یو پی میں اردو کو دوسری زبان کا درجہ: خوش ہونے کا نہیں لائحہ عمل تیار کرنے کا وقت

ڈاکٹر وسیم راشد
تمام آئینی تحفظات اور حکومت کے وعدوں کے باوجوداردو کو اس کاصحیح حق نہیں ملا ،لیکن سپریم کورٹ آف انڈیا نے حال میں ہی اردو کو دوسری سرکاری زبان بنانے کے تعلق سے جو فیصلہ سنایا ہے وہ تاریخی اور بروقت ہے اور اردو کو اسکا جائز حق عطا کرتا ہے‘‘۔یہ الفاظ ہیں سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ اور ماہر قانون جناب فالی ایس نریمان (Fali S Nariman)کے جو انہوں نے کانسٹی ٹیوشن کلب کے اسپیکرہال میں قومی اقلیتی کمیشن کی جانب سے منعقد ایک خصوصی لکچرمیں کہے۔ قومی اقلیتی کمیشن نے اپنے 7ویں سالانہ لکچر 2014 میں جس شخصیت کو دعوت دی تھی،وہ بے حد قابل اور بے حد سینئر قانون داں فالی نریمان تھے اور جنہوں نے بلند و بانگ یہ الفاظ کہے اور بے حد کچھاکھچ ہال میں تالیوں کی گڑ گڑاہٹ میں انہوں نے یہ ثابت کردیا کہ اردو کو اب جاکر اسکا جائز حق ملا ہے۔ حیرت کی بات تو یہ تھی کہ اقلیتی کمیشن کا پروگرام تھا ،بات اردو کے حق کی تھی،لکچر بھی خاص طور پر مسلمانوں کے تعلق سے تھا، لیکن اتنے بڑے ہال میں مسلمانوں کی تعداد بے حد کم تھی۔ اردو صحافی بھی ندارد اور ان سب سے زیادہ تعجب کی بات یہ کہ اردو گھرانے کی پروردہ ، اردو کے علمبردار مولانا ابولکلام آزاد کے خانوادہ کا دم بھرنے والی اقلیتی امور کی وزیر ڈاکٹر نجمہ ہبت اللہ اس موضوع پر بالکل خاموش تھیں۔وہ مودی کی تعریف میں تو رطب اللسان رہیں ،لیکن انہوں نے اردو زبان کے تعلق سے ایک لفظ بھی نہیں کہا ۔ ڈاکٹر نجمہ ہبت اللہ جب سے اقلیتی امور کی وزیر بنی ہیں انہوں نے ابھی تک مسلمانوں کے لئے کچھ نہیں کیا نہ ہی ان کو فائدہ پہنچانے والا ابھی تک کوئی کام کیا۔
خیر بحث اس بات سے نہیں ہے کہ نجمہ ہبت اللہ نے کیا کیا یا کیا نہیں کیا ۔اصل بات تو سپریم کورٹ کے فیصلہ کی ہے۔ بے شک یہ تاریخی فیصلہ ہے اور ہمیں فخر ہے کہ ہم ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں کا عدلیہ بے مثال ہے۔اصل مدعا کیا تھا ؟یہ دوسری زبان کا مسئلہ کورٹ تک کیسے پہنچا ،یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ 1951 میں اترپردیش میں ایک قانون کے ذریعہ یہ اعلان کردیا گیا تھا کہ ریاست میں سرکاری کام کاج اور دیگر معاملات میں ہندی سرکاری زبان کی حیثیت سے استعمال کی جائے گی۔
1982 میں یو پی سرکار نے ایک آرڈیننس جاری کرکے یہ اعلان کیا کہ اردو بولنے والوں کی سہولت کے لئے اردو کا استعمال دوسری سرکاری زبان کی حیثیت سے کیا جائے گا اور جن مقاصد کے لئے اردو زبان کا استعمال ہوگا ان کی ایک فہرست بھی اس آرڈیننس کے ساتھ لگا دی گئی تھی۔1983 میں ایک نیا آرڈیننس جاری کرکے 1982 کے آرڈیننس میں کچھ ترمیم کی گئی ۔کہانی دراصل یہیں سے شرع ہوتی ہے کہ یو پی ہندی ساہتیہ سمیلن کو اردو کا دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینا اس قدر برا لگا کہ اس نے الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بینچ کے سامنے ایک رٹ پٹیشن دائرکردی۔اس میں یہ دلیل رکھی کہ اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینا آئین کی دفعہ 345 اور 347 کی خلاف ورزی ہے۔پٹیشن کو دو ججوں کی بینچ نے خارج کردیا اور اس کے برعکس پہلے 5مقاصد کی بات کہی گئی تھی جس میں اردو میں درخواست ،رجسٹریشن، سرکاری قواعد و ضوابط کا اعلان کرنا ،سرکاری اشتہارات کا شائع کرنا ،سرکاری گزٹ کا اردو میں ترجمہ کرنا شامل تھا۔ اب 1989 میں ان مقاصد کو 7کردیا گیا جن میں اردو زبان میں سائن بورڈ لگوانا اور عوامی نوعیت کے حکم نامہ اورسرکلر بھی شائع کرنا شامل ہوگیا ۔یہ ہندی ساہتیہ سمیلن کے لئے اور پریشانی کا سبب بن گئیں ۔ اور 1989 کے اس قانون کے خلاف پھر پٹیشن دائر کی گئی اور پھر خارج کردی گئی ۔یہ بڑی لمبی کہانی ہے اور آخر کار 4ستمبر 2014 میں سپریم کورٹ کا یہ تاریخی فیصلہ آیا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس فیصلہ کا اثر یو پی پر کتنا پڑے گا۔دہلی میں بھی شیلا دکشت نے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کی بات بار بار کہی تھی لیکن اس کے باوجود دہلی میں اردو زبان کے ساتھ وہ سلوک ہوا جس کو لکھتے ہوئے بھی دکھ اور شرمندگی ہوتی ہے۔ نہ تو اردو میڈیم اسکولوں میں اساتذہ مہیا کرائے گئے نہ اردو میڈیم کی نصابی کتابیں بر وقت مل پائیں نہ ہی اردو میڈیم اسکولوں کی حالت میں سدھار پیدا ہوا۔ اس کے برعکس اردو میڈیم میں ہندی کے اساتذہ سرپر سوار کردیئے گئے۔اردو کے سائن بورڈ لگوائے گئے وہ بھی غلط ہجوں کے ساتھ ۔اردو اسکولوں کے اساتذہ کو نہ تو کسی طرح کے ایوارڈ دیئے جاتے ہیں نہ ہی ان کو بڑی تقاریب میں شامل کا جاتاہے۔ یہ حال ہے کہ دہلی سکریٹریٹ میں اردو کا آفیسر تک نہیں ہے۔ ایسے میں یو پی میں جن مقاصد کو شامل کیا گیا ہے اس پر کتنا عمل ہوگا یہ اصل بات ہے۔ کیونکہ جس پارٹی کی حکومت ہوگی ،وہ اردو کو کتنا حق دے گی یہ دیکھنا ضروری ہے ۔پھر عوامی نوعیت کے حکم نامہ اور اردو سرکلر اردو میں آئیں گے یا نہیں،سرکاری اشتہارات اردو میں شائع ہوں گے یا نہیں ؟اگر ہوں گے تو ان کو ترجمہ کرانا ہوگا جس کے لئے مترجم کی ضرورت پڑے گی تو کیا حکومت مترجم مہیا کرائے گی۔
کانگریس نے تو مسلمانوں کے ساتھ وہی کھیل کھیلا کہ 1947سے 1980 تک اترپردیش میں اردو کے مسئلے پر مکمل خاموشی اختیار کئے رکھی اور اردو اسکولوں میں بھی اردو کی تعلیم صفر کے برابر رہی۔ پھر کانگریس نے ایک اور دائوں کھیلا کہ 1980 کے مینی فیسٹو میں اردو کو صوبے کی دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کے لئے بل لانے کے بجائے آرڈی نینس پاس کیا اور یہیں اردو والے مات کھا گئے۔وہ یہ سمجھتے رہے کہ کانگریس اردو کے لئے سنجیدہ ہے جبکہ کانگریس مسلمانوں کو بیوقوف بنانے کا اپنا پرانا کھیل کھیل رہی تھی۔آرڈیننس اس وقت لایا جاتاہے جب اسمبلی سیشن میں نہ ہو۔1984تک کانگریس نے 4بار آرڈی نینس جاری کیا جسے ہائی کورٹ نے یہ کہہ کر رد کردیا کہ حکومت اگر سنجیدہ ہے تو بل لے کر آئے اور یہ کام کانگریس آسانی سے کرسکتی تھی۔کیونکہ اسمبلی میں اس کی مکمل اکثریت تھی،لیکن پانچ سال بعد جیسا کہ ہم نے پہلے بھی بتایا کہ یہ 1989 میں اسمبلی اجلاس کے آخری روز لایا گیا ۔1989 کے بعد ریاستی حکومتیں چاہتیں تو اس کا نفاذ کرسکتی تھیں لیکن سبھی نے بہانہ کرکے کہ معاملہ عدالت میں ہے اپنا دامن بچا لیا۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یو پی کے اسکولوں میں اردو مضمون پڑھایا جائے۔اردو کی درخواستیں منظور کی جائیں جن کو انگلش ہندی نہیں آتی، ان کا سرکاری کام اردو میں کیا جائے۔ اردو کا دم بھرنے والوں، اردو جھنڈ الے کر سب سے آگے چلنے والوں کا بھی یہ کام ہے کہ وہ اسکولوں کی سطح پر اردو کے لئے کوشش کریں۔یو پی میں نئی نسل اردوسے ناواقف ہے اور یو پی میں کیا پورے ملک کا یہی حال ہے ۔ صرف مدرسوں میں ہی اردو کی تعلیم رہ گئی ہے۔
دہلی جیسی ریاست میں اسکولوں میں اردو کی تعلیم نہیں ہے ۔صرف اردو میڈیم اسکولوں اور چند انگریزی میدیم اسکولوں میں اردو کی تدریس ہے۔کچھ اسکولوں میں طلباء چاہیں تو اختیاری مضمون میں اردو لے سکتے ہیں جیسے دہلی پبلک اسکول، سردار پٹیل اسکول وغیرہ میں، مگر وہاں طالب علموں پر دوسرے مضامین کا بوجھ اتنا زیادہ ہے کہ اضافی مضمون لینا کوئی پسند نہیں کرتا۔
دہلی میں اتنے بڑے بڑے اداروں نے ابھی تک انگریز ی میڈیم اسکولوں میں اردو پڑھانے پر بہت زیادہ زور نہیں دیا۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ حکومت چاہے کانگریس کی تھی مگر لڑنا چاہئے تھا۔ جن اسکولوں میں ایک کلاس میں 10 بچے بھی اردو پڑھنے والے تھے، وہاں اساتذہ کا انتظام ہونا چاہئے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔بڑے بڑے مشاعرے، سمینار،مذاکرے کرائے جاتے رہے ۔کتابوں کے اجراء ہوتے رہے۔ہر ادارہ اپنے دوستوں کو مدعو کرتا رہا ہے،پر ادارے کی اپنی لابی ہے جو اپنے اپنوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے کام کرتی ہے۔ زیادہ تر اردو داں حضرات کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ بین اقوامی شہرت یافتہ افراد کو بلایا جائے تاکہ ان کا بھی باہر جانے کا راستہ کھلے۔ شعراء حضرات کے لئے تو لندن ،امریکہ،کینڈا ،جرمنی اپنے گھر جیسا ہی ہے ۔دبئی اور سعودی عرب جاکر بھی خوب پیسے بٹورتے ہیں مگر سمیناروں میں بھی اردو کے بڑے ادارے ان ہی کی مدد کرتے ہیں جوان کو بلا سکیں ۔ایسے ہورہی ہے اردو کی خدمت ۔آپ ہی بتائیے ایسے اردو کو کیسے فروغ ملے گا ۔آنے والی نسلوں کو اردو کیسے سکھائی جاسکے گی۔ آنے والی نسلوں کو اردو سکھانے پڑھانے کے لئے تو زمینی سطح پر ہی کام کرنا ہوگا۔یہ تو اچھا ہو اکہ سرکاری سطح پر بھی ہماری مدد ہورہی ہے ۔عدلیہ بھی ہمارے ساتھ ہے لیکن سچ بتائیے کہ کیا اردو ادارے اور اردو والے ایماندارہیں؟کیا وہ آپ کے ساتھ ہیں؟کیا ان پر آپ کو بھروسہ ہے؟کیا مشاعرے اور سمیناروں میں لڑھکتی ہوئی قورمہ بریانی کی دیگیں ہماری آنے والی نسلوں کو اردو پڑھانے لکھانے میں مددگار ثابت ہوپائیں گی۔کیا صرف ہم یہ سوچ کر ہی فخر کرتے رہیں گے کہ اردو دہلی ،یوپی کی دوسری سرکاری زبان ہے؟اس فیصلہ کے بعد لگاتار اخباروں میںمضامین دیکھ رہی ہوں ،پڑھ رہی ہوں مگر ابھی تک سوائے شکر گزاری کے احساس کے کوئی مثبت پہلو نظر نہیں آرہا ہے کہ آخر اب ہمیں کس طرح کا لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے کہ دوسری سرکاری زبان کا فائدہ مل سکے اور زبان کے ساتھ ساتھ معاشی و تہذیبی ترقی بھی ہو۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *