میری دلی، میری شان، سفل رہے سوچھ ابھیان

ڈاکٹر وسیم راشد
دو اکتوبر یعنی گاندھی جینتی کے دن سے نریندر مودی نے ’کلین انڈیا‘یا ’سَوَچھ ابھیان‘ شروع کیا ہے۔ اس’ سوچھ ابھیان‘ کو لے کر لگاتار تعریف و تنقید کی جارہی ہے۔کانگریسی لیڈر اس کو گاندھی جی کی اہمیت ختم ہونے اور مودی کو اپنی شبیہ مضبوط بنانے سے تعبیر کر رہے ہیں تو دوسری پارٹیوں کے لیڈران اس کو ڈرامہ کہہ رہے ہیں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ اس ’سوچھ ابھیان ‘ کے ذریعے پورے ملک کے فوٹو گرافرز کے مزے آگئے ہیں۔سرکاری محکموں میں ’کلین انڈیا‘ کے نام پر خوب موج مستی ہوئی اور فوٹو کھنچوائے گئے ۔صاف ستھری سڑکوں پر زبردست پوز دے کر فوٹو گرافی ہوئی ۔ خوبصورت اور اورنج اور کالی دھاری والی ساڑی میں سمرتی ایرانی ایک میٹھی سی مسکراہٹ کے ساتھ چمکتی صاف سڑک پر جھاڑو لگاتی نظر آئیں ۔ خود مودی جی اسکائی بلیو کرتے اور سفید بے داغ پائجامہ میں جھاڑو لگارہے تھے، یہ جانے بغیر کہ جو لوگ گندگی صاف کرتے ہیں ان کو سفید چمکتا ہوا پائجامہ پہننا ہی نصیب نہیں ہوتا ۔روی شنکر پرساد ، مرکزی ٹیلی کام وزیر بھی سفید کرتا پائجامہ میں ایک ماربل والے پتھر کے فرش پر جھاڑو لگا رہے تھے۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ پریس کونسل آف انڈیا کے چیئر مین جسٹس کاٹجو جو کبھی کسی دکھاوے یا ڈرامہ کا حصہ نہیں بنتے ،ان کے ہاتھ میں بھی ایک جھاڑو تھی اور چہرے پر مسکراہٹ۔ غرضیکہ سبھی بی جے پی لیڈران پرکاش جائوڈیکر ،ہرسمرت کور بادل، نجمہ ہپت اللہ سب خوشی خوشی جھاڑو لے کر فوٹو کھنچواتے رہے اور گندگی کے انبار جہاں تھے وہیں لگے رہے۔
جانے کیوں’ کلین انڈیا‘ سن کر ہمیں بے حد خوشی ہوئی تھی اوروزیر اعظم مودی کی تعریف کرنے کو بے تحاشہ جی چاہا ،اس لئے نہیں کہ ہم مودی سے بہت زیادہ متاثر تھے بلکہ اس لئے کہ دہلی میں گندگی کو دیکھتے دیکھتے اتنے تھک چکے تھے کہ لگتا تھا کہ ہماری دلی کوڑے کرکٹ کا انبار ہے، اور کچھ نہیں کسی بھی علاقہ میں چلے جائیے،کسی بھی محلہ میں کسی بھی سڑک پر ، کسی بھی فلائی اُوَر کے نیچے ،بس چاروں طرف گندگی، کوڑا کرکٹ کا انبار اور سرتے ہوئے تعفن اٹھتے ہوئے کوڑے گھر،اس غلاظت بھری دہلی نے ہمارا جینا ہی محال کردیا۔عام آدمی کو بارش کے بعد بھرے ہوئے گٹر اور سڑکوں پر بہتی ہوئی غلاظت صاف نظر آتی ہے اور بارش کا ہی کیا ذکر کریں بہت زیادہ پوش کالونیوں کا تو مجھے نہیں پتہ، لیکن کچھ دہلی کے علاقے جیسے سیلم پور، مصفطی آباد، لکشمی نگر، چاندنی چوک، صدر بازار، بارہ ٹوٹی، اجمیری گیٹ، ترکمان گیٹ، نظام الدین ایسٹ، بھوگل کے اندر کا علاقہ ،آشرم کے پیچھے کا علاقہ، کالکاجی ، اوکھلا، فریدآباد، غرضیکہ کون سے ایسے علاقے ہیں جہاں ابھی بھی غلاظت بکھری ہوئی نظر نہیں آتی ہے۔
سنا یہ بھی تھا کہ کامن ویلتھگیمس کے دوران دہلی کو پیرس جیسا بنایا جائے گا ۔ہوا اس کے الٹ ، دہلی پیرس تو نہ بن سکی البتہ اربوں کھربوں کے گھوٹالوں نے دہلی کی حالت اور خراب کردی۔ جدھر بھی چلے جائیے ،کوڑا گھر بھرے ہوئے نظر آئیں گے اور وہاں آوارہ کتے اور خنزیر گھومتے ہوئے ملیں گے۔
پورے ملک کا حال کیسا ہے ،مجھے نہیں معلوم لیکن ہندوستان کے جن شہروں میں بھی مَیں گئی ہوں مجھے دہلی سب سے گندا اور سب سے زیادہ لاوارث شہر لگا۔ ممبئی ، کولکتا،بنگلور، چنڈی گڑھ، الٰہ آباد، حیدرآباد، پونا وغیرہ میں بھی مجھے وہ گندگی نہیں ملی جو دہلی کا حال ہے۔ ہوسکتا ہے چونکہ میں خود دلی والی ہوں اور دلی کے چپے چپے سے واقف ہوں اسی لئے مجھے یہاں کہ بارے میں زیادہ پتہ ہے لیکن ایک بات تو سبھی مانیں گے کہ دلی کو دارلخلافہ ہونے کی وجہ سے زیادہ صفائی کا حق ملنا چاہئے۔ دلی کو تمام مرکزی اداروں ، سنسدبھون، راشٹریہ پتی بھون، انڈیا گیٹ ، وگیان بھون، سپریم کورٹ جیسی پرشکوہ عمارتوں کے ساتھ ساتھ پورے شہر کو بھی صاف رکھنا ضروری ہے یا بس صفائی ان ہی علاقوں کی ہوگی جہاں وی وی آئی پی رہتے ہیں یا جہاں دوسرے ممالک سے آئے مہمان ٹھہرتے ہیں ،راج گھاٹ کو دیکھئے کیسا چمکاکر رکھا جاتا ہے۔اس لئے کہ جوبھی بین اقوامی شخصیتیں ہندوستان آتی ہیں وہ راج گھاٹ ضرور جاتی ہیں اور اگر اس کو صاف نہ رکھا جائے تو بڑی بدنامی ہوگی۔
لیکن کیا کبھی راج گھاٹ سے چند قدم کی دوری پر جامع مسجد ، لال قلعہ ، دہلی گیٹ،قبرستان اور آئی ٹی او کے علاقے دیکھے ہیںآپ نے؟ کتنے گندے اور لاوارثوں کی طرح پڑے رہتے ہیں۔ پرانی دلی کی تو بات ہی نہیں کرتے ۔اس کے ساتھ تو جو سوتیلا سلوک برتا جاتا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ جامع مسجد جسیشاہی جامع مسجد کہلانے کا شرف حاصل ہے اس کو جانے والی سڑک جسے مینا بازار کہتے ہیں کیا کبھی کسی انٹر نیشنل شخصیت کو اس میں سے گزار کر جامع مسجد لے جایا جاسکتا ہے،نہیں ؟آخر کیوں؟ اس لئے کہ پیشاب کی نالیاں وہاں بہتی رہتی ہیں۔ اس قدر تعفن ہے وہاں کہ نکلنا مشکل ہے ۔ شرابی، جواری، اوباش، بازیگر سب وہیں پر نظر آتے ہیں اور اس سے بھی زیادہ شرمناک بات یہ ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد کا مزار اسی مینا بازار کے احاطہ میں ہے جہاں آوارہ کتے رات دن گھومتے رہتے ہیں اور جا بجا پیشاب و گندگی کرتے رہتے ہیں۔ گویا یہ مزار نہیں غنڈوں،موالیوں اور نشہ بازوں کا مسکن ہے۔ کیا نجمہ ہپت اللہ نے وہاں جاکر جھاڑو لگائیں۔ کیا نجمہ ہپت اللہ نے وہاں کی صفائی کا کوئی انتظام کیا۔
ہم خود اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر بات پر اور ہرمہم کو تنقیدی نظر سے دیکھنا اچھا نہیں ۔جو کوئی اچھا کام کرتا ہو اس کی سراہنا ہونی چاہئے،لیکن یہ بھی تو نہ ہونا چاہئے کہ ایک کام اچھے جذبے سے شروع کیا گیا ہو لیکن اس میں صرف خانہ پُری ہوجائے اور مسکرا مسکرا کر میڈیا کے سامنے فوٹو اترواکر اس مہم کا مذاق اڑایا جائے۔
کئی اہم شخصیات’ کلین انڈیا‘ سے جڑی ہیں جو قابل تعریف ہے ،جس میںشاذیہ علمی اور سراج قریشی صاحب بھی شامل ہیں۔ مجھے ان کا یہ جذبہ پسند آیا کہ’ کلین انڈیا ‘ کسی سیاسی پارٹی کا پروگرام نہیں بلکہ انڈیا کا پروگرام ہے ۔یہ ہمارے ملک کی مہم ہے اور اسی لئے ہم اس پروگرام میں شریک ہوئے ہیں۔ اس مہم میں سبھی پارٹیوں ،سماجی اور مذہبی اداروں، اسکولوں ،کالجوں، یونیورسٹیوں اور خود گھریلو خواتین اور بزرگوں کو بھی شامل ہونا چاہئے ۔ اس مہم میں جن 9لوگوں کو شامل کیا گیا ہے ان میں شاذیہ علمی اور سراج قریشی صاحب کا نام ہونے پر متعدد مسلم تنظیموں اور شخصیات نے اعتراض کئے ہیں لیکن مجھے سراج صاحب کی یہ بات بے حد پسند آئی کہ یہ کوئی سیاسی مہم نہیں ہے۔ یہ سماجی مہم ہے ۔سماجی کام ہے ۔ یقینا یہ ایک سوشل ورک ہے اور اگر اس مہم میں شاذیہ اور سراج صاحب حصہ لیتے ہیں تو یہ باعث تسکین اور باعث فخر ہونا چاہئے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہئے کہ بے جا تنقید و تبصرہ کیا جائے کہ وہ بی جے پی میں شامل ہونے والے ہیں،بی جے پی کے نئے چہرے بننے جارہے ہیں۔
اس پوری مہم کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ اس مہم نے کم سے کم پورے ملک کو صفائی کے لئے بیدار تو کردیا ہے لیکن اس کا مقصد تبھی پورا ہوگا جب اس مہم کو ایمانداری سے لیا جائے۔کس قدر گندگی اور غلاظت اسٹیشنوں پر نظر آتی ہے۔ پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن ہو یا نئی دہلی ریلوے اسٹیشن ، نظام الدین ریلوے اسٹیشن کا تو یہ حال ہے کہ اگر آپ سرائے کالے خاں کی جانب سے جاتے ہیں تو ناک پر کپڑا رکھے بغیر نہیں گزر سکتے ۔ اس صفائی مہم کے بعد 9 اکتوبر کو ہمارا وہاں سے گزر ہوا ۔یعنی پورے ایک ہفتے بعد۔ تو یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ صفائی نام کی کوئی ایک جھاڑو بھی یہاں لگائی گئی ہوگی۔ مجھے تو سب سے زیادہ حیرت ہوتی ہے آگرہ شہر می جاکرکہ وہ شہر جہاں دنیا کا ساتواں عجوبہ سر فخر سے بلند کئے کھڑا ہے ،جہاں محبت کی لافانی یادگار ہے اور جسے دیکھنے دنیا کے کونے کونے سے لوگ آتے ہیں۔ اس شہر میں اس قدر گندگی اور کوڑے کرکٹ کا انبار ہے کہ آپ تصور نہیں کرسکتے ۔ اس شہر کو پورے ہندوستان میں سب سے خوبصورت شہر ہونا چاہئے تھا کیونکہ وہاں جتنے سیاح آتے ہیں غالباً پورے ملک میں اتنے سیاح نہیں آتے ہوں گے۔ لیکن وہاں اس مہم کا کوئی اثر آج بھی نہیں ہے۔
ہم اس مہم کو کامیاب بنانے میں بھرپور تعاون دیں گے ۔ اس لئے کہ صفائی مسلمانوں کے یہاں نصف ایمان ہے ۔ہمارے پیغمبر محمدؐ نے سب سے زیادہ صفائی اور طہارت پر زور دیا لیکن ہمارے مسلم محلوں کو صفائی تو دور وہاں کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں تک کی مرمت نہیں کی جاتی۔ پر ہم کوشش کریں گے کہ ذاتی طور پر اس ’کلین انڈیا‘ اور ’سوچھ ابھیان ‘ کو دہلی میں سب سے زیادہ کامیاب بنائیں تاکہ ایک بار پھر کوئی شاعر یہ کہہ سکے : دلّی جو ایک شہر ہے عالم میں انتخاب۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *