بچوں کی ٹیکہ کاری سے متعلق ہدایتیں

p-11ٹیکہ کاری کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟
ٹیکہ کاری (ویکسنیشن)انسانی جسم کو مختلف متعدی امراض سے بچانے کا ایک طریقہ ہے۔ ٹیکہ ہمارے جسم کو امراض کے خلاف لڑنے کے لیے تیار کرتا ہے یا یوں کہیں کہ جسم میں بیماری کے تئیں قوت مدافعت بڑھاتا ہے۔ قدرتی طور پر بچے کچھ ویکسنیشن کے ساتھ جنم لیتے ہیں، جو انھیں ان کی ماں کے دودھ کے ذریعے حاصل ہوتا ہے،پھر ان کا اثر رفتہ رفتہ کم ہونے لگتا ہے اور بچے کاخود کاویکسنیشن سسٹم شروع ہوجاتا ہے۔ بچوں کے ٹیکے لگنے سے ان کے اندر جان لیوا بیماریوں کے خلاف لڑنے کی قوت مدافعت بڑھتی ہے۔
ویکسنیشن کے سائڈ افیکٹس کیا ہوتے ہیں؟
محضکچھ بچوں میں ویکسنیشن کے سائڈ افیکٹس ہوتے ہیں۔ ڈی پی ٹی کے انجکشن کے بعد نوزائیدہ بچے کو انجکشن کی جگہ پر درد ہوسکتا ہے۔ ایسی حالت میں بچے کو پیراسٹامول دیا جاسکتا ہے۔ خسرہ کے انجکشن کے بعد خسرے جیسے زخم پیداہوسکتے ہیں۔ یہ عام بات ہے۔ بہت کم کیسوں میں ٹیکہ لگنے کے بعد بچوں کو الرجک ری ایکشن ہوسکتاہے۔ اس کے ساتھ ہی اگر بچے کو بخار آجائے یا وہ بے ہوش ہو جائے، تو فوراً کسی ڈاکٹر سے صلاح لینی چاہیے۔ ٹیکہ کاری کرنے والے لوگ الرجی سے متعلق ری ایکشن سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ ہوتے ہیں اور اگر بچے کا فوراً علاج کیا جائے، تو وہ پوری طرح صحت یاب ہوجاتا ہے۔
کبھی کبھار ایسا بھی ہوجاتا ہے کہ بچے کو دوسرا اور تیسرا ٹیکہ لگوانے کے لیے ٹھیک ایک مہینے بعد لے جانا ممکن نہیں ہوتا ، ایسی صورت میں کیا پورا کورس دوہرایا جانا چاہیے؟
نہیں، تھوڑی تاخیر سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ شیڈول کے مطابق ٹیکہ کاری جاری رکھیں اور جتنی جلدی ہو سکے، کورس مکمل کر لیں۔ بچہ تبھی پوری طرح محفوظ رہے گا، جب اسے 1بی سی جی انجکشن، 3ڈی پی ٹی انجکشن، 3او پی وی (اورل پولیو ویکسنیشن) کی خوراک اور خسرہ کاایک انجکشن لگ جائے۔ اس لیے صحیح وقت پر بچے کو ٹیکہ کاری کے لیے لے جانا بہتضروری ہے۔
کن وجوہات کے تحت بچے کی ٹیکہ کاری نہیں کی جاسکتی؟
عام طور پرزکام یا دست جیسی عام بیماریاں بچے کو ٹیکہ لگوانے میں رکاوٹ نہیں بنتیں۔ حالانکہ ایسے کچھ حالات ہیں، جن میں آپ کو اپنے بچے کی صحت کے بارے میںڈاکٹر کو بتانا چاہیے، جیسے بچے کو تیز بخار ہو یا دوسرے ٹیکے لگوانے پر ری ایکشن ہوا ہو، انڈا کھانے پر تیز ری ایکشن ہوا ہو۔ (صحیح صلاح سے، جن بچوں کو پہلے چکر آئے ہوں، انھیں چھٹکارا مل سکتا ہے)۔بچے کو کینسر ہویاکینسر کا علاج چل رہا ہو یا اسے کوئی ایسی بیماری ہو، جو ویکسنیشن سسٹم کو متاثر کرتی ہو۔ مثال کے طور پر ایچ آئی وی یا ایڈس یا وہ ایسی کوئی دوا لے رہا ہو جو ویکسنیشن سسٹم کو متاثر کرتی ہویا آرگن ٹرانسپلانٹ کے بعد جان لیوا بیماری کے لیے دوا دی جارہی ہے۔
بی سی جی کا ٹیکہ صرف بائیںبازو پر کیوں لگایا جاتا ہے؟
بی سی جی کا ٹیکہ یکسانیت برقرار رکھنے کے لیے اور سروے کرنے والوں کے ذریعہ ٹیکہ کاری ہو نے کی تصدیق کرنے میں آسانی کے لیے بائیں بازو پر لگایا جاتا ہے۔
کس عمر تک کے بچے کو اوپی وی دیاجاسکتا ہے؟
5سال کی عمرتک کے بچوں کو او پی وی دیا جاسکتا ہے۔
اگر بغیر ٹیکہ لگا 2سے 5سال تک کا بچہ آتا ہے، تو اسے کون کون سے ٹیکے دیے جانے چاہئیں؟
اگر کوئی 2سے 5سال تک کا بچہ بغیر ٹیکہ لگا آتا ہے، تو کم سے کم چار ہفتوں یا ایک مہینے کے وقفہ سے اوپی وی کے ساتھ ڈی ٹی کی دو خوراک دی جاسکتی ہیں۔ ڈی ٹی کی پہلی خوراک کے ساتھ خسرے کے ٹیکے کی ایک خوراک دینے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر کسی لڑکی کو 16سال کی عمر تک این آئی ایس کے مطابق ڈی پی ٹی، ڈی ٹی اور ٹی ٹی کی سبھی خوراکیں ملی ہوں اور وہ 18سال کی عمر میں حاملہ ہو جائے ، تو دوران حمل اسے ٹی ٹی کی ایک خوراک دینی چاہیے؟
شیڈول کے مطابق حمل کے دوران ٹی ٹی کی دوخوراک دیں۔
اگر کوئی 9ماہ کا بچہ جسے کبھی کوئی ٹیکہ نہیں لگایا گیا ہو،لایا جاتا ہے تو کیا سبھی ضروری ٹیکے ایک دن میںلگائے جاسکتے ہیں؟
ہاں، سبھی ضروری ٹیکے ایک ہی سیشن کے دوران دیے جاسکتے ہیں، لیکن جسم میں الگ الگ جگہ پر ، الگ الگ سیرنج کا استعمال کر کے انجکشن دے کر ایسا کیا جاسکتا ہے۔ 9مہینے کے بچے کو جسے ایک بھی ٹیکہ نہ لگا ہو، اسے ایک ہی وقت میں بی سی جی ، ڈی پی ٹی، ہیپٹائٹس بی، اوپی وی اور خسرہ کے ٹیکے اور وٹامن اے دینا محفوظ و مؤثر ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *