بہار: مانجھی کی گھیرا بندی

سوکانت
p-4وزیر اعلیٰ جیتن رام مانجھی اپنے ہی ممبرانِ اسمبلی کے نشانے پر ہیں۔ جے ڈی یو کے ممبرانِ اسمبلی اور لیڈروں کا ایک بڑا طبقہ انہیں اب کسی بھی طرح بخشنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ ان کی کابینہ کے ارکان تک ان سے دوری برت رہے ہیں، ان سے استعفیٰ کی مانگ کر رہے ہیں۔ پارٹی کے غیر اعلانیہ سپریمو نتیش کمار کے تئیں حد سے زیادہ وفادار ایم ایل اے اور لیڈران مانجھی کے بیانوں کو لے کر انہیں سبق سکھانے کے خیال سے بھارتیہ جنتا پارٹی سے بھی زیادہ سخت رخ کے ساتھ میدان میں کود پڑے ہیں۔ شہ زور ایم ایل اے اننت سنگھ اور سنیل پانڈے سمیت بی جے پی سے جے ڈی یو میں آئے سنجے جھا وغیرہ تک نے بھی مانجھی کے خلاف جیسے بیان دیے ہیں، ویسا بیان بی جے پی نے بھی نہیں دیا ہے۔ نتیش راج میں دہشت کا دوسرا نام سمجھے جانے والے اننت سنگھ نے تو اپنے وزیر اعلیٰ کو پاگل تک قرار دے دیا اور پاگل خانے بھیج کر علاج کروانے کی صلاح دے ڈالی۔ دوسرے شہ زور ایم ایل اے سنیل پانڈے کی رائے اس سے بہت مختلف نہیں رہی، انہوں نے اپنے وزیر اعلیٰ پر ہی تادیبی کارروائی کی مانگ کی ہے۔ ان کے علاوہ پارٹی کے دیگر لیڈروں و ممبرانِ اسمبلی نے سیاسی لفظوں کے ساتھ بالواسطہ طور پر مانجھی کے بیانات پر اپنی ناپسندیدگی ظاہر کی ہے۔ کچھ لوگوں نے (جن میں سے زیادہ تر 2005 سے پہلے یا اس کے کئی سال بعد تک دوسری پارٹیوں کے بیان باز تھے) سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور ان کے سیاسی طور طریقے میں اپنا بھرپور اعتماد ظاہر کرتے ہوئے، بالواسطہ طور پر مانجھی کو آگاہ کیا ہے، لیکن مانجھی ان پر قطعی دھیان دینے کو تیار نہیں ہیں اور اپنی رفتار سے سارے کام کر رہے ہیں۔
اس پورے معاملہ میں سب سے اہم ہے جے ڈی یو کا اپنا رویہ۔ درحقیقت پارٹی کا کوئی اسٹینڈ ہی نہیں ہے، جس کی بنیاد پر وہ وزیر اعلیٰ کی مذمت یا ان کا دفاع کر سکے۔ اگر کچھ نظر آتا ہے، تو وہ ہے اصلیت کو چھپانے کی ناکام کوشش۔ جب جب ایسی نوبت آتی ہے، تو نیرج کمار جیسے بے باک ترجمان سامنے آتے ہیں اور پارٹی کو ان تمام باتوں سے الگ کرلینے کی بات کہہ کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ آدیواسیوں کو ہندوستان کا اصلی باشندہ بتانے والے مانجھی کے تبصرہ پر انہوں نے کچھ زیادہ ہی بات کی، لیکن اس میں بھی مانجھی کی مخالفت زیادہ اور پارٹی کا اسٹینڈ غائب تھا۔ کئی موقعوں پر پارٹی صدر وششٹھ نارائن سنگھ نے، بہت گھیرے جانے کے بعد، وزیر اعلیٰ کے متنازع بیان کو مانجھی کی ’ذاتی رائے‘ بتا کر اپنا پلّہ جھاڑ لیا۔ پارٹی کے قومی صدر شرد یادو نے ایک دو موقعوں پر مانجھی کے بیانوں پر اپنی نا اتفاقی ظاہر کی۔ پٹنہ کے اپنے پچھلے دورہ کے دوران انہوں نے مانجھی سے بند کمرے میں بات چیت کی اور انہیں اپنے بیانوں میں توازن برتنے کی نصیحت دی تھی۔ ایسی نصیحت انہوں نے پارٹی کے دوسرے لیڈروں اور وزیروں یا ممبرانِ اسمبلی کو دی یا نہیں، یہ کسی کو معلوم نہیں ہے۔ ہاں، شرد یادو کی اس پہل کے بعد مانجھی بنام جے ڈی یو کا تنازع زیادہ غیر مہذب طریقے سے سامنے آیا اور مانجھی کو پاگل خانے بھیجنے یا ان پر تادیبی کارروائی کی مانگ کی گئی۔ ایسے لیڈروں کے لیے شرد یادو کی طرف سے کوئی نصیحت کی گئی ہے یا نہیں، بہار کی سیاست کو اس کا علم نہیں ہے۔
سب سے بڑی بات ہے پارٹی کے غیر اعلانیہ سپریمو نتیش کمار کی خاموشی۔ نتیش کمار کا میڈیا سے کبھی تلخ رشتہ نہیں رہا ہے۔ میڈیا کے لیے وہ ہمیشہ اپنے انداز میں دستیاب رہے۔ حالانکہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ چھوڑنے کے بعد اس میں تھوڑا کھنچاؤ آیا، لیکن آر جے ڈی کے ساتھ اتحاد یا ضمنی انتخاب کے دوران اور اس کے بعد بھی وہ میڈیا کے لیے ایک حد تک ہی دستیاب رہے۔ لیکن مانجھی کے اس قسم کے اظہارِ رائے کے بعد سے میڈیا سے نتیش کمار غیر اعلانیہ طور پر پرہیز کرنے لگے۔ دشہرہ حادثہ کے بعد تو میڈیا سے وہ ملے ہی نہیں ہیں اور میڈیا کی طرف سے ملنے کی ہر کوشش کو وہ ناکام کرتے رہے ہیں۔ ان دنوں وہ اپنی اس پالیسی پر سختی سے قائم ہیں کہ میڈیا سے بات نہیں کرنی ہے۔ اب وہ فیس بک اور ٹوئٹر کے ذریعے اپنی بات کہتے ہیں اور وہ بھی بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے تعلق سے۔ بہار کے مسائل، بہار کے عوام کی خوشی و ناخوشی، سرکار کے کام کاج، پارٹی کی پالیسی وغیرہ کے بارے میں ان کی کسی رائے کے بارے میں بہار کو کوئی جانکاری نہیں ہے۔ حالانکہ اسی ماہ کے پہلے عشرہ میں جیتن رام مانجھی اور نتیش کمار کے درمیان ان کی رہائش گاہ پر بات چیت ہوئی تھی، جس میں وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ وہ نتیش کمار سے اکثر ٹپس لیتے رہے ہیں، لیکن دونوں لیڈروں کو ایک پلیٹ فارم پر آئے ہوئے زمانہ گزر چکا ہے۔ دونوں میں بات چیت کی کوئی خبر بہار کی سیاست اور سرکاری مشینری کو نہیں ہے۔ یہاں تک کہ پارٹی کی میٹنگوں یا پروگراموں میں مانجھی کی اندیکھی، انہیں خبر نہ دینے یا نہیں بلانے کی غیر اعلانیہ پالیسی بدستور جاری ہے۔ اگلے اسمبلی انتخابات میں اپنے ووٹروں کو متحد کرنے کے خیال سے ان دنوں نتیش کمار کی سمپرک یاترا چل رہی ہے۔ وہ بہار کے کوئی تین درجن ضلعوں میں پارٹی کے وفادار اور چنندہ کارکنوں کے ساتھ رابطہ بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کام میں وششٹھ نارائن سنگھ، چند وزیر اور ممبرانِ اسمبلی ان کے ساتھ ہوتے ہیں، لیکن ان پروگراموں میں وزیر اعلیٰ کی موجودگی کی کوئی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اس دوران جے ڈی یو میں ’نقلی وزیر اعلیٰ بنام اصلی وزیر اعلیٰ‘ کا محاورہ بھی چلایا گیا ہے۔ مانجھی کچھ بھی بولیں، آپ نتیش کمار کی رائے کو قطعی نہیں جان سکیں گے۔ مانجھی کو ان کے محبوب ایم ایل اے پاگل کہیں، ان کا قریبی انہیں بے ادب کہے، سرکار کا کوئی وزیر اپنے ہی وزیر اعلیٰ سے استعفیٰ مانگے، نتیش کمار کو ان ساری باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پارٹی اور سرکار کے سلسلے میں، بہار کے عام مسائل کے بارے میں خاموشی ان کی عادت سی بن گئی ہے۔ یہ اُس پارٹی کے سب سے بڑے لیڈر کی بات ہے، جہاں ڈسپلن کے نام پر پارٹی کے چار چار ممبرانِ اسمبلی کی رکنیت ختم کروانے کی جی توڑ کوشش کی گئی اور اس میں کامیابی بھی ملی۔ چار مزید ممبرانِ اسمبلی کی رکنیت کو ختم کرانے کی پر زور کوشش کی جا رہی ہے۔
تو کیا جے ڈی یو کو جیتن رام مانجھی کی ضرورت نہیں ہے؟ بہار کے سیاسی گلیارے میں یہ سوال سنجیدگی سے پوچھا جا رہا ہے۔ اس کا جواب تو جے ڈی یو کی قیادت، خاص کر نتیش کمار اور شرد یادو ہی دے سکتے ہیں، لیکن پارٹی کے سیاسی برتاؤ میں اگر اس سوال کا جواب تلاش کیا جائے، تو یہ ’ہاں‘ میں دکھائی دیتا ہے۔ مانجھی کے خلاف متحد سیاسی چہرے ایسے نہیں ہیں، جو وزیر اعلیٰ کے خلاف خود کوئی مہم شروع کریں اور جنہیں لگام لگانے کی طاقت پارٹی کے لیڈروں میں نہیں ہے۔ یہ چہرے خود سیاست میں دوسروں کے رحم و کرم پر منحصر رہے ہیں۔ اب ایک بار پھر ان بدنام غیر سیاسی چہروں کا سیاسی استعمال کیا جا رہا ہے، ایسا جے ڈی یو کے ان لوگوں کا ماننا ہے، جو پارٹی کے بہتر سیاسی مستقبل کے لیے مانجھی کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ جے ڈی یو لیڈروں کی یہ جماعت دلت، مہا دلت اور انتہائی پچھڑوں میں مانجھی کی بڑھتی مقبولیت کو محسوس کر رہی ہے۔ لیکن ایسے لوگوں کی سنتا کون ہے؟ دراصل، متعدد پارٹیوں میں پارٹی سپریمو کے دبدبے کی طرح ہی اس پارٹی میں بھی باہمی تال میل ختم ہوتا جا رہا ہے۔ پارٹی کے کام کاج، سیاسی پروگراموں کے فیصلے اور پالیسی طے کرنے میں جمہوری طریقہ تقریباً ختم سا ہو گیا ہے اور ایک دو آدمی مل کر پالیسی ہی نہیں، سارا کچھ طے کر لیتے ہیں، یہاں تک انتخابات کے امیدوار تک طے کر لیتے ہیں۔ انتخاب کی آہٹ کے ساتھ کارکنوں کی بات تو ہوتی ہے، لیکن انتخاب کے بعد یہ بات ختم بھی ہو جاتی ہے۔ جے ڈی یو میں بھی یہی ماحول ہے اور یہ مسلسل مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں جیتن رام مانجھی کو تو نشانے پر آنا ہی تھا اور وہ آ بھی گئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جیتن رام مانجھی کیسے کیسے پینترے بدلتے ہیں اور ان پر اپنے ہی لوگوں کے کتنے زہر بھرے تیر چلتے ہیں۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *