کشمیریوں کے لئے کہیں عذاب نہ بن جائے اسمبلی الیکشن

ہندوستان کی سیاست میں ہر دن نئے موڑ آتے رہتے ہیں۔ کبھی ہریانہ کا وزیر اعلیٰ مسند نشیں ہوتا ہے اور کبھی مہاراشٹر کا، اور اسی کے ساتھ ساتھ جمہوری عمل بھی اپنے دائرہ میںکام کرتا رہتا ہے۔ حال ہی میں الیکشن کمیشن نے جموں و کشمیر اور جھارکھنڈ میں ریاستی اسمبلی کے الیکشن کی تاریخوں کا اعلان بھی کردیا ہے۔ 5مراحل میں مکمل ہونے والا یہ الیکشن کیا رخ لے گا؟سیاست کا کون سا مُہرہ کیسے کام کرے گا ؟کون جیتے گا اور کون ہارے گا ؟یہ سب تو بعد کی بات ہے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ کیا اس وقت جبکہ ریاست جموں و کشمیر صدی کے سب سے بھیانک سیلاب میں سب کچھ لٹا کر نکلی ہے ۔کیا اس وقت اسمبلی الیکشن ہونا صحیح ہوگا؟کیا اس الیکشن کو ٹالا نہیں جاسکتا تھا؟کیا جموں و کشمیر کے لوگ بربادی کے بعد الیکشن کے متحمل ہوپائیں گے؟کیا جموں و کشمیر کواس وقت الیکشن میں جھونک دینا جائز ہوگا؟یہ سب وہ سوالات ہیں جو الیکشن کی تاریخوں کا اعلان ہونے کے بعد سے میرے ذہن و دل پر مسلسل کچوکے لگارہے ہیں۔
ہمارے وزیر اعظم دیوالی منانے کے لئے کشمیر جاتے ہیں۔ ظاہر ہے یہی سوچ کر گئے ہوں گے کہ ایک بھیانک سیلاب کی بربادی کے بعد ان کی موجودگی کشمیریوں کے زخموں پر مرہم رکھے گی ،لیکن کیا ان کو اس کا اندازہ نہیں ہے کہ عوام جو پوری طرح تباہ و برباد ہو چکے ہیں جن کا اس سیلاب نے سب کچھ لوٹ لیا ہے ،وہ اس الیکشن کا کھلے دل و دماغ سے خیر مقدم کرسکیں گے؟ یا پھر یہ سمجھ لیا جائے کہ جمہوری عمل میں انسانیت کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
جموں و کشمیر میں انتخابات کا اعلان ہوتے ہی سیاسی جماعتیں سب کچھ بھول کر بس ووٹ بٹورنے کی سیاست میں جٹ گئی ہیں۔ایسے میں باز آبادکاری کا کام پس پشت رہ جائے گا۔اس وقت کشمیر کو سب سے زیادہ ضرورت باز آبادکاری کی ہے اور جیسا کہ سیلاب کے دوران بھی ہم نے دیکھا کہ ریاستی حکومت نے بہت زیادہ اس ضمن میں کام نہیں کیا ہے۔شری نگر جیسا شہر بھی ابھی تک پوری طرح واپس اپنی شکل میں نہیں آپایا ہے۔ایسے میں الیکشن ہونا میرے نزدیک مناسب نہیں ہے۔اس عمل کو ابھی ٹالا جاسکتا تھا،ایسا کوئی آئینی پہلو تو نہیں ہے یا کوئی ایمرجینسی تو نہیں ہے کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے ،الیکشن مقررہ وقت پر ہی ہو ۔قدرتی آفات کا نہ تو کوئی علم ہوتا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی جواز۔یوں تو جموں و کشمیر کے سیلاب کے بارے میں بھی یہ کہا جارہا ہے کہ اس کی آمد کا اندیشہ تھا اور اس کو روکا جاسکتا تھا لیکن جب آگیا تو کسی نے کیا کرلیا؟سب بے بس ہوگئے اور پھر جو تباہ کاری ہوئی وہ سب کے سامنے ہے۔
ڈپٹی الیکشن کمشنر ونود ذتشی نے کشمیر کا 10-8اکتوبر تک دورہ کیا اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے حکمرانوں سے بات چیت بھی کی اور کشمیر کی حالیہ صورت حال پر اظہار خیال بھی کیا ۔سبھی جماعتوں کی رائے فی الحال الیکشن کرانے کی نہیںہے۔یہاں تک کہ حکمراں پارٹی یعنی نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر ڈاکٹر مصطفی کمال نے بھی اس وقت الیکشن کرائے جانے کی سخت مخالفت کی اورانہوں نے بھی یہی کہا کہ اس وقت کشمیری عوام کو مختلف امدادی پیکج کی ضرورت ہے اور یہ وقت امدادی سرگرمیوں کا ہے نہ کہ ستم زدہ عوام سے ووٹ مانگنے کا۔ 18اکتوبر کو چیف الیکشن کمشنر وی ایس سمپت ،الیکشن کمشنر ایچ ایس برہما اور نسیم زیدی نے بھی حالات کا جائزہ لینے کے لئے کشمیر کا دورہ کیا۔اس دورے کی بھی کچھ پارٹیوں نے سیاسی مفاد کے لئے استعمال کیا۔ جیسے پی ڈی پی کے لیڈران اس لئے الیکشن کی حمایت میں نظر آئے کیونکہ وہ سیلاب کو حکومت کے خلاف بھنانا چاہتے تھے اور ان کو یہ لگتاتھا کہ اب چونکہ ساری دنیا کو یہ پتہ چل گیاہے کہ حکمراں جماعت سیلاب کو روکنے،اس کی تباہ کاریو ںکو روکنے اور بازآبادکاری میں پوری طرح ناکام ہوچکی ہے ۔اس لئے اب وقت ہے کہ اس کی ناکامیوں کا رونا رو کر کشمیری عوام کے جذبات سے کھیلا جائے اور عوام سے یہ کہا جائے کہ اب جو حکومت بنے گی وہ سیلاب کے بعد ہونے والی ساری مشکلات کو حل کرے گی اور بہتر طور پر باز آبادکاری کا کام کر پائے گی۔ ادھر نیشنل کانفرنس یہ چاہتی تھی کہ الیکشن تھوڑا آگے بڑھ جائے تاکہ ان کو اپنی خراب امیچ کو بہتر بنانے میںوقت مل جائے۔
اب اگر الیکشن کمشنر کے ہاتھ میں ہی یہ فیصلہ تھا تو کمیشن کو چاہئے تھا کہ فی الحال کسی سیاسی پارٹی کے کہنے کی وجہ سے نہیں،بلکہ صرف وہاں کی اقتصادی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے کچھ وقت کے لئے الیکشن ملتوی کردیا جاتا ،تاکہ کشمیری عوام کو سنبھلنے کا موقع مل پاتا ۔ایسے میں ظاہر ہے پی ڈی پی اپنی انتخابی مہم کا محور نیشنل کانفرنس کی ناکامیوں کو بنائے گی اور یہی کارڈ غریب کشمیریوں کے ساتھ کھیلا جائے گا۔
نیشنل کانفرنس کو جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ نا کامیوں کا بھرپور احساس ہے۔نہ تو وہ سیلاب روک پائی نہ ہی جو لوگ بے گھر ہوئے ہیں ان کی رہائش کے لئے کوئی بہتر انتظام کرپائی۔نیشنل کانفرنس کی ناکامی کا یہ عالم ہے کہ ابھی تک اس کو نقصان کا ہی اندازہ نہیں ہو پایا، وہ تخمینہ تک نہیں لگا پائی ہے۔
ابھی تک اس کے کارندے متاثرہ علاقوں میں سروے ہی کررہے ہیں۔حکومت کی سست رفتاری یقینا اسمبلی الیکشن پر اثر انداز ہوگی اور ووٹرز کو اپنی طرف راغب کرنے میں ناکام رہے گی۔ سیاسی کارڈ کھیلتے ہوئے نیشنل کانفرنس یہ بھی جواز دے رہی ہے کہ اس وقت الیکشن سے وہ لوگ بری طرح متاثر ہوں گے جو بازآبادکاری کے مراحل سے گزر رہے ہیں ۔ ایک اور کارڈ کھیلتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے ترجمان جنید اعظم مٹو یہ بھی جواز پیش کرتے ہیں کہ آخر 2001 میں گجرات کے’ بھج‘ میں زلزلہ کے بعد وہاں کا الیکشن بھی تو 7 مہینے بعد ہوا تھا۔
یہ سب تو سیاسی شعبدہ بازیاں ہیں۔ الیکشن کمشنر کو کشمیر کی صورت حال دیکھنے کے بعد یقینا ابھی الیکشن کو کچھ اور وقت کے لئے موخر کرنا چاہئے تھا۔ نیشنل کانفرنس ،پی ڈی پی ، کانگریس یا بی جے پی جیسی سیاسی جماعتوں کی بات سے زیادہ اہم یہ تھا کہ وہاں کے عوام کیا اس وقت الیکشن کے مراحل سے گزرنے کی پوزیشن میں ہیں اور اس وقت جبکہ نومبر اور دسمبر میں کڑاکے سردی پڑتی ہے۔اگر اس وقت کشمیر جائیں تو کشمیر کے موسم کا یہ حال ہے کہ لوگ سردی سے ٹھٹر رہے ہیں اور گھر کی چہار دیواری کے اندر رہ کر دو دو رضائیوں کا استعمال کررہے ہیں۔کجا کہ ایسے وقت میں جبکہ سردی اپنے شباب پر ہوگی تو اس وقت وہ لوگ جو کیمپوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں ،ان کا کیا حال ہوگا۔ اس وقت کیا الیکشن ہونا انسانی عمل ہوگا؟میرے حساب سے یہ ظلم ہوگا۔
میں نے پہلے بھی کشمیر کی صورت حال پر لکھا تھا اور بتایا تھا کہ سر والیٹر لارنس جو کہ برٹش کونسل کے ممبر بھی تھے اور ہندوستانی سول سروس میں بھی رہے ۔وہ 1879سے 1895 تک کشمیر کے سیٹلمنٹ کمشنر رہے۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں ’’ دی ویلی آف کشمیر ‘‘ نام کی ایک کتاب لکھی جو کہ کشمیر کے مکمل جغرافیہ پر مبنی تھی۔ اس میں انہوں نے سری نگر کی جھیل کا چاروں طرف سے مکانوں اور دکانوں کی بہتات سے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
لارنس کی اس رپور ٹ سے نیشنل کانفرنس نے سبق نہیں لیا اور جو سیلاب آیا ،جو تباہ کاریاں ہوئیں ،وہ آپ کے سامنے ہیں۔یہ کام بر سراقتدار حکومت کا ہوتا ہے کہ وہ کچھ خاص رپورٹوں پر عمل کریں،ان کو دیکھیں اور اس سے استفادہ کریں اور لارنس کی اس رپورٹ سے سبق لے کر شری نگر میں سڑکیں اور نئے گھر بناتے وقت بہت احتیاط کرنی چاہئے تھی جو کہ کسی بھی حکومت نے نہیں کی اور اس لاپرواہی کی وجہ سے اتنی تباہ کاری ہوئی ۔لیکن اس وقت جبکہ کشمیر میں ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں ۔ گھر منہدم ہوچکے ہیں،مکانات خستہ حال ہیں ۔اسپتال کی مشینری خراب ہوچکی ہے۔لوگ دانے دانے کو محتاج ہیں ،ایسے حالات میں کسی ریاست کو الیکشن کے ہنگاموں میں الجھا دینا کہاں کی عقلمندی یا انسانیت ہے۔
دراصل سیاست ، انسانیت سے دور ہوگئی ہے اور اس وقت کی سیاست یہی کہتی ہے کہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے علاوہ سبھی پارٹیاں الیکشن کی حمایت کریں گی۔ظاہر ہے سب سے زیادہ فائدہ پی ڈی پی اور بی جے پی کو ہونے جارہاہے۔ بی جے پی کے ریاستی ترجمان خالد جہانگیر نے تو مشن 44 کا ہدف پار کرنے کا بھی خواب دیکھنا شروع کردیا ہے ۔ایسے میں مودی کا وہاں دیوالی منانے جانا بھی سیاسی عمل ہی ہے۔ مودی کے سامنے اجڑے ہوئے عوام نہیں بلکہ اسمبلی الیکشن ہی تھا۔
کشمیر کو اس وقت صرف اور صرف امداد اور باز آبادکاری کی ضرورت ہے۔اس کڑکتے جاڑے کا الیکشن کشمیریوں کے لئے عذاب بن سکتا ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *