اتر پردیش ضمنی انتخابات: بی جے پی بھاری پڑی سماجوادی پارٹی

پربھات رنجن دین
mastاتر پردیش میں ہوئے ضمنی انتخاب میں سماجوادی پارٹی نے اپنے کمیونل ایجنڈے کو حاشیہ پر رکھ دیا، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی اسی میں پھنسی رہ گئی۔ نتیجہ ملک کے سامنے ہے کہ سماجوادی پارٹی نے 11 میں سے 8 اسمبلی سیٹیں بی جے پی سے چھین لیں۔ ملائم سنگھ یادو کے ذریعے چھوڑی گئی لوک سبھا کی مین پوری سیٹ تو ایس پی کی جھولی میں آنی ہی تھی۔ ووٹوں کے پولرائزیشن کی کوشش میں اناپ شناپ کمیونل لائن لینے والے سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خاں کو پارٹی نے اس انتخاب میں ایک کونے میں کر دیا تھا، لیکن بی جے پی نے ایسے عناصر کے ذریعے ماحول کو پراگندہ کرنے کی پرزور کوششیں کیں۔ ایسے میں اتر پردیش کے ووٹروں نے واضح لائن پکڑی اور یہ دکھایا کہ کمیونل کارڈ کھیلنے اور مہرہ بننے میں عام لوگوں کی قطعی دلچسپی نہیں ہے۔
اسمبلی اور لوک سبھا کے ضمنی انتخابات میں سماجوادی پارٹی کی جیت پر پارٹی سے جڑے لوگ کہتے ہیں کہ ملائم سنگھ کے مشورے اور ان کی ہدایت، شو پال کی پختہ حکمت عملی اور اکھلیش کی ٹھوس کارروائی نے پارٹی کا وقار بچا لیا، جو لوک سبھا الیکشن میں چلا گیا تھا۔ واقعی، سماجوادی پارٹی کی حکمت عملی نے بی جے پی کے ڈیزائن کو تباہ و برباد کر دیا۔ ’لو جہاد‘ کی ’پالیسی‘ نے الٹا بی جے پی کی بنیاد کو ہلا کر رکھ دیا۔ اب پارٹی کو نئے سرے سے اپنی حکمت عملیوں اور تیاریوں پر غور وفکر کرنا پڑے گا۔ قابل ذکر ہے کہ اتر پردیش میں اسمبلی کی جن 11 سیٹوں پر ضمنی انتخاب ہوئے، ان میں 10 بی جے پی اور ایک اس کی حلیف پارٹی، اپنا دَل کے ممبرانِ اسمبلی کے استعفیٰ سے خالی ہوئی تھی۔ اب ان 11 سیٹوں میں سے 8 پر سماجوادی پارٹی نے اپنا قبضہ جما لیا ہے۔
مین پوری لوک سبھا سیٹ ایس پی سپریمو ملائم سنگھ یادو کے استعفیٰ سے خالی ہوئی تھی۔ اس پر بھی دوبارہ ایس پی کا قبضہ ہو چکا ہے۔ سماجوادی پارٹی نہیں چاہتی تھی کہ بی جے پی کو ضمنی انتخابات میں ووٹوں کے پولرائزیشن کا کوئی موقع ملے، اس لیے اس نے زیادہ مسلم امیدوار دینے سے پرہیز کیا اور صرف ٹھاکر دوارہ سے مسلم امیدوار کو میدان میں اتارا۔ بجنور اور سہارنپور جیسی سیٹوں پر بھی پارٹی نے ہندو امیدوار اتارے، جب کہ وہاں 30 سے 40 فیصد مسلم ووٹر ہیں اور وہاں ماضی کے حالات کے مد نظر کمیونل پولرائزیشن بھی آسان تھا، لیکن سماجوادی پارٹی نے اس سے پرہیز کیا۔ یہی نہیں، پارٹی نے سینئر وزیر کابینہ اعظم خاں کو بھی اس ضمنی انتخاب میں ہر ذمہ داری سے الگ رکھا۔ اعظم خاں لوک سبھا الیکشن کے دوران پارٹی کے اسٹار کمپینر رہے تھے، لیکن ضمنی انتخاب میں پرچار کے لیے 23 وزیروں کی فہرست میں ان کا نام شامل نہیں کیا گیا۔ لوک سبھا الیکشن میں اعظم خاں نے جم کر پرچار کیا تھا، لیکن متنازع بیان کی وجہ سے وہ تنازعات سے گھرے رہے۔ پارٹی قیادت کا ماننا تھا کہ اعظم خاں کے پرچار میں شامل ہونے سے بی جے پی کو ہی فائدہ ہوگا۔ سماجوادی پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا تھا کہ اعظم خاں کے پاس اپنی ’جذباتی‘ تقریروں سے مسلم ووٹروں کو اپنی طرف کھینچنے کی صلاحیت ہے، لیکن لوک سبھا الیکشن میں ان کی تقریروں کی وجہ سے ہندو ووٹوں کا سماجوادی پارٹی کے خلاف پولرائزیشن ہو گیا تھا۔ پارٹی قیادت کا ماننا تھا کہ ضمنی انتخاب میں اعظم کی موجودگی بی جے پی کو مذہب کے نام پر ووٹوں کے پولرائزیشن کا موقع دے گی۔ اسی سوچ کے تحت ملائم سنگھ یادو نے ضمنی انتخاب میں پارٹی کی حکمت عملی پر غور کرنے کے لیے وزیروں کی جو میٹنگ بلائی تھی، اس میں اعظم خاں کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ سہارنپور، بجنور اور ٹھاکردوارہ سیٹوں کے لیے حکمت عملی بنانے میں بھی اعظم کو نہیں بلایا گیا۔ ضمنی انتخاب کو لے کر پارٹی کے اندر جو حکمت عملی بن رہی تھی، اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پارٹی کے ہی ایک لیڈر نے کہا تھا کہ پارٹی اس ضمنی انتخاب میں اعظم کو سرگرم رول میں بالکل نہیں رکھنا چاہتی۔ اتر پردیش میں ماحول ایسا ہو گیا تھا کہ اگر مسلم ووٹر بڑی تعداد میں پولنگ بوتھ پر آتے، تو ہندو ووٹر بھی زیادہ تعداد میں آکر ووٹ کرتے۔ لہٰذا، پارٹی قیادت نے اس بار ’سیف گیم‘ کھیلنا زیادہ مناسب سمجھا اور اسے اس کا فائدہ بھی ملا۔ پارٹی اعلیٰ کمان کی ہدایت یا اشارہ کو سمجھتے ہوئے اعظم خاں نے بھی اپنی سرگرمیوں اور منھ پر پابندی رکھی۔ اس کے برعکس، بی جے پی پولرائزیشن کی لائن پر اور زیادہ سرگرمی کے ساتھ کام کرتی رہی۔ یہیں اس سے چوک ہو گئی۔ اس نے ایس پی کی پختہ حکمت عملی کی طرف دھیان ہی نہیں دیا۔ اس نے ایس پی کے مسلم امیدواروں کی ناموجودگی کے پیچھے کی ’انجینئرنگ‘ نہیں سمجھی۔ وہ اعظم خاں کی رازدارانہ خاموشی کے دور اندیشی نتیجوں کا اندازہ نہیں لگا پائی اور شکست کھا گئی۔ بی جے پی نے متنازع اور شعلہ بیاں لیڈر یوگی آدتیہ ناتھ اور ساکشی مہاراج کو آگے کر دیا، جب کہ ایس پی نے نرم مزاج لیڈروں کو جمہوری جنگ میں اگلی قطار میں رکھا۔ سماجوادی پارٹی نے ہندو ووٹوں کا بٹوارہ نہ ہو، اس کا خیال رکھا اور بی جے پی نے بٹوارہ ہو جائے، اس پر توجہ مرکوز کی۔ بی جے پی نے اس انتخاب کو ہلکے میں لیا، جب کہ ایس پی نے اسے اپنے وجود سے جوڑا اور اس طرح سنجیدہ حکمت عملی بنائی۔ اتر پردیش میں اکثریت والی حکومت ہونے کے باوجود لوک سبھا الیکشن میں ہوئی زبردست ہار کا ایس پی بدلہ لینا چاہتی تھی اور اپنے خستہ ہو چکی ساکھ کو بحال کرنا چاہتی تھی، جس میں وہ کامیاب ہوئی۔

ضمنی انتخاب کے نتائج پر بولتے ہوئے وزیر اعلیٰ اکھلیش سنگھ یادو کی خود اعتمادی صاف صاف دکھائی دے رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے ووٹ کی طاقت سے فرقہ پرست طاقتوں کے منصوبوں کو ناکام کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ضمنی انتخاب کے نتیجے یہ ظاہر اور ثابت کرتے ہیں کہ عوام نے فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف ووٹ دیا اور انہیں خارج کر دیا ہے۔ لوگ امن اور بھائی چارہ چاہتے ہیں۔ ضمنی انتخاب میں فرقہ پرست طاقتوں نے نفرت پھیلا کر فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، لیکن عوام نے انہیں ووٹ کی طاقت کے ذریعے پیچھے دھکیل دیا۔ اکھلیش نے کہا کہ سماجوادی پارٹی صرف ترقی کے لیے کام کرتی ہے۔ وہ یہ بھی وعدہ دوہرانا نہیں بھولے کہ ضمنی انتخاب کے بعد ایس پی سرکار اور بھی زیادہ ذمہ داری سے ترقیاتی کام کرے گی۔
سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور وزیر شو پال یادو نے بھی کہا کہ عوام نے ترقی کے لیے ووٹ دیا ہے۔ فرقہ پرست طاقتوں نے لوک سبھا الیکشن میں عوام کو ورغلا کر اقتدار حاصل کر لیا، لیکن اب وہ ان کی اصلیت سمجھ چکے ہیں۔ شو پال نے کہا کہ سماجوادی پارٹی کے قومی صدر ملائم سنگھ یادو کی قیادت میں پارٹی ریاست اور ملک کی سمت اور رفتار، دونوں کو بدلے گی، جس کا اتر پردیش کو یقینی طور پر فائدہ ملے گا۔ پارٹی کا ہدف ریاست اور ملک کو عالمی سطح پر ابھارنا ہے۔ اس کے لیے ریاست میں ترقی اور خوش حالی کا ماحول بنانے کے لیے پارٹی پابند عہد ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجوادی پارٹی کے کارکنوں کے حوصلے بلند ہیں اور اسی طرح کارکنوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے ہم آئندہ اسمبلی الیکشن میں بھی دوبارہ اکثریت حاصل کرکے حکومت بنائیں گے۔ شو پال نے کہا کہ ریاست کے ضمنی انتخاب کے نتائج سے صاف اشارہ ملا ہے کہ عوام نے فرقہ واریت، لو جہاد جیسے مدعوں کو خارج کرکے ترقی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ترجیح دی۔ عوام سماجوادی سرکار کی حصولیابیوں سے متاثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف چار مہینے میں ہی کسی سرکار کے تئیں عوام کی نا امیدی اور غصے کا یہ پہلا سیاسی واقعہ ہے۔ جو لیڈر مہنگائی اور بدعنوانی پر روک لگانے کا وعدہ کرکے اقتدار میں آئے تھے، عوام نے انہیں ان کی وعدہ خلافی کا سبق سکھا دیا۔ ضمنی انتخاب میں عوام نے اچھے دنوں کا خواب دکھانے والوں کو برے دن دکھا کر جمہوریت کی طاقت انہیں بتا دی ہے۔ شو پال نے یہ دعویٰ کیا کہ سماجوادی پارٹی کو دلتوں سمیت سبھی طبقوں کا ووٹ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجوادی سرکار عوامی فلاح سے متعلق اپنے کاموں کو جاری رکھے گی۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے اسے کمزور سرکار بتایا اور کہا کہ اس کی خارجہ پالیسی ناکا م ہے۔ چین لگاتار ہندوستانی زمین پر قبضہ کرتا جا رہا ہے، لیکن اس کی پر زور مخالفت نہیں ہو رہی ہے۔

اندرونی رسہ کشی اور بداطمینانی نے بی جے پی کو ڈبویا

بھارتیہ جنتا پارٹی کو اندرونی رسہ کشی اور مقامی لیڈروں اور کارکنوں کی بداطمینانی نے ڈبو دیا۔ اگر بی جے پی کی اعلیٰ قیادت بیدار نہیں ہوئی، تو 2017 کے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کا خاتمہ طے مانئے۔ بی جے پی کے مقامی لیڈروں اور کارکنوں میں سب سے زیادہ غصہ لوک سبھا الیکشن میں جیت کا سارا کریڈٹ امت شاہ کو دیے جانے کو لے کر ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ لوک سبھا میں جیت مودی کی لہر اور مقامی لیڈروں و کارکنوں کی جدوجہد سے ملی، لیکن جیت کا سارا کریڈٹ امت شاہ لوٹ کر لے گئے۔ اب مقامی لیڈروں نے اس ضمنی انتخاب میں اس کا بدلہ لے لیا ہے۔
بی جے پی کی ریاستی اکائی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ اس کے علاوہ پارٹی اندرونی رسہ کشی سے بھی بری طرح پریشان ہے۔ بی جے پی قیادت کو اتنی بھی سیاسی سمجھ نہیں ہے کہ جن ممبرانِ اسمبلی نے اپنی سیٹ سے استعفیٰ دے کر لوک سبھا کا الیکشن لڑا، ان کی پسند کے امیدوار کو ضمنی انتخاب میں موقع دیا جائے، لیکن اس کے برعکس ان کے مخالفین کو ہی اس بار امیدوار بنا دیا گیا۔ اس کا نتیجہ بھی پارٹی نے بھگتا۔ آپسی رسہ کشی کا یہ عالم تھا کہ اس بار کھلے عام بغاوت اور مارپیٹ کا واقعہ بھی پیش آیا۔ بجنور اسمبلی سیٹ پر تو پرچہ نامزدگی بھرنے پہنچے بی جے پی کارکنوں کے آپس میں ہی بھڑ جانے کی خبریں سرخیوں میں رہیں، وہیں نوئیڈا میں پرچہ نامزدگی بھرنے کے دن بی جے پی کے لیڈروں کا قحط پڑ گیا۔ سب سے زیادہ تناؤ والا ماحول ٹھاکر دوارہ اور نگھاسن میں نظر آیا۔ یہاں ممبرانِ پارلیمنٹ کی غیر حاضری ان کی بداطمینانی کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔ بجنور میں رکن پارلیمنٹ بھارتیندر سنگھ اور ٹکٹ نہیں پا سکے راجندر سنگھ کے حامی آپس میں ہی بھڑ گئے، تبھی یہ لگ گیا تھا کہ بجنور سیٹ بچائے رکھنا اس بار آسان نہیں ہوگا۔
اندرونی رسہ کشی اور بداطمینانی کو ظاہر نہ ہونے دینے کے لیے امیدواروں کی فہرست کافی دیر سے جاری کرنے کا فارمولہ بھی چوپٹ کرنے والا ہی ثابت ہوا۔ دوسری طرف سماجوادی پارٹی نے لوک سبھا الیکشن ختم ہوتے ہی اسمبلی سیٹوں کے لیے اپنے امیدوار وں کا اعلان کر دیا تھا۔ پارٹی کی اندرونی رسہ کشی اور بد اطمینانی کو دیکھتے ہوئے ہی بی جے پی کا کوئی بھی مرکزی وزیر یا سینئر لیڈر چناؤ پرچار کے لیے یہاں نہیں آیا، یہاں تک مرکزی حکومت کے وزیروں نے اپنے سو دن کی حصولیابیوں کو عوام کے سامنے رکھنے کی زحمت بھی نہیں اٹھائی۔ لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی نے یو پی کی سبھی 17 ریزرو سیٹیں جیتیں، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ضمنی انتخاب میں کسی بھی دلت لیڈر کو کوئی ذمہ داری نہیں سونپی گئی۔

یوپی میں کہاں کہاں سے کون کون جیتا
اتر پردیش میں 11 اسمبلی سیٹوں اور ایک لوک سبھا سیٹ پر ضمنی انتخاب ہوئے۔ چرخاری اسمبلی سیٹ سے ایس پی کے کپتان سنگھ نے کانگریس کے رام جیون کو 50805 ووٹوں سے ہرایا۔ سراتھو اسمبلی سیٹ پر ایس پی کے واچس پتی نے بی جے پی کے سنتوش سنگھ پٹیل کو 24522 ووٹوں سے شکست دی۔ بلہا اسمبلی سیٹ پر ایس پی کے بنشی دھر بودھ نے بی جے پی کے اکشے بر لال کو 25181 ووٹوں سے ہرایا۔ ٹھاکر دوارہ اسمبلی سیٹ پر ایس پی کے نواب جان نے بی جے پی کے راجپال چوہان کو 27743 ووٹوں سے ہرایا۔ سہارنپور شہر اسمبلی سیٹ پر بی جے پی کے راجیو گمبر نے ایس پی کے سنجے گرگ کو 26667 ووٹوں سے ہرایا۔ حمیر پور اسمبلی سیٹ پر ایس پی کے شو چرن پرجاپتی نے بی جے پی کے جگدیش پرساد کو 68556 ووٹوں سے ہرایا۔ روہنیا اسمبلی سیٹ پر ایس پی کے مہندر سنگھ پٹیل نے اپنا دَل کے کرشنا پٹیل کو 14449 ووٹوں سے ہرایا۔ نگھاسن اسمبلی سیٹ پر ایس پی کے کرشن گوپال پٹیل نے بی جے پی کے رام کمار ورما کو 45976 ووٹوں سے ہرا دیا۔ بجنور اسمبلی سیٹ پر ایس پی کی روچی ویرا نے بی جے پی کے ہیمندر پال کو 11567 ووٹوں سے ہرایا۔ لکھنؤ مشرقی اسمبلی سیٹ پر بی جے پی کے آشوتوش ٹنڈن نے ایس پی کی جوہی سنگھ کو 26459 ووٹوں سے ہرا دیا۔ نوئیڈا اسمبلی سیٹ پر بی جے پی کی وملا باتھم نے ایس پی کی کاجل شرما کو 58952 ووٹوں سے ہرایا۔ مین پوری لوک سبھا سیٹ پر ایس پی امیدوار تیج پرتاپ سنگھ نے بی جے پی امیدوار پریم سنگھ شاکیہ سے 321149 زیادہ ووٹ پاکر جیت حاصل کی۔
سہارنپور سٹی، بجنور، ٹھاکر دوارہ، نوئیڈا، نگھاسن، لکھنؤ مشرقی، حمیر پور، چرخاری، سراتھو، بلہا (ریزروڈ) اور روہنیا اسمبلی سیٹیں لوک سبھا الیکشن کے بعد خالی ہو گئی تھیں۔ ان سیٹوں سے چنے ہوئے ایم ایل اے ڈاکٹر مہیش شرما، کلراج مشر، اجے مشر، ساوتری بائی پھولے، سادھوی نرنجن جیوتی، اوما بھارتی، کنور بھارتیندو، کنور سرویش کمار سنگھ، راگھو لکھن پال، کیشو پرساد اور انو پریا پٹیل الیکشن جیت کر پارلیمنٹ پہنچ گئے تھے۔ اعظم گڑھ اور مین پوری لوک سبھا سیٹ سے الیکشن جیتنے کے بعد ایس پی سپریمو ملائم سنگھ یادو نے مین پوری سے استعفیٰ دے دیا تھا، جس کے بعد اس سیٹ پر بھی ووٹنگ ہوئی۔

شہ پر مات کھا گئے شاہ
لوک سبھا الیکشن میں زوردار جیت درج کرنے والی بی جے پی ٹھیک چار ماہ کے بعد ملک کی 10 ریاستوں میں 33 سیٹوں کے لیے ہوئے ضمنی انتخابات میں اپنی بنیاد کھوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ اتر پردیش کی 11 اسمبلی سیٹوں میں سے سماجوادی پارٹی نے 8 پر جیت درج کی ہے۔ خاص طو رپر اتر پردیش کی ہار کو امت شاہ کے لیے کرارا جھٹکا بتایا جا رہا ہے، کیوں کہ لوک سبھا الیکشن میں ہوئی جیت کا سارا کریڈٹ امت شاہ ہی جھٹک لے گئے تھے۔ لیکن اتنی جلدی سپائی شہ پر شاہ مات ہو جائیں گے، کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ اُدھر گجرات میں، کانگریس نے بی جے پی کو کانٹے کی ٹکر دی۔ راجستھان میں بی جے پی بری طرح پچھڑ گئی۔ ضمنی انتخاب کے نتائج کو مئی میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے نریندر مودی سرکار کی مقبولیت کے امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بی جے پی کے لیے یہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اگلے ہی مہینے ہریانہ اور مہاراشٹر میں انتخابات کی تیاری ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی خالی کی ہوئی سیٹ ودودرا کے ساتھ ایس پی سپریمو ملائم سنگھ یادو کی مین پوری (اتر پردیش) اور تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ چندر شیکھر راؤ کی سیٹ میڈک (تلنگانہ) پر امید کے خلاف نتیجے نہیں آئے۔ ودودرا سے بی جے پی جیتی، تو مین پوری سے ایس پی اور میڈک سے ٹی آر ایس نے اپنا دبدبہ برقرار رکھا۔ ہاں، وزیر اعظم نریندر مودی کے لوک سبھا حلقہ وارانسی کی روہنیا اسمبلی سیٹ سے ایس پی امیدوار کا جیتنا ضرور حیرانی میں ڈالتا ہے۔

جیت نہ دلانے والے وزیروں کا کیا ہوگا
لوک سبھا الیکشن میں ملی شکست کا حساب برابر کرنے کے لیے سماجوادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو نے ریاست کی ایک لوک سبھا اور 11 اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخاب کے لیے اکھلیش سرکار کے وزیروں کی فوج اتار دی تھی۔ وزیروں کو واضح طو رپر بتا دیا گیا تھا کہ جو وزیر اپنے علاقے کے پارٹی امیدوار کو جیت دلانے میں ناکام رہے گا، اس کا وزارتی عہدہ جائے گا۔ اس ہدایت کے مد نظر لکھنؤ مشرقی سیٹ، سہارنپور اور نوئیڈا اسمبلی سیٹوں کے لیے جن وزیروں کو ذمہ داری سونپی گئی تھی، ان پر تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ لیکن پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ 8 سیٹوں پر دھماکہ دار جیت کی خوشی میں تین سیٹوں کے تئیں قیادت آنکھ موند بھی سکتی ہے۔
مین پوری پارلیمانی حلقہ کے لیے شو پال سنگھ یادو، دھرمیندر یادو اور اروند سنگھ کو ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ لکھنؤ مشرقی اسمبلی حلقہ کے لیے امبیکا چودھری، احمد حسن، اروِند سنگھ ’گوپ‘ اور ابھشیک مشر کو ذمہ داری دی گئی تھی، لیکن یہاں ایس پی امیدوار جوہی سنگھ الیکشن ہار گئیں۔ بجنور اسمبلی سیٹ کی ذمہ داری بھگوت شرن گنگوار کو دی گئی تھی۔ سہارنپور اسمبلی سیٹ کی ذمہ داری شاہد منظور اور بلرام یادو کو اور نوئیڈا اسمبلی سیٹ کی ذمہ داری نارد رائے اور اسیم یادو کو دی گئی تھی، لیکن یہ دونوں سیٹیں سماجوادی پارٹی ہا رگئی۔ ٹھاکر دوارہ اسمبلی سیٹ کی ذمہ داری کمال اختر اور راج کشور سنگھ کو، حمیر پور کی ذمہ داری گایتری پرجا پتی اور نریندر ورما، چرخاری کی ذمہ داری رام گوند چودھری اور رام سندر نشاد، بلہا کی ذمہ داری شو پرکاش یادو اور پنڈت سنگھ، روہنیا کی ذمہ داری درگا پرساد یادو، رام دُلار راج بھر، نگھاسن کی ذمہ داری رام مورتی ورما، رام کرن آریہ اور رام پال اور سراتھو کی ذمہ داری پارس ناتھ یادو اور شنکھ لال مانجھی کو دی گئی تھی۔

ایس پی کے قلعہ میں بی جے پی کی طاقت لیڈروں کو چبھتی ہے
مین پوری پارلیمانی سیٹ سماجوادی پارٹی کا قلعہ مانی جاتی ہے۔ لیکن وہاں کی ایک اسمبلی سیٹ ایس پی لیڈروں کو بہت چبھتی ہے۔ پچھلے لوک سبھا الیکشن میں بھی اس اسمبلی سیٹ نے ملائم کو اپنے یہاں ہرایا تھا اور اس بار بھی ایس پی امیدوار کو اس اسمبلی حلقہ میں کراری ہار ملی۔ یہ الگ بات ہے کہ دیگر اسمبلی حلقوں کو ملا کر ایس پی امیدوار کی جیت ہوئی۔ مین پوری لوک سبھا ضمنی انتخاب میں ایس پی امیدوار ملائم سنگھ کے پوتے تیج پرتاپ کے ذریعے پرچہ نامزدگی بھرنے کے بعد سے ہی تقریباً طے تھا کہ تیجو جیتیں گے، لیکن بکتر بند تیاریاں بھی بھوگاؤں اسمبلی حلقہ کے ووٹروں کو سماجوادی پارٹی کی طرف نہیں موڑ پائیں۔ مین پوری پارلیمانی حلقہ کی سبھی اسمبلی سیٹوں پر ایس پی امیدوار بی جے پی سے آگے رہے، لیکن بھوگاؤں اسمبلی حلقہ میں بی جے پی امیدوار نے ایس پی امیدوار کو 6170 ووٹوں سے شکست دی۔ پچھلے لوک سبھا الیکشن میں بھی ایس پی سپریمو ملائم سنگھ یادو کو بی جے پی امیدوار نے 1140 ووٹوں سے ہرایا تھا۔ بھوگاؤں اسمبلی سیٹ ایس پی قیادت کے لیے گہری تشویش کا باعث بنی ہوئی تھی۔ بی جے پی امیدوار پریم سنگھ شاکیہ، بی جے پی کے ضلع صدر شو دتّ بھدوریا، آلوک گپتا اور دیگر کئی لیڈروں نے رٹرننگ آفیسر سے ملاقات کرکے ساڑھے تین لاکھ فرضی ووٹ ڈالے جانے کا الزام لگایا تھا او رکہا تھا کہ ضلع انتظامیہ نے ریاستی حکومت کے دباؤ میں جم کر دھاندلی کرائی۔ ووٹوں کی گنتی کے دن بھی بی جے پی امیدوار اپنے حامیوں کے ساتھ دوپہر ایک بجے ہی ووٹنگ کی جگہ سے باہر چلے گئے تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *