کامیابی کی راہ پر میرٹھ میل

نوین چوہان
p-12cاتر پردیش کا میرٹھ شہر عالمی سطح کے کھیل آلات کی صنعت کے لئے دنیا بھر میں مشہور رہا ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اب یہ جگہ کھلاڑیوں کی وجہ سے بھی مشہور ہونے لگا ہے۔ سب سے پہلے ہندوستانی کرکٹ ٹیم میں شامل ہو کر پروین کمار نے میرٹھ کو قومی سطح پر پہچان دلائی۔ اس کے بعد پروین کی وراثت کو آگے لے کر چل رہے نوجوان گیند باز بھونیشور کمار ان سے بھی ایک قدم آگے نکل گئے ہیں۔ اس سال کے آئی سی سی ایوارڈس میں بھونیشور کمار کو ایل جی پیپلز چوائس ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ بھونیشور یہ ایوارڈ حاصل کرنے والے چوتھے کھلاڑی ہیں۔ 2010میں شروع ہوا یہ ایوارڈ سب سے پہلے سچن تیندولکر کو دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سری لنکا کے سابق کپتان کمار سنگاکارا نے مسلسل دو بار (2011اور 2012) میں یہ انعام جیتا۔ گزشتہ سال یہ ایوارڈ ٹیم انڈیا کے کپتان مہندر سنگھ دھونی کو دیا گیا تھا۔ بھونیشور کمار نے اس ایوارڈ کی دوڑ میں شامل آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے تجربہ کار گیند بازوں مشیل جانسن اور ڈیل اسٹین کو پیچھے چھوڑ دیا ۔ اس ایوارڈ کی دوڑ میں انگلینڈ کی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان چارلیٹ ایڈورڈ اور سری لنکا کے کپتان اینجلو میتھیوز بھی شامل تھے۔
سچن تیندولکر سے بھونیشور کمار کا پرانا ناطہ ہے۔ بھونیشور ہندوستان کے چنندہ کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں، جن کی پیدائش سچن تیندولکر کے بین الاقوامی کرکٹ کے آغاز کے بعد ہوئی اور انہیں ان کے ساتھ کھیلنے کی خوش قسمتی بھی حاصل ہوئی، لیکن یہ محض ایک اتفاق ہی ہے کہ بھونیشور کو پہلی بار قومی میڈیا کی سرخیوں میں جگہ سچن تیندولکر کی وجہ سے ہی ملی تھی۔ آج بھونیشور کو وہ ایوارڈ ملا ہے، جسے جیتنے والے سچن پہلے کرکٹر تھے۔ 24سالہ بھونیشور کمار یہ ایوارڈ جیتنے والے سب سے کم عمر کھلاڑی ہیں۔17سال کی عمر میں فرسٹ کلاس کریئر شروع کرنے والے بھونیشور پہلی بار سرخیوں میں اس وقت آئے تھے ، جب انھوں نے سچن تیندولکر کو کرکٹ میں بنا کھاتا کھولے پویلین بھیجنے کا کمال کر دکھایا تھا۔ جنوری 2009میں حیدرآباد میں ہوئے رنجی ٹرافی فائنل میں بھونیشور کا سامنا کرکٹ تاریخ کے عظیم ترین بلے بازوں میں سے ایک سچن تیندولکر سے ہوا تھا۔ اس وقت گھریلو کرکٹ میں کسی گیند باز میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ سچن تیندولکر کو مسلسل 12گیندوں تک پریشان کرے اور ایک بھی رن نہ بنانے دے، لیکن بھونیشور کمار نے ایسا کیا اور اسپیل کے تیسرے اوور کی پہلی گیند پر انھوں نے تیندولکر کو آئوٹ کر کے ہندوستانی سرزمین پر فرسٹ کلاس میچ میں پہلی بار صفر پر آئوٹ کیا۔ ہندوستان کرکٹ ٹیم میں منتخب ہونے سے عین پہلے سال 2012-13میں دلیپ ٹرافی کے سیمی فائنل میں آٹھویں پائدان پر بلے بازی کرتے ہوئے بھونیشور کمار نے 128رنوں کی بہترین پاری کھیل کر اپنی ٹیم کو فائنل میں پہنچایا تھا۔
چھوٹے سے کریئر میں ہی نئی گیند سے وکٹ لینا بھونیشور کمار کی سب سے بڑی پہچان بن گئی ہے۔ انھوں نے اپنی سدھی ہوئی گیند بازی سے ایک الگ پہچان بنائی ہے ۔ ایک تیز گیند باز کی شکل میں ٹیم انڈیا کو شروعاتی کامیابی دلانے میں انھوں نے بہترین کردار ادا کیا ہے۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ بھونیشور نے دائیں اور بائیں دونوں ہاتھ کے بلے بازوں کے خلاف برابر کامیابی حاصل کی ہے۔ بھونیشور شروع سے ہی آسٹریلیا کے تیز گیند باز گلین میک گرا کے مرید رہے ہیں۔ وہ میک گرا کی طرح ایک ہیا سپاٹ پر مسلسل گیند گرانے کے ہنر کو اپنا بنانے کی حسرت رکھتے ہیں۔ انھوں نے میک گرا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے رفتار سے زیادہ لائن لینتھ اور سوئنگ پر کام کیا۔ میک گرا کی جگہ گیند کو ایک ہی اسپاٹ سے اندر اور باہر لے جانے کی صلاحیت انہیں ایک بہترین گیند باز بناتی ہے۔
دو سال سے بھی چھوٹے کریئر میں بھونیشور کمار تیزی سے کامیابی کی سیڑھیاں چڑھ رہے ہیں۔ یکروزہ رینکنگ میں وہ ساتویں نمبر پر ہیں۔ اتنے ہی کم وقت میں وہ ہندوستانی ٹیم کی سب سے مضبوط کڑی بن گئے ہیں۔ ان کے بارے میں ان کے ساتھی کھلاڑی اور کوچ بھی کہتے ہیں کہ وہ ایک ضابطہ پسند کھلاڑی ہیں۔ وہ سیکھنے کے لئے ہمیشہ پرجوش رہتے ہیں اور اپنی حدوں کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ یہی ان کی کامیابی کا راج ہے۔ اگر انہیں تعاون ملے تو وہ ٹیم کو یقینی طور پر کامیابی دلاتے ہیں۔ اگر کنڈیشن سوئنگ کے لئے معقول ہو تو کپتان دھونی بھی ان سے وکٹ کی امید کرتے ہیں۔وہ انہیں میچ کے آخری وقت کے لئے بچاکر نہیں رکھتے ہیں۔ یہ دھونی کا ان کے تئیں اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔
میرٹھ میل چل پڑی ہے اور وہ آخر کار کامیابی کے کس مقام پر پہنچ کر رکے گی، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ فی الحال میرٹھ میل جس رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے اور کامیابی کے جن راستوں سے ہو کر گز رہی ہے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ وہ ملک کے لئے کامیابی کی نئی عبارتیں لکھیں گے اور ہندوستان کی تیز گیند بازی کو ایک نئے مقام تک لے کر جائیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *