مودی کا آدرش گرام

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

لوک نائک جے پرکاش نارائن کے یوم پیدائش 11اکتوبر کو وزیر اعظم مودی نے ’سانسدآدرس گرام یوجنا‘‘ کی شروعات کی۔یوجنا کے تحت لوک سبھا او رراجیہ سبھا کے اراکین پارلیمنٹ ایک گائوں کو منتخب کریں گے اور اس کو ڈیولپ کریں گے ۔ آدرش گرام یوجنا کو مہاتما گاندھی کے وژن اور خیال کو ساتھ رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ ترقی، روزگار، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے ساتھ ساتھ گائووں میں اخلاقیت کے ساتھ جدیدیت کا پاٹھ بھی پڑھایا جائے گا۔ سماج کے تمام طبقوں کی شراکت خاص کر فیصلہ لینے میں شمولیت ہوگی۔ باہمی تعاون ، سیلف ہیلپ ، خود اعتمادی اور گائوں کے طبقوں کے درمیان باہمی بھائی چارے کو مزید تقویت دی جائے گی۔ عام زندگی میں بھی شفافیت اور جواب دہی طے ہوگی۔ گائووں میں سبھی غریبوں کو کھانا مہیا کرانے کے ساتھ ہی جنسی برابری اور خواتین کے لئے احترام کو یقینی کرنا ترجیحات میں شامل ہوگا۔ آدرش گرام کی پہچان اراکین پارلیمنٹ کریں گے اور اگر اراکین پارلیمنٹ نہیں کر پاتے ہیں تو یہ کام ضلع انتظامیہ کا ہوگا۔

p-5دہلی ہو یا گجرات یا پھر بنار س کا ایک گائوں ،وزیر اعظم نریندر مودی جہاں بھی بولتے ہیں، انہیں پورا ملک سنتا ہے۔ بنارس کے جیا پور گائوں میں وزیر اعظم نریندر مودی نے جو باتیں آدرش گرام کو لے کر کہی ہیں، اس سے آدرش گرام کے منصوبہ کو لے کر عوام میں تذبذب پھیل گیا۔ مودی کی تقریر کی جن باتوں کو میڈیا میں ہائی لائٹ کیا گیا، ا س سے لوگ اور بھی زیادہ تذبذب میںہیں۔ مودی نے کہا کہ آدرش گرام یوجنا کے تحت گائوں میں سرکاری پیسہ نہیں آئے گا۔ اب لوگوں کو لگ رہا ہے کہ اگر پیسے نہیں آئیں گے تو بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کیسے ہوگی۔ کیا گائوں والے اپنے پیسے سے اسکول ، اسپتال بنائیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آدرش گرام یوجنا کے تحت لوگوں کی شراکت بڑھائی جائے گی۔ اب یہ کیسے ہوگا، اس پر انھوں نے کھل کر نہیں بتایا۔ جبکہ جو لوگ گائوں اور پنچایتی نظام سے واقف ہیں، انہیں یہ بھی پتہ ہے کہ کئی سارے منصوبوں کے نام پر پنچایت کو دیا گیا پیسہ پنچایت کے افسران اور سرکاری افسران مل بانٹ کر ہضم کر جاتے ہیں۔ یہ بھی لوگوں کو پتہ چل چکا ہے کہ مقامی، خود مختار گورننس کے نام پر لوگوں کے اختیارات کی جگہ بدعنوانی سماج کی نچلی سطح تک پہنچ چکی ہے۔
جیا پور میں اپنی تقریر میں وزیراعظم نے آدرش گرام کو لے کر کسی حکمت عملی کے بارے میں بات نہ کر کے لوگوں کے تذبذب کو بڑھایا ہے۔ وزیر اعظم نے یہ کہہ کر سبھی کو حیران کر دیا کہ ہر کام کے لئے اب لوگوں کو حکومت پر منحصر ہونے کی عادت ختم کر دینی چاہئے۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر کام حکومت کرے، اس کی توقع اب ملک کے لوگوں کو نہیں کرنی چاہئے۔اس جملے سے مزید کنفیوزن پھیلا ہے۔ کیونکہ تب تو لوگ یہ جاننا چاہیں گے کہ اگر سب کچھ عوام کو ہی کرنا ہے تو حکومت کیا کرے گی ۔ وزیر اعظم نے حمل میں لڑکیوں کو مار دینا، سرپرستوں کو اسکول جا کر نظام کو دیکھنا، ہر گائوں کا اپنا گیت، گائوں کا جنم دن، بڑے پیڑ کی پہچان اور بزرگوں سے بات چیت وغیرہ کئی ساری باتیں کیں۔ وزیر اعظم آدرش گائوں کی تعمیر کی حکمت عملی، آدرش گرام کا فارمیٹ ، ادارہ جاتی تبدیلی اور لوگوں کے کردار کے بارے میں صاف گوئی سے بتانے میں چوک گئے۔ یہ کنفیوزن نہ صرف لوگوں میں ہے بلکہ کئی ممبران پارلیمنٹ میں بھی ہے ، جنہیں اب تک سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ آدرش گرام یوجنا کو وہ کس طرح سے اپنے علاقے میں نافذ کریں گے۔

زندگی کے مسائل سے دو چار بھولے بھالے گائوں کے باشندوں کی زیادہ ضرورتیں نہیں ہیں۔ دیہی زندگی کو واپس پٹری پر لانے کے لئے وہ صرف زراعتی شعبہ میں بنیادی طور پر تبدیلی چاہتے ہیں تاکہ زراعت میں کسانوں کا منافع بڑھے۔ کسانوں کی پیداوار کو بازار سے جوڑنا ضروری ہے۔ کسانوں کی پیداوار کو صنعت سے جوڑنا ضروری ہے تاکہ گائوں کے لوگوں کی عمر میں اضافہ ہو سکے۔ نوجوانوں کوتعلیم مل سکے۔ ایسی تعلیم جو ہنر سے جڑی ہو اور جس سے انہیں روزگار ملے۔ گائوں کے لوگوں کو خود اعتماد بنانے کے لئے یہ دو ترکیبیں سب سے زیادہ ضروری ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ملک میں گائووں کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ یہاں زندگی جینا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ مسائل کی طویل فہرست ہے۔ آج کے گائووں میں پینے کے لئے صاف پانی تک نہیں ہے، بجلی نہیں ہے، اسپتال نہیں ہیں، اسکول نہیں ہیں، پسماندگی کا اثر آج سماجی اور ثقافتی زندگی پر صاف دکھائی دینے لگا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ دیہاتی زندگی کا تانا بانا خستہ حال ہو گیا ہے۔ لوگ گائووں سے نقل مکانی کر رہے ہیں، کسان کھیتی چھوڑ کر شہر میں مزدوری کرنے لگے ہیں، کھیتی میں اب منافع نہیں ہوتا ہے، گائوں کی معاشی ترقی رک گئی ہے، تعلیمی نظام نہیں ہے، اس لئے گائووں میں نوجوانوں کے ہنر کو فروغ نہیں مل پاتا ہے۔ وہ شہروں اور میٹرو پولٹن شہروں میں غیر تربیت یافتہ مزدوروں کی بھیڑ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ گائوں والوں کی زندگی ایک عجیب و غریب کشمکش میں پھنس جاتی ہے ، جس سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کا سیدھا اثر نہ صرف اقتصادی، سماجی اور سیاسی ہوتا ہے بلکہ یہ جرائم کو بھی جنم دیتا ہے۔ مودی حکومت کو گائووں کے مسائل کے بارے میں معلوم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 67سالوں میں پہلی بار مرکزی حکومت کی پالیسیوں میں گائووں کو اتنی ترجیح دی گئی ہے۔
لوک نائک جے پرکاش نارائن کے یوم پیدائش 11اکتوبر کو وزیر اعظم مودی نے ’سانسدآدرس گرام یوجنا‘‘ کی شروعات کی۔یوجنا کے تحت لوک سبھا او رراجیہ سبھا کے اراکین پارلیمنٹ ایک گائوں کو منتخب کریں گے اور اس کو ڈیولپ کریں گے ۔ آدرش گرام یوجنا کو مہاتما گاندھی کے وژن اور خیال کو ساتھ رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ ترقی، روزگار، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے ساتھ ساتھ گائووں میں اخلاقیت کے ساتھ جدیدیت کا پاٹھ بھی پڑھایا جائے گا۔ سماج کے تمام طبقوں کی شراکت خاص کر فیصلہ لینے میں شمولیت ہوگی۔ باہمی تعاون ، سیلف ہیلپ ، خود اعتمادی اور گائوں کے طبقوں کے درمیان باہمی بھائی چارے کو مزید تقویت دی جائے گی۔ عام زندگی میں بھی شفافیت اور جواب دہی طے ہوگی۔ گائووں میں سبھی غریبوں کو کھانا مہیا کرانے کے ساتھ ہی جنسی برابری اور خواتین کے لئے احترام کو یقینی کرنا ترجیحات میں شامل ہوگا۔ آدرش گرام کی پہچان اراکین پارلیمنٹ کریں گے اور اگر اراکین پارلیمنٹ نہیں کر پاتے ہیں تو یہ کام ضلع انتظامیہ کا ہوگا۔
اس منصوبے کے تحت گرام پنچایت بنیادی یونٹ ہوگی۔ میدانی علاقوں میں جہاں گائوں کی آبادی تین ہزار سے پانچ ہزار اور پہاڑی علاقوں میں آبادی ایک ہزار سے تین ہزار کی ہوگی۔ 2024تک تمام گائووں کو آدرش گرام بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ان گائووں میں اسکول، اسپتال، لائبریری، ریسٹ ہائوس ار کھیل کے لئے بھی میدان جیسی سہولیات مہیا ہوںگی ۔ گائووں میں لوگوں کو ای-ایجوکیشن دی جائے گی اور ساتھ ہی تشدد اور جرائم سے پاک گائوں بنایا جائے گا۔’’گائوں دیوس‘‘ منانے کے ساتھ ہی ہر گھر اور تمام عام مقامات پر ٹوائلیٹ کی تعمیر کرائی جائے گی۔ آدرش گرام یوجنا کا مطلب مضبوط اور جواب دہ گرام پنچایتوں اور گرام سبھائوں کے توسط سے مقامی جمہوریت کا قیام ہے۔ سبھی کے پاس یو آئی ڈی کارڈ، ای ، گورننس ، بہتر سروس، مقامی زبان میں دیواروں پر منصوبے اور اس کے ازالے کی تاریخ درج کرنا شامل ہوگا۔ کس مد میں کتنی رقم کا بجٹ ہے، کتنا خرچ ہوا ہے، اسے دیوار پر لکھنا ہوگا۔ شکایت ازالہ مرکز بنایا جائے گا۔ شکایت کرنے پر اس کا ازالہ تحریری جواب کے ساتھ تین ہفتے کے اندر ازالہ کرنا ہوگا۔ گائوں میں روزگار اور اقتصادی ترقی کے لئے مویشی پروری اور باغبانی سمیت مختلف طرح کے زراعتی و متعلقہ روزگار کو بڑھاوا دیا جائے گا۔ آرگینک کھیتی، مِردا سواستھ کارڈ ، ماحولیاتی ترقی، روڈ سائڈ شجر کاری ، بجلی کا بندوبست کیا جائے گا۔ سماجی تحفظ ،تمام مستحق کنبوں کے لئے پینشن کا نظام کیا جائے گا۔ اس میں ضعیفی، معذوری اور بیوائوں کے لئے ملنے والی پینشن شامل ہوگی۔ صحت کے لئے ہیلتھ بیما اسکیم اور اناج کے لئے پی ڈی ایس کی سہولت ہوگی۔ اس کے لئے بھی ویسے اس اسکیم میں کوئی کمی نہیں ہے، لیکن 67سالوں کا تجربہ صرف ایک ہی سوال کو جنم دیتا ہے اور وہ ہے کہ کیا اس بہترین اسکیم پر کامیاب طور پر عمل درآمد ہوگا یا نہیں۔ ویسے امید یہ کرنی چاہئے کہ یہ بہتر ڈھنگ سے نافذ ہو۔
زندگی کے مسائل سے دو چار بھولے بھالے گائوں کے باشندوں کی زیادہ ضرورتیں نہیں ہیں۔ دیہی زندگی کو واپس پٹری پر لانے کے لئے وہ صرف زراعتی شعبہ میں بنیادی طور پر تبدیلی چاہتے ہیں تاکہ زراعت میں کسانوں کا منافع بڑھے۔ کسانوں کی پیداوار کو بازار سے جوڑنا ضروری ہے۔ کسانوں کی پیداوار کو صنعت سے جوڑنا ضروری ہے تاکہ گائوں کے لوگوں کی عمر میں اضافہ ہو سکے۔ نوجوانوں کوتعلیم مل سکے۔ ایسی تعلیم جو ہنر سے جڑی ہو اور جس سے انہیں روزگار ملے۔ گائوں کے لوگوں کو خود اعتماد بنانے کے لئے یہ دو ترکیبیں سب سے زیادہ ضروری ہیں۔ ا س کے بعدہی گائوں کو آدرش گائوں میں تبدیل کرنے والی کوئی بھی اسکیم کارگر اور کامیاب ہو پائے گی۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *