دہلی اسمبلی انتخاب میں کیا ہوگا مسلمانوں کا رخ

ڈاکٹر قمر تبریز
دہلی میں اسمبلی انتخاب کی تاریخوں کا ابھی اعلان نہیں ہوا ہے، لیکن سبھی پارٹیوں نے اپنی طرف سے انتخابی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ پوسٹر اور اشتہار بازی میں اس وقت جہاں عام آدمی پارٹی دوسری پارٹیوں سے آگے دکھائی دے رہی ہے، وہیں کانگریس اور بی جے پی بھی الیکشن جیتنے کے لیے اپنی اپنی حکمت عملیاں بنانے میں مصروف ہیں۔ ان تیاریوں کے بیچ، تمام سیاسی پارٹیوں کی نظر دہلی میں رہنے والے مسلمانوں کے ووٹوں پر بھی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی جہاں ایک طرف مسلمانوں کے گھر گھر جاکر انہیں پارٹی میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، وہیں عام آدمی پارٹی کو لگتا ہے کہ پچھلی بار کی طرح اس بار بھی مسلمانوں کا زیادہ تر ووٹ اسے ہی ملنے جا رہا ہے۔ لیکن ان سب کے بیچ، دہلی کے 11 فیصد مسلم ووٹر کیا سوچتے ہیں، آئیے دیکھتے ہیں سروے پر مبنی اس رپورٹ میں……

1931672دہلی میں اسمبلی انتخاب کا راستہ صاف ہو چکا ہے۔ آنے والے کچھ دنوں میں تاریخوں کا بھی اعلان ہو سکتا ہے۔ اسی کو دیکھتے ہوئے تمام سیاسی پارٹیوں نے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ یہاں پر اگلی سرکار کس کی ہوگی، اس کے بارے میں کچھ بھی کہنا ابھی مشکل ہے۔ پچھلی بار دسمبر 2013 میں جب دہلی اسمبلی کے انتخابات ہوئے تھے، تب یہاں پر اروِند کجریوال کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا، لیکن اِس بار مودی کی جے جے کار ہو رہی ہے۔ کانگریس نہ تو تب کہیں لڑائی میں تھی اور نہ اب ہے، اس لیے کل ملا کر عام لوگوں میں بات صرف دو ہی پارٹیوں کو لے کر ہو رہی ہے، عام آدمی پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی۔ کچھ لوگ یہ مان رہے ہیں کہ پچھلی بار تو عام آدمی پارٹی سرکار بنانے میں کامیاب ہو گئی تھی، لیکن اس بار دہلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی پوری اکثریت کے ساتھ سرکار بنائے گی۔ حالانکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پچھلی بار جب پوری دہلی پر اروِند کجریوال کا بخار چڑھا ہوا تھا، تب بھی الیکشن میں عام آدمی پارٹی کو پوری اکثریت نہیں مل پائی تھی اور سرکار بنانے کے لیے اسے کانگریس کی مدد لینی پڑی تھی۔ اس لیے پورے یقین کے ساتھ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا ہے کہ اِس وقت جب پورے ملک میں وزیر اعظم نریندر مودی کا ڈنکا بج رہا ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی دہلی میں اگلی سرکار بنانے میں کامیاب ہو ہی جائے گی۔ پچھلے الیکشن کی اگر بات کریں، تو 70 سیٹوں والی اسمبلی کے لیے 4 دسمبر، 2013 کو ہونے والی ووٹنگ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو 31 سیٹیں، عام آدمی پارٹی کو 28 سیٹیں اور کانگریس کو صرف 8 سیٹیں ملی تھیں۔ اس طرح کوئی بھی پارٹی اکثریت لانے میں ناکام رہی تھی، البتہ کانگریس سے حمایت ملنے کے بعد عام آدمی پارٹی سرکار بنانے میں کامیاب تو ہو گئی تھی، لیکن 49 دنوں بعد اروِند کجریوال ملک کو جیتنے کے چکر میں دہلی چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔
دہلی کے تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ ووٹروں میں سے 11 فیصد ووٹر مسلم ہیں، لہٰذا ہر بار کے الیکشن کی طرح اس بار بھی تمام سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ بی جے پی نے مسلمانوں کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے گزشتہ 11 نومبر سے دہلی میں ایک بڑی مہم شروع کی ہے۔ پارٹی کا فوکس خاص طور پر اوکھلا، چاندنی چوک، سیلم پور، جعفر آباد اور نانگلوئی جیسے علاقوں پر ہے، جہاں مسلمان بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ پارٹی مسلمانوں کے گھر گھر جاکر ان سے پارٹی میں شامل ہونے کی اپیل کر رہی ہے اور ساتھ ہی انہیں یہ بھی سمجھا رہی ہے کہ مودی صرف ہندوؤں کے ہی نہیں، بلکہ سبھی ہندوستانیوں کے لیڈر ہیں۔ دہلی کے بی جے پی اقلیتی سیل کے صدر، عاطف رشید کی مانیں، تواس مہم کے نتیجے میں اب تک 20 ہزار مسلم ووٹر بی جے پی میں شامل بھی ہو چکے ہیں۔
لیکن، ان دعووں کے برعکس عام مسلمانوں کی سوچ بی جے پی کے تئیں ابھی پوری طرح سے بدلی نہیں ہے۔ اوکھلا اسمبلی حلقہ کے ایک مسلم ووٹر، شوکت علی کا کہنا ہے کہ ’’بی جے پی تو کسی بھی طرح سرکار بنانے کے قابل نہیں ہے، کیوں کہ اس پارٹی کی جہاں حکومت ہے، وہاں آر ایس ایس کا دماغ چڑھا ہوا ہے۔ رہی بات کانگریس کی، تو یہ قدرے ٹھیک ہے، مگر اس وقت اس کے پاس لیڈر نہیں ہے، جو عوام میں نچلے طبقہ کی بات سن سکے۔ ایسی صورت میں ایک پارٹی عام آدمی پارٹی رہ جاتی ہے، جو غریب سے غریب آدمی سے مل کر ان کا دکھ درد سنتی ہے۔ لیکن یہ بتادوں کہ وہ صرف دکھ درد کو سنتے ہیں، مگر اس کا کوئی حل نہیں نکالتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ اسے سوائے 49 دنوں کے کچھ کرنے کا موقع نہیں ملا۔ اس لیے اب اسے ایک بار پھر موقع دے کر دیکھنا چاہیے۔‘‘
یہ بات سچ ہے کہ جس وقت ملک میں لوک سبھا انتخابات ہو رہے تھے، اس وقت بعض مسلمانوں اور خاص کر مسلم نوجوانوں کی طرف سے بی جے پی کی حمایت میں ووٹ ڈالے گئے تھے۔ مسلمانوں کے اس طبقہ کو نریندر مودی سے کافی امیدیں تھیں اور وزیر اعظم بننے کے بعد مودی نے بھی اپنی تمام تقریروں میں ملک کے 125 کروڑ لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے اور سب کی ترقی کی بات کہی۔ لیکن، دوسری طرف ’لو جہاد‘ یا اس طرح کی دیگر مسلم مخالف سرگرمیوں پر وزیر اعظم نریندر مودی نے خاموشی اختیار کی، جس کی وجہ سے مسلمانوں کا بی جے پی حامی طبقہ بھی اس پارٹی کو لے کر اب شک و شبہ میں مبتلا ہونے لگا ہے۔ دہلی کے بھی بعض مسلمان بی جے پی کو اسی نظریہ سے دیکھتے ہیں۔
ایسا ہی کچھ خیال محمد شمشیر عالم کا بھی ہے، جو اوکھلا کے شاہین باغ علاقہ میں کھانے کا ایک ہوٹل چلاتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’دیکھئے، ہم ایک مزدور آدمی ہیں۔ ہمارا یہ ہوٹل ہے، جہاں ہر طرح کے لوگ آتے ہیں اور کبھی کبھی جب ان کے پاس وقت رہتا ہے، تو سیاست کی بھی باتیں کرتے ہیں۔ اس سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو، خاص طور پر غریب طبقہ کو کس طرح کی پریشانی ہے۔ ظاہر ہے، ہم بھی انھیں لوگوں میں سے ہیں۔ جو پریشانیاں ہمیں ہیں، وہی ان لوگوں کو بھی ہوں گی۔ اس وقت دلّی کی حالت یہ ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اس کے پاس کوئی بھی سیاسی پارٹی نہیں ہے، جو اسے صحیح طریقے سے چلا سکے۔ کانگریس نے کچھ کام کیا ہے، لیکن اس وقت اس کے پاس لیڈر نہیں ہے، جو لوگوں کو اپنے کام کے بارے میں بتائے۔ جہاں تک بی جے پی کی بات ہے، تو یہ ایک فرقہ پرست پارٹی ہے، لہٰذا اس کو جتایا نہیں جا سکتا ہے۔ لے دے کے ایک ہی پارٹی رہ جاتی ہے اور وہ ہے عام آدمی پارٹی۔ حالانکہ اس پارٹی نے پہلے سرکار بنائی تھی، مگر کانگریس نے اس کو چلنے نہیں دیا، اس بار اس کو پوری اکثریت سے جتا کر ایک موقع اور دینا چاہیے۔‘‘
اس طرح دیکھا جائے، تو اوکھلا اسمبلی حلقہ کے مسلم ووٹروں کا رجحان عام آدمی پارٹی کی طرف زیادہ دکھائی دیتا ہے، حالانکہ یہ بھی سچ ہے کہ پچھلی بار یہاں سے عام آدمی پارٹی کے امیدوار عرفان اللہ خاں کو صرف 17 فیصد ووٹ ملے تھے اور ان کی ہار ہوئی تھی، جب کہ جیتنے والے کانگریس کے امیدوار آصف محمد خاں کو 36 فیصد سے زیادہ ووٹ ملے تھے۔ عرفان اللہ خاں دوسری پوزیشن حاصل کرنے میں بھلے ہی کامیاب رہے، لیکن ان کی ہار 27 ہزار ووٹوں کے بھاری فرق سے ہوئی تھی۔ لہٰذا، اِس بار عام آدمی پارٹی یہاں سے الیکشن جیت ہی جائے گی، ایسا کہنا بہت ہی مشکل ہے۔
اوکھلا کے مسلم ووٹروں کے برعکس دہلی کے بابر پور اور چاندنی چوک اسمبلی حلقے کے مسلمانوں کا جھکاؤ کانگریس کی طرف زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ حالانکہ ان حلقوں میں مسلمانوں کا ایک طبقہ عام آدمی پارٹی کے بھی حق میں جاتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، لیکن کانگریس کے حامیوں کے مقابلے ان کی تعداد کم ہے۔ بابر پور کی بات کریں، تو یہاں پر مسلمانوں کی آبادی تقریباً 48 فیصد ہے۔ پچھلے الیکشن میں یہاں پر مسلمانوں کا ووٹ کانگریس، بی ایس پی، پیس پارٹی اور عام آدمی پارٹی میں تقسیم ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے بی جے پی کے امیدوار نریش گوڑ کو جیت حاصل ہوئی تھی۔ دوسرے نمبر پر رہنے والے کانگریس امیدوار ذاکر خان کو 25.81 فیصد، تیسرے نمبر پر رہنے والے عام آدمی پارٹی کے گوپال رائے کو 22.37 فیصد، چوتھے نمبر پر رہنے والے پیس پارٹی کے فرقان قریشی کو 8.71 فیصد اور پانچویں نمبر پر رہنے والے بی ایس پی کے بھورے خان کو کل 4.37 فیصد ووٹ ملے تھے۔ بابر پور اسمبلی حلقہ کے ایک مسلم ووٹر شاہین ببلو کا کہنا ہے کہ ’’کانگریس کے وِنے کمار اِس بار بابر پور اسمبلی حلقہ سے ٹکٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر کانگریس انہیں یہاں سے کھڑا کرتی ہے، تو وہ بری طرح ہاریں گے۔ لیکن اگر کانگریس کی طرف سے ذاکر خان کو دوبارہ ٹکٹ ملتا ہے، تو وہ الیکشن جیت جائیں گے۔ فرقان قریشی بھی اب بی ایس پی چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہو چکے ہیں۔ وہ عوام کے کسی کام کے نہیں ہیں، لیکن پیسے والے ہیں۔ اگر کانگریس فرقان قریشی کو بھی یہاں سے الیکشن لڑاتی ہے، تو وہ بھی جیت سکتے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کا یہاں سے الیکشن جیتنا اب بھی ممکن نہیں ہے۔‘‘
پرانی دہلی کے مٹیا محل اسمبلی حلقہ کی بات کریں، تو یہاں پر مسلمانوں کی آبادی 67 فیصد ہے۔ 1993 میں جب مٹیا محل کو پہلی بار اسمبلی حلقہ بنایا گیا، تب سے لے کر اب تک شعیب اقبال یہاں سے الیکشن جیتتے رہے ہیں۔ پانچ بار کی اس جیت میں انہوں نے پہلی اور دوسری بار جنتا دل کے ٹکٹ سے، تیسری بار جنتا دل (سیکولر)، چوتھی بار لوک جن شکتی پارٹی اور پچھلی بار جنتا دل (یو) کے ٹکٹ سے الیکشن لڑا، لیکن اب وہ کانگریس پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں۔ شعیب اقبال کو مٹیا محل میں زیادہ تر ان مسلمانوں کا ووٹ حاصل ہوتا رہا ہے، جو شروع سے ہی کانگریس کے خلاف رہے ہیں۔ اب یہاں کے مسلمان کانگریس میں ان کے شامل ہونے کی وجہ سے ناراض ہیں۔ یہاں کے مسلمانوں کی عام رائے اس وقت یہی ہے کہ اگر عام آدمی پارٹی یہاں سے کسی اچھے امیدوار کو کھڑا کرتی ہے، تو اس کے جیتنے کی کافی امید ہے۔
سنٹرل دہلی کے پٹیل نگر اسمبلی حلقہ میں بھی مسلمان بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ یہاں کے زیادہ تر مسلمان پہلے کانگریس کو ووٹ دیا کرتے تھے، لیکن پچھلی بار ان میں سے اکثر نے عام آدمی پارٹی کو ووٹ دیا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ پچھلی بار یہاں سے عام آدمی پارٹی کی امیدوار وینا آنند تقریباً 38 فیصد ووٹ حاصل کرکے جیتنے میں کامیاب ہوئی تھیں، جب کہ کانگریس تیسرے نمبر پر پہنچ گئی۔ لیکن اِس بار یہاں کے مسلمان اپنی ہی ایم ایل اے سے ناراض نظر آرہے ہیں۔ ان کی شکایت ہے کہ وینا آنند نے اپنے علاقے اور خاص کر یہاں کے مسلمانوں کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔ یہاں کے رہنے والے ایک مسلم ووٹر علیم اختر نے ’چوتھی دنیا‘ کو بتایا کہ ’’پچھلے اسمبلی انتخابات میں ہم نے عام آدمی پارٹی کو ووٹ دیا تھا اور اس امید پر ووٹ دیا تھا کہ یہ نئی پارٹی دیگر سیاسی پارٹیوں سے کچھ مختلف ہوگی۔ وعدے بھی اس پارٹی نے بڑے لمبے چوڑے کیے تھے، لیکن عملی طور پر یہ پارٹی بھی دیگر پارٹیوں جیسی ہی نکلی۔ ہمارے یہاں گزشتہ پندرہ سالوں سے جل بورڈ کا میٹھا پانی نہیں آتا۔ ہمارے یہاں کی سڑکیں اپنے عوامی نمائندے کی شکایت خود بیان کرتی آپ کو نظر آئیں گی۔ روزانہ صبح سویرے بجلی غائب ہوجاتی ہے، یہ مہارانی کب واپسی کریں گی، اس کے بارے میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ تین تین چار چار گھنٹے عام طور سے بجلی گل رہتی ہے۔ 2013 کے الیکشن سے پہلے ہم نے ہمیشہ کانگریس کو ووٹ دیا، لیکن کانگریس سرکار نے ہمیں کیادیا؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ یہاں ہر سماج کے لیے چوپالیں بنائی گئیں، لیکن مولانا ابوالکلام آزاد کالونی، نیو رنجیت نگر کو چوپال تو کجا، ایک بارات گھر یا ایک کمیونٹی سینٹر تک نہیں دیا گیا۔ یہاں کے پارک کچرا گھر بنے ہوئے ہیں۔ بجلی، پانی سے ہم محروم ہوکر رہ گئے ہیں۔ ایسے میں ہم کس سے توقع رکھیں، کون سی پارٹی کو ووٹ دیں؟ اس بارے میں ہم خود تذبذب میں ہیں، اس لیے مستقبل کا فیصلہ مستقبل میں ہی کریں گے۔‘‘
دہلی کے سیماپوری اسمبلی حلقہ میں بھی مسلمانوں کی بڑی آبادی رہتی ہے۔ پچھلی بار یہاں سے عام آدمی پارٹی کے دھرمیندر کمار تقریباً 38 فیصد ووٹوں کے ساتھ جیت حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے، جب کہ دوسرے نمبر پر رہنے والے بی جے پی کے رام پال سنگھ کو تقریباً 21 فیصد ووٹ ملے تھے۔ یہاں کے مسلم ووٹروں کے موجودہ رجحان کی بات کریں، تو علاقہ کے زیادہ تر مسلم اب بھی عام آدمی پارٹی کو ہی پہلی پسند بتاتے ہیں۔ سیما پوری میں ٹرانسپورٹ کا کام کرنے والے محمد اسرائیل نے بتایا کہ وہ عام آدمی پارٹی کے لیے ووٹ کرنے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’عام آدمی پارٹی کی 49 دنوں کی سرکار میں غریب آدمی خوشحال ہو گیا تھا۔ آر ٹی او میں دھاندلی ختم ہو گئی تھی۔ اسپتالوں میں صفائی رہنے لگی اور دوائیں مفت ملنے لگیں، پانی – بجلی سستی ہو گئی۔ کانگریس نے تو بس کہا اور مسلمانوں کی بہتری کے لیے 15 سالوں میں کچھ نہیں کیا۔ ہمارے بچوں کو اچھی تعلیم چاہیے، جو آپ کی سرکار میں ممکن ہے۔‘‘ اسی طرح کرانے کی دکان چلانے والے 27 سالہ ارشاد کا کہنا ہے کہ لوک سبھا الیکشن میں انہوں نے کانگریس کو ووٹ دیا تھا، لیکن اس بار کے اسمبلی الیکشن میں وہ عام آدمی پارٹی کو ووٹ دینے والے ہیں اور کجریوال کو اگلے پانچ سالوں تک وزیر اعلیٰ کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں، کیو ںکہ انہوں نے عوام سے جو وعدے کیے تھے، ان وعدوں کو سرکار میں آنے کے بعد پورا کیا تھا۔
دہلی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں سے ایک سیلم پور اسمبلی حلقہ بھی ہے۔ یہاں کے کل ایک لاکھ 60 ہزار ووٹوں میں سے تقریباً 60 فیصد ووٹ مسلمانوں کا ہے، جو یہاں سے کسی بھی امیدوار کی ہار جیت میں بڑا رول ادا کرتا ہے۔ کانگریس کے چودھری متین احمد پانچ بار سے یہاں سے الیکشن جیتتے چلے آ رہے ہیں۔ اس بار بھی سیلم پور کے مسلمانوں کا رجحان چودھری متین احمد کی طرف ہی دکھائی دیتا ہے۔ عام آدمی پارٹی کا چونکہ یہاں کوئی اثر نہیں ہے، اس لیے یہاں پر مسلم ووٹوں کی تقسیم کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔ دوسری طرف، اگر مسلمانوں کے کچھ ووٹ بی جے پی کی طرف چلے بھی جاتے ہیں، تب بھی کوئی خاص تبدیلی ہوتی نظر نہیں آتی۔ سیلم پور سے تعلق رکھنے والے حکیم فہیم بیگ، جنہوں نے دہلی کے وگیان بھون میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے ذریعے نواڈکو کے افتتاح کے موقع پر ترقیاتی ایشو اٹھا کر پورے ملک کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی تھی، کا کہنا ہے کہ ’’یہ (سیلم پور) اسمبلی حلقہ نارتھ ایسٹ دہلی میں پڑتا ہے، جسے سچر رپورٹ کے آنے کے بعد ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ کے لیے چنے گئے مسلمانوں کی گھنی آبادی والے 90 اضلاع میں شامل کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود یہ علاقہ ترقی سے پوری طرح محروم تھا۔ لیکن وِگیان بھون میں اصحابِ اقتدار کے سامنے آواز اٹھانے کے بعد اس علاقے میں کچھ مثبت کام ضرور ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر مسلم بچیوں کے لیے آئی ٹی آئی، علاقے میں بند پڑے سیور کا کھولا جانا اور سچر رپورٹ کی روشنی میں سرکاری فنڈ سے زینت محل بوائز و گرلز اسکول کے کیمپس میں 8 نئے کمروں کی تعمیر۔ ‘‘ فہیم بیگ مزید کہتے ہیں کہ ’’یہاں (سیلم پور) کا مسلمان چودھری متین احمد سے مطمئن تو نہیں ہے، مگر اس کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے۔ مسلمان کانگریس سے بدظن ہے اور اگر وہ چودھری متین احمد کو ووٹ دے گا، تو صرف ان کے جانے پہچانے مسلم چہرہ ہونے کے سبب ووٹ دے گا۔‘‘
مجموعی طور پر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ دہلی کے مسلمانوں کا ووٹ اِس بار بھی عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے درمیان تقسیم ہونے کا پورا امکان ہے۔ اب مسلمانوں کی پسند اِن دونوں ہی پارٹیوں میں سے زیادہ ووٹ کس کی طرف جاتا ہے، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
باکس
کانگریس سے کافی ناراض ہیں مسلمان
’’گزشتہ چالیس سال سے ہم کانگریس کو ووٹ دیتے آ رہے ہیں، لیکن 2013 کے اسمبلی الیکشن میں ہم نے کانگریس کی بجائے عام آدمی پارٹی کو ووٹ دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کانگریس کے اعلیٰ عہدیدار اپنے چھوٹے عہدیداروں اور کارکنوں کو اہمیت نہیں دیتے۔ میں دہلی میں کانگریس کے مائنارٹی سیل کا وائس پریسیڈنٹ رہا ہوں۔ میںنے نہ صرف پٹیل نگر ودھان سبھا سیٹ پر کانگریس کی خدمت کی، بلکہ دہلی کے دیگر علاقوں اور دہلی کے باہر جاکر بھی کانگریس کے الیکشن لڑائے ہیں، لیکن اس کے جواب میں کانگریس نے ہماری قوم کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ میں گزشتہ دس سالوں سے اپنے علاقے کے لیے قبرستان کی لڑائی لڑ رہا ہوں۔ دہلی سرکار اور اپنے حلقے کے رکن پارلیمنٹ کے دفتر اورگھر تک کے چکر کاٹتے کاٹتے تھک چکا ہوں۔ حالانکہ مرکز اور ریاست میں دونوں جگہ کانگریس کی سرکار تھی، لیکن افسوس کہ کامیابی ہاتھ نہیںلگی۔ اس کے لیے میں نے راہل گاندھی جی سے بھی ملنے کے لیے وقت مانگا، مگر ان کے اردگرد بیٹھی منڈلی نے ان سے ملنے کا وقت نہیںدیا۔ ہاں! کانگریس کی شیلا سرکار نے گزشتہ 15 برسوں میں دہلی میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کا اعلان ضرور کیا، لیکن عملی طور پر دیکھیں، تو نہ اسکولوں میں اردو پڑھائی جارہی ہے، نہ وہاں اردو اساتذہ ہیں، نہ ہی سرکاری اداروں میں اردو میں لکھی درخواستیں قبول کی جا رہی ہیں اور نہ ہی اردو کو روزی روٹی سے جوڑا گیا ہے۔
2013کے اسمبلی الیکشن میں پٹیل نگر سیٹ پر کانگریس نے اپنے پرانے اور نکمے ایم ایل اے کو ہی ٹکٹ دیا، تو ہم نے کھل کر احتجاج کیا، لیکن ہماری لاکھ مخالفت کے باوجود اسی کو امیدوار بنایا گیا، تو ہم نے اپنا ووٹ ایک بالکل نئی نویلی پارٹی کو دے دیااور خوش قسمتی سے وہ پٹیل نگر ودھان سبھا سیٹ سے کامیاب بھی ہوگئی، لیکن افسوس کہ عام آدمی پارٹی کی ایم ایل اے بھی ہماری توقعات پر کھری نہیں اتری۔ ایسے حالات میں ہمیں ایک بار پھر ووٹ کے لیے ازسرنو غور کرنا ہے اور کون سی پارٹی کون سا کنڈیڈیٹ لارہی ہے، یہ سب دیکھ کر ہی ہم کوئی حتمی فیصلہ کریں گے۔ ‘‘
– مختار احمد

’’ہم پکے کانگریسی ہیںاور ہمارے والد صاحب بھی کانگریسی رہے ہیں۔ ہم کانگریس کے سپاہی اور عہدیدار بھی رہے ہیں، لیکن افسوس کہ کانگریس نے ہمارے جذبات اور خدمات کی قدر نہیں کی۔ کانگریس کے اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے لیڈران نہ صرف چھوٹے عہدیداروں اور کارکنوں کو نظر انداز کر رہے ہیں، بلکہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی تک کو بھی مس گائڈ کر رہے ہیں۔ پچھلے دس سال سے ہمارے علاقے میں اور خاص طور سے مسلمانوں کے تعلق سے کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا۔ ہم نے مقامی ایم ایل اے کی توجہ اس طرف دلانے کی بارہا کوشش کی، لیکن اس کے سر پر جوں تک نہیں رینگی۔ کانگریس کی بے اعتنائی سے دلبرداشتہ ہوکر ہم نے کانگریس سے بغاوت کردی اور اروند کجریوال کی عام آدمی پارٹی جوائن کرلی۔ مگر عام آدمی پارٹی بھی اسی ڈگر پر چل رہی ہے، جس پر دیگر سیاسی پارٹیاں چل رہی ہیں۔ ایسے میں آنے والے الیکشن کے تعلق سے کچھ کہنا جلدبازی ہوگی۔‘‘
– مظہر حسین نیازی

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *