صحافت کے موضوع پر سنتوش بھارتیہ کی کتاب’پترکارتا‘ سے ایک ورق : ڈیسک کا معیار اور اہمیت

آج صحافت کے معنی بدل گئے ہیں، بدل رہے ہیں یا بدل دیے گئے ہیں، نتیجتاً ان صحافیوں کے سامنے بھٹکنے جیسی کیفیت آگئی ہے، جو صحافت کو کمزور ، بے سہارا لوگوں کی آواز اٹھانے کا ذریعہ مان کر اس شعبے میں آئے اور ہمیشہ مانتے رہے اور وہ نو آموز تو اور بھی زیادہ تذبذب میں ہیں، جو صحافت کی دنیا میں سوچ کر کچھ آئے تھے اور دیکھ کچھ اور رہے ہیں۔ ایسے میں 2005میں شائع سنتوش بھارتیہ کی کتاب ’پترکارتا: نیا دور، نئے پرتیمان‘ ہماری رہنمائی کرتی اور بتاتی ہے کہ ہمارے سامنے کیا چیلنجز ہیں او رہمیں ان کا سامنا کس طرح کرنا چاہیے۔ چار دہائی سے بھی زیادہ وقت ہندی صحافت کو وقف کرنے والے سنتوش بھارتیہ ملک کے ان صحافیوں میں شمار کیے جاتے ہیں، جوملک اورسماج سے متعلق ہر ایک ایسو پر بے خوف، درست، غیر جانبدار تبصرہ کرتے ہیں۔ کتاب ’پترکارتا: نیا دور، نئے پرتیمان‘ میں ’رویوار‘ سے لے کر ’چوتھی دنیا‘ تک کے سفر کے ان کے مختلف تجربات اور رپورٹس مرتب کی گئی ہیں، جن کی اشاعت ہم قسطوارشروع کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ صحافتی دنیا کے ساتھیوں او رقارئین کو ہماری یہ کوشش پسند آئے گی۔

bookسب سے اہم ہے ڈیسک، یعنی سب ایڈیٹر وں یا پروڈیوسروں کی ٹیم۔ اگر سب ایڈیٹر یا پروڈیوسر کا انتخاب ٹھیک سے کر لیں، تو اخبار، میگزین یا چینل کی ترقی دن دونی اور رات چوگنی ہوتی ہے۔ سب ایڈیٹر یا پروڈیوسر کو سیاست کے ساتھ سماجیات اور اقتصادیات کے موضوع پر عبور ہونا چاہیے۔ اتنا ہی نہیں، اسے روز مرہ کے سیاسی حالات کی بھی واقفیت ہونی چاہیے۔ ڈیسک کا تعین کچھ اس طرح سے ہو کہ اس میں ہر موضوع کے ماہرین سب ایڈیٹر یا پروڈیوسر ہوں۔ کھیل، ادب، کاروبار، بین الاقوامی امور کے ساتھ ملک کے ہرحصے کے مسائل سے واقف شخص تو ہو ں ہی، ان کی زبان کی واقفیت بھی پختہ ہونی چاہیے۔ ان میں اتنی اہلیت ہونی چاہیے کہ انھیں دیے گئے صفحات یا موضوع جب ان کی ٹیبل سے نکلیںتو وہ مکمل ہوں۔
سب ایڈیٹر یا پروڈیوسر کو ریڑھ کی ہڈی کارول نبھانا پڑتا ہے۔اس میں کوئی تعصب نہیں ہونا چاہیے۔ اگر اسے کچھ غلط لگتا ہے، تو بے جھجک ایڈیٹر سے کہہ دینا چاہیے۔ سب ایڈیٹر یا پروڈیوسر کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ اپنے نظریات کے تعلق سے بہت محتاط رہے اور ایڈیٹنگ کے دوران اپنے نظریات کورپورٹ میں شامل نہ کرے۔ وہ مضمون یارپورٹ کو ایسی شکل نہ دیدے، جو ا س کی اصل روح سے الگ ہو۔ سب ایڈیٹر یا پروڈیوسر کو اکثرپیراگراف ہی نہیں، کبھی کبھی پوری رپورٹ کو ازسرنو لکھنا پڑتا ہے۔ اس عملکے دوران بھی تمام طرح کے خطرات رہتے ہیں۔
صحافت میں سب سے زیادہ ضرورت محتاط رہنے کی ہی ہے۔ فیلڈ سے آئی رپورٹ میں چار چاند بھی سب ایڈیٹریا پروڈیوسر ہی لگاتے ہیں اور اسے برباد بھی وہی کرتے ہیں۔ رپورٹ کی کمیاں دور کرنے کاکام سب ایڈیٹر یا پروڈیوسر کا ہے۔ اگر وہ کمیاں دور نہیں کرتا اور کمیوں کا مذاق اڑاتا ہے، تو وہ اپناکام نہیں، بلکہ ظلم کرتا ہے۔ سب ایڈیٹر یا پروڈیوسر ہی بنیادی طور پرفیصلہ کرتا ہے کہ کس رپورٹ کو چھوٹا کرنا ہے اور کس میں جانکاریاںجوڑنی ہیں۔ اگر وہ بیشتر خبریں نہیں پڑھے گا، تو اسے جانکاریاں مل ہی نہیں سکتیں۔ اس لیے پڑھنا اس کے لیے بھی نہایت ضروری ہے۔ سب ایڈیٹر یا پروڈیوسر کا ایک کام موضوع تجویز کرانا بھی ہے، تاکہ ایڈیٹر فیصلہ کرے کہ کس موضوع کو کب کور کرانا ہے۔ سب ایڈیٹر یا پرڈیوسر کو اس نظریے سے بھی اخبار، میگزین یا چینل دیکھنے چاہئیں، تاکہ وہ ان کی کمیاں تلاش کر سکے اور ان کمیوں کو اپنے یہاں دور کرنے کی صلاح دے سکے۔ سب ایڈیٹر یا پرڈیوسر کو ہمیشہ خیال رکھنا چاہیے کہ وہ کم سے کم اتنا ضرور کرے کہ وہ دوسری جگہ جانے والی کمیوں کو اپنے یہاں دور کرنے میں یا روکنے میں اپنا رول نبھا دے، تو اس کا اخبار یا چینل دوسروں سے ویسے ہی تھوڑا الگ دکھائی دینے لگے گا۔
پہلی سطح پر یہ سب ایڈیٹر یاپروڈیوسر کا کام ہے کہ وہ یہ بھی دیکھے کہ جو رپورٹ اس کے پاس آئی ہے، کہیںجانبدارانہ تو نہیں ہے، اس رپورٹ کا مقصد کیا ہے اور کچھ لوگوں یا فرقوں کو تکلیف پہنچانے والی تو نہیں ہے؟ اگر اسے لگے کہ نامہ نگار نے غلطی سے یا جان بوجھ کر کچھ ایسا ہی کیا ہے، تو اسے فوری طور پر ایڈیٹر کواس کی اصلیت سے واقفیت کرادینا چاہیے، تاکہ ایڈیٹر، نامہ نگار سے صورتحال صاف کر سکے۔ سب ایڈیٹر یا پروڈیوسر کے لیے ضروری ہے کہ وہ دوسروں کی کمزوری کو اپنی ڈھال نہ بنائے۔ مثال کے طور پر دوسروں نے ایسا نہیں کیا، تو اس نے بھی نہیں کیا۔ اسے خبروں کے اصل ذرائع تک پہنچنے والی ایڈیٹنگ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا، تو اسے کاروباری نااہلی مانا جانا چاہیے اور اگر کوئی سب ایڈیٹر یا پروڈیوسر کاروباری نااہلی کا شکار ہے، تو اپنے عہدے سے انصاف نہیں کر سکتا ہے۔ اسے مستعد ہو کر اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ اس کا اخبار، میگزین یا چینل اس طرح سے نکلے کہ دوسرے لوگ اس سے مقابلہ کرنے کی کوشش کریں۔ دوسروں کو مقابلہ کے لییتحریک دینا یا اکسانا کسی بھی سب ایڈیٹر یا ڈیسک ٹیم کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
کسی بھی اخبار، میگزین یا چینل کا فائنل پروڈکٹ اس بات کو فوراً اجاگر کردیتا ہے کہ وہاں سب ایڈیٹروں یا پروڈیوسروں کا معیار کیسا ہے؟ اگر سب ایڈیٹر یا پروڈیوسر اچھے ہوں گے، تو فائنل پروڈکٹ بھی اچھا ہوگا۔ جتنا زیادہ ایڈیٹر کو محتاط رہنا چاہیے، شاید اس سے زیادہ سب ایڈیٹر یا پروڈیوسر کو محتاط رہنا چاہیے۔

میری رائے میں سب ایڈیٹر یا پرڈیوسر وہ شروعاتی کڑی ہے، جس میں نامہ نگار، ایگزیکٹو ایڈیٹر اور ایڈیٹر کی ساری صفات ہونی چاہئیں۔ ان صفات کے استعمال سے ہی وہ اچھا سب ایڈیٹر یا پرڈیوسر کہلاتا ہے۔ یہیں سے اس کی ترقی کی سمت کا تعین ہوتا ہے کہ وہ کتنی دور جائے گا۔ یہیں وہ اپنی حد بھی مقرر کر لیتا ہے۔ جو ساریصفات کا استعمال کرتا ہے، وہ ایڈیٹر تک کا سفر آسانی سے طے کرلیتا ہے۔ باقی سب عام سب ایڈیٹر یا پروڈیوسر سے تھوڑے بہتر بن کر رہ جاتے ہیں۔ آج کے کئی ایڈیٹر یا چیف ایگزیکٹو پروڈیوسر اپنے دور کے اچھے سب ایڈیٹر تھے۔ اگر مثال کے طور پر دیکھیں، تو سب سے بڑا نام راجندر ماتھر کا لے سکتے ہیں۔

میری رائے میں سب ایڈیٹر یا پرڈیوسر وہ شروعاتی کڑی ہے، جس میں نامہ نگار، ایگزیکٹو ایڈیٹر اور ایڈیٹر کی ساری صفات ہونی چاہئیں۔ ان صفات کے استعمال سے ہی وہ اچھا سب ایڈیٹر یا پرڈیوسر کہلاتا ہے۔ یہیں سے اس کی ترقی کی سمت کا تعین ہوتا ہے کہ وہ کتنی دور جائے گا۔ یہیں وہ اپنی حد بھی مقرر کر لیتا ہے۔ جو ساریصفات کا استعمال کرتا ہے، وہ ایڈیٹر تک کا سفر آسانی سے طے کرلیتا ہے۔ باقی سب عام سب ایڈیٹر یا پروڈیوسر سے تھوڑے بہتر بن کر رہ جاتے ہیں۔ آج کے کئی ایڈیٹر یا چیف ایگزیکٹو پروڈیوسر اپنے دور کے اچھے سب ایڈیٹر تھے۔ اگر مثال کے طور پر دیکھیں، تو سب سے بڑا نام راجندر ماتھر کا لے سکتے ہیں۔ وہ ’نئی دنیا‘ کے سب سے اچھے سب ایڈیٹر تھے اور جب وہ ’نو بھارت ٹائمز‘ کے ایڈیٹر ہوئے، تو بھی وہ اپنے اخبار کے لیے مختصر خبریں لکھ لیا کرتے تھے۔ اوم تھانوی ’راجستھان پتریکا‘ میں سب ایڈیٹر تھے، آج وہ ’جن ستّا‘ کے ایڈیٹر ہیں۔ آلوک مہتا بھی ’نئی دنیا‘ میں سب ایڈیٹر تھے، آج ’آؤٹ لُک‘ کے ایڈیٹر ہیں۔ رام کرپال سنگھ ’نو بھارت ٹائمز‘ میں سب ایڈیٹر تھے، آج وہ ’نو بھارت ٹائمز‘ کے ہی ایڈیٹر ہیں۔ ایسی ہی مثال قمر وحید نقوی کی بھی ہے، جو ’نوبھارت ٹائمز‘ میں سب ایڈیٹر تھے، آج وہ ’آج تک‘ چینل کے نیوز ڈائریکٹر ہیں۔ اور بھی کئی ایسی مثالیں مل جائیں گی۔
اکثر سب ایڈیٹر یا پروڈیوسر کے کام کو بہت ہی ہلکے ڈھنگ سے لیا جاتا ہے، جبکہ لیا نہیں جانا چاہیے۔ اس لیے فیصلہ سب ایڈیٹر یا پروڈیوسر کو ہی لینا ہے کہ وہ اپنی کتنی مہارت بڑھاتا ہے ، کیونکہ وہی اس کی ترقی کی اڑان کی بنیاد ہے۔
جاری

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *