خطرناک بھنور میں پھنس گیا پاکستان

ڈاکٹر وسیم راشد
پاکستان پھر سے ایک بار خطرناک بھنور میں پھنس گیا ہے ۔ جانے کیسی بدقسمتی ہے اس ملک کی کہ کبھی استحکام ہی نصیب نہیں ہوتا۔ میرے بچپن سے آج تک میں نے کبھی پاکستان کو مضبوط جمہوریت کے ساتھ نہیں دیکھا۔ ہمیشہ ہی انتشار اور بدامنی اس ملک کی قسمت رہی ہے۔ ہمیں یاد ہیہمارے بچپن میں ہمارے رشتے دار پاکستان میں موجود اپنے رشتے داروں کو خط بھیجنے کے لئے کیسے کیسے دھکے کھاتے تھے۔ کبھی پاکستانی ایمبیسی کے چکر لگاتے تھے کہ کوئی آتا جاتا ہو تو اسے دے دیں ، کبھی دبئی وغیرہ جانے والوں کو خط دے دیا کرتے تھے ۔ اب سے کوئی 20سال پہلے ہمارے ایک رشتے دار کا پاکستان میں انتقال ہو گیا تو ہمیں خبر ایک مہینے بعد ملی ۔ ہمیں تو یہ بھی یاد ہے کہ اگر پاکستان میں کسی کے بے حد قریبی عزیز کا انتقال ہو جاتا تھا تو یہاں انڈیا رہ کر بھی اسی طرح اس کی پھول فاتحہ سب کی جاتی تھیں۔ جس گھر کا وہ فرد ہوتا تھا، اس گھر میں 40دن تک اسی طرح اگربتّی جلائی جاتی ، روشنی کی جاتی اور پھر چالیسواں بھی ہوتا۔ اسی لئے کہ وہ شخص چاہے اس گھر سے چلا گیا تھا لیکن اس کا وجود اس گھر کا حصہ جانا جاتا تھا۔ ابھی بھی ہمارے ایک رشتے دار ہیں، ان کی والدہ کا پاکستان میں انتقال ہو گیا، انھوں نے پھول فاتحہ ، قرآن خوانی وغیرہ سب کچھ اسی طرح کیا ، ان کے گھر پرسہ کرنے والوں کی بھیڑ لگی ہوئی تھی۔
یہ تمام وہ واقعات اور رشتوں کی خوبصورتی ہے جو شاید دونوں ملکوں کی حکومت نہ جان سکتی ہے ، نہ سمجھ سکتی ہے۔ جیسے جیسے پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات خراب ہو تے جاتے ہیں۔ ویسے ویسے یہاں رہنے والوں کے دل دھڑکتے جاتے ہیں کہ خدا خیر کرے جانے اب کیا ہوگا؟ ویسے ہی ویزا نہیں ملتی۔ اب اگر حالات اور بگڑ گئے تو کیسے اپنوں کی شکلیں دیکھنے کو ملیں گی۔اب صورتحال یہ ہے کہ عمران خان اپنے موقف پر قائم ہیں، اس وقت پاکستان کا اس خطرناک بھنور سے نکلنا یقینا ایک معجزہ ہی ہوگا۔
پاکستان تحریک انصاف پارٹی اور پاکستان عوامی تحریک دونوں ہی کے زبردست حامی ریڈزون میں گھس گئے تھے ۔ تعجب کی بات ہے کہ وہ علاقہ جہاں صدر ہائوس، وزیر اعظم ہائوس، پاکستانی پارلیمنٹ ہو وہاں اتنی بڑی تعداد میں مظاہرین کا گھس جانا اس بات کی علامت ہے کہ مظاہرین کسی سے نہیں ڈرتے نہ پولس سے نہ فوج سے لیکن اس سب بات میں ایک مثبت بات یہ بھی ہے کہ نواز شریف نے پولس اور فوج کو یہ ہدایت دی کہ مظاہرین کے خلاف کسی بھی طرح کے ہتھیاروں کا استعمال نہ کیا جائے کیونکہ اس میں عورتیں اور بچے بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ پاکستانی میڈیا نے عمران خان کے اس اقدام پر سخت تنقید کی ہے کہ عمران خان نے جان بوجھ کر بچوں اور عورتوں کو سامنے رکھا ہوا ہے جبکہ وہ خود ایک محفوظ کنٹینر کی چھت پر ہیں۔
ہماری سمجھ ایک بات یہ بھی نہیں آتی کہ کسی بھی ملک کا جب تختہ پلٹتا ہے تو خون خرابے کے بغیر نہیں پلٹتا۔ عمران خان اور طاہر القادری کو کیا اس خطرناک صورتحال کا اندازہ نہیں ہوا کہ اگر مذاکرات سے معاملات نہ نمٹے اور مظاہرین صبر و سکون کھو گئے تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ جس وقت یہ تحریر لکھی جا رہی ہے، اس وقت بھی پاکستان کی صورتحال خطرناک ہے ۔ ہو سکتا ہے جب تک اخبار آپ کے ہاتھوں میں آئے پاکستان کی حکومت ہی پلٹ چکی ہویاوہاں کی سیاست ہی الٹ جائے، لیکن اس ضمن میں نواز شریف کے اس موقف کی ضرور تعریف کرنی ہوگی کہ انھوں نے بار بار یہ کہا ہے کہ حکومت دھرنا دینے والوں پر طاقت کا استعمال نہیں کرے گی ۔ ایک سچائی اور بھی ہے کہ اگر نواز شریف استعفیٰ دے دیتے ہیں تو ایک تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ان حالات میں نواز حامیوں اور عمران حامیوں میں تصادم نہیں ہوگا۔ یقینا نواز شریف کے مستعفی ہونے سے ملک سخت سیاسی بحران کا شکار ہو جائے گا۔
عمران خان کے مطالبات میں نواز شریف کا استعفیٰ، دوبارہ انتخابات کرائے جانے کی مانگ، انتخابی اصلاحات کے ساتھ ساتھ تمام الیکشن کمشنرز سے استعفیٰ بھی شامل ہے۔ یہی نہیں عمران خان کی یہ بھی مانگ ہے کہ 2013کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی میں ملوث افراد کو سزا دی جائے اور آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔ طاہر القادری کے مطالبات لگ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف استعفیٰ دیں اور ان کو پوری کابینہ سمیت گرفتار کر کے ان کے خلاف تحقیقات کی جائے۔ اس کے علاوہ جو مطالبات ہیں وہ عوامی اور سماجی نوعیت کے ہیں، جن میں روٹی ، کپڑا مکان وغیرہ جیسی سہولیات، قرضہ ، بے گھروں کو گھر ، مفت تعلیم، مفت علاج ، خواتین کے لئے گھریلو صنعتوں کی مانگ وغیرہ شامل ہیں۔ا س سب کے ساتھ ساتھ ایک بڑا اہم اور سب سے ضروری ایشو دہشت گردی کے خاتمہ کا ہے۔
ہمارے خیال میں ایشو تو سبھی بہت اہم اور ضروری ہیں لیکن جو طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے، وہ ملک کو فوجی حکومت اور مارشل لاء کی طرف لے جاتا ہے۔ اگر پاکستان میں مارشل لاء لگتا ہے توایک بار پھر عوام سے جمہوری حکومت چھن جائے گی۔ پاکستان کے عوام کئی بار فوجی حکومت اور مارشل لاء کے سانحہ سے گزر چکے ہیں اور ہر بار پاکستان کی شبیہ دنیا میں خراب ہوئی ہے۔ وہاں کی معیشت برباد ہوئی ہے، ہر بار وہاں کے نوجوان بے روزگاری ، غربت اور جہالت سے گھبرا کر ہتھیار اٹھا لیتے ہیں ۔ یا تو سڑکوں پر لوٹ مار کرتے ہیں ، عورتوں کی ہاتھوں کی چوڑیاں گن پوائنٹ پر اتروا لیتے ہیں یا پھر ڈاکے اور چوری میں ملوث ہوتے ہیں۔ خود ہم نے کئی بار کراچی میں ایسے مناظر لال بتی پر اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔ ہم نے وہاں ایسی شادیاں بھی اٹینڈ کی ہیں ، جہاں دلہن کو پولس کے حفاظتی دستے اور رشتے داروں کی آگے پیچھے ہتھیار بند گاڑیوں کے ساتھ رخصت کیا گیا ہے کیونکہ راستے میں باراتیں لٹ جاتی ہیں۔ ہمارے رشتے دار بھی کئی گن پوائنٹ پر لٹے ہیں۔
عمران خان اور طاہر القادری کا مشن اور مقصد کتنا بھی نیک رہا ہو، لیکن طریقہ کار غلط ہے۔ اس وقت جو حالات عمران خان نے پیدا کر دئے ہیں اور نواز حکومت کے خلاف محاذ کھول دیا ہے، اس سے سب سے زیادہ نقصان وہاں کے عوام کا ہی ہے ۔ نہ جانے کیوں عمران خان اور طاہر القادری کو پاکستان میں پیدا کردہ اس بحران کی سنگین اور اس کے انجام کا احساس نہیں ہے۔ ایک طرح سے دیکھا جائے تو عمران خان اور طاہر القادری جمہوریت کو نہ صرف کمزور کرنے پر بلکہ پاکستان کو آگ میں جھونکنے پر آمادہ ہیں۔ یہ کیسی پالیسی ہے کہ آپ اپنے حامیوں کو اکسا کر پوری طرح قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر نہایت حساس علاقہ میں داخل ہو جاتے ہیں اور مظاہرے کے ذریعہ اور اشتعال انگیز تقریروں کے ذریعے عوام کو اکساے ہیں۔ کیا ایک بار بھی خود کو قوم کا، عوام کا ہمدرد کہنے والے یہ خیال نہیں کرتے کہ اس سے پاکستان کی معیشت بھی کمزور ہوگی ۔ عدم استحکام سے عوام ذہنی انتشار کا شکار ہو جائیں گے۔ تعلیمی اداروں پر اور سرکاری کام کاج پر فرق پڑے گا اگر عمران خان اور طاہر القادری نواز شریف کے ذریعہ قائم کردہ کمیٹی سے الیکشن میں بدعنوانی کی جانچ نہیں کرانا چاہتے تھے تو کوئی غیر جانبدار کمیٹی بنا کر جانچ کرائی جا سکتی تھی، اس کے لئے پورے ملک کو آتش فشاں کے دہانے پر کھڑا کر دینا کہاں کی دانشمندی تھی۔
ایک اور بہت بڑی بات ہے عمران خان کی پارٹی کے علاوہ باقی تمام اپوزیشن پارٹیوں نے پاکستان کی قومی اسمبلی میں نواز شریف حکومت کی پوری طرح حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اگر اس وقت پاکستان میں انتخابات ہوتے ہیں تو پوری طرح پاکستان کی معیشت اور وہاں کے سیاسی حالات پورے ملک کو لے ڈوبیں گے۔ دونوں پارٹیوں کے مارچز پر اب تک عربوں روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ ہفتہ بھر سے زیادہ گاڑیاں ، بسیں حامیوں کو بھر بھر کرلا تی رہیں ۔ اسلام آباد کی زندگی بھی مفلوج رہی۔ اسکول و کالج بند رہے ۔ عمران خان کے ٹینکر پر بڑی رقم خرچ ہوئی۔ لاہور اور پنجاب کے بیشتر علاقوں میں کئی دنوں تک پیٹرول پمپ بند رہے، لیکن اس کے باوجود گاڑیوں کو پیٹرول ایندھن برابر ملتا رہا۔ آخر یہ سب کیسے ، کہاں سے ملا ، کون کررہا تھا اس سب کا انتظام؟ دونوں مارچز کے شرکاء کی ایک بڑی تعداد کو کھانا بھی چاہئے تھا اور وہ کھانا بھی ان کو فراہم کرایا جاتا رہا۔ جتنے دن سے یہ مارچ چل رہا ہے اور لاکھوں حامی اس میں شامل ہیں، اس کے لئے تو اربوں روپے کی ضرورت ہے ۔ آخر اتنا روپیہ کہاں سے آ یا۔ کیا عمران خان اور طاہر القادری اتنے بڑے ارب پتی ہیں اور اگر یہ رقم ان کے پاس سے نہیں آ ئی ہے تو آخر کون سی طاقتیں ہیں جو اس گمراہ کن فیصلے میں شامل ہیں۔
اس وقت پاکستان زبردست بحران سے گزر رہا ہے ۔ نواز شریف استعفیٰ نہ دینے کے فیصلے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کو شاہراہ دستور خالی کرنے سے متعلق حکم دینے سے انکار کر دیا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا ہے یہ انتظامی معاملہ ہے۔ اسے حکومت انتظامی طور پر حل کرے۔ عدالت کو سیاسی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنی ہے۔ یہ بھی طے ہے کہ عمران خان اگر اپنے موقف سے ذرا بھی پلٹتے ہیں تو یہ ان کی سیاسی موت ہوگی۔ اللہ پاکستان کے عوام پر اپنا رحم کرے جو اس اقتدار کی بھوک میں پس رہے ہیں اور ان کے پیٹ کی بھوک کا اندازہ کسی کو نہیں ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

2 thoughts on “خطرناک بھنور میں پھنس گیا پاکستان

  • October 6, 2014 at 11:29 am
    Permalink

    pakistan ka halat india se bhot bataar hain hamara pas to logo ka sahman luhota jata ha indian ma rozna 50 larkion ki azatan loti jati ha…indian dunya ma rapest country ha.

    Reply
  • September 7, 2014 at 11:55 am
    Permalink

    pakistan k khilaaf aisi batain krny walo apny india ko dekho naseeb ALLAH K Kram se pakistan ko hi to mila hy india ko naseeb nhi hva na hoga aay bary pak k thekydaar aap log apni awam ki traf dekho nanngi ghoom phir rahi a mar rahi a bhook se apny ghar men nazar rakho app log dr waseem sahb baat pak ki krty oh india men to jaisy ye sub hota e nhi waha to ourtooun ki bari qadar hoti a Drindy loout k izztain laashain darkhtoou pe latka k apni shrafat ka kis qadar saboot dety hain Haaha baat phir pak muslmaan ho k bhi kbhi apko waha k muslmaanou k bary men likhna naseeb nhi hva or is men bhi Pak qasoor waar kisaan or ghreeb log or army k log bht khudkashiyan karr rahy hain qasoorwaar pak..kbhi dekha ya suna k pak army k kisi jawan ne douran e duty suicide ki oh Hhahaha aay bary pak ki batain krny waly app waha bhaion k samny unki behnu ka raip hota a yaha aisa ho bhai jaan de dy aisa na hony de ye to such hy k india k logu k dilou men kbhi bhi pak k khilaaf nafrat khtam nhi hogi or ye tab khtam hogi jab 6 sep – 1965 jaisa aik or suhana din apko dekhna pary ga apko nashty ki dawat dety hain lahore hahah aisa haal krain gain k zamana yaad rakhy ga choti soch choty log…. !!!!

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *