کشمیر کا سیلاب مودی کے لئے سوغات ہے

سنتوش بھارتیہ

کشمیر میں آئے سیلاب نے وادی میں کافی کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس سیلاب نے تباہی تو خوب مچائی ، جس کا اثر آئندہ ہونے والے اسمبلی انتخابات پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ کشمیر میں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے، وہ ہے سوچ کی۔ اس سیلاب میں مشکلوں کا سامنا کر کے باہر نکلے مقامی لوگوں کی سوچ میں دو طرح کی اہم تبدیلیاں دیکھی گئیں۔ پہلی ، لوگوں کے فوج مخالف نظریہ میں تبدیلی ہوئی ہے اور دوسری لوگ سیاسی پارٹی کے طور پر بی جے پی کو ترجیح دینے پر غور کرنے لگے ہیں۔عام لوگوں میں یہ اعتماد دیکھا جا رہا ہے کہ ترقی کی بات کرنے والے نریندر مودی سیلاب کے بعد بدصورت ہوئی ریاست کی تصویر کو بدلنے کے اہل ہیں۔ کشمیر یعنی دنیا کی جنت کے مختلف علاقوں کے دورے کے بعد تیار ہوئی یہ خصوصی رپورٹ آپ کو کشمیر کی تازہ اور حقیقی صورتحال سے روشناس کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔

mastکشمیر میں ان دنوں نریندر مودی کی آوازیں گونجنی شروع ہو گئی ہیں۔ وجوہات الگ الگ ہیں اور پورا کشمیر اس وقت نریندر مودی کی طرف امیدی بھری نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔ مسلمانوں کے بارے میں مانا جاتاتھا کہ وہ نریندر کا نام سننا بھی پسند نہیں کریں گے لیکن اس وقت کشمیر میں، خاص کر سری نگر میں مسلمان نریندر مودی کا نام سن رہے ہیں اور ان سب کے پیچھے جو وجہ ہے ، وہ وجہ ملک کے لیڈروں کے لئے ایک سبق ہے۔ دو مہینے پہلے کشمیر میں آئے سیلاب نے نریندر کے لئے سری نگر وادی میں گھسنے کا مہانہ کھول دیا ہے۔ نریندر مودی کو ملے اس غیر متوقع موقع کے بارے میں بعد میں بات کریں گے۔ پہلے اس سیلاب کے بارے میں بات کر تے ہیں، جس نے پورے سری نگر کو ڈبو دیا تھا اور جو نریندر مودی کے لئے فتح کا گھوڑا ثابت ہو سکتا ہے۔
جو کشمیر نہیں گیا، اس نے جنت نہیں دیکھی اور فارسی کہاوت ہے ، جسے ہمارے ملک کے بیشتر لوگ جانتے ہیں کہ زمین پر اگر کہیں جنت ہے تو یہیں ہے، یہیں ہے یعنی کشمیر میں ہے اور کشمیر میں بھی سری نگر میں ہے۔صرف لکھنے اور تصویروں سے کشمیر کی جنت کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ آئے ہوئے سیلاب کی تباہی بغیر کشمیر جائے محسوس ہی نہیں کی جا سکتی۔ ابھی دو ڈھائی مہینے قبل ملک نے ٹیلی ویژن کے اوپر سری نگرکی تباہی دیکھی۔ لیکن اس تباہی کے فوراً بعد ہم نے تفریحی پروگرام دیکھے، لیڈروں کے جھگڑے دیکھے اور وہ درد جو سری نگر کے لوگوں نے بھگتا، اس کا ہمیں احساس بہت کم ہو پایا۔ اسی لئے آج بھی جب سری نگر جاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ کشمیریوں نے کس طرح سے قیامت جیسی صورتحال کا سامنا کیا اور کیسے اپنی زندگی دوبارہ جینے کے لئے تمام پریشانیاں بھول کر پھر سے کھڑے ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جہلم ندی میں سیلاب آتا ہے۔ جہلم ندی میں بڑھے ہوئی پانی کو نکالنے کے لئے فِلڈ چینل مہاراجہ ہری سنگھ نے بنوائے تھے اور بھی کئی سارے چینل تھے، جو سیلاب کے پانی کو دائیں، بائیں کھیتوں کی طرف پھینک دیتے تھے۔ لیکن ان چینلوں کے اوپر، خاص کر فلڈ چینلوں کے اوپر گزشتہ بیس سالوں میں کافی قبضے ہوئے، جسے انکروچمنٹ کہتے ہیں۔ لوگوں نے گھر بنوائے، چینلوں کی صفائی نہیں ہوئی اور اس بار جب جہلم میں پانی بڑھا تو جتنا پانی جہلم میں تھا، اتنا ہی پانی ان چینلوں میں بھی تھا۔ جہلم نے کنارے کے ڈیم کچھ اپنے آپ توڑ دئے، کچھ لوگوں نے کاٹ دئے۔ پورے شہر میں پانی اس تیزی سے بھرا کہ لوگ صرف کسی طرح سے اپنی جان بچا پائے۔جو سری نگر نہیں گیا، وہ کیسے اندازہ لگا سکتا ہے کہ ایک منزل اور ڈیڑھ منزل پوری طرح سے پانی میں ڈوب گئی ہو اور گھر کا ایک ایک سامان پانی میں بھیگ گیا ہو۔ گھروں میں کچھ نہیں بچا اور یہ میلوں کا قصہ ہے۔ سری نگر کا دل اور سب سے بڑا صنعتی مرکز لال چوک، وہاں بھی ناویں چل رہی تھیں۔ ایک ایک دکان میں کروڑ کروڑ روپے کا سامان بھرا ہوتا ہے۔ سارے سامان بھیگ گئے، برباد ہو گئے، دکانیں جوتوں کی رہی ہوں، کپڑوں کی رہی ہوں ، زیوروں کی رہی ہوں ، الیکٹرانک سامان کی رہی ہوں، سارا سامان برباد ہو گیا۔ جو لوگ اپنے گھروں سے نکلنے میں تھوڑا بھی چوک گئے، ان کے گھروں میں پانی اس تیزی سے گیا کہ انہیں گھر کی اوپری منزل پر ، پھر اس کے بعد چھت پر جانا پڑا۔ موٹے طور پر 200سے 250 کے درمیان اموات کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ اس میں ان لوگوں کے اعداد و شمار شامل نہیں ہیں جو سری نگر شہر سے باہر گائوں میں رہتے ہیں۔
سری نگر سے 80کلو میٹر دور اننت ناگ ہے ، جہاں تقریباً 6دنوں تک زبردست بارش ہوئی ۔ کچھ لوگ اسے کلائوڈ برسٹ کہتے ہیں، کچھ لوگ مسلسل بارش کی بات کہتے ہیں۔ اس بارش نے اننت ناگ میں تباہی مچا دی اور تقریباً 6سے 8فٹ تک پانی پورے اننت ناگ علاقہ میں بھر گیا اور اس بھرنے کا مطلب ، وہاں سے پانی ہائی وے کو اپنے نیچے ڈبوتا ہوا، گھروں کو تباہ کرتا ہوا سری نگر کی طرف بڑھا۔ جتنا پانی جہلم میں جا سکتا تھا، اتنا جہلم میں گیا۔ جہلم میں طغیانی آ گئی ، اس نے پانی لینے سے انکار کر دیا اور وہ پانی چاروں طرف پھیلنے لگا۔ گائوں کے گائوں صاف ہو گئے ۔ لوگ اپنا سامان اوپر نہیں لے جا پائے اور یہ پانی سری نگر کی طرف بڑھنے لگا۔ سری نگر میں حکومت سوئی رہی اور اسے شاید لگا کہ یہ پانی سری نگر میں آنے سے قبل ہی جذب ہو جائے گا یا سوکھ جائے گا۔ افواہیں تھوڑی تھوڑی پھیل رہی تھیں، لیکن حکومت نے معمولی انتباہ ہی دیا ۔ اس نے یہ نہیں کہا کہ لوگ اپنا سامان نکال لیں اور سری نگر میں اونچی جگہوں پر ، محفوظ مقامات پر چلے جائیں۔ اس انتباہ کے فقدان میں لوگ اپنے گھروں میں اور دکانوں میں گھسے رہے اور انہیں لگا کہ جس طرح ہر سال سیلاب آتا ہے، اسی طریقہ سے تھوڑا بہت پانی رسے گا ، لیکن وہ جہلم اور فلڈ چینل کے ذریعہ بہہ جائے گا۔
یہ پانی دو سے تین دنوں کے اندر سری نگرپہنچا اور سرکار کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے ، لاپروائی کی وجہ سے سری نگر اس پانی میں ڈوب گیا، کیونکہ جہلم نے پشتہ کو کاٹ دیا تھا ۔ پانی کی رفتار اتنی تھی کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ مضبوط کنکریٹ کی دیواریں تاش کے پتوں کی طرح گر پڑیں۔گھروں کے اندر پانی نے جا کر ہر چیز کو تباہ کر دیا اور ڈیڑھ منزل اونچی کھڑکیوں سے پانی جھرنے کی طرح باہر آ رہا تھا۔ مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ کاریں کاغذ کی کشتی کی طرح بہہ رہی تھیں۔ سینکڑوں کاریں تباہ ہو گئیں،گھروں کا سامان تباہ ہو گیا، کتابیں تباہ ہو گئیں۔ یعنی جو کچھ بھی ڈیڑھ منزل کے نیچے تھا، وہ سب تباہ ہو گیا۔ آپ صرف یہ اندازہ کر سکتے ہیں۔ آپ اپنا گھر زمین سے ڈیڑھ منزل جوڑ لیجئے اور وہ پانی ایسا نہیں کہ صرف ایک گھر میں آتا ہے۔ پانی کی سطح ایک رہتی ہے اور کم سے کم تیس یا چالیس کلو میٹر تک وہ پانی لوگوں کو تباہ کرتا ہوا کم سے کم سات دنوں تک جمع رہا۔ اس کے بعد پانی تھوڑا کم ہوا، لیکن علاقوں میں بھرا رہا۔ امیر لوگوں نے تو پھر بھی اپنے لئے زندگی کو دوبارہ پٹری پر لانے کے لئے راستے نکالے، لیکن غریب لوگوں کی زندگی جہنم کی طرح ہو گئی۔
سری نگر میں سیلاب کا سب سے زیادہ اثر شیو پورہ، سوناوار، کینٹونمنٹ ایریا، لال چوک اور راج باغ میں نظر آیا۔ بیمنا غریبوں کا علاقہ ہے۔ سیلاب نے یہاں لوگوں کی زندگی ہی تباہ کر دی۔ سوناوار مضبوط دیوار کے اندر فوج کا پورا شہر ہے۔ یہاں پر فوج کا اسپتال، مال سبھی کچھ موجود ہے۔ یہ سب کچھ سیلاب کے پانی میں ڈوب گیا تھا، لیکن فوج کے جوان لوگوں کی زندگیاں بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ لال چوک سمیت تمام جگہوں پر کشتیاںچل رہی تھیں۔ تاریخ میں پہلی بار ہوا تھا کہ سری نگر پانی کے اندر تھا۔ کشتی والوں نے ایک ایک کنبہ سے 20-20اور 25-25ہزارر وپے لئے گھروں سے باہر نکلنے کے لئے اور اس وقت حکومت کہیں نہیں تھی۔ تقریباً چار ہزارکشتیاں ڈل جھیل میں ہیں۔ حکومت نے ان کو لینے کی کوشش نہیں کی اور شکارے والوں یاکشتی والوں نے لوگوں کو جم کر لوٹا۔ حکومت کہیں تھی ہی نہیں۔ خود عمر عبد اللہ کا رابطہ کسی سے نہیں تھا۔ سری نگر کی ہر وہ چیز، جو اقتدار کا مرکز ہوتی ہے، پانی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ریڈیو اسٹیشن، دور درشن، ہائی کورٹ، سکریٹریٹ، پوسٹ آفس، بینک سب پانی میں ڈوبے ہوئے تھے اور میرا خیال ہے کہ جتنے بھی بینک تھے، ان کے اسٹرانگ روم عام طور پر گرائونڈ فلور پر ہوتے ہیں ، لاکرس ہوتے ہیں تو جتنے لوگوں نے پیسے لاکر میں رکھے تھے، وہ برباد ہو گئے۔ بینک کا کیش، جو اسٹرانگ روم میں تھا، وہ برباد ہو گیا۔ صرف زیور بچ گئے۔ دوائیاں برباد ہو گئیں۔ سری نگر میں اسٹوریج میں چھ مہینے کے اناج کا اسٹاک رکھا جاتا ہے۔ وہ سب کچھ سیلاب کے پانی میں ڈوب کر برباد ہو گیا ۔ تقریباً چالیس ہزار ٹن چاول کو سیلاب کے پانی نے تباہ کر دیا۔ گیس، پیٹرول سبھی کا اسٹاک برباد ہو گیا۔ کسی کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں رہا۔
میں جب سری نگر کی سڑکوں پر گھوما تو ہر طرف ملبے کے بڑے بڑے ڈھیر دکھائی دئے۔ محلوں میں گیا، تو لوگ اپنا سامان جلاتے ہوئے دکھے، کیونکہ ڈاکٹروں نے کہا کہ کسی بھی چیز کا استعمال وبا میں گھر جانے کا خدشہ پیدا کرے گا۔ اس لئے کپڑے، گھر کا فرنیچر ، اچھے اچھے گھروں میں جھاڑ، فانوس ایسے نکلے ہوئے تھے، جیسے پیڑ کی چھالیں نکلی ہوئی ہوتی ہیں۔سب لوگ اپنے گھر کا سامان جلاتے ہوئے نظر آئے۔کاروں کے شوروم میں کاریں دس دنوں سے زیادہ وقت تک ڈوبی رہیں۔ کتنا نقصان ہوا، ابھی اس کا کوئی اندازہ نہیں ہے لیکن متوسط طبقہ ، اعلیٰ متوسط طبقہ اس سے بچنے کے مشوروں پر عمل کر رہا ہے، کیونکہ ڈاکٹروں نے یہ صلاح دی ہے۔ دکانوں میں بھیگے ہوئے سامان سڑکوں پر دوبارہ نہ فروخت ہوں، اس کا مشورہ دیا جا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود سری نگر میں سوکھے ہوئے کپڑے کوڑیوں کے بھائو فروخت کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ ایک دکاندار نے بہت خوبصورت دیوار گھڑیوں کی نمائش لگا رکھی تھی اور کہا کہ دس روپے میں آج جو چاہیں ، وہ گھڑی لے جائیں اور سارا مال اس نے دس، دس روپے میں بیچ دیا۔ بہت سارے دکانداروں نے جوتوں کو سکھا کر بیچنے کی کوشش کی لیکن، حکومت اور طبی افسران یہی کہہ رہے ہیں کہ پانی میں بھیگا ہوا کوئی بھی سامان استعمال نہ ہو۔ پڑھنے کی کتابیں جلائی جا رہی ہیں اور مذہبی کتابوں کو احترام کے ساتھ دفن کیا جا رہا ہے۔
میں الفاظ کے ذریعہ آپ کو ایک ہلکی جھلک دکھانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ آپ دیکھئے کہ جو غریب لوگ ہیں، وہ اپنے کیچڑ سے سنے ہوئے سامانوں کو دھو کر دوبارہ سے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ ان کے پاس نیا خریدنے کے لئے پیسہ ہے ہی نہیں اور کشمیر میں سردی شروع ہو چکی ہے۔گھر تنکوں کی طرح برباد ہو گئے ہیں۔ لوگوں کے پاس ابھی بھی رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ لوگ فوج اور سرکار کے ذریعہ مہیا کرائے گئے ٹینٹوں میں رہ رہے ہیں۔ ان ٹینٹوں کی بھی کہانی ہے ۔ فوج کو لے کر کشمیر میں بنے مخالفانہ ماحول میں کمی آئی ہے، کیونکہ فوج نے سیلاب میں پھنسے لوگوں کو بچانے کا انوکھا کام کیا ہے۔پولس والے تو ہتھیار چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔ سری نگر پانچ دنوں تک لوگوں کے رحم و کرم پر تھا۔ فوج نے لوگوں کو بچایا۔ ایک جگہ فوج کے جوانوں سے علیحدگی پسندوں کا جھگڑا ہوا۔ اس میں سی آر پی ایف کا ایک جوان مارا گیا۔ وہاں پر فائرنگ ہوئی۔ پورا کشمیر ان لوگوں کے خلاف ہو گیا کہ لوگ اس وقت مصیبت میں ہیں اور آپ اپنی بات کر رہے ہیں۔
آپ کشمیر میں کشیدگی پیدا کر رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایسے تمام لوگ خاموش ہو گئے، کیونکہ سری نگر کے لوگوں کی مکمل حمایت فوج کو تھی۔ فوج نے لوگوں کو بچایا۔ لوگوں کے یہاں کھانا پہنچایا۔ خاص کر پینے کا پانی اور جب پہلی بار سری نگر کے لوگوں میں فوج کو لے کر ہمدردی نظر آئی ۔ لیکن یہاں یہ بھی کہنا پڑے گا کہ جموںو کشمیر میں ایک یکسانیت نظرآتی ہے۔ جب بھی انتخاب آتے ہیں ، لاانفارسمنٹ ایجنسیوں کے ذریعہ گولیاں چل جاتی ہیں، لوگ مارے جاتے ہیں اور پورا ماحول خراب ہو جاتا ہے۔
سرکار غائب تھی، لیکن لوگوں میں جذبہ تھا۔ بہت سارے لوگ دور کے گائوں سے آکر پھنسے ہوئے لوگوں کو بچانے کا کام کر رہے تھے۔ کسی نے دس کو بچایا، کسی نے بیس کو بچایا، تو کسی نے پچیس کو۔ پینے کے پانی کی بوتلیں اپنے پورے جسم میں باندھ کر نوجوان تیرتے ہوئے سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگوں کے درمیان پھینک رہے تھے،جس سے انہیں بچے رہنے کا وقت مل سکے۔ کھانا تو نہیں دے سکتے تھے، لیکن پینے کا پانی تو دے سکتے تھے۔ المیہ یہ ہے کہ جنھوں نے لوگوں کو بچایا، وہ خود کسی نہ کسی طرح حادثے کا شکار ہو کر شہید ہو گئے۔ دوسروں کو بچاتے ہوئے کچھ لوگوں کی جانیں چلی گئیں۔ پانی کی بوتلیں پھینکتے ہوئے وزن کی وجہ سے وہ پانی میں ڈوب گئے۔ جب پانی اتر گیا، تو کچھ لوگوں کی موت اس لئے ہو گئی، کیونکہ اتنی دیر پانی میں رہنے کی وجہ سے پانی سے پید اہوئی بیماریوں نے ان کی جان لے لی۔ انہیں علاج مہیا نہیں ہو پایا۔ ایسے لوگوں کے نام نہیں پتہ۔ حکومت کو چاہئے کہ ایسے لوگوں کے نام پتہ کرے اور ان کے کنبوں کی مدد کرے، کیونکہ ایسے لوگوں کے جذبے کو سلام کرنا چاہئے اور عزت بھی دینی چاہئے، جنھوں نے اپنی جان پر کھیل کر لوگوں کو بچایا۔
سری نگر اب جنت نہیں رہا ۔ اسے پھر سے جنت بننے میں پانچ سے دس سال کا وقت لگے گا۔ یہیں پر لوگوں کو نریندر مودی کا انتظار ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ سابقہ وزیر اعظم رسم ادائیگی کے لئے کشمیر آتے تھے لیکن نریندر مودی گزشتہ چھ مہینوں میں 6بار کسی نہ کسی بہانے کشمیر آ چکے ہیں اور چونکہ نریندر مودی سیلاب کو دیکھنے آئے تھے ، اس لئے وہ بچائو کام کے لئے، بازآباد کاری کے لئے اور اس سے وابستہ ترقیاتی کاموں کے لئے ایک اچھی رقم دیں گے۔نریندر مودی نے ایک ہزار کروڑ روپے کا پہلا پیکیج انائونس کیا اور کشمیر کے لوگوں کو اس بات کی خوشی ہے کہ نریندر مودی نے یہ پیسہ جموں وکشمیر حکومت کو نہیں دیا، کیونکہ لوگوں کو لگتا ہے کہ ریاستی حکومت بدعنوانی میں یہ سارا پیسہ برباد کر دیتی ۔ جن لوگوں کے نام چیک بھی جا رہے ہیں، کشمیر میں اس طرح کی افواہیں یا جانکاریاں ہیں کہ وہ سارے چیک دہلی سے بن کر ہی آ رہے ہیں۔ عمر عبد اللہ حکومت پر راحت کی کوئی ذمہ داری مرکزی حکومت کا پیسہ تقسیم کرنے سے متعلق نہیں ڈالی گئی ہے۔ عمر عبد اللہ کی حکومت ابھی تک اس بات کا اندازہ بھی نہیں لگا پائی ہے کہ کتنا نقصان ہوا ہے اور لوگوں کو کتنی امداد ملنی چاہئے یا نہیں ملنی چاہئے۔ اس لئے مقامی حکومت پر ناراضگی پر نریندر مودی پر بھروسے کا یہ نایاب کام اس سیلاب نے کر دکھایا۔ سیلاب زدہ پورا سری نگر بغیر کسی شبہ کے یہ مان بیٹھا ہے کہ الیکشن کے بعد نریندر مودی یہاں کے راحت، بازآبادکاری اور ترقیاتی کاموں میں زیادہ دلچسپی لیں گے۔
دوسری طرف بی جے پی ان انتخابات کو سنجیدگی سے لڑ رہی ہے۔ گزشتہ 25-30سالوں میں نہ تو مرکزکے کانگریسی لیڈروں نے کشمیر جا کر وہاں کے لوگوں سے کوئی رابطہ بنایا اور نہ ہی سماجوادی اور کمیونسٹ لیڈروں نے۔ جموں علاقہ میں کانگریس کی پیٹھ تھی، لیکن یہ علاقہ اب بی جے پی کے ساتھ ہے اور وادی میں جہاں بی جے پی کے امیدوار نہیں ملتے تھے، اب اسے امیدوار ملنے شروع ہو گئے ہیں۔ بی جے پی زور شور سے کسی بھی قیمت پر ہر سیٹ پر امیدوار اتارناچاہتی ہے۔ سری نگر میں اسے لگتا ہے کہ لوگ نیشنل کانفرنس اور کانگریس سے ناراض ہیں۔ دوسری طرف گیلانی صاحب اور ان کی حریت کانفرنس ہر بار کی طرح اس بار بھی انتخابات کے بائیکاٹ کا نعرہ دیں گے، جس سے ان کاووٹ فیصد کم ہو جائے گا اور اس صورت میں بی جے پی کے مسلم امیدواروں کو ملے ووٹ انہیں جتانے میں مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہاں پر حریت کے ذریعہ بائیکاٹ کا نعرہ 100فیصد بھارتیہ جنتا پارٹی کے حق میں جا سکتا ہے۔
اننت ناگ ہو ، کشمیر وادی ہو، یہاں پر پہلی بار مسلم امیدوار بی جے پی کے انتخابی نشان کے اوپر انتخاب لڑ رہے ہیں۔ بی جے پی کس شدت کے ساتھ لوگوں سے رابطہ کر رہی ہے ، اس کی ایک مثال میں آپ کو بتا سکتا ہوں۔ خود وزیر خزانہ ارون جیٹلی ایک ایک گھنٹے، آدھے آدھے گھنٹے لوگوں سے بات کر کے انتخاب لڑنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ کسی بھی شخص کے بارے میں پتہ چلتا ہے کہ وہ انتخاب لڑ سکتا ہے، تو سوال جیتنے یا ہارنے کا نہیں ہے۔، سوال صرف انتخاب لڑنے کا ہے۔ اسے پیسوں کی مدد، اسے وسائل کی مدد کا وعدہ دہلی سے کیا جا رہا ہے اور اگر کسی کو ارون جیٹلی خود فون کر کے کہیں کہ وہ ان کی پارٹی سے انتخاب لڑے تو یہ بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ بی جے پی اس بار کشمیر میں اپنے رابطہ اور وسائل کے سہارے کیا نتیجہ نکالنا چاہتی ہے۔
مجھ سے بہت سارے لوگوں نے کہا کہ حریت کانفرنس چور ہے۔جب میں نے گیلانی صاحب کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا کہ گیلانی صاحب خود تو ہندوستان کا پیسہ کھاتے ہیں اور ہم سے کہتے ہیں کہ ووٹ مت دو۔ جب میں نے پوچھا ، کون جیت سکتا ہے تو دو ہی جواب آئے۔ پہلا ، مفتی محمد سعید کی پارٹی پی ڈی پی کو اچھی حمایت ملے گی او ر دوسرا جواب آیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو وہاں سیٹیں مل سکتی ہیں۔ بی جے پی کو زیادہ سیٹیں ملنے کی سب سے بڑ ی وجہ کانگریس کے حامی طبقہ کا بی جے پی کو حمایت دینا ہو سکتا ہے، لیکن پورے کشمیر میں مفتی محمد سعید کو لے کر بہت زیادہ بھروسہ ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ مفتی محمد سعید ایک ایسے شخص ہیں، جنہیں تجربہ ہے، جن کے پاس وژن ہے، جن کے پاس پورے کشمیر کا ایک نقشہ ہے اور اگر وہ جیتتے ہیں، وزیر اعلیٰ بنتے ہیں تو چاہے جموں ہو ، چاہے لیہہ ہو یا وادیٔ کشمیر ہو ، ہر جگہ ترقی کا ایک نیا دور آ سکتا ہے اور جو لوگ سیلاب کا شکار ہوئے ہیں ، ان کی زندگی میں دوبارہ روشنی آ سکتی ہے۔ مفتی محمد سعید کے اپنے دور اقتدار میں کئے گئے بہت سارے کام لوگوں کو یاد ہیں۔ اس لئے امکان اس بات کا ہے کہ مفتی محمد سعید یا تو اکیلے حکومت بنا لیں یا پھر اگر کچھ کمی رہتی ہے تو وہ دوسری پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنائیں۔ لیکن، شاید وہ حکومت اسی شرط پر بنائیں گے کہ ان کے کام میں معاون جماعت مداخلت نہ کرے۔
سری نگر کی یہ تباہی ملک کے لیڈروں کو پیغام دیتی ہے کہ اب وہ دن گئے، جب آپ عوام کو یوں ہی بہلانے کی کوشش کرتے تھے۔ یہ بھی پیغام دیتی ہے اور ہر حکومت کو دیتی ہے کہ اب تباہی سگنل دے کر نہیں آتی۔ اس لئے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو بہت فعال بنا کر رکھنا چاہئے، ورنہ سوائے ہاتھ ملنے اور سر پیٹنے کے کچھ رہ نہیں جاتا۔ سری نگر وادی میں پانی نکالنے کے پمپ ہی نہیں ہیں۔ جو کچھ پمپ تھے، وہ پانی کے نیچے ڈوبے ہوئے تھے۔ کہیں سے چھوٹے چھوٹے پمپ منگائے گئے، لیکن ان میں پانی نکالنے کی صلاحیت ہی نہیں تھی۔ اس کے باوجود جو سب سے خطرناک بات تھی کہ سری نگر شہر میں کہاں جانا ہے ، کیا کرنا ہے اور ترجیحات کیا طے کرنی ہیں، مقامی لوگوں کو اس میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔ سب کچھ بکھرا ، بکھرا سا تھا، جس کا اندازہ اربوں، کھربوں روپے کے نقصان کی شکل میں سامنے آیا۔ شاید پوری طرح کبھی نہ پتہ چلے کہ سری نگر یعنی دنیا کی جنت پانی میں ڈوبی اور جب اس سے باہر نکلی تو کیا کھوکر نکلی۔
لیکن اس کے باوجود کشمیری لوگوں کو سلام کرنا چاہئے کہ وہ اس سب سے باہر نکل چلے ہیں۔ جب میں نے پوچھا کہ یہ سیلاب کیوں آیا تو بیشتر لوگوں نے کہا کہ شاید ہمارے برے کرم تھے ، جس کی وجہ سے اللہ ہمیں سبق دینا چاہتا تھا۔ بہت سارے جرائم کا کام کرنے والے، برے کام کرنے والے لوگ سدھر گئے ہیں۔ انہیں لگ رہا ہے کہ اللہ نے انہیں موقع دیا ہے ، اچھی زندگی گزارنے کا ۔ لیکن نئے لوگ جرائم کے کام میں لگ گئے ہیں، جیسے انشو رینس کمپنیوں کو غلط معلومات دینا اور یہ سب وہ کر رہے ہیں، جو بڑے پیسے والے ہیں۔ انشورینس کمپنیوںسے لوٹ کا منصوبہ بنانا، باہر سے آئی مدد کے نام پر فرضی این جی اوز کھڑے کرنا جیسے کام ہو رہے ہیں۔ رضاکار اداروں کا تو کشمیر میں سیلاب آ گیا ہے۔ باہر کے لوگ بھی بغیر یہ جانے کہ ان کی مدد متاثرین تک پہنچ رہی ہے یا نہیں، ان اداروں کو پیسے بھیج رہے ہیں۔ا س کے باوجود کشمیر کے لوگ کھڑے ہو رہے ہیں اور اس میں سب سے پہلا سبق ان سے سیکھنا چاہئے ، جن کے پاس وسائل نہیں ہیں، جو غریب ہیں، جن کے سامنے اس وقت بھی خراب سامان کو استعمال کر نے سے وبا میں پھنسنے کا خطرہ ہے، لیکن وہ بھی دوبارہ زندہ ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کشمیر ملک کے لئے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے معاملہ میں تو سبق ہے ہی، ملک کے سیاسی لیڈروں کے لئے بھی ایک سبق ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون اس سے سبق سیکھتا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *