کیا ہاشم پورہ کے متاثرین کو انصاف مل پائے گا؟

ڈاکٹر قمر تبریز
p-3ستائس سال پہلے پیش آنے والے میرٹھ کے ہاشم پورہ معاملے میں عدالت کا فیصلہ کسی بھی وقت سامنے آ سکتا ہے۔ ’’چوتھی دنیا‘‘ ہندوستان کا وہ پہلا اخبار ہے، جس نے سب سے پہلے اس واقعہ کی خبر ملک اور دنیا کو دی تھی، جس میں پی اے سی کے جوانوں نے ہاشم پورہ کے 42 مسلم نوجوانوں کو گولی مار کر ان کی لاشیں نہر میں بہا دی تھیں اور جس کی سرخی ’’لائن میں کھڑا کیا، گولی ماری اور لاشیں نہر میں بہا دیں‘‘ نے اس وقت بھی دھوم مچا دی تھی اور آج بھی لوگ اس کو یاد کرتے ہیں۔ ان میں سے تین نوجوان کسی طرح زندہ بچ گئے، جنہوں نے بعد میں پی اے سی کے ذریعے کیے گئے اس بر بریت اور ظلم کی کہانی دنیا کو بتائی۔ ہندوستان کا شاید یہ پہلا واقعہ ہے، جس میں عدالت کو کسی نتیجہ تک پہنچنے میں اب تک 27 سال کا وقت لگ چکا ہے۔ عدالت کا فیصلہ کیا ہوگا، یہ ابھی کسی کو معلوم نہیں ہے، لیکن جن لوگوں کی نظر اس معاملے کو لے کر عدالت کی کارروائیوں پر ہے، وہ پرامید ضرور نظر آتے ہیں۔ انھیں میں سے ایک ڈاکٹر محمد یوسف قریشی بھی ہیں، جو میرٹھ کے مشہور لیڈر اور تاجر حاجی یعقوب قریشی کے بڑے بھائی اور پیشہ سے ایک وکیل بھی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں نے ہاشم پورہ معاملے کو لے کر نعرے تو خوب لگائے، سڑکوں پر احتجاجی ریلیاں بھی نکالیں، لیکن ان میں سے کسی نے بھی متاثرین کی مدد کرنے یا انہیں انصاف دلانے میں کبھی کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ 1984 کے سکھ فساد کے متاثرین کو سرکار کی طرف سے باقاعدہ معاوضے دیے گئے، یہاں تک کہ حالیہ مودی سرکار بھی انہیں مزید معاوضہ دینے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن میرٹھ فساد کے متاثرین کو سرکاری معاوضہ تک نہیں دیا گیا۔ اس فساد میں جن لوگوں کی موت ہوئی، ان کے رشتہ داروں کی ایک یا دو نہیں، بلکہ تیسری نسل اس وقت موجود ہے، جنہیں اب بھی انصاف کا انتظار ہے اور جو مالی تنگی کی وجہ سے مشکل بھری زندگی جینے پر مجبور ہیں۔
آخر اس معاملے کی سماعت میں عدالت کو 27 سال کا وقت کیوں لگا؟ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر یوسف قریشی کہتے ہیں کہ سرکاروں نے ہاشم پورہ کے متاثرین کو انصاف دلانے میں کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی، جس کی وجہ سے عدالت میں اس معاملے کی سماعت ٹھیک ڈھنگ سے نہیں ہو پائی۔ قابل ذکر ہے کہ 1987 میں جس وقت ہاشم پورہ میں پی اے سی کے جوانوں کے ذریعے مسلم نوجوانوں کا قتل عام کیا گیا تھا، اس قت اتر پردیش میں کانگریس پارٹی کی سرکار تھی، جس نے فوری طور پر نہیں، بلکہ ایک سال بعد، یعنی 1988 میں ہاشم پورہ قتل عام کی جانچ کے لیے سی بی سی آئی ڈی انکوائری کا حکم دیا۔ اس کے اگلے سال، یعنی 1989 میں ملائم سنگھ پہلی بار اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ بنے، کانگریس نے اگر اس قتل عام کی جانچ ٹھیک ڈھنگ سے کرانے کی کوشش نہیں کی تھی، تو ملائم سنگھ اس کام کو ٹھیک ڈھنگ سے کروا سکتے تھے، لیکن انہوں نے بھی اس معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ یوسف قریشی تو یہاں تک کہتے ہیں کہ 2001 میں ہاشم پورہ قتل عام کے متاثرین کی طرف سے جب مولانا محمد یامین انصاری (ان کی موت ہو چکی ہے اور اب ان کے بیٹے جنید انصاری کورٹ میں اس معاملے کی پیروی کر رہے ہیں) نے سپریم کورٹ میں ایک رِٹ پٹیشن داخل کرکے غازی آباد کورٹ سے اس معاملے کو دہلی کے تیس ہزاری کورٹ میں ٹرانسفر کرانے کی درخواست کی، تو یو پی سرکار کی طرف سے اسٹیٹ کونسل کی تشکیل کرکے اس کی منظوری نہ دینے کی وجہ سے کیس کو غازی آباد سے دہلی منتقل کرنے کا معاملہ بیچ میں ہی لٹکا رہا۔ قابل ذکر ہے کہ 2001 سے 2003 کے درمیان اتر پردیش میں بی ایس پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت تھی اور مایاوتی وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز تھیں۔ لیکن بعد میں بی جے پی کی طرف سے سپورٹ واپس لے لینے کی وجہ سے ستمبر 2003 میں ملائم سنگھ ایک بار پھر یو پی کے وزیر اعلیٰ بنے، اس کے باوجود انہوں نے ہاشم پورہ معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ سرکار کی اس لاپرواہی کو دیکھتے ہوئے، حاجی یعقوب قریشی نے وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو کو تقریباً درجن بھر خطوط اس سلسلے میں لکھے، جس کے بعد یو پی سرکار نے ہاشم پورہ معاملے کی سماعت غازی آباد سے دہلی منتقل کرنے کو اپنی منظوری دی اور اس طرح دہلی کے تیس ہزاری کورٹ میں ہاشم پورہ معاملے کی سماعت شروع ہوئی، جہاں پر اس وقت یہ معاملہ اپنے آخری مرحلے میں ہے۔
یہ بھی ایک المیہ ہے کہ سی بی سی آئی ڈی نے 1994 میں یوپی سرکار کو سونپی گئی اپنی رپورٹ میں پی اے سی اور پولس محکمہ کے 37 ملزمین کے خلاف مقدمہ چلانے کی سفارش کی تھی، لیکن اس رپورٹ کو پڑھنے کے ایک سال بعد اُس وقت کی ملائم سرکار نے 37 میں سے صرف 19 کے خلاف ہی مقدمہ چلانے کو منظوری دی۔ المیہ تو یہ بھی ہے کہ 1994 سے 2000 کے درمیان کورٹ نے ملزمین کو عدالت کے سامنے حاضر ہونے کے لیے 23 بار وارنٹ جاری کیے، لیکن اس دوران ایک بھی ملزم عدالت کے سامنے حاضر نہیں ہوا۔ اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یو پی سرکار اور پولس انتظامیہ نے ہاشم پورہ معاملے کی کتنی اندیکھی کی ہے۔
یعقوب قریشی یہ بھی بتاتے ہیں کہ یو پی سرکار کی طرف سے ہاشم پورہ معاملے میں شروع میں جو وکیل دیا گیا تھا، وہ امورِ دیوانی (Civil)سے متعلق تھا، فوجداری (Criminal) سے نہیں ، جس کی وجہ سے یہ کیس مزید خراب ہوااور متاثرین کی طرف سے سخت اعتراض کی وجہ سے اس وکیل کو اس کیس سے ہٹانا پڑا۔ بقول یعقوب قریشی، خوش قسمتی سے اسی زمانے میں مائناریٹی کمیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے حامد انصاری (موجودہ نائب صدر) نے متاثرین کو ایک وکیل فراہم کیا، جس کے بعد دہلی کے تیس ہزاری کورٹ میں ہاشم پورہ معاملے کی باقاعدہ سماعت شروع ہو سکی۔
کیا ہاشم پورہ کے ملزمین کو عدالت کی طرف سے سخت سزا مل پائے گی؟ ’ہاں‘ میں اس کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر یوسف قریشی نے بتایا کہ چونکہ اس معاملے میں داخل کی گئی چارج شیٹ کافی مضبوط ہے اور عدالت کے سامنے اس پورے معاملے کی کیس ڈائری اور گواہوں کے پختہ بیانات بھی موجود ہیں، اس لیے ملزمین کو سخت سزا ملنے کی پوری امید ہے۔ حالانکہ یہ بھی سچ ہے کہ ملزمین میں سے کئی کی موت ہو چکی ہے، لیکن جو بھی بچے ہیں، اگر انہیں ان کے کیے کی سزا ملتی ہے، تو ہاشم پورہ قتل معاملے کے متاثرین کو تھوڑی راحت تو ضرور ملے گی، بھلے ہی انہیں اس کے لیے 27 سال تک انتظار کرنا پڑا ہو۔ g
(ڈاکٹر یوسف قریشی سے بات چیت پر مبنی)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *