چین دراندازی روکے اور ایمانداری برتے تبھی دوستی ممکن

ڈاکٹر وسیم راشد
یہ مہینہ ہندوستان میں سفارتی سرگرمیوں کا مہینہ رہا ہے۔ویسے تو نریندر مودی جب سے وزیر اعظم بنے ہیں، سفارتی تعلقات کو لے کر خوب ہی سرخیوں میں رہے ہیں۔سارک ممالک کے سربراہان کو دعوت اور خاص طور پر پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کو خصوصی دعوت نامہ دینے پر مودی تعریف و تنقید کا خوب نشانہ بنے لیکن جب اس مہینہ کی بات کریں تو ابتدا میں مودی جاپان کے کامیاب دورے کے بعد وطن واپس آئے تو اب چین کے وزیر اعظم ہندوستان تشریف لے آئے ۔ اس مہینہ کے آخیر میں نریندر مودی امریکہ جارہے ہیں اور ایسا سمجھا جارہا ہے کہ چینی صدر کے دورہ ہند اور پھر وزیر اعظم مودی کے دورہ امریکہ سے نہ صرف ہندوستان کی شبیہ دنیا کے ممالک میں بہتر ہوگی بلکہ ہمارے سفارتی تعلقات سے ایک نئی طاقت بھی ملے گی۔
حالانکہ وزیر اعظم نریندر مودی جب گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو متعدد بار چین جا چکے ہیں اور شاید چین کی معاشی خوشحالی اور ترقی ان کو ہر بار ہی متاثر کرتی رہی ہے ۔ شاید مودی اس خوشحالی کو ہندوستان میں بھی لانا چاہتے ہیں ۔ سب جانتے ہیں کہ چین اور ہندوستان دونوں ہی دنیا کی سب سے قدیم تہذیبیں مانی جاتی ہیں اور چین و ہندوستان کے تہذیبی و معاشی تعلقات کافی پرانے ہیں۔ تین بار کے سرحدی تنازع کے باوجود دونوں ممالک لگاتار بہتر تعلقات کی راہ ہموار کرنے میں لگے رہے ہیں۔ چین کو دنیا میں سب سے زیادہ آبادی کے باوجود ترقی یافتہ ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ حالانکہ 1980 کے بعد سے ہی دونوں ممالک میں تجارتی و ثقافتی ڈپلومیٹک تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔اسی وجہ سے 2008 میں چین ہندوستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر بھی بنا اور تعلقات میں بہتری بھی آئی لیکن سرحدوں پر تنازع برقرار رہا۔
ہم جو محسوس کررہے ہیں،وہ یہ کہ چین نریندر مودی کو ایک مضبوط وزیر اعظم کی طرح دیکھ رہاہے۔شاید اسی لئے اس نے ہندوستان سے دوستی کرنے میں پہل کی ہے۔ تاکہ وزیر اعظم کا رخ امریکہ کی جانب نہ جھکے کیونکہ اس ملاقات کے بعد مودی کی ملاقات اوباما سے ہونے والی ہے۔
وزیر اعظم مودی،منموہن سنگھ سے زیادہ طاقتور ہیں اور اکثریت سے اس ملک کے وزیر اعظم بنے ہیں ۔منموہن سنگھ کی شبیہ کانگریس کے ترجمان کی رہی ہے ۔پورا ملک انہیں کٹھ پتلی وزیر اعظم کہتا تھا ۔خود کانگریس نے اس خوف سے کہ کہیں چین ناراض نہ ہوجائے بار بار کی درآندازی پر کوئی سخت موقف نہیں اپنایا اور شاید یہی ناقص حکمت عملی تھی جس کی وجہ سے کانگریس نے جاپان اور امریکہ کے ساتھ تعلقات خاصے خراب کرلیے تھے۔اس کے برعکس مودی پُر عزم ہیں اس لئے انہوں نے سختی سے اس بات پر زور دیا کہ سرحد پرامن قائم ہو۔یہ دوسری بات ہے کہ جس وقت دونوں سربراہان گلے مل رہے تھے،سابرمتی کے کنارے ڈنر کررہے تھے،اس وقت بھی بڑی تعداد میں چینی فوجیوں نے دراندازی کی ۔جس کا مقصد منریگا اسکیم کے تحت کئے جانے والے تعمیری کام کو جو کہ آبپاشی کے لئے کیا جارہا تھا۔اس کے خلاف احتجاج درج کرانا تھا۔
چین شروع سے ہی ایسا کررہا ہے ۔وہ دوستانہ روابط بھی رکھتا ہے۔ ’’ہندی چینی بھائی بھائی‘‘ کا نعرہ بھی دیتاہے لیکن سرحدی تنازع پھر بھی برقراررہتاہے۔ دراندازی ہمیشہ چین کی جانب سے جاری رہتی ہے۔ 1950 سے یعنی جواہر لال نہرو سے لیکر اب تک یعنی مودی کے وقت تک سرحدوں کا تنازع برقرارہے۔
1947 میں نہرو آزاد ہندوستان کے وزیر اعظم بنے اور ذو این لائی1949 میں چین کے وزیر اعظم بنے ۔1954 میں ذو این لائی نئی دہلی آئے اور اسی دوران مشہور پنج شیل معاہدہ بھی ہوا جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان امن برقرار رکھنے کی بات ہوئی۔ساتھ ہی دونوں ممالک میں دخل اندازی سے گریز کرنا بھی شامل تھا لیکن پھر اسی دوران ہند چین سرحد پر حملہ ہوا ۔حالانکہ پنج شیل معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چین نے عالمی اداروں کو جو نقشے پیش کئے تھے ،اس میں ایک لاکھ بیس ہزار کلومیٹر ہندوستانی علاقہ کو چین میں دکھایا گیا تھا۔یہ بھی معاہدہ کے خلاف تھا ۔
1959 میں 14ویں دلائی لامہ تبت میں شورش کے بعد ہندوستان آئے تو ہندوستان نے انہیں پناہ دی۔لیکن یہ بھی دونوں ممالک کے درمیان خاموش جنگ کی ابتداء بن گئی۔ 1962 میں چین نے اسکائی چن پر قبضہ کیا اور 1962 میں ہی تقریباً 350 چینی سپاہیوں نے میک موہن لائن آف کنٹرول کے قریب ہندوستانی چوکیوں کا محاصرہ کیا لیکن بعد میں دستبردار ہوگئے اور پھر 1962 میں چین نے دھوکہ سے ہندوستان پر حملہ کیا اور اس میں بھی تقریبا ًدو ہزار سے زیادہ ہندوستانی شہید ہوئے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ چین ہندوستان کا کبھی بھی دوست نہیں رہا۔ ہندوستان اور چین میں ایک بات میں زبردست مماثلت ہے کہ دونوں ہی ممالک میں مسلم نمائندگی یعنی مسلمان سب سے بڑی اقلیت ہیں اور دونوں ہی ممالک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم چل رہی ہے۔
لیکن پھر بھی پوری دنیا میں اگر مسلمان کہیں محفوظ ہیں تو وہ بھی ہندوستان ہی ہے جہاں بے شک مسلمانوں کے خلاف نفرت اور دہشت گردی کی مہم چل رہی ہو لیکن مذہبی آزادی پر، مذہبی رسومات ادا کرنے پر کوئی روک ٹوک نہیں ہے اور ہندوستانی مسلمان جہاں چاہے جیسے چاہے عبادت کرسکتاہے ،لیکن چین میں مسلمانوں کو مذہبی رسومات ادا کرنے پر سخت پابندی ہے اور اس کامظاہرہ حال ہی میں رمضان کے مہینے میں ہوا ہے ۔حالانکہ چین میں آج بھی جگہ جگہ عربی کے اشتہارات نظر آجاتے ہیں جو اس بات کی علامت ہیں کہ چین سعودی عرب کو خوش رکھنا چاہتاہے اور اس بات کی بھی کہ چین میں مسلمانوں کا اثر ابھی بھی بہت زیادہ ہے۔دونوں ممالک میں بے شک تجارتی معاہدہ ہواہے اور تجارت 70بلین ڈالرس تک پہنچ چکی ہے اور اب چین نے 5سال میں 20ارب ڈالرس سرمایہ کاری کرنے کا معاہد بھی کرلیا ہے۔ لیکن آج بھی دونوں ممالک میں مسلمانوں کی حالت خراب ہے ۔چین میں بدھسٹ اور مسلمانوں میں فرقہ وارانہ تشد د ہوتا ہے اور ہندوستان میں ہندو مسلم فسادات ہوتے رہتے ہیں۔ مودی کو چاہئے تھا کہ اس موضوع پر بھی بات کی جاتی جبکہ چینی صدر کے دورے کے تیسرے دن ہی القاعدہ کے ویڈیو ریلیز ہونے پر مودی نے ایک چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کا مسلمان دیش کے لئے جئے گا ،دیش کے لئے مرے گا اور مسلمانوں کو اپنے دیش بھگت ہونے کا ثبوت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
چین کے وزیر اعظم سے اگر دونوں ممالک کے مسلمانوں کی بات کی جاتی تو مودی شاید ہندوستانی مسلمانوں کے دل سے اور بھی قریب ہوجاتے۔ ابھی تو ان کے بیان پر سخت تنقید ہورہی ہے اور مودی کے اس جذبے پر بھی سیاست بازی کا الزام لگایا جارہا ہے۔
چینی صدر کے ہندوستان آنے سے پہلے بھی نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری ایک پارلیمانی وفد لے کر چین تشریف لے گئے تھے۔وہاں انہوں نے چین کے صدر سے ملاقات بھی کی تھی اور مسلم علاقوں میں جاکر وہاں کے با اثر مسلمانوں سے ملاقات بھی کی تھی۔مودی بھی چاہتے تو اس کامن فیکٹر کو دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنانے کے لئے استعمال کرسکتے تھے اور دونوں ہی ممالک کے مسلمانوں کے چہیتے بن سکتے تھے۔
ہند و چین کے درمیان تعلقات بہتر ہونا یقینا خوش آئند ہے لیکن ہمیں ا س بات کو بھی دھیان میں رکھنا چاہئے کہ چین عالمی منڈی میں ایک سپر پاور کی حیثیت حاصل کرتا جارہاہے۔ وہیں ہندوستانی مارکٹیں بھی اس وقت چینی سامان سے بھری ہوئی ہیں۔چینی موبائل، کھلونے، الیکٹرانک گیمس حتی کہ دیوالی کے پٹاخے تک چینی ہیں۔ حالانکہ یہ سستے ہونے کی وجہ سے بے حد غیر معیاری اور گھٹیا کوالٹی کے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی ہندوستان کے لوگ غربت میں ان سستی چیزوں کو نعمت بے بہا سمجھتے ہیں۔
ان چینی اشیاء نے ہندوستانی صنعتوں کو نقصان پہنچا یا ہے۔ مودی کو چاہئے کہ ایک تو سرحدی تنازع کو ختم کرنے کی بات پر سختی سے قائم رہیں ۔دوسرے ہندوستانی صنعتوں کے فروغ پر بھی دھیان دیں تبھی ہندی چینی بھائی بھائی کا نعرہ سچ ثابت ہوسکے گا ورنہ یہ ملاقات صرف ایک ڈرامہ سے کم نہیں ہوگی اور بے کار ہوجائے گی۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *