اسمبلی انتخابات 2014کیا کشمیر میں اگلی سرکار پی ڈی پی اور بی جے پی کےا تحاد کی بنے گی ؟

محمد ہارون ریشی

p-5جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کا بگل بجتے ہی تمام سیاسی جماعتیں انتخابی اکھاڑے میںکود پڑنے کے لیے متحرک ہوگئی ہیں۔ پانچ مرحلوں پر مشتمل انتخابات 25 نومبر سے شروع ہورہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی ریاست کے مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل دیکھنے کو ملا۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب وادی، بالخصوص سرینگر کے باشندے حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے جوجھ رہے ہیں، الیکشن منعقد کرانا اُن کے زخموںپر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ اُن کا استدلال ہے کہ ایک ایسے وقت میں، جب کشمیر میں بازآبادکاری کے عمل کی ضرورت ہے، انتخابات کرانا سیلاب کے متاثرین کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہے، کیونکہ انتخابی اعلان کے ساتھ ہی ضابطہ اخلاق بھی لاگو ہوگیا ہے۔ ایسی صورت میں حکومتی سطح پر امدادی سرگرمیوں کو جاری رکھ پانا ممکن نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات منعقد کرانے کے اعلان پر نہ صرف سیاسی، بلکہ سماجی سطح پر بھی ناراضگی کا اظہارکیا گیا۔ یہاں تک کہ حکمراں جماعت نیشنل کانفرنس نے بھی اس موقع پر انتخابات منعقد کرانے کی مخالفت کی ہے۔ نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر ڈاکٹر مصطفی کمال، جو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے چچا بھی ہیں، نے اس ضمن میں ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ ایک بات چیت میں کہا کہ ’’اس وقت تو کشمیری عوام، جو سیلاب سے تباہ ہوگئے ہیں اور جن کی اقتصادی حالت انتہائی بد تر ہے، کے لیے امدادی سرگرمیوں کا وقت ہے نہ کہ ستم زدہ عوام سے ووٹ مانگنے کا۔ میں حیران ہوں کہ انتخابات کرانے کے لیے اتنی عجلت سے کام کیوں لیا گیا ہے؟‘‘
تاہم، انتخابات میں شرکت کرنے والی دیگر جماعتیں، بالخصوص پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی (پی ڈی پی) اور بی جے پی پُر جوش نظر آرہی ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ انتخابات کے تئیں نیشنل کانفرنس کی عدم دلچسپی کا ایک سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نیشنل کانفرنس قیادت والی ریاستی سرکار سیلاب کے دوران اور اس کے بعد باز آبادکاری کے عمل کے حوالے سے عوام کے توقعات پر پورا اُترنے میں ناکام ثابت ہوگئی ہے۔ صحافی ریاض ملک کہتے ہیں کہ ’’سیلاب کو آئے دو ماہ سے زائد عرصہ گزرچکا ہے، لیکن حکومت ابھی نقصانات کا تخمینہ ہی لگارہی ہے۔ سرکاری کارندے ابھی تک متاثرہ علاقوں میں سروے ہی کررہے ہیں کہ کس کا کتنا نقصان ہوا ہے۔ حکومت کی اس سست رفتاری کی وجہ سے لوگ نالاں ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ حکومت ان لوگوں کی رہائش کے متبادل انتظامات بھی نہیں کرپائی ہے، جن کے مکانات سیلاب میں ڈھہ گئے ہیں۔ اس صورتحال میں نیشنل کانفرنس کون سا منھ لے کر ووٹروں کے پاس جائے گی اور انہیں اپنا ووٹ دینے پر آمادہ کرے گی؟ نیشنل کانفرنس کو اس صورتحال کا بھر پور احساس ہے، اسی لیے اس پارٹی نے انتخابات کرانے کے فیصلے کی مخالفت کی ہے۔‘‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ مخلوط سرکار میں نیشنل کانفرنس کی اتحادی جماعت کانگر یس میں بھی وہ جوش و خروش نظر نہیں آرہا ہے، جو عام طور سے انتخابات کے موقع پر سیاسی جماعتوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ بقول ریاض ملک ’’ریاستی کانگریس پر بھی اُس شکست کی نفسیات حاوی نظر آرہی ہے، جس کا سامنا پارٹی کو پہلے ملکی سطح پر پارلیمانی انتخابات میں کرنا پڑا اور اس کے بعد کئی ریاستی اسمبلی انتخابات میں۔‘‘ حقیقت یہ ہے کہ اسمبلی انتخابات کے حوالے سے سب سے زیادہ جوش و خروش حزب اختلاف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) اور بی جے پی میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ان دونوں جماعتوں نے انتخابی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ بی جے بی کے ریاستی ترجمان خالد جہانگیر ان دنوں بہت ہی پر جوش نظر آرہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے جموں و کشمیر میں ’’مشن 44‘‘ کا جو خواب دیکھا ہے، اس کے شرمندہ تعبیر ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ بی جے پی نے جموں و کشمیر میں اپنی حکومت قائم کرنے کے لیے یہاں 87 ممبران پر مشتمل ریاستی اسمبلی میں کم از کم 44 درکار نشستوں کے حصول کا ہدف بہت پہلے طے کرلیا تھا۔ امسال پارلیمانی انتخابات کے دوران بی جے پی نے جموں اور لداخ کے اسمبلی حلقوں میں ووٹوں کی برتری حاصل کی تھی۔ اب کی بار بی جے پی کی نظر وادی کے ان انتخابی حلقوںپر بھی ہے، جہاں مہاجر کشمیری پنڈتوں کا اچھا خاصا ووٹ بینک ہے۔ چونکہ علیحدگی پسند جماعتوں نے پہلے ہی انتخابی بائیکاٹ کی کال دی ہے، اس لیے یہ عین ممکن ہے کہ عمومی طور پر مسلم رائے دہندگان ووٹ نہ ڈالیں اور اس طرح بی جے پی پنڈت مائیگرنٹ ووٹروں کی بنا پر ان نشستوں پر جیت حاصل کرلے۔ خالد جہانگیر نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ ایک بات چیت میں کہا کہ ’’ہم مشن 44 کی کامیابی کے لیے بھر پور جدوجہد کریں گے۔ ممکن ہے کہ مودی جی خود وادی آکر یہاں انتخابی جلسے سے خطاب کریں۔ ہمیں یقین ہے کہ جموں و کشمیر میں اگلی حکومت بی جے پی کی ہی ہوگی۔‘‘
حکومت کس پارٹی کی بنے گی، یہ بات تو بہرحال آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن اتنا توطے ہے کہ اب کی بار ریاستی اسمبلی میں بی جے پی کے ممبران کی ایک اچھی خاصی تعداد ہوگی۔ فی الوقت اسمبلی میں بی جے پی کے پاس 11 نشستیں ہیں۔ لیکن گزشتہ ایک سال سے ملک بھر میں جو مودی لہر دیکھنے کو ملی ہے، اس کافائدہ جموں کے ہندو اکثریتی علاقوں میں بی جے پی کو ضرور ملے گا اور اگر ایسا ہوا، تو اس کا صاف مطلب ہوگا کہ کانگریس ریاست میں مزید زوال پذیر ہوگی۔ فی الوقت ریاست میں مین اسٹریم سیاسی جماعتوں میں سے بی جے پی اور پی ڈی پی کا ہی مستقبل روشن نظر آرہا ہے۔ پی ڈی پی نے اپنی انتخابی مہم کا محور نیشنل کانفرنس حکومت کی ناکامیوں کو اچھالنے تک ہی محدودرکھا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پی ڈی پی نیشنل کانفر نس کی ان خامیوں کو اچھالنے کا کوئی موقع گنوانا نہیں چاہتی ہے، جن کی وجہ سے عوام اس جماعت سے ناراض ہیں۔
پی ڈی پی یوتھ ونگ کے لیڈر محمد طاہر سعید نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ ایک بات چیت میں کہا کہ ’’ہمارا سار ا فوکس اس بات پر ہے کہ ہم عوام کو نیشنل کانفرنس کے وہ عوام مخالف اقدامات یاد دلاتے رہیں، جن کی وجہ سے لوگوں کو مصیبتیں جھیلنی پڑی ہیں۔ اس جماعت کی حکومت میں کم از کم پانچ ہزار کشمیری نوجوانوں کے خلاف پتھرائو کے الزام میں کرمنل کیس درج کر لیے گئے۔ ان ہزاروں نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کردی گئیں۔ سال 2010 میں نیشنل کانفرنس حکومت نے یہاں قتل و غارتگری کا بازار گرم کر دیا تھا۔ سڑکوں اور گلی کوچوں میں 110 افراد، جن میں زیادہ تر بچے شامل تھے، کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ نیشنل کانفرنس کی حکومت کے دوران کرپشن کے کئی اسکینڈل منظر عام پر آئے، لیکن حکومت نے ان سارے معاملات کو دبا دیا۔ بد عنوانی کے کسی ایک معاملہ میں بھی ملوثین کو کیفر کردار تک پہنچانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ ہم عوام کو نیشنل کانفرنس کی یہ ساری کرتوتیں یاد دلانا چاہتے ہیں۔‘‘
ظاہر ہے کہ اسمبلی انتخابات کی مہم کے دوران ووٹروں کو لبھانے کے لیے پی ڈی پی کے لیے نیشنل کانفرنس کی خامیاں اچھالنا ہی کافی ہے۔ اس طرح سے نیشنل کانفرنس کو قدم قدم پر صفائی دینی ہوگی اور اپنا دفاع کرنا ہوگا۔ ایسی حالت میں یقینی طور پر پی ڈی پی کا پلڑا بھاری رہے گا۔ اسمبلی انتخابات کے حوالے سے جو مجموعی صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے، اس میں جموں اور لداخ میں سیٹوں کی بھاری اکثریت بی جے پی کے کھاتے میں اور وادی کشمیر میں سیٹوں کی اکثریت پی ڈی پی کے کھاتے میں جاتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ اگرنیشنل کانفرنس اور کانگریس کے حق میں کوئی معجزہ نہ ہوا، تو یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ ریاست میں اگلی حکومت بی جے پی اور پی ڈی پی کے اتحاد پر مشتمل ہوگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *