وزیر اعظم صاحب، موقع کا صحیح استعمال کیجئے

سنتوش بھارتیہ
ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی جب امریکہ گئے، تو انہوں نے وہاں کہا کہ 8 سال میں ہم نے بڑی ترقی کی ہے اور ہم مریخ سیارہ پر امریکہ سے باتیں کر رہے ہیں۔ امریکہ میں موجود ہندوستانیوں نے تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے مریخ سیارہ پر ہندوستان کی موجودگی اور مریخ سیارہ پر امریکہ سے بات کرنے کی بات کا پرزور استقبال کیا۔ یہ بات وزیر اعظم نے کئی جگہ دوہرائی، لیکن وہی وزیر اعظم نریندر مودی جب ہندوستان لوٹ کر آئے اور انہوں نے ہریانہ کی ریلیوں میں تقریر کی، تو کہا کہ 8 سال میں اس ملک میں کچھ نہیں ہوا۔ تب ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ سچ کیا ہے؟ کیا مئی میں نریندر مودی جی کی حلف برداری کے کچھ دنوں کے اندر ہی ہم نے منگل یان چھوڑا تھا؟ منگل یان تو بہت پہلے مریخ (منگل) کی طرف روانہ ہو گیا تھا۔ اس حصولیابی کا کریڈٹ وزیر اعظم نے خود اور ملک کو دیا۔ کیا یہ مانیں کہ ملک کا وزیر اعظم دو طرح کی زبان بولتا ہے، ملک سے باہر ایک طرح کی اور ملک میں دوسری طرح کی؟ یا پھر ملک کا وزیر اعظم تھوڑا کنفیوژ ہو گیا ہے۔
نریندر مودی جب وزیر اعظم بنے تھے، تو وہ دن کٹ آف ڈیٹ کی شکل میں یاد کیا جا سکتا ہے۔ اس سے پہلے نریندر مودی ہر جگہ انٹرویو دے رہے تھے، تقریریں کر رہے تھے اور اپنی بات زور شور سے کہہ رہے تھے۔ لیکن، جیسے ہی انہوں نے وزیر اعظم کے عہدہ کا حلف لیا، انہوں نے طے کیا کہ وہ خاموش رہیں گے اور وہ اچانک خاموش ہو گئے۔ کوئی بھی واقعہ ہو، کوئی بھی موضوع ہو، کسی بھی قسم کا اعلان ہو، وزیر اعظم ہمیشہ خاموش رہے۔ اس پر لوگوں کو حیرانی ہوئی۔ سوشل میڈیا میں شور مچ گیا کہ ایک نیا ’مونی بابا‘ آ گیا ہے، جو کسی بھی سوال پر کسی بھی طرح کا ردِ عمل نہیں دینا چاہتا۔ چونکہ سوشل میڈیا نریندر مودی کے دماغ میں بس گیا ہے اور انہیں لگ رہا ہے کہ سوشل میڈیا نے ہی انہیں وزیر اعظم بنانے کی ہوا بنانے میں بڑا اہم رول ادا کیا ہے، اس لیے شاید اچانک وہ چار مہینے کی خاموشی کے بعد پرو – ایکٹو ہو گئے ہیں۔ اور، اس پرو – ایکٹو ہونے کا انہوں نے میدان چنا ہے اسمبلی انتخاب کا۔ ہریانہ اور مہاراشٹر کا میدان، جہاں وہ سب سے بڑے اسٹار کمپینر کے طور پر دن میں چار چار، پانچ پانچ جلسے کر رہے ہیں اور اپنی باتیں رکھ رہے ہیں۔ کیا اسے ہم وزیر اعظم کا صحیح معنوں میں کنفیوژن مانیں کہ وہ الجھ گئے ہیں کہ آخر اپنی تصویر بنائیں، تو کیسے بنائیں۔ ہریانہ کے الیکشن میں وزیر اعظم جس طرح کی زبان بول رہے ہیں، وہ زبان ان کی پارٹی کو فائدہ بھی پہنچا سکتی ہے اور نقصان بھی۔ ہریانہ میں وزیر اعظم نے کہا کہ پنچایت سے مرکز تک 60 سال سے کانگریس کا راج صرف گھوٹالے کے لیے یاد کیا جائے گا۔ لیکن، ہریانہ میں کانگریس کے علاوہ بھی سرکاریں رہی ہیں اور اگر وہ ہریانہ میں کہہ رہے ہیں کہ مرکز سے لے کر پنچایت تک گھوٹالے ہوئے ہیں، تو یہ دوسری ریاستوں میں بھی ہوئے ہوں گے۔ خود وزیر اعظم کی اپنی پارٹی کے 24 امیدوار یا تو ڈیفالٹر ہیں یا منی لانڈرنگ کا ان کے اوپر کیس چل رہا ہے۔ سوال دماغ میں اٹھتا ہے کہ تقریر لوگوں کے لیے ہے، اپنی پارٹی کے لیے شاید نہیں ہے۔
کہیں ملک کے وزیر اعظم کے دماغ میں ایک الگ طرح کا کنفیوژن تو نہیں ہے کہ ان کے سامنے ہدف بچا کیا ہے۔ ملک کے سب سے طاقتور عہدہ کا ہدف انہوں نے پا لیا ہے۔ اب اس کے آگے کہیں جانا نہیں ہے۔ اس سے بڑا کوئی عہدہ ہے نہیں۔ اب اس ہدف کو دوہرانا بھر باقی ہے، یعنی ایک بار وزیر اعظم، پھر دوسری بار وزیر اعظم، پھر تیسری بار وزیر اعظم۔ لیکن، شاید اب یہ وقت جواہر لعل نہرو اور اندرا گاندھی کا وقت نہیں ہے۔ یہ وقت 2014 کا ہے، جب گھر گھر میں جانکاریاں بھی ہیں، ان جانکاریوں کی تصدیق کرنے کے انسٹرومنٹ بھی ہیں۔ اس لیے اب خواب دکھانے سے کام نہیں چلے گا۔ خوابوں کو تھوڑا پورا کرنے کی سمت میں بڑھنا پڑے گا۔
نریندر مودی کے اپنے جوش کی وجہیں بھی ہیں اور اس جوش میں وہ صنائع و بدائع جوڑتے ہیں۔ شاید نوکر شاہوں کے بتائے حقائق پر وہ اپنے بیان بناتے ہیں اور جوش میں ملک کے لوگوں سے ہر اتوار کو دن میں 11 بجے ریڈیو پر بات کرنے کا وعدہ کرتے ہیں، لیکن اگلا ہی اتوار خالی چلا جاتا ہے۔ پورے ملک میں لوگ نریندر مودی کا انتظار کرتے ہیں، لیکن نریندر مودی ریڈیو پر دکھائی (سنائی) نہیں دیتے۔ نریندر مودی جب وزیر اعلیٰ تھے، تب شاید وہ زیادہ واضح تھے۔ وہ جن چیزوں کا جواب نہیں دینا چاہتے تھے، نہیں دیتے تھے، خاموش ہو جاتے تھے یا اٹھ کر چلے جاتے تھے۔ ماننا چاہیے کہ وہ اس وقت اچھے نوکرشاہوں کے ساتھ وزیر اعلیٰ کے عہدے کی ذمہ داری نبھا رہے تھے۔ اس بار کے نوکر شاہ بھی تو انھیں کے چنے ہوئے ہیں۔ کیا اس بار دو مہینے خاموش رہنے کا فیصلہ انہوں نے خود لیا یا نوکر شاہوں کے کہنے پر؟ وزیر اعظم کو بالکل واضح نظریہ اور نقشہ بتانے والا ہونا چاہیے۔ کبھی جب ہم وزیر اعظم کو سنتے ہیں، تو وہ بہت عقلمند نظر آتے ہیں، لیکن کبھی جب ہم وزیر اعظم کو سنتے ہیں، تو کچھ شک سا پیدا ہو جاتا ہے۔
ان انتخابات میں مہاراشٹر میں نریندر مودی جی نے کہا، شواجی کی سرزمین کو، جب تک میں دہلی میں وزیر اعظم ہوں، تقسیم ہونے نہیں دوں گا۔ یہ کہتے ہوئے نریندر مودی یہ بھول گئے کہ مہاراشٹر میں ان کی پارٹی وِدربھ کو الگ کرنے کا وعدہ کرکے ہی الیکشن لڑ رہی ہے۔ اب وزیر اعظم کے اس بیان کے بعد بی جے پی میں اندرونی طور پر کہرام مچا ہوا ہے۔ اس کہرام کی کوئی فکر نریندر مودی کو نہیں ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ نریندر مودی کو اپنی پارٹی کی انتخابی مہم کی بنیادی باتوں کا علم نہ ہو؟ یا تو نریندر مودی مہم کی بنیادی باتوں کو غلط مانتے ہیں اور ؍ یا پھر جانکاری نہیں لیتے ہیں۔ جانکاری نہیں لیتے ہیں، یہ سمجھ میں نہیں آتا، کیوں کہ مدھیہ پردیش کے انٹرنیشنل انویسٹرس میٹ میں وزیر اعظم کی تقریر دلچسپ تھی اور کچھ قدموں کو صاف کرنے والی تھی۔ اس کا مطلب یہ کہ انہوں نے مدھیہ پردیش جانے سے پہلے مدھیہ پردیش کا اچھی طرح مطالعہ کیا تھا۔ تو پھر، انتخابات میں وہ جس طرح کی باتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں، وہ حقائق سے پرے جاتی کیوں دکھائی دیتی ہے؟
اس انتخاب کے دوران ہی پاکستان کی طرف سے ہندوستان کے اوپر تیزی سے گولہ باری ہونی شروع ہو گئی۔ ملک کے وزیر دفاع اسپتال میں اپنا علاج کرا رہے تھے، اس لیے وہ کوئی بیان دے نہیں پا رہے تھے۔ وزیر اعظم نے بیان دینا مناسب نہیں سمجھا اور آرمی چیف خاموش رہے۔ پاکستان اقوام متحدہ میں چلا گیا اور اس نے شکایت کی کہ ہندوستان کی طرف سے تیزی سے گولہ باری ہو رہی ہے۔ جب مجھ سے ایک غیر ملکی جرنل نے پوچھا کہ سیالکوٹ میں ہندوستان نے ایک طرفہ پاکستانی چوکیوں پر گولیاں چلائی ہیں، تب میں نے ان سے کہا کہ کیوں نہیں آپ اپنے دہلی میں موجود نامہ نگار کو سرحد کے ان گاؤوں میں بھیجتے ہیں، جہاں کی لاشوں کی تصویریں ہم نے ٹیلی ویژن پر دیکھی ہیں، راتوں میں لوگوں کو بھاگتے دیکھا ہے، لوگوں کے گھروں پر گولے گرتے دیکھے ہیں اور اموات سے کئی گنا زخمیوں کی تعداد دیکھی ہے۔ اگر کوئی صحیح دماغ والا وزیر دفاع ہوتا، تو وہ غیر ملکی اور ہندوستانی صحافیوں کو اپنی طرف سے ان جگہوں پر لے جاتا، جہاں پاکستان بھاری گولہ باری کر رہا ہے۔ لیکن سرکار نے یہ ذمہ صحافیوں کے خود کے اوپر چھوڑ دیا۔ اس لیے صحافی جہاں جہاں جا سکتے تھے، وہاں گئے، لیکن سرحد کے قریب نہیں جا سکے، جہاں سے سیدھی گولی گھر کی طرف، شہریوں کی طرف یا سینے کی طرف آتی ہے۔ جب تک ارون جیٹلی وزیر خزانہ تھے، تب تک وزیر اعظم کو وزیر دفاع کے طور پر کسی کو زیادہ ذمہ داری دینی چاہیے تھی۔ لیکن شاید اب وقت آ گیا ہے کہ وزیر اعظم اپنے اس کنفیوژن سے باہر نکل آئیں اور ہمیں یقین ہے کہ وہ نکل آئیں گے۔ اور، وہ چین کو بھی جواب دینے کی اسی زبان کا استعمال کریں گے، جس زبان کا استعمال اس سرکار کے وزیر داخلہ اور وزیر دفاع پاکستان کے لیے کر رہے ہیں۔ پاکستان ہمارے لیے بہت بڑا مدعا نہیں ہے، ہمارے لیے بڑا مدعا چین ہے۔ لیکن، اگر ہم چین کی طرف اپنی آنکھیں بند رکھیں گے اور سارا دھیان پاکستان کی طرف لگائیں گے، تو شاید ہم ملک کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں کوتاہی کریں گے۔ یہ سارے سوال لوگوں کے سوال ہیں، جس کا اظہار وہ بات چیت کے دوران ہم سے کرتے ہیں اور ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم ان سوالوں کو ٹکڑوں ٹکڑوں میں ہی سہی، لیکن وزیر اعظم کے سامنے پیش کریں اور یہ امید کریں کہ وزیر اعظم کو تاریخ نے جیسا موقع دیا ہے، اس موقع کا استعمال وہ اس ملک کے لوگوں کی زندگی میں خوشحالی لانے میں کریں گے۔ اور، خوشحالی لانے کا پہلا راستہ مہنگائی اور بے روزگاری دور کرنے کی اسکیم بنانا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ابھی سرکار مہنگائی اور بے روزگاری سے لڑنے کا کوئی راستہ تلاش کرتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ شاید وزیر اعظم صاحب اپنا کنفیوژن دور کریں، تب وہ اس راستے کے بارے میں سوچیں۔ درخواست ہے، وزیر اعظم صاحب، جلدی کیجیے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *