کالا دھن : وقت سے زیادہ پالیسی اور نیت اہم ہے

ارون تیواری
p-5bہندوستانی سیاست کا نیا محاورہ ہے کالا دھن۔ یہ دھن بھلے ہی کالا لیکن اس سے جڑا خواب سترنگی ہے سب کے لئے۔ عوام اس امید میں ہے کہ کالے دھن کے آنے کے ساتھ ہی چاروں جانب خوشحالی آئے گی۔ حکمراں جماعت کے پاس کالے دھن کی شکل میں لالی پاپ ہے، جسے دکھا کر ووٹ مل سکتا ہے اور اپوزیشن اس بات سے پرجوش ہے کہ ایشوز کے فقدان کے اس دور میں اس کے پاس یہی ایک ہتھیار ہے ، جس کے سہارے وہ بی جے پی کے مضبوط قلعہ پر حملہ بول سکتی ہے۔بہر حال، کالے دھن کی اس سترنگی کہانی میں کئی رنگ ہیں۔ ایک رنگ انتخاب سے پہلے دکھا ، دوسرا رنگ انتخاب کے دوران اورتیسرا رنگ اب پارلیمنٹ کے اندر نظر آ رہا ہے۔ اس میں سب سے دلچسپ رنگ پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث سے نکل کر سامنے آ رہا ہے۔ مثلاً، کالے دھن پر ہوئی بحث پر جب وزیر خزانہ ارون جیٹلی اپنی بات رکھ رہے تھے تو شرد یادو کا کہنا تھا کہ آپ کے جواب سے تو یہی لگتا ہے کہ 100سال میں بھی کالا دھن واپس نہیں آ پائے گا ، وہیں ترنمول کانگریس کے لیڈر مخالفت کے لئے ایوان میں کالا چھاتا اور کالی شال اوڑھ کر پہنچ گئے۔ کانگریس، ترنمول کانگریس اور سماجوادی پارٹی نے کالا دھن رکھنے والوں کے نام اجاگر نہ کئے جانے کو لے کر واک آئوٹ بھی کیا، لیکن وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ جب تک الزامات کے خلاف چارج شیٹ دائر نہیں ہوگی تب تک نام سامنے نہیں لائے جائیں گے۔ جیٹلے کے مطابق تقریباً ڈھائی سو اکائونٹ ہولڈرس کے بیرون ممالک میں اکائونٹ ہیں اور آئندہ کچھ ہفتوں میں کیس درج کیا جائے گا اور کیس شروع ہوگا تو نام بھی سامنے آ جائے گا۔
دراصل، لوک سبھا انتخابات کے دوران نریندر مودی نے کہا تھا کہ ایک بار یہ جو چور لٹیروں کے پیسے غیر ملکی بینکوں میں جمع ہیں نہ، اتنے بھی ہم لے آئے نہ، ہندوستان کے ایک ایک غریب آدمی کو مفت میں 15-20لاکھ روپے یوں ہی مل جائیں گے۔ اتنے روپے ہیں۔ مودی نے یہ بھی کہا تھا کہ حکومت آپ چلاتے ہو اور پوچھتے مودی کو ہو کہ کیسے لائیں؟ جس دن بھارتیہ جنتا پارٹی کو موقع ملے گاایک ایک پائی ہندوستان کی واپس لائی جائے گی اور ہندوستان کے غریبوں کے لئے کام میں لائی جائے گی۔ لوک سبھا میں ہوئی بحث پر کانگریس کے لیڈر ملکا ارجن کھڑگے نے تو سیدھے سیدھے سرکار سے پوچھا کہ میرے 15لاکھ روپے کہاں ہیں جو آپ نے میرے کھاتے میں ڈالنے کا وعدہ کیا تھا؟ وہ رقم میرے کھاتے میں نہیں آئی اور 150دن گزر چکے ۔ آپ نے اپنا وعدہ نہیں نبھایا۔ میں آپ کو وہ وعدہ یاد دلانا چاہتا ہوں۔ آپ نے یہ بھی کہا تھا کہ ملک کے نوکری پیشہ سماج کی حب الوطنی کا ہمیں احترام کرنا چاہئے۔ ہم انہیں پیسے دیں گے، لیکن آپ نے اسی سال 17ستمبر کو سپریم کورٹ کو دئے گئے حلف نامے میں یو ٹرن لے لیا۔ اس مدعے پر کانگریس نے لوک سبھا میں کام روکو تجویز بھی پیش کی تھی، جسے لوک سبھا اسپیکر نے خارج کر دیا تھا، لیکن بعد میں کالے دھن پر بحث کا وقت طے کیا گیا۔
وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ کالا دھن لانے میں تھوڑی دیر ہو سکتی ہے، لیکن اس معاملہ پر حکومت نے گزشتہ 6مہینوں میں جو پیش رفت کی ہے، وہ اب تک کبھی نہیں ہو سکی۔ جیٹلی کے مطابق اپوزیشن جماعتیں بار بار یاد دلا کر اکسانے کی کوشش کرتی ہیں کہ ہم نے سو دن میں کالا دھن واپس لانے کا وعدہ کیا ہے لیکن حکومت عجلت میں کوئی قدم نہیں اٹھاے گی، اس کام میں وقت لگے گا۔ انتخابات کے دوران کئے گئے وعدوں کے مطابق جیٹلی کا کہنا تھا کہ کئی بار ایمانداری کے ساتھ کچھ ایشوز اٹھائے جاتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کی عملی شکل کو دیکھنے کے بعد کچھ اور ہی حقیقت سامنے آتی ہے، اپوزیشن وزیر خزانہ کے جواب سے مطمئن نظر نہیں آئی۔ ایک ایک کر کے بیشتر اپوزیشن جماعتیں اس دوران ایوان سے باہر نکل گئیں۔ دراصل، دقت یہ ہے کہ کالے دھن کی رقم کتنی ہے، اس کے بارے میں حکومت کو بھی ٹھیک ٹھیک کچھ پتہ نہیں ہے، پھر کالے دھن کی اصطلاح کو لے کر بھی کچھ صاف نہیں ہے۔ حکومت سے زیادہ سپریم کورٹ کالے دھن کو لے کر سرگرم ہے اور ایس آئی ٹی کے کام پر نظر رکھ رہا ہے۔ ایس آئی ٹی ان غیر ملکی بینکوں کے اکائونٹ ہولڈرس کی فہرست کی تفتیش کر رہی ہے جو کہ ہندوستان کو کانگریس کے دور اقتدار میں ہی مل گئی تھی۔ سپریم کورٹ کے دبائو میں تین نام اور برسر عام کئے گئے کیونکہ ان کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی تھی۔

 

حکومت کو ملک میں موجود کالے دھن کا پتہ لگانا چاہئے۔ اس کے لئے قوت ارادی چاہئے۔ ہم اس ایشو پر آج بحث کر رہے ہیں، کیونکہ چنائو پرچار کے دوران وعدوں کی جھڑی لگائی گئی۔ڈبل ٹیکسیشن سے جڑے معاہدے پر پھر سے غور کرنا چاہئے۔
سیتا رام یچور ی (سی پی ایم)، راجیہ سبھا
بی جے پی کے وعدے کھوکھلے ہیں۔ آزادی کے بعد تمام پارٹیوں کا اقتدار رہا ہے۔ وہ تمام پارٹیاں بیرون ممالک میں کالا دھن جمع ہونے کی ذمہ دار ہیں۔ یو پی اے حکومت نے کالے دھن پر کوئی پختہ قدم نہیں اٹھایا۔ کانگریس کی طرح بی جے پی بھی کالے دھن کو لے کر سنجیدہ نہیں ہے۔ صرف ایس آئی ٹی کی تشکیل کر دینا کافی نہیں ہے۔
مایاوتی (بی ایس پی)، راجیہ سبھا
بے روزگاری ختم کرو۔ یہ (کالا دھن)صرف چھلاوا ہے ۔ یہ نہ تو آپ (کانگریس) سے آیا اور نہ ہی آپ (این ڈی اے ) لا پائوگے۔
شرد یادو(جے ڈی یو)، راجیہ سبھا
ملک کو گمراہ کرنے کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کو معافی مانگنی چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ مودی جی کو نام آن لائن کر نے دیجئے۔ انہیں 15-20لاکھ روپے ہر کھاتے میں ڈالنے دیجئے۔اب مودی جی این آر آئی پی ایم کہے جاتے ہیں۔ انہیں پارلیمنٹ سے معافی مانگنی چاہئے، کیونکہ انھوں نے جھوٹا وعدہ کیا تھا۔ بندھو پادھیائے نے انوراگ ٹھاکر کو جواب دیتے ہوئے کہا ’’آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ ساردا کے مالک کو سی بی آئی نے نہیں، بلکہ ممتا بنرجی نے کشمیر بارڈر سے گرفتار کروایا تھا۔
سندیپ بندھو پادھیائے( ترنمول کانگریس)، لوک سبھا
این ڈی اے حکومت نے کالے دھن کے ایشو پر بہت تیزی سے قدم اٹھائے ہیں۔ ترنمول کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ نے بنگلہ دیشی دہشت گردوں کو پیسے دئے۔ ٹی ایم سی کے لوگ کالے چھاتوں کے ساتھ پارلیمنٹ میں آئے، لیکن ان کی جیبیں کالے دھن سے بھری ہوئی ہیں۔ یہ کیسے ہواکہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ کی پینٹنگ پہلی بار میں ہی اتنی قیمت میں فروخت ہوئی اور اسے ساردا گھپلے میں شامل شخص نے خریدا۔
انوراگ ٹھاکر(بی جے پی)، لوک سبھا
میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ دنیا کے کتنے ملکوں سے وزیر اعظم کالا دھن واپس لانے کی بات کر رہے ہیں۔ اس طرح کی رائے بن گئی ہے کہ بیرون ممالک میں جمع پیسہ کالا دھن ہے۔ا س بارے میں فرق کیا جانا چاہئے کہ کیا کالا دھن ہے اور کیا قانونی طور پر جمع رقم ہے؟
آنند شرما(کانگریس) راجیہ سبھا
کیا این ڈی اے یا یو پی اے حکومت نے بیرون ممالک میں پڑے کالے دھن کا پتہ لگایا ہے؟ 15لاکھ روپے نہیں ، حکومت ہر شخص کے کھاتے میں 15ہزار روپے بھی ڈلوا سکتی ہے تو لوگ خوش ہو جائیں گے۔ ’’جن دھن یوجنا‘‘ سے قرض بڑھ سکتے ہیں اور معیشت بھی بحران میں پڑ سکتی ہے۔
رام گوپال یادو (سماجوادی )، راجیہ سبھا

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *