خالد مجاہد کیس میں عدالتی فیصلہ: ’چوتھی دنیا‘کے اندیشے کی تصدیق

ڈاکٹر وسیم راشد
کچھ ایشوز ایسے ہیں جن پر ’’ چوتھی دنیا‘‘ ہی ہمیشہ آواز اٹھا تا رہا ہے اور اس نے ان ایشوز کو نہ مرنے دیا نہ ہی دبنے دیا۔حالانکہ گزرتے وقت کے ساتھ میڈیا اور حکومت نے ان کو بھلا دیا لیکن ’’ چوتھی دنیا‘‘ کی کاوشیں جاری رہیں ۔میرٹھ کے ملیانہ ،ہاشم پورہ کا معاملہ ہو یا کوئلہ گھوٹالہ،رنگاناتھ مشرا کمیشن رپورٹ ہو یا پھر بے گناہ مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کا معاملہ ۔اس معاملے کو بار بار اٹھایا جاتا رہا ہے تاکہ وقت کی گرد ان کو مٹانہ دے اور مظلومین بغیر انصاف پائے وقت کے بے رحم مزاج کی نذر نہ ہوجائیں۔
’’ چوتھی دنیا‘‘ انکشاف بھی کرتا ہے اور معاملے کو اختتام تک پہنچانے میں اپنا اہم کردار بھی ادا کرتاہے۔ خالد مجاہد کی موت کو ہم نے بار بار لکھا کہ یہ ایک طرح سے قتل ہے ۔اس ضمن میں ہم نے نمیش کمیشن رپورٹ کا بھی پوری طرح خلاصہ کیا تھا ،جس میں خالد مجاہد اور طارق قاسمی کی گرفتاری کو غیر قانونی کہا گیا تھا۔ اب خالد مجاہد کا کیس پھر سے کھل گیا ہے اور شہر کوتوالی بارہ بنکی میں ریاست کے سابق ڈی جی پی وکرم سنگھ ،اے ڈی جی پی انتظامیہ برج لال سمیت تقریبا ً 24افراد کے خلاف جو رپورٹ خالد کے چچا ظہیر عالم فلاحی نے درج کرائی تھی اور شہر کوتوالی موہن ورما نے فائنل رپورٹ لگادی تھی۔ظہیر عالم نے اس رپورٹ پر من گھڑت ہونے کا الزام لگایا تھا۔اس کیس میں اس وقت ہمیں بے انتہا خوشی ہوئی جب سی جے ایم وجندر ترپاٹھی نے خالد مجاہدکے کیس کو دوبارہ جانچ کے لئیکھول دیا۔ اس ضمن میں خالد مجاہد کے وکیل رندھیر سنگھ سمن ایڈوکیٹ نے بھی اکھلیش حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قتل کے مجرمین کو فوراً گرفتار کریں۔دوبارہ جانچ کرانے کے حکم سے یقینا ایک بار پھر پولیس محکمہ کی کارروائی شک کے دائرے میں آگئی ہے۔اس وقت کے بھی سبھی اخبار چیخ چیخ کر یہ گواہی دے رہے تھے کہ خالد مجاہد بے گناہ تھا۔

اس رپورٹ کو دراصل اکھلیش یادو حکومت نے پوری طرح دبا دیا۔ ورنہ یہ رپورٹ اگر بنیاد بنا کر کیس کی سماعت کی جاتی تو حقیقت سامنے آجاتی۔ جب رپورٹ گرفتاری کو مشکوک مان رہی ہے تو حکومت کو بھی اس ضمن میں بارہ بنکی عدالت سے پوری طرح اس کیس کی باریکی سے چھان بین کرانی چاہئے تھی۔ جبکہ کمیشن خود سفارشات میں یہ کہہ رہاہے کہ ایسے ملزمین سے پوچھ گچھ کی ویڈیو ریکارڈنگ ہونی چاہئے جو کہ خالد مجاہداور طارق قاسمی کے کیس میں نہیں ہوئی۔ کمیشن یہ بھی سفارش کررہا ہے کہ ایسے کیسوں میں بے قصور لوگوں کو جھوٹا پھنسانے پر ذمہ داروں کو سزا دی جانی چاہئے۔

اس ضمن میں ہم نمیش کمیشن رپورٹ کا بھی ذکر کرنا چاہتے ہیں ۔یہ رپورٹ چاہے دونوں کو مکمل بے قصور ثابت نہیں کرتی لیکن اس کے صفحہ نمبر 235 کے دوسرے پیراگراف میں یہ صاف لکھا ہوا ہے کہ اس پورے واقعہ میں پھر پور کردار ادا کرتے ہوئے اصولوں کے خلاف کام کرنے والے ملازمین اور افسران کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ میں نے نمیش کمیشن کی پوری رپورٹ لے کر اس کا بغور مطالعہ کیا تھا کہ سنی سنائی بات سے بہتر ہوتا ہے خودپڑھ کر اس کا تجزیہ یا تبصرہ کرنا ۔میں نے با قاعدہ اپنے آرٹیکل میں نمیش کمیشن کی جیسی رپورٹ تھی، وہ اسی طرح چھاپی تھی لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلم ادارے اور تنظیمیں فضول کی بات تو کرتی ہیں ،سنی سنائی دلیلیں دیتی ہیں لیکن جو سند سامنے ہے اس پر بات نہیں کرتیں ۔
نمیش کمیشن رپورٹ کے اس پیراگراف کا مطلب یہی تھاکہ کمیشن پوری طرح افسران اور ملازمین کے طریقہ کار سے مطمئن نہیں ہے۔ اس لئے کمیشن افسران اور ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے کی مانگ کررہا ہے۔ اس رپورٹ کا آخری پیرا گراف بھی قابل توجہ ہے جو میں ایک بار پھر ہندی میں اس کو چھاپ رہی ہوں ، اس کو پھر سے پڑھا جائے۔ اس میں صاف صاف لکھا ہے کہ طارق قاسمی ولد ریاض احمد ساکن گرام سمو پور، تھانہ رانی کی سرائے، ضلع اعظم گڑھ اور خالد مجاہد ولد مرحوم ضمیر مجاہد ،ساکن 37 متوانا، محلہ تھامڑھیا ،ضلع جونپور کے مقدمہ نمبر 189/2007 تھانہ کوتوالی ضلع بارہ بنگی کا واقعہ مورخہ 22دسمبر 2007 میں شمولیت مشکوک معلوم ہوتی ہے۔
اس رپورٹ کو دراصل اکھلیش یادو حکومت نے پوری طرح دبا دیا۔ ورنہ یہ رپورٹ اگر بنیاد بنا کر کیس کی سماعت کی جاتی تو حقیقت سامنے آجاتی۔ جب رپورٹ گرفتاری کو مشکوک مان رہی ہے تو حکومت کو بھی اس ضمن میں بارہ بنکی عدالت سے پوری طرح اس کیس کی باریکی سے چھان بین کرانی چاہئے تھی۔ جبکہ کمیشن خود سفارشات میں یہ کہہ رہاہے کہ ایسے ملزمین سے پوچھ گچھ کی ویڈیو ریکارڈنگ ہونی چاہئے جو کہ خالد مجاہداور طارق قاسمی کے کیس میں نہیں ہوئی۔ کمیشن یہ بھی سفارش کررہا ہے کہ ایسے کیسوں میں بے قصور لوگوں کو جھوٹا پھنسانے پر ذمہ داروں کو سزا دی جانی چاہئے۔
میں نے اس رپورٹ کا ایک ایک لفظ پڑھاہے ۔مجھے دکھ ہے کہ اس کو بنیاد بنا کر کسی بھی ادارے یا تنظیم نے آواز نہیں اٹھائی ۔یہ کیسے ہوسکتاہے کہ ایک صحت مند ہٹا کٹا شخص سنوائی کے بعد واپس آتا ہے اور راستے میں اس کی موت ہوجاتی ہے۔ پولیس کہتی ہے ہارٹ اٹیک ہوا ہے ۔ خالد کے وکیل کہتے ہیں کہ وہ آخری لمحہ تک خالد مجاہد کے ساتھ تھے اور خالد پوری طرح صحت مند تھے ۔انہوں نے اہل خانہ کو سلام بھی بھیجوایا تھا ۔ اس کے علاوہ یہ بھی بڑی اہم بات تھی کہ وہ فیض آباد میں کرتا پائجامہ پہنے ہوئے تھے اور جب اس کی لاش گھر لائی گئی تو ان کے جسم پر ٹی شرٹ اور لوور تھا جو خالد کبھی نہیں پہنتے تھے۔چونکہ خالد باریش شرعی آدمی تھے ،وہ ہمیشہ ہی کرتا پائجامہ پہنا کرتے تھے،جب ان کی لاش گھر لائی گئی تو ان کے سامان میں وہ کرتا پائجامہ بھی نہیں تھا جس میں خالد کے وکیل نے انہیں آخری بار دیکھا تھا۔
دراصل جون 2013 میں اکھلیش حکومت نے وعدہ کیا تھاکہ نمیش کمیشن رپورٹ کو ایکشن ٹیکن رپور ٹ کے ساتھ مانسون سیشن میں ٹیبل کیا جائے گا لیکن میں نے پورا نیٹ کھنگال ڈالا ،اس ضمن میں جتنے بھی آرٹیکلس اور روداد چھپی ،سب کو دیکھ لیا لیکن مجھے کہیں اس رپورٹ کے بارے میں علم نہیں ہوا کہ یہ رپورٹ ٹیبل ہوئی یا نہیں۔لیکن یہ ضرور ہے کہ اگست 2012 میں یہ رپورٹ ریاستی حکومت کو سونپ دی گئی تھی۔لیکن مئی 2013 تک اس کے بارے میں کسی کو کچھ علم نہیں تھا لیکن 2013 میں یہ رپورٹ لیک ہوگئی تھی جس کے بعد سب کچھ منظر عام پر آگیا تھا ۔نمیش کمیشن نے ملازمین کی گرفتاری میں شامل رہے یو پی پولیس کے اے ٹی ایس افسران کے خلاف بھی قانونی کارروائی کرنے کی بات کہی تھی۔ رپور ٹ میں دونوں کی گرفتاریوں کو مشکوک قرار دیا گیا ہے۔لیکن اکھلیش حکومت نے ابھی تک بھی کوئی واضح ایکشن پلان نہیں لیا ۔
اب جبکہ خالد کی موت کی دوبارہ جانچ کا حکم سنایا گیا ہے اور یہ کیس از سر نو دیکھا جائے گا تو پھر سے عدلیہ پر انصاف بحال ہونا نظر آرہا ہے۔خالد کے چچا ظہیر عالم فلاحی رات دن اس کیس میں لگے ہوئے ہیں اور بار بار پولیس اور افسران کو مورد الزام ٹھہرارہے ہیں ۔
آخر کار ان کی جیت ہوئی اور ایک بار پھر سے خالد مجاہد کی موت کی تفتیش نئے سرے سے شروع ہوگئی ہے۔ خالد کی موت سے جو چند سوالات پیدا ہوتے ہیں ،ان کے جوابات تلاش کرنا پہلے ضروری ہے۔اس میں سب سے ضروری یہ ہے کہ خالد کی لاش کا جب لوگوں نے معائنہ کیا تھا تو اس کے جسم پر زخموں کے گہرے نشانات تھے جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کو جسمانی اذیت پہنچائی گئی۔ اس کی گردن کی ہڈی پر کسی بھاری چیز سے مارے جانے کا نشان اور تیز چوٹ سے پیدا ہونے والا سیاہ دھبہ تھا۔ اس کے علاوہ بائیں ہاتھ کی کہنی کے اوپر سیاہ نشان کے علاوہ اس کا چہرہ بھی جسم کے باقی حصوں کے برعکس سیاہ تھا اور سوجا ہوا تھا۔ اس کی گال، پیشانی اور ہونٹ کے اوپری حصہ پر چوٹ کے نشانات تھے۔ میں نے پہلے بھی یہ مانگ کی تھی کہ خالد کی موت پر بھی ایک نفری ہی سہی ایک کمیشن موت کے اسبا ب کا پتہ لگانے کے لئے بٹھا نا چاہئے ۔
ان سب سے زیادہ یہ ہے کہ وہ اگر واقعی دہشت گرد تھے تو ان کو خاموشی سے کیوں اٹھا لیا گیا۔ ان کی گرفتاری کی تاریخوں میں کیوں تضاد ہے؟کیوں ان کے والدین کے ذریعہ جو ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے اس پر دھیان نہیں دیا گیا؟12دسمبر 2007 کو طارق قاسمی کا اغوا ،14دسمبر 2007 کو اظہر علی نام کے شخص کا تھانہ رانی کی سرائے ضلع اعظم گڑھ میں اطلاع دینا اور ایف آئی آر درج کرانا اور 22دسمبر 2007 تک لگاتار مظاہرے ہونا اور اخباروں میں شائع ہونا پھر بھی ایس ٹی ایف کا 22دسمبر 2007 کو گرفتاری دکھانا بھی مضحکہ خیز ہے۔ اسی طرح خالد مجاہد کا بھی 16دسمبر 2007 کو چاٹ والے کی دکان سے اٹھایا جانا اور 17دسمبر 2007 کو اخباروں میں اس کی خبر آجانا ، 20دسمبر میں یہ چھپنا کہ ایس ٹی ایف نے نوجوانوں کو اٹھایا ،یہ سب بڑا پیچیدہ کیس بنا دیا گیاہے۔ لیکن جس طرح سے دیانتداری کے ساتھ اس کیس کو پھر سے کھولا جارہا ہے ، اسی طرح اس کے حقائق بھی سامنے آنے چاہئیں اور میں دل سے یہ دعا کرتی ہوں کہ یہ گرفتاریاں غلط ثابت ہو جائیں تاکہ ہم مسلمانوں پر سے تھوڑا سا ہی سہی،دہشت گردی کا داغ مٹ سکے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *