جہادیوں کا مقصد ہے اقتدار حاصل کرنا

p-8bنائجیریا کا جنگجو گروپ بو کو حرام خو د کو جہادی کہتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ وہ اسلام کے لئے جہاد کررہے ہیں۔اسلام کا جھنڈا بلند کرنے کے لئے لڑ رہے ہیں لیکن ان کے عمل کو دیکھنے کے بعد کہیں سے نہیں لگتا کہ وہ اسلام کی سربلندی کے لئے لڑ رہے ہیں۔ اس سے پہلے انہو ں نے لڑکیوں کو اسکول جانے سے روکا ،لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگائی جبکہ اسلام میں تعلیم پر خاص توجہ دلائی گئی ہے۔یہی نہیں، انہوں نے ایک اسکول سے بچیوں کو اغوا کرلیا اور یہ کہا کہ انہیں انگریزی تعلیم دی جارہی تھی اس لئے اغوا کیا جبکہ اسلام میں اغوا کی کوئی گنجائش نہیں ہے ،خاص طور پر جب مغویہ یعنی جس کا اغوا کیا جارہا ہے وہ بے قصور ہو۔

بوکوحرام کی طرف سے اس طرح کا حملہ کوئی نیا نہیں ہے۔ بلکہ دہشت پھیلانے کے لئے وہ مختلف علاقوں میں اس طرح کی سرگرمیاں جاری رکھتا ہے ۔ابھی گزشتہ مہینے کی بات ہے کہ سمی پورتی علاقے میں بوکو حرام کے دہشت گردوں نے 30سے زیادہ لڑکے لڑکیوں کا اغوا کرلیا تھا۔اسلام کے نام پر اپنے اسی غیر اسلامی سرگرمیوں کو عمل میں لاتے ہوئے گزشتہ دنوں اس جنگجو گروپ نے ایک دہشت گردانہ حملے میں 45لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔یہ تمام دہشت گرد جوکہ موٹر سائیکل پر سوار ہوکر آئے تھے،نے گائوں میں کام کررہے لوگوں پر گولیو ں کی بوچھار کردی۔یہ حملہ بورنو ریاست کے مافا علاقے کے اجایا کورا گائوں میں ہوا۔ گائوں کے مکھیا کے مطابق حملے کے بعد 45 لوگوں کی موت ہوگئی۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر لوگ جان بچانے کے لئے بھاگ کر جھاڑیوں میں نہ چھپے ہوتے تو مرنے والوں کی تعداد اور بھی زیادہ ہوسکتی تھی۔
دراصل بوکو حرام کا یہ گروپ موجودہ سرکار کا تختہ پلٹنا چاہتا ہے اور اسے ایک اسلامک ملک میں تبدیل کرنا چاہتاہے ۔کہا جاتا ہے کہ بوکو حرام کے حامی قرآن کے اس آیت سے متاثر ہیں کہ جو بھی اللہ کے ذریعہ کہی گئی باتوں پر عمل نہیں کرتا ہے ، وہ گنہگار ہے۔ بوکو حرام اسلام کے اس حکم کو مانتا ہے جومسلمانوں کو مغربی سماج سے تعلق رکھنے والی کسی بھی سیاسی یا سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے منع کرتا ہے۔
بو کو حرام اپنی سوچ میں کتنا سچ ہے، اس کا اندازہ اسلام کے بڑے مفکرین اور علماء کی باتوں سے لگایا جاسکتا ہے ۔ بو کو حرام کے اس غیر اسلامی سرگرمیوں کو جامعہ ازہر کی طرف سے تنقید کئے جانے کے علاوہ سعودی عرب نے بھی غیر انسانی کہا ہے۔ اب نہ جانے وہ قرآن کی کس آیت سے مغربی ملکوں سے رشتہ قائم نہ کرنے کی ترغیب پاکر ایسا کرتے ہیں۔ بلکہ سعودی علماء نے تو بو کوحرام کو اسی طرح سے غیر اسلامی کام کرنے والی تنظیم بتا یا ہے جس طرح سے عراق میں داعش کو۔ داعش بھی خود کو اسلامی جہادی کہتے ہیں اور جس سرزمین پر لڑ رہے ہیں وہ وہاں اسلامی مملکت قائم کرنے کی بات کہتے ہیں لیکن عملی طور پر وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں، اسے اسلامی نہیں کہا جاسکتا ہے ۔اسی وجہ سے ہندوستان کے علماء سمیت پوری دنیا میں اس کی مذمت کی جارہی ہے۔ لیکن داعش ہے کہ اپنی ضد پر اڑا ہوا دھڑلے سے دہشت پھیلا رہا ہے۔
ابھی حال ہی میں داعش نے برطانوی شہری کینٹلی کا ساتواں ویڈیو جاری کیا ہے۔ مذکورہ ویڈیو میں کینٹلی نے امریکہ کی ناکام کوششوں کے بارے میں خلاصہ کیا ہے۔ اس بار بھی وہ نارنگی کپڑوں میں پیغام دیتے ہوئے نظر آئے۔ 9منٹ کے اس ویڈیو میں برطانوی شہری کینٹلی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ جولائی میں مغویہ شخص کو آزاد کرانے میں ناکام رہا اس کی کارروائی سے پہلے ہی داعش کے دہشت گردوں نے سبھی مغویہ کو دیگر جگہ پر بھیج دیا تھا۔ امریکہ کے اس ایکشن میں ڈیلٹا فورس کمانڈو ، بلیک ہاک ہیلی کاپٹر سمیت کئی لڑاکو جیٹ طیارے شامل تھے لیکن مغویہ وہاں تھے ہی نہیں۔ کینٹلی کہتے ہیں مجھے بھی دیگر مغویہ افراد کی طرح مار دیا جائے گا ۔میں تب تک ہی بول پائوں گا جب تک دہشت گرد مجھے زندہ رکھیں گے ۔کینٹلی کو دو سال پہلے اغوا کیا گیا تھا۔
یہی صورت حال پاکستان میں پنپ رہے لشکر طیبہ کا ہے ۔ وہ بھی اسلام کے نام پر خاص طور پر ہندوستان میں دہشت پھیلا رہا ہے ۔اس طرح کی اور بھی بہت سی تنظیمیں ہیں جو اسلام کے نام پر دراصل اپنا مقصد حاصل کررہی ہیں۔ان تنظیموں کے غیر اسلامی ہونے کی وجہ سے ہی گزشتہ دنوں متحدہ عرب امارات نے لشکر طیبہ ، انڈین مجاہدین سمیت اس طرح کی 74 تنظیموں کو دہشت گرد تنظیم کے زمرے میں شامل کیا ہے۔ عرب امارات کی اس فہرست میں طالبان، القاعدہ، داعش اور اخوان شامل ہیں۔ اب اگر کوئی فرد ان تنظیموں سے کسی طرح کا تعلق رکھتا ہے تو اسے مجرم مانا جائے گا۔ خلاصہ یہ کہ اس طرح کی جو بھی تنظیمیں ہیں اور خود کو جہادی کہہ کر اسلام کے نام پر غیر اسلامی عمل کررہے ہیں ،اس سے ان کا مقصد اسلام کو اونچا دکھانا نہیں ،بلکہ اپنا مقصد حاصل کرنا ہے اور وہ اپنے اس عمل سے اسلام کو بدنام کررہے ہیں۔ g
چوتھی دنیابیورو

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *