بابا ، صوفی، سادھو، سنت ، آشرم ، درگاہیں ہمیں تو سب نے لوٹا ہے

ڈاکٹر وسیم راشد
مجھے یاد ہے ہمارے بچپن میں جب بھی ہمارے گھر میں کوئی سادھو، سنت یا کوئی بابا جھولا کندھے پر لٹکائے ہوئے بھیک یا دکشا مانگنے آتا تھا تو ہم دوڑے ہوئے جاتے تھے اور اس کی جھولی میں آٹا، چاول، پیسے یا جو بھی ہم کو ہماری والدہ دیتی تھیں وہ ڈال دیا کرتے تھے ۔اس وقت گھر کی کچھ توہم پرست عورتیں ان سادھوئوں ، سنتوں کو احترام کی نظر سے دیکھتی تھیں اور کبھی ان کی بڑی بوڑھیاںان سے بچنے کی بھی نصیحت کرتی تھیں لیکن زیادہ تر گھر کی بزرگ عورتیں یہ سوچتی تھیں کہ یہ سب ڈھونگی لوگ ہیں۔ بچوں کو اپنی جھولی میں ڈال کر لے جاتے ہیں یا پھر کوئی نشیلی چیز کھلا کر اپنے پیچھے لگا کر لے جاتے ہیں۔ ہماری سمجھ میں کبھی یہ بات نہیں آئی کہ آخر یہ سیدھے سادھے ، پھٹے پرانے کپڑوں میں رہنے والے سادھو، سنت کیسے شاطر چالاک یا بچوں کے چور ہو سکتے ہیں، لیکن اس وقت بھی یہ اندھ وشواس بہت زیادہ تھا اور بھولی بھالی معصوم عورتیں ان پر یقین کر کے کبھی ان کو اپنا زیور دگنا کرانے کے نام پر یا کبھی شوہر، ساس کے مظالم سے چھٹکارہ پانے کے نام پر ٹھگی جاتی تھیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی ان 30سے 40سالوں میں کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ مریخ پر کمند ڈالنے کی تیاری ہے ۔ ٹیلی کمیونکیشنز اور سائنسی ایجادات نے پوری دنیا کو آپ کے ایک چھوٹے سے موبائل یا کمپیوٹر پر لا دیا ہے۔ اب ایسے وقت میں یہ سادھو ، سنت اور بابا والا زور کم ہونا چاہئے تھا لیکن یہ 20ویں اور 21ویں صدی میں اور زیادہ پھیل گیا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ کیونکہ اب بھی توہم پرستی اور مذہب کے نام پر لوگ لٹ جاتے ہیں جبکہ اب تو جہالت اور سائنسی معلومات نے انسان کے ذہن ، دل و دماغ کو کافی بدل دیا ہے ۔ اس کی ایک وجہ جو ہماری سمجھ میں آتی ہے ، شاید یہ ہو کہ جیسے جیسے زمانہ ترقی کرتا جا رہا ہے ، دوڑتی ، بھاگتی زندگی ہمیں سوچنے سمجھنے کی مہلت نہیں دے رہی، مقابلہ جاتی دوڑ میں انسان بری طرح پس رہا ہے۔ ضروریات زندگی نے انسان کو بھلے برے کی تمیز کرنا بھلا دیا ہے۔ انسان عیش پرستی، ہوس پرستی ، آرام و آسائش کی زندگی کے لئے حرام حلال کی تمیز بھول گیا ہے اور اس کا فائدہ اٹھایا ہے ان نام نہاد بابائوں ، سنتوں، صوفیوں اور تعویذ گنڈے کرنے والے لوگوں نے۔
کبھی زیادہ کی ہوس ہمیں ان بابائوں ، سنتوں کے پاس پہنچا دیتی ہے، کبھی ترقی ، کبھی نوکری، کبھی بزنس ، کبھی شادی میں رکاوٹ ، کبھی اچھے رشتے ملنے کی دوڑ، کبھی امتحان میں کامیابی، کبھی محبت میں ناکامی، کبھی محبت میں دھوکہ، کبھی محبوب سے انتقام، کبھی ساس کا بہو سے چھٹکارہ، کبھی بہو کا ساس سے، کبھی انتقام کبھی حسد، کبھی طاقت حاصل کرنے کا نشہ ۔ یہ سب ہمیں ان ڈھونگی بابائوں ، سادھو سنتوں کے آشرم یا درگاہوں تک پہنچا دیتے ہیں۔
آسا رام باپو کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ کیسے ایک معمول سا سادھو اربوں ، کھربوں کی جائداد کا مالک بن بیٹھا اور ہزاروں ، کروڑوں اس کے چاہنے والے پیدا ہو گئے اور اب یہ بابا رام پال جنھوں تو حکومت کے برابر ایک حکومت چلانے جیسی فوج بھی اکھٹی کر لی اور نہ تو کانگریس حکومت کو پتہ چلا اور نہ اس سے پہلے والی حکومت کو اور نہ اب موجودہ حکومت کو۔فائیو اسٹار ہوٹل جیسا سنت رام پال کا آشرم ۔ وہ بھی دہلی، ممبئی ، بنگلور جیسے شہروں میں نہیں ہریانہ کے حصار ضلع میں ، نام ہے ستلوک آشرم۔ 12ایکڑ زمین میں پھیلا یہ آشرم جو 5منزلہ ہے ، کسی بھی فائیو اسٹار ہوٹل سے کم نہیں۔ نہایت عالیشان، آرام دہ، جدید سہولیات سے مزین یہ آشرم جو عیاشی کا بھی اڈہ تھا اور عوام کو بے وقوف بنا کر پیسہ ، دولت ہتھیانے کا بھی۔ حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ جس وقت اس ڈھونگی سنت کو پکڑا گیا اس وقت بھی معصوم، تو ہم پرست لوگ جان دینے کو تیار تھے۔ عیاشی کا اڈا بنے اس آشرم سے پولس کو کنڈوم اور عورتوں کے ٹوائیلیٹ میں خفیہ کیمرے لگے ہوئے ملے۔ نشیلی دوائیں، بے ہوشی طاری کردینے والی گیس، فحش میگزین اور بہت سا قابل اعتراض مواد ملا ہے جس میں ننگی ننگی تصویریں اور بے حد گندہ لٹریچر بھی شامل ہے۔
بے حد شرم اور افسوس کا مقام ہے کہ اس بابا کے پرائیویٹ کمانڈو خواتین کو یرغمال بنا کر عصمت دری بھی کرتے تھے اور اگر کوئی عورت مخالفت کرتی تھی اس کو کئی کئی دن برہنہ رکھا جاتا تھا اور پہننے کو کپڑے تک نہیں دئے جاتے تھے او ر ان کو قیدی بنا کر ایسی جگہ رکھا جاتا تھا جہاں ان کی آواز بھی نہیں پہنچ سکتی تھی۔
حیرت کا مقام تو یہ ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں خواتین اس آشرم میں موجود تھیں۔ ان سے پہلے بھی ہزاروں عورتوں کا جنسی استحصال ہوا ہوگا لیکن کبھی کسی نے آسارام کی اس لڑکی کی طرح حوصلہ نہیں دکھایا اور شکایت نہیں کی۔ ایک بار اگر کوئی بھی عورت باہر آکر اس ڈھونگی شیطان کا سچ بتا دیتی تو نہ جانے کتنی اور معصوم عورتوں کی عصمت بچ جاتی لیکن شاید ان کو اتنی بری طرح ڈرایا، دھمکایا جاتا ہوگا کہ کسی نے بھی بغاوت نہیں کی ، آواز نہیں اٹھائی ۔ ڈھونگی رامپال کو دودھ سے نہلایا جاتا تھا اور اس دودھ کی کھیر بنا کر پرساد کے طور پر بانٹ دی جاتی تھی اور بھکتوں سے کہا جاتا کہ یہ کھیر ان کی زندگی میں مٹھاس لائے گی۔
ایک اور حیران کر دینے والا سچ کہ رامپال کے کم سے کم 300سیکورٹی اہلکاروں کو آرمی اور پولس کے رٹائرڈ لوگوں نے ٹرینڈ کیا۔ ٹریننگ دینے والوں میں نیشنل سیکورٹی گارڈ اور اسپیشل پروٹیکشن گروپ کے لوگ بھی شامل ہیں۔ ہنسی بھی آتی ہے اپنے ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور پرائیویٹ تفتیشی ایجنسیوں پر کہ ان کو یہ تک نہیں پتا کہ آشرم میں اندر کیا چل رہا ہے۔ اسلحہ آخر کہیں سے تو خریدا جاتا ہوگا ، کوئی تو بیچتا ہوگا۔ تبھی ان کے پاس پوائنٹ 315بور کی رائفلیں ، پوائنت32بور کی رائفلیں اور پستول ہیں۔
وہ ملک جہاں گائوں دیہاتوں میں ٹوائلیٹ نہیں ہیں، اسکول نہیں ہیں، اسپتال نہیں اور بھوک، غربت ، بے روزگاری اور فاقوں سے اکثر کسانوں ، غریب بوڑھے مزدوروں ، عورتوں اور بچوں کی موت ہو جاتی ہے، وہاں آشرم میں نوٹوں سے بھری ہوئی بوریاں اور سکوں سے بھری ہوئی تجوریاں اور 30کلو سونے کے زیورات ملے ہیں۔ غیر ملکی شراب کی بوتلیں، عیاشی کے دیگر سامان بھی برآمد ہوئے ہیں۔ یہ سب کیا ہے۔ آخر دھرم کے یہ نام و نہاد ٹھیکیدار کیسے اتنے بڑے بڑے آشرم اور اپنی فوجیں تیار کر لیتے ہیں اور پولس ، حکومت اور ریاستی انتظامیہ سوئی رہتی ہے۔ ہماری ایجنسیوں کی نظر کیا ان پر نہیں پڑتی ہے ۔ آئی بی اور سی بی آئی جیسی ایجنسیوں کس لئے ہیں اگر ہتھیاروں اور اسلحہ کی درآمد، برآمد کی معلومات خفیہ کمانڈروں کی ٹریننگ وغیرہ کی ان کو معلومات نہیں ہے تو کیسے اسلحہ بم اور آتشی مادے ان اڈوں پر اکھٹے ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ سینکڑوں بیگھا زمین کہاں سے اور کیسے مل گئی یہ کس کی زمین ہے؟ یہ آشرم کو کہاں، کب اور کیسے ملی؟ اور آشرم کی تعمیر کے وقت اس کو کیوں نہیں روکا گیا؟ یہ کیسے آشرم ہیں، جن میں ہیلی کاپٹر اور ہیلی پیڈ بھی موجود ہیں؟ یہ تو کسی راجہ مہاراجہ سے بھی بڑھ کر ہو گئے ۔ یہ عیاش ڈھونگی بابا ، سادھو، سنت آخر کروڑوں کی تعداد میں لوگوں کو سالوں سے بے وقوف بناتے رہتے ہیں اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ بڑے تعجب کی بات ہے۔
مجھے تو آشرم کے ساتھ ساتھ درگاہوں پر بھی سخت اعتراض ہے۔ کچھ بڑی درگاہوں کے بارے میں اگر لکھنے بیٹھ جائوں تو شاید سارے وہ مسلمان میری جان کے دشمن ہو جائیں جو ان آستانوں پر سر جھکاتے ہیں۔ ایسی بات نہیں ہے کہ ہم ان بزرگان دین کو نہیں مانتے ۔ ہم بھی ان پر فاتحہ پڑھتے ہیں، ان کو اللہ کے قریب جانتے ہیں، لیکن ان درگاہوں پر جو شرک، بدعت اور خرافات ہوتی ہے اس کو دیکھ کر میں کانپ جاتی ہوں۔ متولی اور سجادہ نشین آپ کی کھال ادھیڑ لیتے ہیں، چادر ، شیرینی،ا گر بتی کے نام پر خوب ہی لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے۔ کوئی آپ سے بڑی دعا کرنے کے پیسے مانگتا ہے تو کوئی آ پ سے آپ کے بہتر مستقبل کی ضمانت دے کر دعا مانگنے کی بات کرتا ہے ، کوئی بڑی بڑی ، لال لال آنکھوں سے آپ کو ڈراتا ہے، قوالیوں، پر نوجوان لڑکیاں سر دھنتے ہوئے جو ڈرامے کرتی ہیں وہ تو اللہ ہی سمجھ سکتا ہے۔ انسان تو بس ڈر اور خوف سے ان کے آگے بھی سر جھکا دیتا ہے۔ اس کے علاوہ گیٹ پر کسی گروہ کا قبضہ ہے ۔ اندر گلے پر کسی گروہ کا قبضہ ، کوئی گروہ اندر لے جاتا ہے ، کوئی گروہ زیارت کراتا ہے ۔ اُف یہ کیابتائوں لکھتے ہوئے بھی کانپ جاتی ہوں۔
اور اب تو نئے نئے مزار اچانک پیدا ہو گئے ہیں، جن پر2,3دن کا عرس ہونے لگا ہے۔ ایک طرف خواتین کا ہجوم ہوتا ہے، جن میں جوان خوبصورت لڑکیاں زیادہ ہوتی ہیں ، دوسری طرف مردوں کی قوالیاں ہوتی ہیں اور جوان خوبصورت لڑکیوں پر حال آنے شروع ہو جاتے ہیں۔
اللہ مجھے معاف کرے میری گناہگار آنکھوں نے تو یہ دیکھا اور سمجھا ہے کہ یہ عرس لڑکیوں کو ان کے عاشقوں سے ملانے کی محفلیں ہیں۔ ان میں ان کی لڑکوں سے خوب سیٹنگ ہوتی ہے اور یہ ہر چھوٹے بڑے قصبہ میں ہو رہا ہے۔ نئے نئے مرید اپنے پیروں کی قبریں لے کر وارد ہو جاتے ہیں۔ چلئے میں آپ کو یوپی کے مشہور ضلع بلند شہر کی ڈبئی کا سچا واقعہ سناتی ہوں۔ قربان علی شاہ ایک شخص تھے ، جن کے بے پناہ مرید تھے ، ان کا 1980یا 1982میں انتقال ہو گیا ، ان کی خواہش تھی کہ انہیں یہاں دفن کیا جائے وہ جہاں رہتے تھے، اس پر مریدوں کے درمیان خوب رسہ کشی ہوئی ، جو مضبوط تھے وہ جنازہ لے کر ان کے آبائی گھر میں آ گئے اور جو کمزور مرید تھے انھوں نے ان کی چھڑی ، لوٹا اور دوسری چیزیں وہیں دبا دیں ، جہاں ان کا انتقال ہوا تھا۔ آج ڈبئی کے ان قربان علی شاہ کی 2,2قبریں ہیں اور دونوں پر ہی عر س ہوتا ہے اور اس عرس میں جو طوفان بدتمیزی ہوتی ہے اس کا حال نہ پوچھئے تو بہتر ہے۔ بات طویل ہوتی جا رہی ہے ۔ لکھنے کو تو درگاہوں پر بہت کچھ ہے اور ایک آگ سی میرے سینے میں ہے لیکن طوالت مجھے قلم روکنے پر مجبور کر رہی ہے۔
اگر یہ آگ میرے اس غم و غصہ کو اور جلا دیتی رہی تو باقی آئندہ ۔ انشاء اللہ

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *