ہندو و پاک تعلقات : سیاسی رشتے جیسے بھی ہوں ، تہذیبی، تجارتی وثقافتی رشتے مضبوط ہونے چاہئیں

ڈاکٹر وسیم راشد
ہمارا میڈیا بار بارکٹھمنڈو میں سارک کانفرنس کی ایک تصویر دکھا رہا تھا جس میں ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی ادائے بے نیازی سے کوئی میگزین یاسارک کانفرنس سے متعلق کوئی لٹریچر پڑھ رہے ہیں اور دوسری طرف ان کے پاکستانی ہم منصب نواز شریف ان کے عقب سے خاموشی سے گزرتے ہوئے اپنی نشست تک چلے جاتے ہیں۔اُدھر مودی آنکھ اٹھاکر ان کی جانب نہیں دیکھتے اور اِدھر نواز شریف ان کے وجود کو نظر انداز کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں۔بس اسی لمحہ کو قید کرکے میڈیا کو موقع مل جاتا ہے اور اسے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی سرد جنگ کا نام دے دیا جاتا ہے۔ لیکن جب سارک کانفرنس کے آخری دن دونوں سربراہان ملتے ہیں اور ایک دوسرے سے گرمجوشی سے ہاتھ ملاتے ہیں تو بھی کوئی خوشی اس لئے نہیں ہوتی کیونکہ اسی وقت جموں و کشمیر میں ارینا سسیکڑ پر پاکستانی دہشت گرد ایک خالی بنکر پر حملہ آور ہوتے ہیں اور ہمارے 3 جوان اور 3 شہری مارے جا چکے ہوتے ہیں۔
ہندوستان و پاکستان کے درمیان یہ نفرت کیسے دور ہوگی؟سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف گندے گھٹیا اور رکیک جملے لکھے جارہے ہیں ،اسکولوں و کالجوں میں نوجوان نسل کے ذہنوں کو پراگندہ کیا جارہا ہے ۔مسلم بچے شکایت کرتے ہیں کہ اسکول میں دیگر بچے انہیں’ طالبانی‘ کہتے ہیں۔ایک صاحب نے مجھے بتایا کہ انہوں نے اپنے بچے کے نام سے خان ہٹا دیا ہے ۔کیونکہ اسے اسکول کے بچے ’خان پٹھان جائو پاکستان ‘ کا نعرہ لگا کر بار بار چھیڑتے ہیں ۔ایک صاحب نے اپنے بچے کے نام سے’ محمد‘ ہٹا دیا تاکہ اس کی شناخت مسلمان سے نہ ہوسکے اور کلاس میں بچے اسے مجبور نہ کریں اور اس کا مذاق نہ اڑائیں۔ مسلمانوں میں یہ روایت عام ہے کہ شروع یا آخر میں محمد جوڑ دینے سے برکت ہوتی ہے۔لیکن اب جب مسلمانوں کے ساتھ نفرت آمیز برتائو کیا جارہا ہے اور پاکستان کا طعنہ دیا جارہا ہے تو سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ اس کو کیسے دور کیا جائے۔
اس اندھیرے میں سے ایک امید کی کرن بھی جھلکتی ہے اور وہ ہے ہمارے تہذیبی ، ثقافتی، علمی و ادبی تعلقات جو روز بروز مضبوط ہورہے ہیں۔اس کا ثبوت پرگتی میدان میں لگنے والا تجارتی میلہ ہے جس میں پاکستانی ملبوسات، پاکستانی مصالے، پاکستانی میک اپ اور پاکستانی جیولری اور نوادرات کی دھوم مچی ہوئی تھی۔ اس میلے میں کچھ خواتین تو صرف پاکستانی ملبوسات ہی خریدنے کے لئے گئی تھیں۔آج بھی ہندوستان میں لاکھوں گھرایسے ہیں جہاں پاکستانی لڑکیاں شادی کرکے آئی ہوئی ہیں اور پاکستان میں بھی ہندوستانی لڑکیاں شادی کرکے گئی ہیں۔ یہ رشتہ ،یہ تعلق اتنا کمزور نہیں ہے کہ سیاسی منافرت سے ٹوٹ جائے۔لگاتار سیاسی بازیگر اپنا کرتب دکھا رہے ہیں لیکن تہذیبی ، ثقافتی اور ادبی رشتے مزید مضبوط ہوتے جارہے ہیں۔ اس وقت دلی کی تمام مارکیٹوں میں پاکستانی اسٹائل کے کپڑوں کی دھوم مچی ہوئی ہے۔چاروں طرف کھلے پائنچہ کے پاجامے، پوری پوری آستینوں کے کرتے، سندھی کڑھائی کے کرتے ، غرارے اور شرارے خوب بک رہے ہیں۔ پرگتی میدان میں تو پاکستانی ملبوسات خریدنے والی زیادہ تر خواتین غیر مسلم تھیں۔حیرت کی بات تو یہی ہے کہ جو نفرت سوشل میڈیا ، الکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں نظر آتی ہے ،وہ عام لوگوں کے درمیان نہیں ہے۔ ’زندگی ‘ چینل جو ذی کے ذریعہ لانچ ہوا ہے، اس چینل نے تو جیسے ہر طرف دھوم مچادی ہے۔ اس وقت ہندوستان کا کوئی گھر ایسا نہیں ہے جہاں یہ دیکھا نہ جارہا ہو ۔ہمارے ملنے جلنے والوں میں کچھ سخت مذہب پرست ہندو ہیں اور جن کے گھر کے بزرگ آج بھی مسلمانوں کے گھر کا پانی نہیں پیتے ہیں ،وہ بھی اس چینل کے ذریعہ وہاں کی تہذیبی ، ثقافتی سرگرمیوں کو دیکھتے ہیں ، تعریف کرتے ہیںاور سراہتے ہیں ۔وہاں کے رہن سہن اور معیار زندگی دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں ۔ وہ سمجھتے تھے کہ پاکستانی نہ جانے کون سی دنیا کے لوگ ہیں لیکن جب یہ سیریل دیکھتے ہیں تو انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ بقول شاعر: بوئے گل ایک سی ہے بو ئے وفا ایک سی ہے۔وہاں کے رسم و رواج ،وہاں کے تہذیب اقدار اور خاص کر وہاں کی زمین سے جڑے مسائل ان کو اپنے جیسے لگتے ہیں۔ ظاہر ہے جو مسائل وہاں کیمزاج میں پنپ رہے ہیں،ہم ہندوستانی بھی ان ہی مسائل سے نبرد آزما ہیں۔پاکستانی ادیب و شاعر بھی ہندوستان برابر آرہے ہیں ۔یہاں سے بھی ہندوستانی ادیب، شاعر، طلبائ، اساتذہ باقاعدہ جاتے رہتے ہیں۔ ابھی ابھی سینئر صحافی کلدیپ نیر اپنے وفد کے ذریعہ پاکستانی دورے سے ہوکر آئے ہیں ۔پاکستان ادیبوں اور شاعروں کی کتابیں یہاں ہاتھوں ہاتھ بک جاتی ہیں۔
ایسے میں سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ آخر جب دونوں ملکوں کے عوام کے دل ایک دوسرے کے لئے دھڑکتے ہیں تو پھر سیاست داں اس نفرت کو ختم کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے۔افسوس اس بات کا بھی ہے کہ ہندوستانی ہندو ہوں یا دوسرے مذاہب کے لوگ ، وہ پاکستانی اشیاء کو تو پسند کرتے ہیں وہاں کے تہذیبی اقدار کو بھی سراہتے ہیں لیکن ذرا سا بھی کوئی دہشت گردانہ عمل سامنے آتا ہے تو وہ ہندوستانی مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں۔
یہ ہندوستانی مسلمانوں کا المیہ ہے کہ انہیں بار بار اپنے وطن پرست ہونے کا ثبوت دینا پڑتاہے اور اس کی وجہ صرف اور صرف سیاسی شعبدہ بازی ہے اور کچھ نہیں ۔ اس وقت سوشل میڈیا پر بھی روک لگانی ہوگی ورنہ جس تیزی سے فیس بک، ٹویٹر، وہاٹس ایپ اور وائبر پر پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلائی جا رہی ہے اس سے کبھی کوئی بڑا نقصان ہوسکتا ہے۔
جب ہماری تہذیب و ثقافت ایک جیسی ہے ،جب ہمارے رسم و رواج ہمارے پہناوے ایک جیسے ہیں تو پھر ہمارے لئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ہمارے تجارتی تعلقات پاکستان سے بہتر ہوں لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب سفارتی تعلقات بہتر ہوں گے اور سیاسی ہم آہنگی ہوگی ۔ جس طرح نریندر مودی نے سارک ممالک کے شہریوں کو 3سے 5 سال کا کاروباری ویزا جاری کرنے اور رشتوں کو مضبوط کرنے اور دیگر آسانیاں فراہم کرنے کی بات کی ہیں ،اسی طرح پڑوس ملک پاکستان سے الگ سے تجارتی روابط قائم کئے جائیں۔
ایک بات تو طے ہے کہ جب تک ہندوستان و پاکستان نہ چاہیں اس خطے میں امن و امان ممکن نہیں ہوسکے گا۔ اس لئے دونوں ممالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ چھوٹے چھوٹے معاملات کو طول نہ دیکر، سیاسی حالات نہ بگاڑ کر تجارتی رشتے بحال کئے جائیں اور کارو باری آسانیاں فراہم کی جائیں۔
مجھے آج بھی فروری 1999 کی وہ خوبصورت شام یاد آجاتی ہے جب اس وقت کے ہندوستانی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی ہندوستان سے ایک وفد لے کر پہلی بار بس سے لاہور گئے تھے ۔لاہور میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے ان کا پر جوش ،پرتپاک خیر مقدم کیا تھا۔ چاروں طرف سے پھولوں کی بارش ہورہی تھی اور ہندو پاک کی سرحد پر دونوں گلے مل رہے تھے۔امید کی جارہی تھی کہ شاید اس طرح دونوں ممالک میں روشنی کی نئی کرن نمودار ہوگی ۔نئے راستے کھلیں گے ،نئے تجارتی تعلقات بحال ہوں گے ،ایک دوسرے سے بچھڑے رشتہ دار ملیں گے،لیکن ہوا اس کے برعکس ،بس تو چلتی رہی لیکن تعلقات مزید خراب ہوتے گئے اور آج یہ حال ہے کہ دونوں ملکو ں کے عوام تو ملنا چاہتے ہیں لیکن سفارتی تعلقات اتنے خراب ہوچکے ہیں کہ ویزا ملنا ہی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔اگر ویزا مل بھی جائے تو سیکورٹی ایجنسیاں پیچھے لگ جاتی ہیں۔ آرٹ ، ادب ، تہذیب و ثقافت کے لئے ضروری ہے کہ ایک بار پھر علی سردار جعفری کی یہ نظم دل سے گنگنائی جائے :
تم آئو گلشن لاہور چمن بر دوش
ہم آئیں بنارس کی روشنی لے کر
ہمالیہ کی ہوائوں کی تازگی لے کر
اور اس کے بعد پوچھیں کہ دشمن کون ہے؟

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *