اکھلیش سرکار کے وزیروں کے کام کاج کا جائزہ ، کچھ ہی میں دم باقی سب بے دم

پربھات رنجن دین
mastسماجوادی پارٹی کے اکتوبر ماہ میں لکھنؤ میں منعقدہ تین روزہ قومی اجلاس میں اکھلیش سرکار کے وزیروں کے کام کاج کے طور طریقے، ان کی بدعنوانی اور ان کے عوام مخالف رویے پر ہی بحث مرکوز رہی۔ ایسا اس لیے ہوا، کیوں کہ سماجوادی پارٹی کے قومی صدر ملائم سنگھ یادو نے اس پر اپنی تشویش ظاہر کی تھی۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے، جس پر ملائم سنگھ پہلے بھی بولتے رہے ہیں اور اب بھی بول رہے ہیں۔ حالانکہ، ملائم کی اس تشویش میں پارٹی کے غداروں کے مسئلہ کو شامل کرکے اصل مدعے سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی کی گئی، اس کے باوجود ملائم کی باتیں عوام کے دلوں میں تیر کی طرح پیوست ہو گئیں۔ اب یہ بات صاف ہو گئی ہے کہ اکھلیش سرکار کے وزیروں کی کارکردگی پر ہی 2017 کا اسمبلی الیکشن لڑا جائے گا۔ اس اجلاس کے پلیٹ فارم سے پارٹی کے سینئر لیڈر نریش اگروال نے یہ کہا بھی تھا کہ اکھلیش یادو کے سوا کسی بھی وزیر کے پاس کہنے کے لیے اپنا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ بات صحیح بھی ہے، کیوں کہ اگر کچھ خاص سینئر وزیروں کو چھوڑ دیا جائے، تو کام کے نقطہ نظر سے اکھلیش کے کام کے علاوہ، کسی کے پاس بتانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔
وزیروں کے کام کاج اور ان کی عوام مخالف سرگرمیوں کا جب ذکر آیا اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کیے جانے کی جب ملائم سنگھ یادو نے شکایت کی، تو اکھلیش نے تقریباً سات درجن اُن وزیروں کی لال بتی چھین لی، جو صرف درجہ حاصل کرنے والے وزیر تھے۔ ان کی بدعنوانی بھی ان کے درجے جیسی ہی تھی، یعنی ان کے پاس لال بتی کے علاوہ کوئی دوسرا اختیار نہیں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ملائم کی شکایت کے دائرے میں درجہ حاصل کرنے والے وزیر نہیں تھے، بلکہ وہ وزیر تھے، جو وزیر کابینہ یا وزیر مملکت کی فہرست میں شامل تھے، ایسے وزیر جن کے ہاتھوں میں ان کا محکمہ اور اقتدار کا اختیار تھا، جس کا استعمال وہ اپنے ذاتی مفادات کو پورا کرنے میں کر رہے تھے یا اب بھی کر رہے ہیں۔ ملائم سنگھ کے ذریعے اس قومی اجلاس کے پلیٹ فارم سے کی گئی اس شکایت نے یہ راستہ کھولا کہ بدعنوانی کے الزامات اور شکایتوں کے ساتھ ساتھ اکھلیش سرکار کے وزیروں کی پرفارمنس کا بھی حساب کتاب لیا جائے، تاکہ پارٹی سرگرم اور ناکارہ وزیروں کے درمیان امتیاز کر سکے۔ وزیروں کی فعالیت اور ناکردگی طے کرنے کے لیے ان کے محکمہ وار کام کاج کا بیورہ کھنگالا گیا اور زمینی سطح پر اس بیورے کے ساتھ ان کی امیج کا موازنہ کیا گیا۔ کئی وزیروں کے کام کاج کا ریکارڈ بالکل صفر نکلا۔ ظاہر ہے کہ اکھلیش سرکار کے کئی وزیر زمینی سطح پر صرف بات بہادری سے ہی کام چلاتے رہے، عملی طور پر ان کی کاکردگی پوری طرح ناقص رہی۔ ایسے وزیروں کی دلچسپی زیادہ تر بدعنوانی اور عوام مخالف سرگرمیوں میں رہی، جیسا کہ سماجوادی پارٹی کے قومی صدر ملائم سنگھ یادو لگاتار کہتے رہے ہیں یا اب بھی کہہ رہے ہیں۔
سرکاری ریکارڈ پر وزیروں کا جو کام کاج دکھائی دیتا ہے، اس کے حساب سے اقتدار میں آنے کے بعد تقریباً دو سال تک تو اکھلیش سرکار کے زیادہ تر وزیر اقتدار کا ہی مزہ لوٹتے رہے۔ چند ہی وزیر ایسے تھے، جو اقتدار میں آنے یا پھر وزیر کی کرسی سنبھالنے کے فوراً بعد سرگرمی سے کام میں مصروف ہو گئے، زیادہ تر وزیر سال 2012 اور 2013 میں آرام فرماتے رہے۔ اکھلیش یادو نے جب اقتدار پر اپنی پوری پکڑ بنا لی، تب ان کے وزیر کام پر لگے۔ وزیروں کے کام کاج کے سرکاری ریکارڈ کو دیکھیں اور اس کا تجزیہ کریں، تو کئی دلچسپ پہلو اجاگر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جو وزیر کہیں کوئی بیان نہیں دیتے، جو خود کو تنازعات سے الگ رکھتے ہیں اور بہت ہی لو پروفائل رہتے ہیں، ایسے وزیر اپنے کام میں سرگرم پائے گئے ہیں۔ ان کا کام دستاویزی ثبوت کے ساتھ نظر آتا ہے۔ الزامات اور شکایتیں تو وزیروں کے ساتھ چلتی ہی رہتی ہیں، اس میں کچھ شکایتیں صحیح بھی ہوتی ہیں، لیکن کام بھی چلتا رہتا ہے۔ ایسے وزیروں میں وزیر برائے سماجی بہبود اودھیش پرساد، وزیر برائے پنچایتی راج کیلاش، وزیر محنت شاہد منظور، وزیر برائے ثانوی تعلیم محبوب علی، آزاد چارج والے وزیر مملکت برائے دیہی ترقی اروِند سنگھ گوپ کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ راجا بھیا جیسے وزیر، جنہیں تمام قسم کے تنازعات میں گھسیٹا جاتا رہا ہے، ان کے کام کو اگر دیکھا جائے، تو کسی بھی سنجیدہ اور فعال وزیر کے کام سے ان کے کام کا موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ فعال وزیروں کی فہرست میں شو پال یادو، اعظم خاں، احمد حسن جیسے سینئر وزیروں کے نام شامل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ لوگ ہمیشہ سرخیوں میں بھی رہتے ہیں اور ان کا محکمہ جاتی کام بھی اپنی رفتار سے چلتا رہتا ہے۔ کچھ وزیر ایسے بھی ہیں، جو اپنے ساتھ صرف الزام اور شکایت ہی لے کر چلتے ہیں، کام بالکل نہیں کرتے اور دیگر سرگرمیوں میں ملوث رہتے ہیں۔ عام فعال وزیروں میں وزیر برائے ٹرانسپورٹ دُرگا پرساد یادو، وزیر برائے سیاسی پنشن راجندر چودھری، وزیر برائے جیل بلرام یادو، وزیر برائے ابتدائی تعلیم رام گووِند چودھری، آبپاشی کے وزیرراج کشور، چھوٹی صنعتوں کے وزیر (آزاد چارج) بھگوت سرن گنگوار اور سائنس و ٹکنالوجی کے وزیر منوج پانڈے کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ جن وزیروں کے نام فعال اور عام فعال وزیروں کی فہرست میں نہیں ہیں، ان کی کیٹیگری کے بارے میں آپ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ قابل غور بات یہ بھی ہے کہ ان فعال اور عام فعال وزیروں میں بھی کئی ایسے ہیں، جن کا محکمہ تقریباً دو سال تک آرام کرتا رہا اور 2014 میں اچانک سرگرم ہو گیا۔ 2012 اور 2013 میں وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کے علاوہ انگلی پر گنے جانے لائق وزرائے کابینہ ہی اپنے کام میں سرگرم رہے۔
کل ملا کر صورتِ حال یہ ہے کہ اکھلیش سرکار کے 25 کابینی وزراء کی ٹیم میں اگر 8-9 وزیر ہی فعال ہیں، تو اتر پردیش میں چل رہے ترقیاتی کاموں کے بارے میں آسانی سے سوچا سمجھا جا سکتا ہے۔ آزاد چارج والے پانچ وزراء میں سے صرف ایک، اروِند سنگھ گوپ کا نام فعال وزیروں کی فہرست میں شامل ہے۔ 25 وزرائے مملکت جن وزیروں کے ساتھ منسلک ہیں، ان کی فعالیت کا اندازہ ان کے باس وزیروں کی پرفارمنس کی بنیاد پر لگایا جا سکتا ہے۔
مارچ 2012 میں اقتدار میں آنے کے بعد دو سال تک آرام کرنے والے محکموں میں اقلیتی بہبود، میڈیکل اور ہیلتھ، شہریوں کی حفاظت، پس ماندہ طبقہ اور معذوروں کی فلاح، محکمہ جیل، سیاحت، ٹرانسپورٹ، ہوم گارڈ، کپڑا صنعت اور ریشم، کھادی اور دیہی صنعت، ڈیئری ڈیولپمنٹ، ٹیکنیکل ایجوکیشن، بیسک ایجوکیشن، رورل انجینئرنگ (آزاد چارج) اور مائننگ جیسے محکمے شامل ہیں۔ ان میں سے کئی محکمے 2014 میں سرگرم ہوئے، لیکن ان میں سے بھی کچھ محکموں کی سرگرمی رسمی ہی رہی۔ کئی محکموں کے 2012 اور 2013 کے کام صرف بیانوں تک ہی محدود رہے، ان کا حقیقت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ سماجوادی پارٹی کی سرکار بنتے ہی جو محکمے اپنے کام میں سرگرم ہو گئے، ان میں پی ڈبلیو ڈی، شہری ترقی، سماجی بہبود، آبپاشی، سیاسی پنشن، پنچایتی راج، سائنس و ٹکنالوجی، بیسک ایجوکیشن اور لیبر ڈپارٹمنٹ سرفہرست ہیں۔ سرکار بننے کے بعد ایک سال سے ڈیڑھ سال تک آرام کرنے کے بعد سرگرم ہوئے محکموں میں ہارٹی کلچر ڈپارٹمنٹ، ڈیئری ڈیولپمنٹ، خوراک اور رسد، فشریز اور محکمہ برائے فلاح خواتین قابل ذکر ہیں۔ سرکار بننے کے بعد سے آج تک کام میں صفر ثابت ہونے والے محکموں میں چیرٹی ورک، سول پروٹیکشن، پس ماندہ طبقے کی فلاح، سیاحت، کھادی اور دیہی صنعت، مائننگ اور ٹیکنیکل ایجوکیشن کے محکمے شامل کیے جا سکتے ہیں۔ جن محکموں کے نام فہرست میں کہیں بھی نہیں ہے، ان کے کام کس لائق ہیں، اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔
کام میں صفر رہنے والے محکموں میں بھی کچھ محکمے متعلقہ وزیروں کے غلط کاموں کی وجہ سے شکایتوں یا الزامات کے گھیرے میں رہے ہیں۔ ان میں مائننگ ڈپارٹمنٹ سرفہرست ہے۔ مائننگ ڈپارٹمنٹ کے وزیر کابینہ اور وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کے خاص، گایتری پرساد پرجا پتی اپنی بداعمالیو ںکی وجہ سے مشہور ہو چکے ہیں۔ ان کا بیٹا انل پرجاپتی بھی انہی کے نقش قدم پر چل کر نام کما رہا ہے۔ امیٹھی ضلع میں تحصیل کی سرکاری زمین پر قبضہ کیے جانے کے معاملے میں انل پرجاپتی کا نام سامنے آیا۔

اس کے اوپر بیع نامے کے کاغذات میں ہیرا پھیری کرنے اور اسٹامپ چوری کرنے کے ساتھ ہی تحصیل کی خالی پڑی زمین پر جبراً قبضہ کرکے عمارت تعمیر کرانے کا الزام ہے۔ یہ معاملہ اتنا سنگین ہے کہ وکیلوں کی مقامی یونین بھی اس پر باقاعدہ ناراضگی ظاہر کر چکی ہے، لیکن سرکار نے اس پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ وزیر کے بیٹے پر غلط طریقے سے زمین پر قبضہ کرنے کا یہ کوئی پہلا الزام نہیں تھا، اس سے پہلے امیٹھی کی ایک بیوہ عورت کی زمین پر وزیر کابینہ گایتری پرجاپتی کے ذریعے قبضہ کیے جانے کے خلاف متاثرہ بیوہ عورت اپنی فیملی کے ساتھ لکھنؤ میں دھرنے پر بیٹھ چکی ہے۔
امیٹھی تحصیل کے پاس ٹاؤن ایریا میں رہنے والے پردیپ شریواستو سے گایتری پرجاپتی کے بیٹے انل پرجاپتی نے لائف کیور میڈیکل اینڈ ریسرچ سنٹر نامی اپنے ایک این جی او کے نام پر زمین خریدی۔ اس این جی او کا ڈائرکٹر خود انل پرجاپتی ہے۔ خریدی گئی زمین کے بغل میں خالی پڑی امیٹھی تحصیل کی زمین پر قبضہ کرکے انل پرجاپتی نے تعمیر کا کام بھی شروع کر دیا۔ تحصیل کے وکیلوں نے اس کی شکایت امیٹھی کے ڈپٹی کلکٹر آر ڈی رام سے کی، لیکن معاملہ وزیر کابینہ کے بیٹے سے جڑا ہونے کے سبب کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ وکیلوں نے اس کے خلاف کام کا بائیکاٹ کر دیا اور سلطانپور ڈسٹرکٹ کورٹ پہنچ گئے۔ عدالت نے اس زمین پر تعمیر کے کام کو فوراً روک دینے کا حکم دے دیا۔
ریاست کے وزیر برائے مائننگ گایتری پرساد پرجاپتی کی مالی طاقت دیکھتے ہی دیکھتے اتنی بڑھ گئی کہ ان کا جاہ و جلال اب سڑکوں پر بھی دکھائی دینے لگا ہے۔ امیٹھی میں وزیر موصوف نے ایک سنیما ہال بھی خرید لیا ہے۔ وِمل پکچر ہال خریدنے کے بعد اب انہیں اس احاطہ کے ارد گرد کی ساری عمارتیں اور زمینیں چبھنے لگیں۔ لہٰذا، وزیر موصوف نے وِمل سنیما ہال کے بغل میں بیوہ شو دیوی گپتا کی زمین پر بھی جبراً قبضہ جما لیا۔ انتظامیہ نے باقاعدہ بلڈوزر لگا کر زمین کی چہار دیواری گرادی۔ دیوار کو گرائے جانے کے وقت وزیر کا نام نہاد پی آر او بھی وہیں موجود تھا۔ اس کی اطلاع امیٹھی کے کلکٹر اور ڈپٹی کلکٹر (صدر) کو دی گئی۔ کلکٹر نے ایس او کو قبضہ ہٹوانے کا حکم دیا، لیکن انتظامیہ اس قبضہ کو نہیں ہٹوا سکی، قانون کو ہاتھ میں رکھنے والے وزیر کے آگے پوری ضلع انتظامیہ بے بس اور لاچار ثابت ہوئی۔
دوسری طرف مائننگ ڈپارٹمنٹ کے کارناموں کی چرچا اس وقت پوری ریاست میں سب سے زیادہ ہے۔ جانکاروں کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ پیسے کانکنی سے ہی آتے ہیں، جس سے مالا مال ہونے والے لوگوں کی فہرست کافی لمبی ہے۔ غیر قانونی کانکنی کا پورے اتر پردیش میں بول بالا ہے۔ مورنگ مائننگ میں پٹّہ کہیں کا اور رائلٹی کہیں اور کی چل رہی ہے۔ ریاست کی جنگلاتی زمین میں بھی غیر قانونی کانکنی کا دھندہ بے تحاشہ چل رہا ہے۔ ایک ایک بیریئر سے کم از کم 40 لاکھ روپے کی وصولی ہوتی ہے۔ نیتا – نوکر شاہ – مافیا کی تکڑی سنڈیکیٹ کی شکل میں یہ دھندہ چلا رہی ہے۔ جالون اُرئی جیسے علاقوں میں لال سونے کے نام سے مشہور مورنگ کانکنی کا غیر قانونی کاروبار سنڈیکیٹ کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ دوسری کانوں کے مورنگ فارم ایم ایم – 11 کسی دوسری غیر قانونی کان پر بھی بخوبی چل رہے ہیں، اس کے باوجود مائننگ ڈپارٹمنٹ کے افسر اس کی چیکنگ نہیں کرتے ہیں۔ صاف ہے کہ انہیں اس کے عوض میں ہر ماہ موٹی رقم مل رہی ہے۔
غیر قانونی مورنگ کانکنی کے کالے کاروبار میں اقتدار سے وابستہ لوگ بلا خوف و خطر ملوث ہیں۔ ویسے تو ضلع جالون میں مورنگ خسارے کے معاملے میں اُرئی اور کالپی تحصیل میں ہی سب سے زیادہ کانیں ہیں، جن میں اُرئی تحصیل میں سمریا، کھرکا، مہانہ ہیدل پور، ددری، امروڑ جیسی اہم کانیں چل رہی ہیں، لیکن خاص بات یہ ہے کہ ددری اور امروڑ کے پٹّہ مالکوں کے ذریعے دوسری ایسی کانوں کے لیے غیر قانونی طریقے سے ایم ایم – 11 دے دیا گیا، جہاں کسی وجہ سے کانکنی پر روک لگی تھی یا پٹّہ تھا ہی نہیں۔ جب اس ریکٹ کا پردہ فاش ہوا، تو انتظامیہ ددری کی مورنگ کان کے پٹّہ مالک کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی بات کرنے لگی۔ سرکار کے ایک سینئر وزیر کے منھ بولے نیتا نے مائننگ آفیسر کو اپنا فرمان بھی جاری کر دیا کہ ایسی کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی جائے گی۔ نیتا کے فرمان پر مائننگ افسروں کی بولتی بند ہو گئی اور انہوں نے خاموش بیٹھنے میں ہی اپنی بھلائی سمجھی۔ اسی طرح کالپی تحصیل میں ہمن پورہ، سمسی، موہر دیوی، بھینڑی خورد جیسی کانیں چل رہی ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ موہر دیوی اور سمسی مورنگ کانوں کا نہ تو کوئی پٹّہ ہے اور نہ ہی پرائیویٹ زمین کی شکل میں یہاں پر کسی قسم کی کانکنی کی اجازت ہے، پھر بھی اقتدار سے وابستہ لیڈروں اور مائننگ ڈپارٹمنٹ کے افسروں کی ملی بھگت سے دھڑلے سے یہاں دوسرے پٹّہ مالکوں کے ایم ایم – 11 کا استعمال کرکے غیر قانونی طریقے سے کانکنی کی جا رہی ہے۔ اس غیر قانونی کانکنی سے آنے والے بے تحاشہ پیسے کو جمع کرنے کے لیے اقتدار نے وزیر کے ساتھ ساتھ ایک اور شخص کو اس کام میں لگا رکھا ہے۔
وزیروں کے کارناموں سے متعلق ایسی مثالیں بھری پڑی ہیں۔ اتر پردیش کے کپڑا اور ریشم کے وزیر شو کمار بیریا کی اپنی ہی سرکار اور انتظامیہ کے خلاف بے لگام بیان بازی اور غیر شائستہ حرکتیں اکھلیش سرکار کو شرمسار کر چکی ہیں۔ سی ایم او کا اغوا کرانے والے ایم ایل اے ونود کمار سنگھ عرف عرف پنڈت سنگھ کو کابینہ میں دوبارہ شامل کرنے کا واقعہ بھی اکھلیش سرکار کی شبیہ کو مسخ کرنے والا ایک بڑا واقعہ ثابت ہوا۔ سی ایم او کے اغوا معاملے میں پنڈت سنگھ کو اکتوبر 2012 میں کابینہ سے باہر کر دیا گیا تھا، لیکن اکھلیش نے انہیں پھر سے کابینہ میں واپس لے لیا۔ یاد کرتے چلیں کہ پنڈت سنگھ نے این آر ایچ ایم بھرتی میں اپنے لوگوں کی تقرری کا دباؤ بنانے کے لیے اُس وقت کے سی ایم او ایس پی سنگھ کا اغوا کر لیا تھا۔ پنڈت سنگھ کی غنڈہ گردی کا حال یہ ہے کہ اغوا معاملے میں نہ صرف متعلقہ سی ایم او، بلکہ ضلع کے اُس وقت کے ڈی ایم ابھے، ایس پی کرپا شنکر اور سی ڈی او اروِند سنگھ تک کو انڈر گراؤنڈ ہوجانا پڑا تھا۔ بعد میں انتظامیہ نے 13 اکتوبر کو ان سبھی افسروں کا وہاں سے تبادلہ کر دیا۔ اس معاملے کی جانچ لکھنؤ کے اس وقت کے کمشنر سنجیو متل کو سونپی گئی، لیکن انہوں نے ملزم پنڈت سنگھ کو ہی جانچ کے دائرے سے باہر رکھ دیا۔ پچھلی سماجوادی سرکار کے دوران ہوئے 35 ہزار کروڑ روپے کے اناج گھوٹالے میں بھی پنڈت سنگھ کا نام اجاگر ہوا تھا۔
اکھلیش سرکار کے وزیروں اور ممبرانِ اسمبلی کی اخلاقی ذمہ داریوں کو جانچنے کے لیے ایک میڈیا انسٹیٹیوٹ نے اقتدار سے وابستہ تقریباً ایک درجن لوگوں کا اسٹنگ آپریشن کیا تھا اور اقتدار کے گلیارے میں چل رہی بدعنوانی کو اجاگر کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش کی تھی۔ پیسے لے کر کام کرنے کا وعدہ کرنے والے لوگوں میں ریاست کے محنت و روزگار محکمہ میں صلاح کار اور وزیر مملکت کی حیثیت میں رہے حاجی محمد عباس، اتر پردیش ایگریکلچر ریسرچ کونسل کے چیئرمین اور وزیر مملکت کے درجے میں رہے شری پرکاش رائے، وزیر مملکت کا درجہ حاصل کرنے والے اشیائے ضروریہ کارپوریشن کے چیئرمین رہے حاجی اکرام قریشی، ایس پی ایم ایل اے اور سابق وزیر شاکر علی، سابق وزیر مملکت آنند سین یادو، ایس پی ایم ایل اے چندرا راوت، شاردا پرساد شکلا، سماجوادی پارٹی کی ریاستی عاملہ کے رکن رام پرکاش یادو، سماجوادی پارٹی کے یوا مورچہ کے سکریٹری ستیش یادو، ایس پی کے سنبھل ضلع کے سکریٹری اُرمان سنگھ یادو، اتر پردیش نو نرمان سینا کے صدر امت اگروال عرف امت جانی اور لکھنؤ کے سابق ایم ایل سی ایاز احمد وغیرہ کے نام شامل ہیں۔ ان لوگوں نے اتر پردیش کے محکمہ دیہی ترقی میں بی ڈی او کی بھرتی کے لیے لوگوں سے 8 سے 13 لاکھ تک کی رشوت مانگی۔ کئی جگہ رشوت کا آدھا حصہ ٹوکن منی کی شکل میں پہلے مانگا گیا۔ یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ پنچایتی راج محکمہ میں بھی تقرریاں اسی طرز پر ہو رہی ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پولس محکمہ میں بھی تقرریاں اسی طرز پر طے ہونے لگی ہیں۔ کئی لوگوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کی سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈروں اور وزیروں سے ساز باز ہے۔
دو بار وزیر رہ چکے ایس پی ایم ایل اے شاکر علی کو چھوڑ کر ان سبھی لیڈروں نے پیسہ لے کر بھرتی کرانے کا بھروسہ دلایا۔ صرف شاکر علی تنہا ایسے لیڈر نکلے، جنہوں نے پیسہ لے کر کام کرنے سے منع کر دیا۔ المیہ یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے درجہ حاصل وزرائے مملکت کی فوج سے پہلے 36 اور پھر دوسری کھیپ میں 82 وزیروں کو نکال کر سرخیاں تو بٹور لیں، لیکن اصلیت یہ ہے کہ برخاست وزیروں کی بیک ڈور سے واپسی کے انتظام بھی ہو رہے ہیں۔ کئی بالواسطہ طور پر طاقتور ہو بھی چکے ہیں۔ ریاست میں وزیر کی بدعنوانی کو اجاگر کرنے والے پولس افسروں کا تبادلہ کر دیے جانے جیسے معاملے بھی سرکار کی ترجیحات اجاگر کر چکے ہیں۔ آپ کو یاد ہی ہوگا کہ شوگر کارپوریشن کے صدر رہے کے سی پانڈے کی بدعنوانی اور ان کے ذریعے جانوروں کی اسمگلنگ کو تحفظ دیے جانے کا ثبوت پیش کرنے والے گونڈا کے سپرنٹنڈنٹ آف پولس نونیت رانا کا تبادلہ کرکے انہیں اس کا انعام دیا تھا۔ اس کے علاوہ اتر پردیش کے مختلف سطح کے دو درجن وزیروں پر سنگین الزام کے معاملے بھی زیر غور ہیں اور انہیں سب کی بنیاد پر سماجوادی پارٹی کو 2017 کے انتخابی میدان میں اترنا ہے۔

سی سی ٹی وی کیمرے سے گھبراتے کیوں ہیں وزیر؟
اکھلیش سرکار نے وزیروں کی رہائش گاہ پر سی سی ٹی وی کیمرے لگوانے کا فیصلہ کیا، تو وزیروں میں گھبراہٹ پھیل گئی۔ کئی وزیروں نے اپنی ناخوشی کھلے طور پر ظاہر کر دی۔ وزیر اعلیٰ تو کیمرے لگوانے پر بضد تھے، لیکن آخرکار کیمرے لگوانے کا جوش ڈھیلا پڑ گیا۔ قابل ذکر ہے کہ جب سے سماجوادی پارٹی کی سرکار بنی ہے، تب سے ممبرانِ اسمبلی اور وزیروں کے بارے میں تمام شکایتیں سرکار سے لے کر پارٹی تک پہنچ رہی ہیں۔ اس پر پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ اپنی ناراضگی کئی بار ظاہر کر چکے ہیں۔ اسے دیکھتے ہوئے اکھلیش یادو نے وزیروں کے گھروں پر بھی سی سی ٹی وی کیمرے لگوانے کا فیصلہ لیا۔ وزیر اسے ذاتی زندگی میں دخل بتا رہے ہیں۔

مستی اور جشن سے ترقی کو صحیح رفتار
کام کاج چھوڑ کر وزیروں کے جشن منانے، مستی کرنے اور ملک سے باہر گھومنے کے معاملے اخباروں کی سرخیاں بن چکے ہیں۔ مستی اور فضول خرچی کا عالم یہ ہے کہ اسٹڈی ٹور کے نام پر بیرونی ملک کا دورہ کرنے گئے وزیروں نے ایمسٹرڈم کے سات ستارہ ہوٹل میں تین لاکھ روپے ایک رات کے کرایے پر کمرے لیے تھے۔ اکھلیش سرکار کے 17 وزیر اور ایم ایل اے انٹرنیشنل اسٹڈی ٹور کے نام پر ملک سے باہر تفریح کرنے کے لیے گئے تھے۔ 20 دنوں کے اسٹڈی ٹور میں برطانیہ، متحدہ عرب امارات، نیدرلینڈ، یونان اور ترکی کی سیر سپاٹے کا منصوبہ تھا۔ اکھلیش سرکار کے سینئر وزیر اعظم خاں کی قیادت والے اس قافلہ میں راجا بھیا، امبیکا چودھری، شوکانت اوجھا اور شو کمار بیریا سمیت کئی وزیر اور ایم ایل اے شامل تھے۔ عالیشان سیفئی فیسٹول میں کروڑوں روپے خرچ کرکے مستی کرنے میں اکھلیش سرکار بھی ملک بھر میں نام کما چکی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *