سماجوادی پارٹی کا قومی اجلاس، ملائم پھر بنے صدر، کھل کر سامنے آیا آپسی اختلاف

پربھات رنجن دین

mastسماجوادی پارٹی میں سرکار اور قیادت کے درمیان تناؤ اور اختلافات کے کھلے اظہار کے ساتھ ایس پی کا تین روزہ قومی اجلاس ختم ہوا۔ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں ابھی حال ہی میں بنے جنیشور مشر پارک میں منعقد ہوا عظیم الشان قومی اجلاس کئی معنوں میں تاریخی ثابت ہوا۔ ملائم اس سے پہلے کے آٹھ اجلاس میں بھی قومی صدر منتخب کیے گئے تھے اور اس نویں اجلاس میں بھی وہ اتفاقِ رائے سے قومی صدر چن لیے گئے۔ لیکن پہلے کے قومی صدر اور اس بار کے قومی صدر میں صاف صاف فرق دکھائی دیا۔ ملائم کی شخصیت پر سماجوادی پارٹی کا وجود ٹکا ہوا ہے، یہ پہلے بھی دکھائی دیتا تھا اور اب بھی دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن ملائم کی پکڑ سے چھوٹنے اور اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی لیڈروں کی بے چینی اجلاس کے اسٹیج سے بھی ظاہر ہوئی۔ ملائم کے ذریعے سرکار کے کام کاج کا تجزیہ اور اس کی تنقید وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کو تو راس نہیں ہی آئی، پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری پروفیسر رام گوپال یادو کو بھی یہ ناگوار ہی لگا۔ لوک سبھا الیکشن میں ہوئی زبردست ہار کے لیے ریاستی سرکار کے وزیروں کے عوام مخالف کاموں اور ذاتی مفاد پر مبنی سرگرمیوں پر ملائم نے انگلی کیا اٹھائی، رام گوپال نے پارٹی قیادت کے ہی کئی فیصلوں پر سوال کھڑے کر دیے اور کہا کہ لوک سبھا الیکشن میں بھسما سروں اور غداروں کی وجہ سے پارٹی ہاری۔ ایسا کہہ کر انہوں نے صاف صاف لائن کھینچ دی اور واضح طور پر کہا کہ بھسما سروں اور غداروں کو ملائم کا تحفظ حاصل ہے۔ اگر ملائم نے غلط برتاؤ کرنے والے وزیروں کی لسٹ ہونے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کا ذکر کیا، تو رام گوپال نے بھی بھسما سروں کی فہرست کا حوالہ دیتے ہوئے ان کو تباہ کرنے کی منادی کر ڈالی۔ رام گوپال کے بیان پر ناراض ہو کر سینئر لیڈر نریش اگروال بھی ان پر برس پڑے اور اکھلیش سرکار کو بھی کھلے عام کوسا۔

سماجوادی پارٹی کے نویں اجلاس میں یہ بات بھی صاف ہوئی کہ پارٹی ملک بھر کے سماجوادیوں کو متحد کرنے کی کوشش میں لگ گئی ہے۔ پرانے سماجوادی، چاہے وہ جس پارٹی کی شکل میں اپنی اپنی ریاست میں سیاست کر رہے ہوں، ان کو متحد کرنے کی ایک بڑی کوشش ہو رہی ہے۔ جنتا دَل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) کے قومی صدر شرد یادو کو اجلاس میں مدعو کیا جانا، ان کا آنا اور اتحاد کی کوششوں پر عام مہر لگانا ان کوششوں کی سند دینے کے لیے کافی تھا۔ اجلاس میں سیاسی تجویز لے کر سماجوادی پارٹی مرکز کی بی جے پی سرکار کے خلاف محاذ کھولے گی اور شدت کے ساتھ بجلی کو ایشو بنائے گی، یہ ’چوتھی دنیا‘ کے پچھلے شمارہ میں شائع ہو چکا ہے۔
سماجوادی پارٹی کے قومی صدر کے انتخاب کا باقاعدہ اعلان ہوجانے کے بعد ملائم سنگھ یادو نے کہا کہ سماجوادی پارٹی سرکار میں ہے، اقتدار میں ہے، لہٰذا اسے عوام کے درمیان اپنی شبیہ ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام میں یہ شکایت ہے کہ سرکار بے لگام ہو کر کام کر رہی ہے۔ سرکار کو اسے ٹھیک کرنا ہوگا۔ سرکار نے اچھے کام بھی کیے ہیں، لیکن کچھ وزیروں کی وجہ سے سرکار کی شبیہ خراب ہوئی ہے۔ سرکار بننے کا کچھ لوگوں نے فائدہ اٹھایا ہے، لیکن عوام کو اس کا فائدہ نہیں ملا۔ ملائم نے کہا کہ ایسے عوام مخالف اور ذاتی مفاد پر مبنی کاموں میں شامل وزیروں کی پوری لسٹ ان کے پاس ہے۔ عوام کی طرف سے بھی ان کے پاس ایسے خطوط آ رہے ہیں کہ ریاستی سرکار کے وزیر کیا کر رہے ہیں۔ ملائم نے کہا کہ ’ایسے وزراء کو ہٹائیے‘۔ ظاہر ہے کہ ملائم نے یہ بات وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی ہی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہی کہی۔ ملائم نے پارٹی لیڈروں اور کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ ایسا کوئی کام نہ کریں، جس سے کوئی داغ لگے۔ انہوں نے عام کارکنوں اور عام لوگوں سے کہا کہ سرکار کا جو کام انہیں پسند نہیں، اس بارے میں وہ وزیر اعلیٰ کو خط لکھیں اور اس کی ایک کاپی انہیں بھی بھیجیں۔
ملائم نے اسٹیج سے ہی سوال اٹھایا کہ الیکشن میں وزیر بہت ہارتے ہیں، اس کی وجہ کیا ہے؟ وہ اپنی خراب شبیہ اور غلط کام کے سبب ہارتے ہیں۔ جب وزراء ہاریں گے، تو پارٹی کا کیا ہوگا؟ اس کے بعد ملائم نے پارٹی کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں پھر سے عوام کے پاس ہی جانا ہے۔ ہم غلط کریں گے، تو عوام ہمیں ہرا دیں گے۔ اسی لیے، اپنی، سرکار اور پارٹی کی شبیہ کا خیال رکھیں‘‘۔ ملائم جب یہ بول رہے تھے، تو لوگ تالیاں بجاکر ملائم کے باتوں کی تصدیق کر رہے تھے، جب کہ اسٹیج پر موجود دیگر کچھ لیڈروں کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ ملائم نے واضح طور پر کہا کہ ’’کچھ وزیر عوام کے مفاد میں کام نہیں کر رہے ہیں۔ سرکار بننے پر وہ ذاتی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ میرے پاس ایسے وزیروں کی فہرست ہے۔ ان کے بارے میں سوچنا پڑے گا۔ وزیروں کے خلاف شکایتی خطوط ملے ہیں۔ وزیر بھی یہ بات جانتے ہوں گے۔ میں ثبوت بھی دے سکتا ہوں۔ اگر ان کا یہی رویہ رہا، تو ہم میں اور دوسری سرکاروں میں کیا فرق رہ جائے گا؟ میں نے پہلے بھی یہ بات کہی تھی، لیکن قومی صدر کی بات کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا۔ ہم نے تو یہ بھی کہا تھا کہ ایسے وزیروں کو ہٹائیے۔ شاید اس لیے نہیں ہٹایا گیا کہ وہ سدھر جائیں گے۔ ہم انہیں بلائیں گے اور پوچھیں گے بھی۔‘‘
ملائم نے پارٹی کے سامنے آگے کی پالیسی بھی رکھی۔ انہوں نے جے ڈی یو کے صدر شرد یادو کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ’’سماجوادی پارٹی کی تشکیل میں بھی شرد یادو کا مثبت رول رہا ہے۔ بعد کے دنوں میں ایسے حالات بنے کہ ہم الگ ہو گئے، لیکن نظریاتی طور پر ہم ہمیشہ ساتھ رہے۔ سماجوادی پارٹی کے اجلاس میں آکر انہوں نے پھر سے اتحاد پر مہر لگائی ہے۔‘‘ اس پر شرد یادو نے بھی کہا کہ ’’سیاست میں مجھے اس مقام پر پہنچانے کا کریڈٹ ملائم سنگھ کو ہی جاتا ہے۔ میں جبل پور سے الیکشن ہار گیا، تو ملائم سنگھ نے ہی مجھے راجیہ سبھا تک پہنچایا اور مجھے پریوار میں شامل رکھا۔ ملائم سنگھ کے ساتھ میرا خون کا رشتہ نہیں، لیکن نظریاتی رشتہ ہی زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ میرا یہی رشتہ ملائم کے ساتھ ہے۔ میں نے جب سے سیاست میں ہوش سنبھالا ہے، تب سے ملائم کے ساتھ ہوں۔‘‘ دونوں لیڈروں کی ان باتوں نے پارٹی کے مستقبل کی لائن طے کر دی۔
ملائم نے نریندر مودی کو بھی خوب کوسا اور مودی دور کی داخلی پالیسی اور خارجی پالیسی کو فیل بتایا۔ 56 انچ کے سینے پر چٹکی لیتے ہوئے ملائم نے چین کے سامنے سر جھکانے اور پاکستان کے سامنے ناکارہ ثابت ہونے کا الزام لگایا۔ ملائم نے مہنگائی اور بدعنوانی پر قابو پانے میں بھی مودی سرکار کی نااہلی کا ذکر کیا۔ بی جے پی کی کمیونل لائن کے برعکس سیکولر لائن کھینچنے کی روایتی سیاست پر عمل کرتے ہوئے ملائم نے ہندو – مسلم اتحاد پر زور دیا اور کہا کہ مسلمانوں کا سب سے زیادہ بھروسہ سماجوادی پارٹی پر ہے۔ ملائم نے پھر اس میں یہ بھی جوڑا کہ دلت اور اعلیٰ طبقہ بھی سماجوادی پارٹی کے ساتھ ہے۔ ملائم نے اکھلیش سرکار کے اچھے کام بھی گنائے، لیکن ایس پی کا قومی اجلاس قومی صدر کے ذریعے پارٹی کو آئینہ دکھانے والا اور سرکردہ قیادت کے خلاف ’میٹھا بغاوتی سُر‘ اٹھانے والا اجلاس ثابت ہوا۔ اس معنی میں سماجوادی پارٹی کا قومی اجلاس تاریخی ثابت ہوا۔
کانگریس اور بی جے پی ’ساس بہو‘
جنتا دَل یونائٹیڈ کے صدر شرد یادو نے کانگریس اور بی جے پی کو ساس اور بہو کہا، تو اجلاس میں خوب قہقہے گونجے۔ ایسا کہتے وقت شرد یادو یہ بھی بولے کہ ان دونوں پارٹیوں کو گنگا میں بہا دینا چاہیے۔ شرد یادو نے کہا کہ پہلے جو وزیر اعظم تھے، وہ کچھ بولتے ہی نہیں تھے، لیکن اب جو وزیر اعظم ہیں، وہ صرف بولتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک دن جھاڑو لگاکر ملک کو صاف ستھرا نہیں کیا جاسکتا اور عوام کا معیار درست کیے بغیر گنگا کبھی صاف نہیں ہوسکتی۔ ہاں، گنگا صفائی کے نام پر وہ پھر سارا پیسہ کھا جائیں گے۔
امر سنگھ کی واپسی پر قیاس آرائی
سماجوادی پارٹی کے قومی اجلاس کے دوران ہی امر سنگھ کی پارٹی میں واپسی کے قیاس بھی لگتے رہے۔ راجدھانی میں سیاسی گلیارے میں اس بات کو لے کر چرچا تھی کہ امر سنگھ اجلاس کے دوران کبھی بھی سماجوادی پارٹی میں پھر واپس آ سکتے ہیں۔ پچھلے دنوں جنیشور مشر پارک کی افتتاحی تقریب کے وقت بھی امر سنگھ نے ملائم کے ساتھ اسٹیج شیئر کیا تھا۔ اُس وقت بھی ان کی پارٹی میں واپسی کی چرچا زوروں پر تھی۔ امر سنگھ کی واپسی اور شرد یادو کی اجلاس کے اسٹیج پر موجودگی کو لے کر ہلچل تھی، جب کہ امر سنگھ 30 ستمبر سے ہی غیر ملکی دورے پر تھے۔

 آر ایل ڈی بھی ڈال رہی ڈورے

مہا گٹھ بندھن کی کوشش کے دائرے میں راشٹریہ لوک دَل بھی آئے، اس کی پوری کوشش ہوتی رہی۔ پارٹی اجلاس کے ایک دن پہلے ہی آر ایل ڈی کے لیڈر جینت چودھری نے ریاست کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو سے ان کی رہائش گاہ پر جاکر ملاقات کی۔ اس ملاقات کو چودھری چرن سنگھ اسمارک بنانے کے مسئلے پر حمایت دینے سے جوڑا گیا، لیکن پارٹی کے اندرونی ذرائع اسے آئندہ اتحاد کی کوششوں سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ لوک سبھا الیکشن میں ہارنے کے بعد آر ایل ڈی صدر چودھری اجیت سنگھ بھی سیاسی ٹھکانہ تلاش کر رہے ہیں اور راجیہ سبھا میں جانے کے متمنی ہیں۔

اعظم کی ہوئی جم کر پذیرائی
سماجوادی پارٹی کے اجلاس میں پارٹی سپریمو ملائم سنگھ یادو نے اعظم خاں کی خوب تعریف کی۔ اعظم خاں کو ملائم نے اپنے بغل میں بیٹھایا۔ ملائم نے کہا کہ شیعہ وقف بورڈ کی زمینوں کے تنازع میں اعظم خاں کی باتیں صحیح تھیں۔ اعظم خاں تنازع کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ شیعہ مذہبی رہنما مولانا کلب جواد کا نام لیے بغیر ملائم نے کہا کہ انہوں نے کئی بار ملنے کا وقت مانگا اور جب ملے، تو ہم نے ان کے سامنے اعظم خاں کی رائے رکھ دی۔ اس کے بعد انہوں نے فون کرنا بند کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اعظم خاں کی جو رائے ہوگی، وہی ہماری رائے رہے گی۔ قابل ذکر ہے کہ پچھلے دنوں اعظم خاں اور شیعہ مذہبی رہنما کلب جواد کا تنازع کافی سرخیوں میں رہا تھا، جس کے بعد ریاستی حکومت نے شیعہ وقف بورڈ کے الیکشن ردّ کر دیے تھے۔

 

ملائم کی جھڑکی، رام گوپال کی پھرکی
ملائم نے کہا کہ غلط کاموں میں لگے وزیروں کی پوری فہرست ان کے پاس ہے، تو قومی جنرل سکریٹری رام گوپال یادو نے کہا کہ پارٹی کے بھسما سروں اور غداروں کی فہرست ان کے پاس ہے۔ رام گوپال نے کسی کا نام لیے بغیر پارٹی کے بھسما سروں پر خوب نشانہ سادھا۔ انہوں نے طنز کیا کہ نیتا جی اور وزیر اعلیٰ کو سب پتہ ہے کہ کون پارٹی میں کیا کر رہا ہے، کون مخالفت کر رہا ہے۔ رام گوپال نے کہا کہ لوک سبھا الیکشن میں کئی لوگ ایسے رہے، جنہوں نے بھسما سر کی طرح پارٹی کے خلاف کام کیا یا پھر کام ہی نہیں کیا۔ نیتاجی رحم دل ہیں، انہیں جان بوجھ کر بھی معاف کرنے کی عادت ہے۔ ان میں بہت زیادہ قوتِ برداشت ہے، لیکن حالات یوں ہی بنے رہے، تو پھر ایسے لوگوں کو باہر کا راستہ دکھائے جانے سے روکا نہیں جا سکے گا۔ رام گوپال نے اس کے بعد یہ کہا کہ انہوں نے 85 لوگوں کو نکالے جانے کی رپورٹ دی تھی، لیکن بھولے بابا جیسے بھولے نیتا جی نے ان سبھی کو بلا کر کہا کہ رام گوپال تم لوگوں کو پارٹی سے باہر کرنا چاہتے ہیں، لیکن میں تم لوگوں کو موقع دینا چاہتا ہوں، جاؤ اور کام کرو۔ رام گوپال یادو نے ملائم سے پوچھا کہ کیا یہ 85 لوگ اب تک سدھر چکے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے ساتھ غداری کرنے والوں کو سزا ضرور ملے گی، کیوں کہ پارٹی کو زندہ رکھنے کے لیے بھسما سروں کو باہر کیا جانا ضروری ہے۔ رام گوپال نے چنوتی کے انداز میں کہا کہ برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔

نریش اگروال کا پلٹ وار
سماجوادی پارٹی کے قومی صدر ملائم سنگھ یادو پر تبصرہ کرنے پر ایس پی کے سینئر لیڈر نریش اگروال نے اپنی ناراضگی ظاہر کر دی۔ رام گوپال کے بولنے کے بعد نریش اگروال نے کہا کہ ’’پروفیسر صاحب، گروہ بندی کارکن نہیں، ہم سب کرتے ہیں۔ کارکن تو پارٹی کے لیے جان دینے کو تیار ہے، لیکن دقت بڑے عہدوں پر بیٹھے لیڈروں اور وزیروں کی ہے۔ یہ لوگ تو کارکنوں کی سنتے ہی نہیں۔‘‘ اس پر پورا پنڈال تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے کافی دیر تک گونجتا رہا۔
وزیر اعلیٰ پر حملہ کرتے ہوئے نریش اگروال نے کہا کہ ’’وزیر اعلیٰ صاحب، آپ نے اصلی کے ساتھ نقلی وزیر بھی بنا دیے ہیں۔ انہیں درجے والا وزیر کہا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے ان کے لال بتی لگانے اور وزیر لکھنے پر روک لگا دی ہے، لیکن یہ نہیں مان رہے ہیں۔ دکھوا لیجیے، ان وزیروں کے بوتھ پر پارٹی کو کتنا ووٹ ملا ہے۔ ان سے چھٹکارہ دلوائیے۔ مودی نے اپنے وزیروں کو 100 دن کی حصولیابیاں بتانے کو کہا ہے۔ آپ اپنے وزیروں کو حصولیابیاں بتانے کی ہدایت کیوں نہیں دیتے؟ صحیح بات تو یہ ہے کہ آپ کے علاوہ کسی وزیر کے کھاتے میں بتانے لائق کچھ ہے ہی نہیں۔ لوگ وزیر اعلیٰ سے نہیں، بلکہ وزیروں کے رویے سے ناراض ہیں۔ سڑکوں کو ترجیحات کی بنیاد پر بنوا دیجیے۔ قانون اور نظم و نسق پر کوئی سمجھوتہ نہ کیجیے اور لوگوں کو بجلی ملنا یقینی بنا ئیے، سماجوادی پارٹی کی حالت ٹھیک ہو جائے گی۔‘‘

سیاسی و اقتصادی تجویز میں مرکز پر نشانہ
سماجوادی پارٹی کے قومی اجلاس میں پیش ہوئی سیاسی و اقتصادی تجویز میں مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر جم کر نشانہ لگایا گیا ہے۔ یہ عزم دوہرایا گیا ہے کہ سماجوادی پارٹی ہی اکیلے فرقہ پرست طاقتوں پر لگام لگا سکتی ہے۔ قومی صدر ملائم نے بھی کہا کہ سماجوادی پارٹی کی پالیسیاں ہی مہنگائی، بدعنوانی اور فرقہ پرستی کا خاتمہ کر سکتی ہے۔
ایس پی کے قومی جنرل سکریٹری پروفیسر رام گوپال یادو نے سیاسی اور اقتصادی تجویز پیش کی۔ انہوں نے تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے دھوکہ، فریب اور پیسے کی بنیاد پر میڈیا کا سہارا لے کر ملک کے اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے۔ تجویز میں مرکز کی سابقہ اور موجودہ دونوں حکومتوں کی مذمت کی گئی اور اس مذمتی تجویز میں بجلی کا مدعا چھایا رہا۔ پروفیسر رام گوپال نے کہا کہ اتر پردیش میں ایس پی کی سرکار بننے کے بعد پہلے یو پی اے اور اب بی جے پی کی سرکار ریاست کی لگاتار اندیکھی کر رہی ہے۔ اتر پردیش کے حصے کی تقریباً ایک ہزار میگاواٹ بجلی نہ دینا اور ریاست کے بجلی گھروں کو کوئلہ نہ مہیا کرانا اس کا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ متعدد اسکیموں کا تقریباً 45000 کروڑ روپیہ مرکز پر بقایہ ہے، اس رقم کی جان بوجھ کر ادائیگی نہیں کی جا رہی ہے۔
تجویز میں ملک کی سرحدوں کی سیکورٹی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیاہے۔ کہا گیا ہے کہ ایس پی سپریمو ملائم سنگھ یادو نے مرکزی حکومت کو بار بار آگاہ کیا کہ چین ہماری سرحدوں پر بری نظر ڈالے ہوئے ہے۔ لیکن نہ تو یوپی اے کی سابقہ حکومت نے اس پر کوئی دھیان دیا اور نہ ہی موجودہ بی جے پی حکومت اس پر کوئی توجہ دے رہی ہے۔ پارٹی نے یہ سیدھا الزام لگایا کہ جس وقت ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی چینی صدر کے ساتھ احمد آباد میں جھولا جھول رہے تھے، ٹھیک اسی وقت چین کی فوج لداخ میں ہندوستانی سرحد کے اندر ٹینٹ لگا رہی تھی۔ رام گوپال نے کہا کہ چین ملک کی لاکھوں مربع میل زمین پر قبضہ کیے ہوئے ہے، لیکن ہندوستانی سرکار نے باہمی مذاکرات میں اس کا ذکر تک کرنا بند کر دیا ہے۔ سماجوادی پارٹی کی تجویز میں پاکستان کے ذریعے اسپانسرڈ دہشت گردی کی مذمت بھی شامل ہے۔ سرحد پر آئے دن پاکستانی فوج کے ذریعے فائرنگ ہو رہی ہے اور دہشت گرد ہندوستان میں دراندازی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب تو القاعدہ اور آئی ایس آئی ایس نے بھی دھمکی دی ہے کہ ان کا اگلا نشانہ ہندوستان ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ مودی سرکار کی خارجہ پالیسی لگاتار اپنے بنیادی مقصد سے بھٹکتی جا رہی ہے۔
سماجوادی پارٹی کی اقتصادی تجویز میں مہنگائی، بدعنوانی اور بے روزگاری پر حملے شامل ہیں۔ اس مدعے پر مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان سب کے علاوہ کالا دھن واپس لانے کے لیے بھی مرکزی حکومت نے پچھلے 100 دنوں میں کوئی روڈ میپ نہیں تیار کیا۔ اقتصادی تجویز میں ایف ڈی آئی کی بھی مخالفت کی گئی ہے۔

میڈیا پر نکالی بھڑاس
سماجوادی پارٹی نے اپنی تجویز میں میڈیا کو بری طرح گھسیٹا۔ میڈیا پر صاف صاف جی حضوری کا الزام لگایا گیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے امریکی دورے کا ذکر کرتے ہوئے تجویز میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم وہاں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کو مخاطب کرنے گئے تھے، لیکن ہندوستانی میڈیا نے چاپلوسی کی ساری حدیں پار کرتے ہوئے اس دورے کو ایسے دکھایا، جیسے مودی امریکی صدر اوبامہ کی دعوت پر وہاں گئے ہوں۔

ایس پی کی سیاسی و اقتصادی تجویز جھوٹ کا پلندہ
بھارتیہ جنتا پارٹی نے سماجوادی پارٹی کے اجلاس میں پیش کی گئی سیاسی و اقتصادی تجویز کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے۔ بی جے پی کے ریاستی ترجمان ڈاکٹر چندر موہن نے سماجوادی پارٹی کے نام نہاد قومی اجلاس کو ’فیملی شو‘ بتایا اور ملائم سنگھ یادو کے بیٹے پرتیک یادو اور بہو اپرنا یادو کی اسٹیج پر موجودگی پر سوال کھڑے کیے۔ بی جے پی کے ریاستی ترجمان نے سماجوادی پارٹی کے ذریعے ریاستوں کے رول اور میڈیا پر کیے گئے غیر ضروری تبصرے کو جمہوریت کے سبھی ستونوں پر بے جا حملہ بتایا۔ ان کے مطابق، تجویز میں جس طرح اتر پردیش کی اکھلیش سرکار کی مدح سرائی کی گئی ہے، درحقیقت اس کی پول ایس پی جنرل سکریٹری نریش اگروال نے اسٹیج سے خود ہی کھول دی۔ نریش اگروال نے ریاست کی بجلی، قانون اور نظم و نسق اور سڑکوں کی بدحالی پر گہری تشویش ظاہر کی تھی۔ تجویز میں اتر پردیش سرکار کے ذریعے 90 فیصد وعدوں کو پورا کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جب کہ سچائی اس کے برعکس ہے۔ اتر پردیش سرکار 9 فیصد وعدے بھی پورا نہیں کرسکی ہے۔ ٹیبلیٹ کے لیے طالب علموں کا انتظار آج بھی جاری ہے۔ کنیا وِدیا دھن میں مذہب پر مبنی بھید بھاؤ کیا گیا ہے۔ ایک سال سے طالب علموں کو پورے لیپ ٹاپ بھی نہیں دیے جا سکے، بے روزگار نوجوان روزگار بھتے کا انتظار اب بھی کر رہے ہیں۔ اتر پردیش سرکار نے ڈھائی سال کی مدت میں پانچ ہوم سکریٹری بدلے ہیں۔ نوکر شاہی پر کنٹرول کھو چکے وزیر اعلیٰ روزانہ تبادلوں میں ہی مصروف رہتے ہیں۔ گنا کسانوں کے پیسوں کی ادائیگی نہیں ہوئی ہے، سیلاب متاثرہ اور خشک سالی سے متاثرہ کسان سرکار کی ترجیحات سے دور ہیں۔

فائیو اسٹار انتظامات

سماجوادی پارٹی کے نویں اجلاس کی تیاریاں فائیو اسٹار سطح کی تھیں۔ وسیع و عریض واٹر پروف غیر ملکی ٹینٹ کے نیچے 60×40 فٹ کا شاندار اسٹیج اور کھانے کے لیے 100×500 فٹ کے وسیع ٹینٹ کا انتظام تھا۔ اس موقع پر ملائم سنگھ یادو کے سیاسی سفر پر تیار کی گئی ڈاکیومنٹری کو بڑی بڑی ایل ای ڈی اسکرینوں پر دکھائے جانے کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔ لیکن یہ عین موقع پر فیل ہو گیا۔ لیڈروں کی تقریریں سب کو سنائی دیں، اس کے لیے 40 ہزار واٹ کا ساؤنڈ سسٹم لگایا گیا تھا۔ 24 بڑے اسپیکر اور 93 چھوٹے اسپیکر جگہ جگہ پر لگائے گئے تھے۔ موبائل وین کا بھی پرچار میں استعمال کیا گیا تھا۔ سماجوادی پارٹی کی چار نوجواں تنظیموں لوہیا واہنی، سماجوادی یو جن سبھا، سماجوادی چھاتر سبھا اور ملائم سنگھ یادو یوتھ بریگیڈ کے نوجوان اجلاس کے مقام کی دیکھ ریکھ اور ڈسپلن بنائے رکھنے میں مدد کر رہے تھے۔ لکھنؤ ایئر پورٹ، ریلوے اسٹیشن اور بس اڈوں کے پاس نمائندوں کے استقبال کا خاص انتظام کیا گیا تھا۔ اجلاس میں لکشدیپ، منی پور، گوا، کیرل، اڑیسہ، گجرات، کرناٹک، ہماچل پردیش، راجستھان، آسام، چھتیس گڑھ، اتراکھنڈ، تمل ناڈو، تلنگانہ، مغربی بنگال، بہار اور مدھیہ پردیش سے نمائندے شامل ہوئے۔ شہر کے سبھی حصوں سے پروگرام کی جگہ تک سماجوادی پارٹی کے پوسٹر بھرے پڑے تھے۔ نمائندوں کے لیے مختلف ضلعوں کے ذائقہ دار کھانوں کا انتظام کیا گیا تھا۔

ملائم چنیں گے قومی اور ریاستی ایگزیکٹو
سماجوادی پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری پروفیسر رام گوپال یادو نے پارٹی کے چیف الیکشن افسر کی حیثیت سے ملائم سنگھ یادو کے پارٹی کا قومی صدر منتخب کیے جانے کا باقاعدہ اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی صدر کے انتخاب کے لیے باقاعدہ پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے لیے وقت طے کیا گیا تھا، لیکن ملائم کو چھوڑ کر کسی نے بھی پرچہ داخل نہیں کیا۔ لہٰذا، ملائم سنگھ یادو کو بلا اختلاف قومی صدر چن لیا گیا۔ نیشنل ایگزیکٹو کی تشکیل کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ ایگزیکٹو کی تشکیل کی ذمہ داری بھی ملائم سنگھ کو دے دی گئی اور اس کے لیے اجلاس میں موجود لیڈروں اور کارکنوں سے زبانی حمایت بھی لی گئی۔
اجلاس میں سب سے زیادہ 150 نمائندے بہار سے آئے۔ تلنگانہ اور مغربی بنگال سے 60-60، مدھیہ پردیش سے 50، تمل ناڈو سے 35، اتراکھنڈ سے 30، راجستھان، آسام اور چھتیس گڑھ سے 25-25، کشمیر، جھارکھنڈ، کرناٹک اور ہماچل سے 20-20، اڑیسہ اور گجرات سے 15-15، کیرل اور گوا سے 10-10 اور لکشدیپ اور منی پور سے 5-5 نمائندوں نے اجلاس میں حصہ لیا۔ جھارکھنڈ کے جن کرانتی مورچہ نے تو سماجوادی پارٹی میں انضمام ہی کرا لیا۔ مورچہ کے صدر شو پوجن یادو نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایس پی صدر ملائم سنگھ یادو اور وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو سے مل کر مورچہ کے سماجوادی پارٹی میں ضم ہونے کا اعلان کیا۔

پارٹی کو سنبھال کر رکھنا: ملائم
خاردار اور تکلیف دہ راستوں سے آگے بڑھتی ہوئی سماجوادی پارٹی آج اس مقام تک پہنچی ہے ۔ اسے بہت سنبھال کر لے چلنا ہے اور اس کی ساری ذمہ داری نئی نسل کی ہے۔ آگے پارٹی سنبھالنے کے لیے پوری تیاری رکھنی ہے، پڑھنا لکھنا ہے اور خود کو ماہر بنانا ہے۔ قومی اجلاس کے اختتامی خطاب میںقومی صدر ملائم سنگھ یادو نے یہ جذباتی پیغام دیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا،اب میں پارٹی چھوڑتا ہوں آپ سب پر۔ملائم نے کہا کہ سماجوادی پارٹی کی اپنی ایک مکمل تاریخ ہے۔ انھوں نے ایس پی کی تاریخ بتاتے ہوئے ایودھیامعاملہ اور منڈل کمیشن جیسے مسئلے اٹھائے۔ انھوں نے کہا کہ ایودھیا مسئلہ میں سماجوادی پارٹی کے اسٹینڈ کی بی جے پی کو چھوڑ کردیگر ساری پارٹیوں نے حمایت کی تھی۔ اس میں خاص طور پر سابق وزیر اعظم چندر شیکھر، مغربی بنگال کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ جیوتی بسو اور سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کا نام قابل ذکر ہے۔ منڈل کمیشن کی سفارشیں مکمل طور پرنافذ ہوں، اس کے لیے بھی چندر شیکھر نے اپنی پُرزور حمایت کی تھی۔ ملائم نے کہا کہ منڈل کمیشن کی سفارشیں ٹھیک طریقے سے نافذ نہیں ہوئیں اور پسماندہ طبقہ میں اسے لے کر بے اطمینانی ہے۔ انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ خود اس معاملے میں پہل کر کے مرکزی سرکار سے بات کریں گے۔ ملائم نے کسانوں کے ساتھ ہو رہی نا انصافی کا بھی ذکر کیا اور پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ ہر قسم کی نا انصافی کے خلافلڑائی لڑیں۔ سرحد پر چل رہی گولہ باری کا ذکر کرتے ہوئے ملائم نے کہا کہ اس مسئلے کا بھی سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوششیں ہو رہی ہیں، جس سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
ندیوں کو مذہب سے جوڑنے کی سازش: اکھلیش
بی جے پی ندیوںکو بھی مذہب سے جوڑنے کی سازش رچ رہی ہے، جبکہ ندیاں تو فطری طور پر سیکولر ہیں، ہر طرف برابر بہتی ہیں اور سب کو برابر فائدہ پہنچاتی ہیں۔ یہ بات اترپردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے ایس پی کے قومی اجلاس کے اختتام کے دن اپنے خطاب میں کہی۔ اکھلیش نے کہا کہ ریاستی سرکار وہ سارے کام کر رہی ہے، جن کا وعدہ ایس پی نے انتخاب سے پہلے اپنے مینی فیسٹو میں کیا تھا، لیکن مرکز کی بی جے پی سرکار اپنے مینی فیسٹو کے مطابق کوئی کام نہیں کر رہی ہے۔ اکھلیش نے بی جے پی کے فرقہ وارانہ ایجنڈے اور سرمایہ دارانہ سازشوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی، اپنی سرکار کی حصولیابیاں گنائیں اور کمیوں کے لیے دہلی کو کوسا۔ انھوں نے بجلی بحران کا ٹھیکرا مرکز کے سر پھوڑتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ریاست کے کوٹے کی بجلی اور کوئلہ مرکز سے ملے، تو گاؤوں میں 16اور شہروں میں 22گھنٹے بجلی سپلائی ہونے لگے گی۔ اکھلیش نے لوہیا پارک بنوانے کا کریڈٹ ملائم کو دیاتو جنیشور مشرا پارک بنانے کا کریڈٹ اپنی سرکار کو۔ انھوں نے کہا کہ مایاوتی کے پتھروں کے برعکس سماجوادی پارٹی نے شہر کو ہرا بھرا کرنے کا کام کیا۔ آج حالت یہ ہے کہ مخالفین کو آکسیجن لینے کے لیے لوہیا پارک میں ہی آنا پڑتا ہے۔
ایس پی کے اجلاس میں مودی ۔مودی
سماجوای پارٹی کے اجلاس میں نریندر مودی کا نام ہی چھایا رہا۔ پہلے دن ملائم اور شرد یادو نے مودی کو آڑے ہاتھوں لیا، تو دوسرے دن بھی مودی ہی تقریروں میں چھائے رہے۔ مودی پر کئی قابل اعتراض تبصرے بھی ہوئے۔ ایک لیڈر نے انھیں راکشس تک کہہ ڈالا اور کہا کہ اسے فنا لوک سبھا میں بیٹھے ایس پی کے پانچ پانڈو کریں گے۔ سینئر لیڈر اور وزیر، اعظم خان نے مودی کی صفائی مہم پر حملہ کرتے ہوئے کہا،میں نے جھاڑو لگانے والے ہاتھوں میں قلم تھمایا ہے، پردھان منتری جی، جھاڑو چھین رہے ہو تو انھیں روزگار دو۔ فائدے والے دو عہدوں پر فائز رہنے کے الزام پر صفائی دیتے ہوئے اعظم خان نے کہا ،میں نے کوئی بے ایمانی نہیں کی ہے، اگر بے ایمانی کا ایک بھی داغ ملے، تو مجھے لال قلعہ پر کھڑا کر کے جو چاہو، وہ سزا دو۔ میر اصرف ایک ہی اکاؤنٹ ہے، وہ بھی سیلری اکاؤنٹ۔ میں نے جوہر یونیورسٹی سب کی مدد سے بنائی ہے۔‘
سینئر لیڈر رام جی لال سمن نے پارٹی میں اندرونی سازش کرنے والے وزیروں اور لیڈروں کا مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ نیتا جی عوامی اسٹیج سے وزیروں کی کارستانیوں کا ذکر کرتے ہیں، لیکن ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیتے، جس کی وجہ سے سماج میں غلط پیغام جارہاہے۔ اکھلیش سرکار کو بدنام کرنے والے ایسے وزیروں اور لیڈروں کو فوری طور پر باہر کریا جانا چاہیے۔ سمن نے کہا ، جو لیڈر پردھانی کا الیکشن بھی اپنے دم پر نہیں جیت سکتے، وہ پارٹی تنظیم کے اہم عہدوںپر جمے ہوئے ہیں، انھیں فوری طور پر ہٹایا جانا چاہیے۔ قومی جنرل سکریٹری کرنمے نندا نے سنگھ پر حملہ کرتے ہوئے اسے ایک دہشت گرد تنظیم کہہ ڈالا۔ کابینہ وزیر احمد حسن، اکھلیش سرکار کی تعریف کرتے رہے۔ راجیہ سبھا کی رکن جیہ بچن نے تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اکھلیش میڈیا کے تیکھے سوالوں کا جواب بڑی آسانی سے دیتے ہیں۔ انھوں نے نصیحت کی کہ ہمیں دوسروں کو نہیں، خود کو دیکھنا چاہیے۔ قنوج سے ایم پی اور اکھلیش یادو کی بیوی ڈمپل یادو نے کہا، ریاستی سرکار نے اپنے وعدے پورے کیے ہیں، ہیلتھ سروسز میں بھی ریاست نے کافی ترقی کی ہے۔ اجلاس میں پرفیسر رام گوپال کے بیٹے اور فیروز آباد کے ایم پی اکشے یادو اور مین پوری سے ایم پی چنے گئے تیج پرتاپ یادو پہلی بار پارٹی کے قومی اسٹیج سے بولے۔ بدایوںسے ایم پی دھرمیندر یادو نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
گوزیروں۔نوکر شاہوں پرسختی ضروری: شو پال
سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور اترپردیش کیمنسٹر آف پبلک ورکس اینڈ کوآپریٹوز
شو پال سنگھ یادو نے ترقیاتی کاموں اور عوامی مفادات سے جڑے کاموںمیں لاپروائی برتنے والے کچھ وزیروں اور نوکرشاہوں کے تئیں ناراضگی جتائی۔ شوپال نے کہا ، سرکار کے منصوبے ٹھیک سے نافذ کرنے میں کچھ وزیر اور نوکر شاہ دل سے کام نہیں کر رہے ہیں، ان پر سختی ضروری ہے۔ انھوں نے کہا ، کچھ وزیروں او رعہدیداروں کے طرز عمل سے بھی پارٹی کو نقصان ہورہاہے۔ سرکار پوری ایمانداری سے کام کر رہی ہے، لیکن کچھ وزیر اور افسر لاپرواہی برت رہے ہیں۔ شوپال نے پارٹی کی شبیہ نکھارنے کے لیے کارکنوں کو اپنی سوچ بدلنے کی صلاح دی۔ انھوں نے کہا کہ آج جو بھی پارٹی تنظیم میں آتا ہے، وہ آتے ہی مالدار بننے کی چاہت پال لیتا ہے۔ زمین پر کام کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ ایسی سوچ سے نہ پارٹی کا بھلا ہوگا اور نہ سماج کا۔ شوپال نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی جب امریکہ او ر جاپان جاتے ہیں تو وہاں تجارت کی بات کرتے ہیں، لیکن جب بھارت آتے ہیںتو جھاڑو کی بات کرتے ہیں۔ وزیر اعظم جھاڑو لگانے والوں کا کام بھی چھین لینا چاہتے ہیں، غریبوں کا حق چھیننا چاہتے ہیں۔ شوپال نے کہا کہ ایس پی سرکار کی کوششوں سے آج اتر پردیش میں فی شخص آمدنی22ہزار سے بڑھ کر 37 ہزار روپے ہوگئی ہے۔ کارکنوں سے اپیل کرتے ہوئے شوپال نے کہا، پکے ارادوں کے ساتھ یہاں سے جائیے، اگر ہمارے پاس اتنی بڑی تنظیم ہے، اچھی پالیسیاں ہیں، ریاستی سرکار کے ذریعے پچھلے دو سالوں میں کیے گئے کاموں کی طاقت ہے اور ہم متحد رہیں تو ایس پی کو قومی پارٹی بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
سیاسی، معاشی تجویز میں مودی پر نشانہ
سماجوادی پارٹی نے اپنے قومی اجلاس کے دوران پاس کردہ سیاسی، معاشی تجویز میں بھی مودی کو ہدف بنایا۔ کنونشن نے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مذمتی تجاویز سمیت تین ترامیم کے ساتھ سیاسی ، معاشی تجویز اتفاق رائے سے پاس کر دی۔ تجویز پر مسلسل دو دنوں تک بحث ہوئی، جس میں76لوگوں نے حصہ لیا اور 500سے زیادہ تجاویز پیش کیں۔ سیاسی تجویز میں فرقہ پرستی سماجوادی کے لئے اہم مدعا ہے۔ زراعت، بجلی اور بے روزگاری کے مدعے پر وہ مرکز کے خلاف تال ٹھونکتی رہے گی۔ اقتصادی تجویز میں سماجوادی پارٹی نے ریل اور دفاعی شعبہ میں راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کنونشن کے پہلے 8اکتوبر کو قومی جنرل سکریٹری پروفیسر رام گوپال نے پارٹی کی سیاسی، معاشی تجویز پیش کی تھی۔ اگلے دن 9اکتوبر کو تین ترامیم کے ساتھ اس تجویز کو اتفاق رائے سے پاس کر دیا گیا۔ جن تین مدعوں کو بحث کے دوران تجویز میں جوڑا گیا، ان میں ایک ’منگلیان‘ کی کامیابی کو لے کر تھی۔ پارٹی لیڈر امبیکا چودھری نے بحث کے دوران کہا کہ ہندوستانی سائنسدانوں نے اپنی پہلی کوشش میں ہی یہ کامیابی حاصل کی۔ اس کے لئے پارٹی کی طرف سے سائنسدانوں کو مبارکباد بھیجی جانی چاہئے۔ اس کام میں وزیر اعظم مودی کا کوئی تعاون نہیں رہا، پھر بھی وہ اس کامیابی کا پورا کریڈٹ لے رہے ہیں، اس لئے ان کے خلاف مذمتی قرارداد پاس ہونی چاہئے۔ دفاعی شعبہ میں ایف ڈی آئی کی مخالفت اور افراط زر کے لئے قیمتوں پر کنٹرول کے لئے ’مولئے آیوگ‘‘ کی تشکیل سے متعلق دو دیگر باتوں کو بھی تجویز میں بھی شامل کیا گیا۔
جنیشور مشر اپارک کے استعمال پر ہائی کورٹ ناراض
اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں واقع جنیشور مشرا پارک میں ہوئے سماجوادی پارٹی کے کنونشن پر الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ نے سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ کورٹ نے جنیشور مشرا پارک میں مستقبل میں کسی بھی سیاسی پروگرام پر روک لگا دی ہے۔ یہ حکم جسٹس وی کے سنگھ اور جسٹس بی کے سریواستو کی بینچ نے دیا۔ جنیشور مشرا پارک میں ہوئے سماجوادی پارٹی کے قومی کنونشن کے خلاف ایڈوکیٹ منندر رائے نے اپیل دائر کی تھی۔ ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل وجے بہادر کی اپیل پر سماجوادی کے کنونشن پر روک نہیں لگائی، لیکن مستقبل کے لئے ہدایت دے دی۔ کورٹ نے لکھنؤ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو اس پورے پروگرام کی ویڈیو گرافی کرانے اور 6ہفتے میں اس کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ درخواست دہندہ نے بتایا کہ حکومت نے پارک میں انعقاد کے لئے متعلقہ محکموں سے کوئی منظوری نہیں لی۔ حکومت کا دبائو بنا کر انعقاد کیا گیا۔ جنیشور مشرا پارک کو گرین بیلٹ کی شکل میں ڈیولپ کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں وہاں سیاسی پروگرام سے پارک کی ہریالی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پورے شہر میں جگہ جگہ لگی ہوڈرنگس سے عوام کو کافی دقتیں پیش آئیں۔ انتظامیہ نے اس معاملہ میں کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس لئے انہیں عدالت کا سہارا لینا پڑا۔ قابل ذکر ہے کہ سابق وزیراعلیٰ مایاوتی نے سیاسی انعقادات کے لئے شہر سے دور رمابائی میدان بنوایا تھا۔ سماجوادی پارٹی کا قومی کنونشن بھی رمابائی میدان میں ہی ہونا چاہئے تھا۔ الزام ہے کہ سماجوادی پارٹی نے تمام قوانین کو بالائے طاق رکھ کر جنیشور مشرا پارک میں قومی کنونشن کا انعقاد کیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *