سانسد آدرش گرام یوجنا، بہتر پلاننگ مگر کتنی عملی؟

اے یو آصف
p-3گزشتہ 11 اکتوبر، 2014 کو وزیر اعظم نریندر مودی نے یومِ آزادی کے موقع پر اعلان کے مطابق، نئی دہلی کے وگیان بھون میں سانسد آدرش گرام یوجنا (ایس اے جی وائی) کا جو لانچ کیا ہے، وہ یقینا بہت ہی اہم اور غیر معمولی ہے، کیوں کہ اس کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہیں ہے کہ ہندوستان جیسے گاؤں اکثریتی ملک میں تمام گاؤں مثالی بن جائیں۔ یہ وہ خواب ہے، جو کہ خود بابائے قوم گاندھی جی نے دیکھا تھا۔ گاؤں کی حیثیت و اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آئین ہند میں اسے تسلیم کیا گیا ہے۔ اسی مناسبت سے پنچایتی راج کا نظام قائم ہے، جس میں گرام پنچایت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ 1992 میں آئین ہند کی 73 ویں ترمیم کے ذریعے ملک میں جمہوری Decentralization کی جو اسکیم شروع ہوئی، گرام سبھا اس کا اہم جز ہے۔ گرام سبھا کا مطلب ہوتا ہے، افراد کی ایک ایسی باڈی جو کہ گاؤں کی سطح پر پنچایت کے حلقہ کے اندر گاؤں کے تعلق سے انتخابی فہرست (Electoral Rolls) میں رجسٹرڈ ہو۔ ایک گرام سبھا ریاست کے لیجسلیچر کی مانند گاؤں کی سطح پر اپنے اختیارات کا استعمال کر سکتی ہے اور اپنے کام کو انجام دے سکتی ہے۔ نئے پروویژنس کے مطابق، گرام سبھا کے علاوہ مہیلا سبھا اور بال سبھا بھی وجود میں آئیں گی۔
آئیے، اب دیکھتے ہیں کہ سانسد آدرش گرام یوجنا آخر ہے کیا اور یہ کتنا قابل عمل ہے؟ سانسد آدرش گرام یوجنا ایک ایسا منصوبہ ہے، جس کے تحت ہندوستان کے ہر ایک رکن پارلیمنٹ کو 2016 تک ایک اور 2019 تک مزید دو گاؤں کو گود لینا ہے اور اسے مکمل طور پر اسی مدت میں ڈیولپ بھی کر دینا ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ 2019 تک 2500 گاؤں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے تمام ارکان کے ذریعے ان کے ایم پی فنڈ (ایم پی ایل اے ڈی) کے استعمال سے ڈیولپ کیے جائیں گے۔
دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ڈیولپمنٹ کے اپروچ کو شمولیاتی (Participative) کہا جاتا ہے اور اس کا اطلاق صحت، نیوٹریشن، تعلیم، مڈ ڈے میل اسکیموں کو بہتر بنانے، آدھار انرولمنٹ، انفارمیشن ٹکنالوجی (آئی ٹی) سے لیس کلاس روم اور ای لائبریری کے ساتھ اسمارٹ اسکولوں کے قیام اور مہاتما گاندھی نیشنل رورل امپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) اور بیک ورڈ ریجنس گرانٹس فنڈ (بی آر جی ایف) پر ہوتا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت ایک رکن پارلیمنٹ کو یہ آزادی ہے کہ وہ اپنے پارلیمانی حلقہ میں اپنی پسند کے گاؤں کا اسے گود لینے کے لیے انتخاب کرے۔
مگر ستم ظریفی تو یہ ہے کہ مذکورہ بالا ایم پی فنڈ کا ہمیشہ مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس سے منتخب رکن پارلیمنٹ کے مخصوص حلقہ کا ڈیولپمنٹ کیا جائے گا۔ لہٰذا، اس منصوبہ کے اعلان کو نوعیت کے اعتبار سے Motivational اور Inspirational سمجھا جائے گا۔ یہ سمجھتے ہوئے کہ اس منصوبہ کا مطالبہ ہے کہ اسکیم کے نفاذ کے پروگریس کی مستقل مانیٹرنگ کی جائے، ہر ایک رکن پارلیمنٹ کو اپنے علاقہ میں ہو رہی ترقی اور وہ کس طرح اپنے ایم پی فنڈ کو ہر سال خرچ کر رہا ہے، کو رائٹ ٹو انفارمیشن (آر ٹی آئی) کے تعلق سے نئے ضابطوں کی روشنی میں سرکاری طور پر اپنے حلقہ کی بنائی گئی ویب سائٹ پر اَپلوڈ کرنا پڑے گا۔
قابل ذکر ہے کہ ابھی حال میں پرسنل اور ٹریننگ کے شعبہ سے ایک سرکاری میمورنڈم تمام مرکزی وزارتوں اور محکموں کو ارسال کیا گیا ہے، جس میں انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام آر ٹی آئی جوابات اور فرسٹ اپیلوں کو متعلقہ وزارت اور محکمہ کے ویب سائٹ پر اَپلوڈ کریں۔
دریں اثناء یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ ایک رکن پارلیمنٹ جس گاؤں کو گود لینے جا رہا ہے، وہ پنچایتی گاؤں ہونا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ایسا گاؤں ہو، جس پر پنچایت کا نام رکھا گیا ہو، جو کہ عام طور سے وہاں کے تمام گاؤں میں سب سے بڑا گاؤں ہوتا ہے۔ اس شرط کی وجہ یہ ہے کہ اس سے گاؤں اور پنچایت دونوں سطحوں پر دو طرح کی ترقی دکھائی پڑے گی۔
ظاہر سی بات ہے کہ اس طرح سانسد آدرش گرام یوجنا اور آر ٹی آئی کے نئے ضابطوں سے متعلق سرکاری میمورنڈم کی روشنی میں پورے پنچایتی گاؤں کو وائی فائی ژون بنانا پڑے گا اور یہ تبھی ممکن ہے، جب کارپوریٹ سوشل رِسپانسی بلیٹی (سی ایس آر) کے لازمی اسکوپ کے تحت ISPs اور Telcos سے ربط ہوں۔ اس کے لیے پورے پنچایتی گاؤں کو نیشنل ڈجیٹل لٹریسی مشن (این ڈی ایل ایم) سے پورے طور پر ڈجیٹل کے لحاظ سے خواندہ بنانے کے لیے جوڑنا ہوگا۔
اس پورے منصوبہ کو عملی شکل دینے کے لیے ابھی حال میں اعلان کردہ ڈجیٹل انڈیا پروگرام (ڈی آئی پی) کو سانسد آدرش گرام یوجنا سے بھی منسلک کرنا پڑے گا اور اسی کے ساتھ ساتھ آر ٹی آئی کے فلسفہ کو رائے دہندگان (Electorate) کے پاس مثبت جوابدہی کے رہنما اصول کے طور پر لے کر جانا پڑے گا۔ یہ مانتے ہوئے کہ ڈجیٹل انڈیا پروگرام اور سانسد آدرش گرام یوجنا ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں، تب پانچ برس کی مدت کے ختم ہونے پر ہمارے ملک میں 2500 ڈجیٹل گاؤں وجود میں آ جائیں گے، جہاں ایسے اسکول اور ہیلتھ سنٹرس ہوں گے جو کہ براڈ بینڈ کنیکٹیڈ بھی ہوں گے، نیز سائبر اسپیس پر تمام پارلیمانی حلقے دستیاب ہوں گے، جس سے انفارمیشن ہائی وے پر ہندوستان کی موجودگی ممکن ہو سکے گی۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ ہائی ٹیک آدرش گاؤں ہندوستان جیسے ملک میں، جہاں گاؤں فی الوقت جدید ٹکنالوجی سے کوسوں دور ہیں، عملی شکل اختیار کر پائیں گے؟ اس سوال کے ساتھ یہ تلخ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ڈجیٹل انفراسٹرکچر کے شعبوں میں فنڈ فراہم کرانے کے لیے ایم پی فنڈ کے رہنما اصولوں میں گنجائش بہت کم ہے۔ جب تک مرکز ارکان پارلیمنٹ کو دیے جا رہے فنڈس کو از سر نو ترتیب نہیں دیتا ہے یا Redesign نہیں کرتا ہے، تب تک ایم پی فنڈ اس کاز کے لیے بہت زیادہ مفید نہیں ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ضابطہ میں یہ گنجائش ہو کہ ارکان پارلیمنٹ اپنے حلقوں میں ڈجیٹل Intervention کے لیے بجٹ مختص کر سکیں۔
علاوہ ازیں اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ ہندوستان کی کل 2 لاکھ 50 ہزار پنچایتوں میں فی الوقت ہمارے ٹارگیٹ میں 2500 گاؤں محض ایک فیصد ہیں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ اگر ہم 2500 پنچایتی گاؤں کو پانچ برسوں میں آدرش گاؤں بنانے جا رہے ہیں، تب ملک کے تمام 2 لاکھ 50 ہزار پنچایت گاؤں کو سانسد آدرش گرام یوجنا کے تحت مثالی گاؤں بنانے میں کئی دہائیاں لگ جائیں گی۔
ویسے بھی کسی منصوبہ کو جب ارکان پارلیمنٹ سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے، تب یہ سوال فطری طور پر اٹھتا ہے کہ یہ ارکان پارلیمنٹ تو وہی ہیں، ان کے ایم پی فنڈس بھی وہی ہیں اور گاؤں کی ترقی کے لیے سرکاری اسکیمیں بھی کم و بیش وہی ہیں، تو پھر اچانک کوئی جادو کہاں سے ہو جائے گا؟ یہ منصوبہ تبھی عملی شکل لے سکتا ہے، جب اسے قابل عمل بنایا جائے، زمینی سطح سے عملی طور پر جوڑا جائے اور ویسے افراد ارکان پارلیمنٹ کے طور پر منتخب ہوں اور عوامی نمائندے بنیں جو کہ خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ہوں۔
غور طلب ہے کہ لوک نائک جے پرکاش نارائن کے یومِ پیدائش کے موقع پر سانسد آدرش گرام یوجنا کی لانچنگ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے جو تحریری پیغام پیش کیا تھا، اس میں تین ترقی یافتہ گاؤں کا مثال کے طور پر ذکر ہے۔ ایک، خود ان کی اپنی ریاست گجرات میں پنساری، جسے ملک کا ’نمبر وَن‘ گاؤں کہے جانے کا حوالہ ہے۔ دوسرا، تلنگانہ میں گنگا دیوی پلی اور تیسرا، مہاراشٹر میں ہیوارے بازار ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ تینوں و دیگر گاؤں سانسد آدرش گرام یوجنا سے قبل مقامی باشندوں کی توجہ اور محنت و لگن کے ثمرات ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اس طرح کے گاؤں نے جہاں ان دیہی علاقوں کو ہر طرح سے ترقی یافتہ بنا دیا ہے، وہیں ان گاؤں سے ملازمت کے لیے شہروں کی جانب عمومی منتقلی بڑی حد تک رکی ہے۔ ویسے خصوصی طور پر طلباء و نوجوانوں کی کریئر میں بہتری اور مہارت کے لیے گاؤں سے باہر جانے کا سلسلہ تو جاری ہے اور شاید رہے گا بھی۔
گاؤں کو آدرش بنانے کے لیے وزیر اعظم نے ’جن بھاگیداری‘ پر فوکس کیا ہے اور کہا ہے کہ اس اسکیم کا آغاز بھی ’لوگو‘ (Logo) کے چننے کے لیے ’آن لائن کمپٹیشن‘ کے ذریعے کیا گیا ہے، نیز اسکیم کے جز کے طور پر گاؤں والے خود اپنے پلان، سرگرمیوں اور نتائج کے ٹارگیٹس کو طے کریں گے۔ اب تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ ارکان پارلیمنٹ کی یہ یوجنا کس طرح عوامی بنتی ہے اور زمینی سطح پر فائدے پہنچا پاتی ہے؟ قابل ذکر ہے کہ دہلی میں بی جے پی سے منتخب ساؤتھ دہلی کے رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوری نے چھترپور فارم ہاؤسز سے چند کلومیٹر کی دوری پر دہلی – روہتک سرحد پر واقع بھٹی گاؤں کو گود لینے کا اعلان کیا ہے، جو کہ یہاں کا سب سے پس ماندہ گاؤں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ دہلی میں اس اولین گاؤں کی ترقی اس یوجنا کا اولین امتحان ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *