علی گڑھ مسلم یونیورسٹی : میڈیا کو مسلم ایشوز سے کھیلنے کا بہانہ چاہئے

ڈاکٹر وسیم راشد 

کوئی بھی مسلم ایشو ہو ،میڈیا اس پر خوب کھیلتا ہے بلکہ یوں سمجھئے کہ مسلم ایشو تو جیسے ان کے لئے ٹی آر پی بڑھانے کا بہترین ذریعہ ہوتا ہے۔ہر چینل پر مسلم چہروں کی باڑھ آجاتی ہے جو کبھی کسی پلیٹ فارم پر نہیں آئے ،چینل ان کی بھی رائے لے کر مقصد خوب پورا کرتے ہیں ۔ جب سے مودی وزیر اعظم بنے ہیں تب سے تو چینل نے جیسے مودی بنام مسلمان کا کھلونا ہاتھ میں لے لیا ہے اور اسی سے رات دن کھیل رہے ہیں اور اب ایسا ہی ایک ایشو میڈیا کو مل گیا ۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مولانا آزاد لائبریری میں لڑکیوں کے داخلہ کا۔
یہ بے حد شرم اور افسوس کی بات ہے کہ میڈیا نے دو سال پرانے ایشو کو اتنی تیزی سے پھیلا دیا کہ وہ ایک دم سے ہاٹ خبر بن گئی۔وہ دن جنگ ِ آزادی کے عظیم مجاہد مولانا آزاد ی مولانا ابولکلام آزاد کے یوم پیدائش کا تھا۔ لیکن میڈیا پورے دن اسی خبر پر کھیلتا رہا ۔ اس دن چھتیس گڑھ کے بلاس پور ضلع میں 13 عورتوں کی نسبندی سے موت ہوگئی۔ میدیا نے اس خبر کو اس دن بالکل نہیں دکھایا،بس ایک سرسری سی خبردی ۔حالانکہ بعد میں یہ خبر خوب چلی لیکن اصل ہاٹ ٹاپک تو وی سی کا بیان تھا جو کہ دو سال پرانا تھا لیکن اس دو سالہ پرانی تقریر کو یوٹیوب سے نکال کر خاص مولانا آزاد کے یوم پیدائش پر نشر کرنا مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی ایک اور مہم تھی۔نہ کسی نے اس کی چھان بین کی نہ کوئی تحقیق کی ،بس چاروں طرف سے یلغار شروع کردی۔
اگر وی سی کا یہ بیان تازہ بھی ہوتا تو شاید اس پر بحث حق بجانب ہوسکتی تھی لیکن یہ شاید کسی منصوبہ بندی کا حصہ ہوگا یا پھر مولانا آزاد سے عوام کی توجہ کو ہٹانا مقصود رہا ہوگا یا پھر وی سی اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش رہی ہوگی۔جانے کیا بات ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی یا یا جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تعلق سے ہمیشہ میڈیا یہ کوشش کرتی رہی ہے کہ ان اداروں کو کسی بھی طرح ذلیل وخوار کیا جائے۔ ذرا بھی ان کے تعلق سے کوئی خبر آتی ہے چاروں طرف شور مچ جاتا ہے ۔اس دن جتنے بھی چینلز پر بحث و مباحثے ہوئے، سب نے ہی ضمیر الدین شاہ کو نشانہ بنایا ۔خود مجھے کئی فون آئے ،میں خود 2-3چینلوں پر خوب ہی لڑ جھگڑ کر خواتین کی نمائندگی کرکے آئی جس کی بعد میں مجھے بے حد شرمندگی ہوئی۔
اسی دن مشہور فلم پروڈیوسر اور سماجی کارکن مہیش بھٹ کا بھی فون آیا کہ ڈاکٹر صاحبہ یہ بیان دیا ہے علی گڑھ کے وی سی نے ،آپ کا کیا خیال ہے۔میں نے ان سے یہی کہا کہ مہیش جی یونیورسٹی کا مطلب ہے لڑکے و لڑکیوں کا ساتھ مل کر پڑھنا ۔یہ کوئی اسکول ، کالج یا مدرسے کی بات نہیں ہے ۔یہ یونیورسٹی کی بات ہے اور یونیورسٹی میں یہ Discrimination ٹھیک نہیں ۔یہ کس دور کی ہم بات کررہے ہیں ،لیکن بعد میں پتہ چلا کہ یہ دو سال پرانا انٹرویو تھااور ٹائمز آف انڈیا نے اس کو شائع کیا تھا لیکن غلط رپورٹنگ کے ذریعہ ۔
حیرت اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ مرکزی وزیر سمرتی ایرانی نے اس کا فوری طور پر نوٹس لیا۔ یہی فرق ہوتا ہے ایک کوالیفائڈ تجربہ کار وزیر اور ایک ناتجربہ کار کم پڑھے لکھے وزیر میں ۔نہ تو سمرتی ایرانی کالج ،یونیورسٹی کے مسائل سے واقف ہیں نہ ہی وہاں کے سسٹم سے۔ ورنہ موصوفہ نے وائس چانسلر کو نوٹس بھیج کر بیٹیوں کی بے عزتی کا الزام نہ لگایا ہوتا ،لیکن انہوں نے یہ جاننے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کی کہ دراصل وہاں کی لائبریری کا سسٹم کیا ہے؟یہ بات درست ہے کہ ویمنس کالج جو یونیورسٹی کمیپس سے تقریبا تین کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ وہاں کی طالبات کو اور گرلس و بوائز اسکولوں کے طلباء و طالبات کو اس لائبریری کی ممبر شپ نہیں دی جاتی لیکن اس کی وجہ کیا ہے؟ یہ جاننا بے حد ضروری تھا۔ اسکول و کالج کی طالبات اپنے اسکول اور کالج و لائبریری سے استفادہ کرسکتی ہیں ۔یہ خود کفیل ادارے ہیں ۔ان کے پاس لائبریری بھی ہے اور اپنا انفراسٹرکچر بھی ہے۔ ویمنس کالج کی طالبات اس لائبریری سے استفادہ اٹھا سکتی ہیں ۔ وی سی کا کہنا یہ تھاکہ اس لائبریری میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ کالج کی طالبات وہاں آئیں ۔دراصل وہ لائبریری ریسرچ اسکالر ز اور پوسٹ گریجویٹ طلبا و طالبات کے لئے ہے۔ بلکہ مختلف پیشہ ورانہ کورسیز میں جوطالبات داخلہ لیتی ہیں،ان کو بھی بنا کسی روک ٹوک کے داخلہ اور مطالعہ کی آزادی ہے۔ وزیر تعلیم سمرتی ایرانی کو اتنی ہی فکر ہے تو مولانا آزاد لائبریری کو اور وسعت دینے کی سوچیں ،گرلز کالج کی لابئری کو بھی وسیع کریں ۔
اگر وی سی کا یہ بیان غیر منصفانہ ہوتا تو سب سے پہلے وہاں کے طلباء و طالبات ہی احتجاج کرتے لیکن ہوا اس کے برعکس۔ طالبات نے خو د میڈیا کے خلاف احتجاج درج کرایا جس میں میڈیا کے علی گڑھ کے تئیں منفی رویے کی سخت مذمت کی۔ ٹائمز آف انڈیا اخباری کی رپورٹر نے غلط طریقہ سے خبر کو شائع کرایا اور حیرت کی بات یہ ہے کہ سمرتی ایرانی نے اس کا فوری نوٹس لیا ۔دراصل یہیں ضرورت پڑتی ہے کسی بھی فیلڈ کے ماہر کی اگرکوئی تعلیم کے شعبہ سے وابستہ وزیر ہوتاتو وہ پہلے معاملہ کی انکوائری کرا تا تب نوٹس جاری کرتا ۔اس سے تو ایسا لگتا ہے کہ یا تو جان بوجھ کر اس مسئلہ کو اٹھایا گیا تاکہ مولانا آزاد کا یوم پیدائش خراب ہو اور اس کے تعلق سے لوگوں کا دھیان ہٹ جائے یا پھر یونیورسٹی کی شبیہ خراب کرنے کے لئے ایسا کیا گیا ۔حیرت کی بات یہ ہے ویمنس کالج کی طالبات ، پرنسپل اور اساتذہ سبھی نے وی سی کے اس فیصلہ کی تائید کی ہے اور اسے ان لڑکیوں کے تحفظ کا اہم قدم بتایاہے۔
یہ حقیقت ہے کہ وائس چانسلر کے اس بیان میں کہیں بھی جنسی تفریق کا کوئی پہلو نہیں ملتا لیکن وہ تنظیمیں وہ ادارے جو خواتین کے نام پر کروڑوں روپے کھارہے ہیں ،خود خواین کمیشن کا ابھی تک کوئی قابل قدر کام منظر عام پر نہیں آیا۔ وہ سب دوسرے کے کندھے پر بندوق رکھ کر اپنا مطلب نکالتے ہیں۔ سب کا اپنا مفاد ہے میڈیاکو مسالہ چاہئے تھا ،وہ مل گیا۔
ویمن کالج اسٹوڈنت یونین کی صدر گلفزا خاں کے بیان سے بھی یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ یونیورسٹی لائبریری کے لئے جو بھی بیان وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ نے دیا ہے وہ لڑکیوں کے حق میں ہی ہے اور اس کا تعلق ان کے تحفظ اور ان کی آسانی سے ہے ۔ گلفزا کا یہی کہناہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایک سیکولر ادارہ ہے جو ذات ،مذہب، جنس اور نسل کے امتیاز کے بغیر ہر شخص کو تعلیم کا برابر حق دے رہا ہے۔جو بھی پریشانی ہے وہ اندرونی ہے اس کا ایشو بنانا بے حد تکلیف دہ ہے۔ خود ویمنس کالج کی پرنسپل ڈاکٹر نعیمہگلریز کا کہنا ہے کہ ہمارے کالج کی لائبریری میں تقریبا 53ہزار کتابیں اور ڈیجیٹل جرنلز ریکارڈ تقریبا ً6ہزار ہے۔
اس پورے ایشو کو میں نے خود پوری طرح اسٹڈی کیا اور ٹویٹر ،فیس بک اور دوسری سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر پڑھا تو مجھے بھی یہ اندازہ ہوا کہ واقعی وائس چانسلر کا جذبہ نیک تھا اور ان کا موقف بھی بے حد ایماندارانہ تھا۔ کیونکہ زیادہ تر لڑکیوں نے ٹویٹ اور فیس بک کے ذریعہ میڈیا کو ہی قصورار ٹھہرایا اور پورے معاملہ کو غلط طریقے سے پیش کرنے کا الزام بھی لگایا۔
میڈیا دراصل اس وقت ایسی دوڑ میں لگا ہوا ہے کہ مسلم ایشوز کو فوراً کیچ کرکے اس کو اچھالنے کی کوشش کرے ۔اسی لئے جہاں کوئی خبر ملی سبھی کے مزے آجاتے ہیں۔ معمولی سے معمولی معلومات والے بھی خوب بولتے ہیں۔ خواتین لبرل ازم اور ویمن امپاورمنٹ کی دُہائی دیتی ہیں اور اس طرح مسلمانوں کے اداروں اور کبھی جنسی تفریق کا الزام لگانا آسان ہوجاتاہے اور کبھی ان کو دہشت گردانہ سرگرمیوں کا اڈا بتانا۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *