پھانسی پر لٹکائی گئی بیٹی کا اپنی ماں کو درد بھرا پیغام

ایران کی 26 سالہ خاتون، ریحانہ جباری کو گزشتہ 25 اکتوبر کو پھانسی دے دی گئی۔ قصور بس اتنا تھا کہ 2007 میں انہوں نے ایران کے ایک سابق انٹیلی جنس آفیسر، 47 سالہ مرتضیٰ عبدالعلی سربندی کا اس وقت قتل کر دیا تھا، جب وہ ان کی عصمت دری کرنا چاہتا تھا۔ سات سال تک ریحانہ کے خلاف ایران کی عدالت میں مقدمہ چلا اور آخر کار 25 اکتوبر، 2014 کو انہیں پھانسی دے دی گئی۔ سماعت کے ان پانچ سالوں میں دنیا کو ریحانہ کی درد بھری داستان سننے کا موقع کبھی نہیں ملا، بلکہ دنیا کو اصل کہانی کا پتہ تب چلا، جب پھانسی کے دو دن بعد ریحانہ کے ذریعے اپنی ماں شعلہ کے نام چھوڑا گیا وہ پیغام اور وصیت عام کی گئی، جسے ریحانہ نے یکم اپریل 2014 کو جیل کے اندر چھوڑا تھا۔ اس پیغام میں ریحانہ نے جس طرح سے اپنی داستان بیان کی ہے، وہ دل کو دہلا دینے والی ہے۔ اس پیغام کو پڑھ کر پتہ چلتا ہے کہ ایران کی عدالت نے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اپنے اس پیغام میں ریحانہ نے کیا کہا ہے ……

پیاری شعلہ !
p-9مجھے آج پتہ چلا کہ اب میری قصاص کی باری آ گئی ہے۔ مجھے اس بات کا غم ہے کہ آپ نے مجھے یہ کیو ںنہیں بتایا کہ میں اپنی زندگی کی کتاب کے آخری صفحہ تک پہنچ چکی ہوں۔ آپ کو نہیں لگتا کہ مجھے یہ جاننا چاہیے تھا؟ آپ جانتی ہیں کہ میں اس بات سے کتنی شرمندہ ہوں کہ آپ غمگین ہیں۔ آپ نے مجھے آپ کا اور ابا کا ہاتھ چومنے کا موقع کیوں نہیں دیا؟
دنیا نے مجھے 19 برس جینے کا موقع دیا۔ اس منحوس رات کو میرا قتل ہوجانا چاہیے تھا۔ اس کے بعد میرے جسم کو شہر کے کسی کونے میں پھینک دیا جاتا اور کچھ دنوں بعد پولس آپ کو میری لاش کی شناخت کرنے کے لیے مردہ گھر لے جاتی اور وہاں آپ کو پتہ چلتا کہ میری عزت بھی لوٹی گئی تھی۔ میرا قاتل کبھی پکڑا نہیں جاتا، کیو ںکہ ہمارے پاس اس کے جتنی دولت اور طاقت نہیں ہے۔ اس کے بعد آپ اپنی باقی زندگی غم اور شرمندگی میں گزارتیں اور کچھ سالوں بعد اس درد سے گھٹ گھٹ کر مر گئی ہوتیں اور یہ بھی ایک قتل ہی ہوتا۔ لیکن اس منحوس حادثہ کے بعد کہانی بدل گئی۔ میرے جسم کو شہر کے کسی کونے میں نہیں، بلکہ قبر جیسی ایون جیل، اس کے سالٹری وارڈ اور اب شہرِ رے کی جیل جیسی قبر میں ڈال دیا گیا۔ لیکن آپ اسے تقدیر کا لکھا سمجھیں اور کوئی شکایت نہ کریں۔ آپ اچھی طرح جانتی ہیں کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں ہوتی۔
آپ نے مجھے سکھایا ہے کہ ہر انسان اس دنیا میں تجربہ حاصل کرنے اور سبق سیکھنے آتا ہے اور ہر جنم کے ساتھ اس کے کندھے پر ایک ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ میں نے سیکھا ہے کہ کئی بار ہمیں لڑنا ہوتا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آپ نے مجھے بتایا تھا کہ تانگہ والے نے اس آدمی کی مخالفت کی تھی، جو مجھ پر کوڑے برسا رہا تھا، لیکن کوڑے والے نے اس کے سر اور چہرے پر ایسی چوٹ کی، جس کی وجہ سے آخرکار اس کی موت ہو گئی۔ آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ انسان کو اپنے اصولوں کو جان دے کر بھی بچانا چاہیے۔
جب ہم اسکول جاتے تھے، تو آپ ہمیں سکھاتی تھیں کہ جھگڑے اور شکایت کے وقت بھی ہمیں ایک مہذب خاتون کی طرح پیش آنا چاہیے۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ آپ نے ہمارے برتاؤ کو کتنا متاثر کیا ہے؟ آپ کے تجربے غلط تھے۔ جب یہ حادثہ ہوا، تو میری سیکھی ہوئی باتیں میرے کام نہیں آئیں۔ عدالت میں حاضر ہوتے وقت ایسا لگتا ہے، جیسے میں کوئی خطرناک قاتل اور بے رحم مجرم ہوں۔ میں ذرا بھی آنسو نہیں بہاتی۔ میں گڑگڑاتی بھی نہیں۔ میں نے آہ وزاری نہیں کی، کیوں کہ مجھے قانون پر بھروسہ تھا۔
لیکن مجھ پر یہ الزام لگایا گیا کہ میں جرم ہوتے وقت سخت بنی رہی۔ آپ جانتی ہیں کہ میں نے کبھی ایک مچھر تک نہیں مارا اور میں کاکروچوں (تل چٹوں) کو بھی ان کے سرکی مونچھوں سے پکڑ کر باہر پھینکتی تھی۔ اب میں سازشاً قتل کرنے والی کہی جاتی ہوں۔ جانوروں کے ساتھ میرے برتاؤ کی تشریح میرے لڑکا بننے کی خواہش کے طور پر کی گئی۔ جج نے یہ دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا کہ حادثہ کے وقت میرے ناخن لمبے تھے اور ان پر نیل پالش لگی ہوئی تھی۔
ججوں سے انصاف کی امید کرنے والے لوگ کتنے پرامید ہوتے ہیں! کسی جج نے کبھی اس بات پر سوال نہیں اٹھایا کہ میرے ہاتھ کھیل سے جڑی خواتین کی طرح سخت نہیں ہیں، خاص طور پر مکے باز لڑکیوں کے ہاتھوں کی طرح۔ اور یہ ملک، جس کے لیے آپ نے میرے دل میں محبت بھری تھی، وہ مجھے کبھی نہیں چاہتا تھا۔ جب عدالت میں میرے اوپر سوال و جواب کا ہتھوڑا برس رہا تھا اور میں رو رہی تھی اور اپنی زندگی کے سب سے گھٹیا اور غلیظ الفاظ سن رہی تھی، تب میری مدد کے لیے کوئی آگے نہیں آیا۔ جب میں نے اپنی خوبصورتی کی آخری پہچان، اپنے بالوں سے چھٹکارہ پا لیا، تو مجھے اس کے بدلے 11 دنوں تک تنہا کال کوٹھری میں رہنے کا انعام ملا۔
پیاری شعلہ، آپ جو سن رہی ہیں، اسے سن کر روئیے گا نہیں۔ پولس تھانہ میں پہلے ہی دن ایک بوڑھے غیر شادی شدہ پولس ایجنٹ نے میرے ناخنوں کے لیے مجھے چوٹ پہنچائی۔ میں سمجھ گئی کہ اس دور میں خوبصورتی نہیں چاہیے۔ صورت کی خوبصورتی، خیالوں اور خوابوں کی خوبصورتی، خوبصورت تحریر، آنکھوں اور نظریہ کی خوبصورتی اور یہاں تک کہ کسی پیاری آواز کی خوبصورتی بھی کسی کو نہیں چاہیے۔
میری پیاری ماں، میرے خیالات بدل چکے ہیں اور اس کے لیے آپ ذمہ دار نہیں ہیں۔ میری بات کبھی ختم نہیں ہونے والی ہے اور میں نے اسے کسی کو پوری طرح دے دیا ہے، تاکہ جب آپ کی موجودگی اور جانکاری کے بغیر مجھے موت کی سزا دے دی جائے، تو اس کے بعد اسے آپ کو دے دیا جائے۔ میں نے آپ کے پاس اپنے ہاتھوں سے لکھی بہت ساری عبارت قیمتی اثاثہ کی شکل میں چھوڑی ہے۔
حالانکہ، میری موت سے پہلے میں آپ سے کچھ مانگنا چاہتی ہوں، جسے آپ کو اپنی پوری طاقت اور کوشش سے مجھے دینا ہے۔ دراصل، بس یہی ایک چیز ہے، جو اَب میں اس دنیا سے، اس ملک سے اور آپ سے مانگنا چاہتی ہوں۔ مجھے معلوم ہے، آپ کو اس کے لیے وقت کی ضرورت ہوگی۔ اس لیے میں آپ کو اپنی وصیت کا حصہ جلد بتاؤں گی۔ آپ روئیں نہیں اور اسے سنیں۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ عدالت جائیں اور ان سے میری درخواست کہیں۔ میں جیل کے اندر سے ایسا خط نہیں لکھ سکتی، جسے جیل انچارج کی اجازت مل جائے، اس لیے ایک بار پھر آپ کو میری وجہ سے تکلیف برداشت کرنی ہوگی۔ میں نے آپ کو کئی بار کہا ہے کہ مجھے موت کی سزا سے بچانے کے لیے آپ کسی سے بھیک مت مانگئے گا، لیکن یہ ایک ایسی خواہش ہے، جس کے لیے اگر آپ کو بھیک مانگنی پڑے، تو مجھے برا نہیں لگے گا۔
میری اچھی ماں، پیاری شعلہ! میری زندگی سے بھی پیاری، میں زمین کے اندر سڑنا نہیں چاہتی۔ میں نہیں چاہتی کہ میری آنکھیں اور میرا نوجوان دل مٹی میں مل جائے۔ اس لیے میں بھیک مانگتی ہوں کہ مجھے پھانسی پر لٹکائے جانے کے فوراً بعد میرے دل، کڈنی، آنکھیں، ہڈیاں اور جسم کے باقی جس حصے کا بھی ٹرانسپلانٹیشن ہو سکے، انہیں میرے جسم سے نکال لیا جائے اور کسی ضرورت مند انسان کو تحفہ کے طورپر دے دیا جائے۔ میں نہیں چاہتی کہ جسے میرے جسم کے یہ حصے ملیں، اسے میرا نام معلوم ہو، وہ میرے لیے پھول خریدے یا میرے لیے دعا کرے۔ میں سچے دل سے آپ سے کہنا چاہتی ہوں کہ میں اپنے لیے قبر بھی نہیں چاہتی، جہاں آپ آئیں، ماتم کریں اور غم سہیں۔ میں نہیں چاہتی کہ آپ میرے لیے کالا لباس پہنیں۔ میرے مشکل دنوں کو بھول جانے کی آپ پوری کوشش کریں۔ مجھے ہواؤں میں مل جانے دیں۔
دنیا ہمیں پیار نہیں کرتی۔ اسے میری ضرورت نہیں تھی۔ اور اب میں اسے اسی کے لیے چھوڑ کر موت کو گلے لگا رہی ہوں، کیوں کہ خدا کی عدالت میں میں انسپکٹروں پر مقدمہ چلواؤں گی، میں انسپکٹر شاملو پر مقدمہ چلواؤں گی، میں ججوں پر مقدمہ چلواؤں گی اور ملک کے سپریم کورٹ کے ججوں پر بھی مقدمہ چلواؤں گی، جنہوں نے بیدار رہتے ہوئے مجھے پیٹا اور مجھے ہراساں کرنے سے پرہیز نہیں کیا۔ دنیا بنانے والے کی عدالت میں میں ڈاکٹر فروندی پر مقدمہ چلواؤں گی، میں قاسم شعبانی پر مقدمہ چلواؤں گی اور اُن سب پر، جنہوں نے انجانے میں یا اپنے جھوٹ کی وجہ سے میرے ساتھ غلط کیا اور میرے حق کو کچلا اور اس بات پر دھیان نہیں دیا کہ کئی بار جو چیز سچ نظر آتی ہے، وہ سچ ہوتی نہیں۔
پیاری نرم دل شعلہ! دوسری دنیا میں، میں اور آپ مقدمہ چلائیں گے اور دوسرے لوگ ملزم ہوں گے۔ دیکھتے ہیں، خدا کیا چاہتا ہے۔ میں تب تک آپ کو گلے لگائے رکھنا چاہتی ہوں، جب تک میری جان نہ نکل جائے۔ میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں۔
ریحانہ
یکم اپریل، 2014

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *