تصور کرنے لگے۔ دوسری طرف ریاست کے وہ نوجوان جو تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود لاکھوں کی تعداد میں بے روزگار تھے، ان کے لیے مفتی محمد سعید نے چار – چار ہزار روپے ماہانہ پر ریاستی پولس اور اسکول ٹیچر کی نوکریاں فراہم کیں۔ اس کی وجہ سے بھی ملی ٹینسی میں کافی کمی آئی۔ اس کے علاوہ سڑکوں کو چوڑا کرنے کا کام ہو یا پھر ریاست کے اندر ریلوے لائن بچھانے کے منصوبہ کو منظوری دینے کا کام، ان سب میں مفتی محمد سعید نے مرکزی حکومت کے ساتھ مل کر سنجیدگی سے کام کیا، جس کا نتیجہ آج ہمیں ریاست کے اندر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اِس بار ریاست جموں و کشمیر کے عوام پی ڈی پی کو اپنی پہلی پسند مان رہے ہیں۔ لیکن کیا عوام کی یہ پہلی پسند پی ڈی پی کو ریاست کے اندر حکومت بنا پانے میں مدد کرے گی، اس کے لیے ہمیں 23 دسمبر تک انتظار کرنا ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *