جوائنٹ وینچر کے نام پر ایک اور گھوٹالہ

ششی شیکھر

آپ ایک دعوت دینا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے آپ راشن کا سامان خرید کر لاتے ہیں۔ باورچی کو بلاتے ہیں۔ باورچی سے کھانا بنانے کو کہتے ہیں۔ اور، باورچی کھانا بنانے کے لیے آپ سے ایک طے رقم لیتا ہے۔ یہ ایک عام کہانی ہے۔ اب ایک خاص کہانی۔ مان لیجیے، آپ کا باورچی آپ سے بولے کہ وہ کھانا بنانے کا پیسہ تو لے گا ہی لے گا، ساتھ ہی وہ کھانا کا پچاس فیصد یا اس سے بھی زیادہ حصہ اپنے ساتھ لے جائے گا۔ ظاہر ہے، آپ ایسی شرط کبھی نہیں مانیں گے۔ لیکن، ایک لاکھ 86 ہزار کروڑ روپے کے کوئلہ گھوٹالے کے بعد بھی ایک اور کوئلہ گھوٹالے میں یہی شرطیں لاگو ہیں۔ نتیجتاً ہزاروں کروڑ روپے کا نقصان کئی ریاستی سرکاریں جان بوجھ کر اٹھا رہی ہیں۔ ظاہر ہے، جان بوجھ کر، کیوں کہ کوئی بھی سمجھدار آدمی باورچی کو کھانا بنانے کی قیمت تو دے سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ پچاس فیصد کھانا نہیں بانٹ سکتا۔ لیکن ایسا ملک کی کئی ریاستی حکومتیں پرائیویٹ کمپنی کے ساتھ مل کر کر رہی ہیں۔ جوائنٹ وینچر بناکر ریاستی حکومتیں پرائیویٹ کمپنیوں کو فائدہ پہنچا رہی ہیں۔ بہرحال، اس پوری کہانی کو سمجھنے کے لیے دو مثالیں لیتے ہیں، راجستھان اور چھتیس گڑھ کی۔ سمجھتے ہیں کہ راجستھان، چھتیس گڑھ، اڈانی اور جوائنٹ وینچر کے ذریعے ہزاروں کروڑ روپے کے کوئلہ کی لوٹ کیسے ہو رہی ہے۔

mastسب سے پہلے بات کرتے ہیں چھتیس گڑھ سرکار کی۔ مرکزی حکومت نے کئی ریاستی حکومتوں کو کول بلاک الاٹ کیے تھے۔ یہ الاٹمنٹ اس لیے کیے گئے تھے، تاکہ ریاستی حکومتیں تقریباً مفت میں ملے کوئلہ سے سستی بجلی کی پیداوار کر سکیں اور اس سے عام آدمی کو فائدہ مل سکے۔ لیکن، ہو اس کے بالکل برعکس رہا ہے۔ ریاستی حکومت یہاں بھی پرائیویٹ کمپنیوں کے چنگل سے باہر نہیں نکل سکی۔ پوری کہانی کچھ یوں ہے …چھتیس گڑھ اسٹیٹ پاور جنریشن (سی ایس پی جی) کمپنی کو 2006 میں حکومت ہند کی وزارتِ کوئلہ سے ماروا تھرمل پاور پروجیکٹ کے لیے پرسا کول بلاک الاٹ کیا گیا۔ سی ایس پی جی نے اپنے بورڈ آف ڈائرکٹر کی میٹنگ، جو جون 2008 میں ہوئی تھی، میں ایک فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ تھا جوائنٹ وینچر (جے وی) بنانے کا، تاکہ الاٹیڈ بلاک سے کوئلہ نکالنے کا کام کیا جا سکے۔ فروری 2009 میں کمپنی نے جے وی پارٹنر کے لیے ٹنڈر نکالا۔ ٹنڈر کی شرطوں کی مطابق، جے وی پارٹنر وہی ہو سکتا تھا، جو کول انڈیا لمیٹڈ یا ساؤتھ ایسٹرن کول فیلڈ لمیٹڈ کی قیمت سے کم قیمت پر کوئلہ دے۔ ایس ای سی ایل (ساؤتھ ایسٹرن کول فیلڈ لمیٹڈ)، ایم ایم ٹی سی (میٹلس اینڈ منرلس ٹریڈنگ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ) اور اے ای ایل (اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ) نے جے وی کے لیے درخواست طلب کی۔ غور طلب ہے کہ ایس ای سی ایل اور ایم ایم ٹی سی حکومت ہند کی کمپنی ہے اور اڈانی انٹرپرائزز ایک پرائیویٹ کمپنی ہے، جس کے مالک گوتم اڈانی ہیں۔ اخیر میں، 19 اکتوبر، 2009 کو اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ (اے ای ایل) کو جے وی پارٹنر منتخب کر لیا گیا۔ اڈانی نے سی آئی ایل اور ایس ای سی ایل کے کوئلے کی قیمت سے تین فیصد کم قیمت پر کوئلہ دینے کی بات کہی تھی۔
اب اصل کہانی اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔ جولائی 2010 میں چھتیس گڑھ اسٹیٹ پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ (سی ایس پی جی سی ایل) اور اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ کے درمیان ایک جوائنٹ وینچر بنا، جس کا نام ہے سی ایس پی جی سی ایل اے ای ایل پارسا کولیریز لمیٹڈ۔ اس جے وی میں سی ایس پی جی سی ایل کے پاس 51 فیصد شیئر تھا اور اے ای ایل کے پاس 49 فیصد۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ سی ایس پی جی سی ایل کو کول بلاک مفت ملا تھا۔ صرف کھدائی کرکے کوئلہ باہر نکالنا تھا۔ ظاہر ہے، یہ کام کوئی بھی مائننگ کمپنی کانکنی کی قیمت لے کر کر سکتی تھی، لیکن سی ایس پی جی سی ایل نے کوئلہ کی بازاری قیمت پر اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ سے معاہدہ کرکے جوائنٹ وینچر بنایا۔ ساتھ ہی، اسے 49 فیصد شیئر بھی دے دیا اور اپنا ہی کوئلہ اسے اڈانی سے بازاری قیمت سے صرف تین فیصد کم قیمت پر خریدا۔ یعنی، اڈانی کو اس پورے معاملے میں، بغیر کول بلاک ملے، صرف کھدائی کرنے کے کام سے وہ فائدہ ملا، جو ریاستی حکومت مفت میں ملے کول بلاک سے نہیں اٹھا سکی۔ ظاہر ہے، اس حساب سے اگر سی اے جی نقصان کا اندازہ لگائے، تو یہ نقصان ہزاروں کروڑ کا ہو سکتا ہے۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ اس طرح کے جوائنٹ وینچر کے پیچھے ریاستی حکومت کا رول کیا تھا؟ سی اے جی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایک بار ٹنڈر کی شرط میں ایف گریڈ کوئلہ کی قیمت کو بنیاد بنایا گیا، تب اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ کے کہنے پر ترمیم کیوں کی گئی؟ سی اے جی نے بتایا ہے کہ سی جی پی ایس ایل کو یہ جانکاری تھی کہ اس کے پاس ڈی اور ای گریڈ کوئلے کی مقدار زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سرکار نے جان بوجھ کر، ٹنڈر میں پہلے بنائے گئے ایف گریڈ کوئلے کی قیمت (جو کم ہوتی ہے)بنیاد کو اڈانی کے کہنے پر بدل دیا۔ ظاہر ہے، رمن سنگھ سرکار کی منشا پر بھی اس سے کئی سوال اٹھتے ہیں کہ آخر کس کے دباؤ میں رمن سنگھ سرکار نے ٹنڈر کے ضابطوں میں پھیر بدل کی۔
اب ذرا ایک نظر راجستھان وِدیُت اورجانگم لمیٹڈ (آر وی یو این ایل) پر بھی ڈالتے ہیں۔ چھتیس گڑھ کے جیسا ہی ایک اور جوائنٹ وینچر آر وی یو این ایل نے بھی اڈانی انٹرپرائزز کے ساتھ کیا ہے۔ اس کی بھی کہانی بہت حد تک چھتیس گڑھ جیسی ہی ہے۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ ریاستوں کو وزارتِ کوئلہ سستی بجلی پیدا کرنے کے لیے کول بلاک دیتی ہے۔ 2007 میں وزارتِ کوئلہ نے آر وی یو این ایل کو بھی دو کول بلاک دیے تھے۔ یہ کول بلاک بھی چھتیس گڑھ میں ہی واقع ہیں۔ چھتیس گڑھ کے ہسدیو میں دو کول بلاک – پارسا ایسٹ اور کینٹے بیسن، آر وی یو این ایل کو الاٹ کیے گئے تھے۔ آر وی یو این ایل نے بھی بجائے صرف کھدائی کا کام کروانے (کانکنی کی قیمت دے کر) کے اڈانی کے ساتھ جوائنٹ وینچر کیا۔ اچھا تو یہ ہوتا کہ راجستھان ودیت اورجا نگم لمیٹڈ (آر وی یو این ایل) خود سے یا کسی سرکاری ایجنسی سے کول مائننگ کا کام کرواتی۔ مان لیجیے، یہ بھی ممکن نہیں تھا، تو آر وی یو این ایل یہ کام کسی ایسی پرائیویٹ کمپنی سے کرواتا، جس کے لیے اسے صرف کھدائی کی قیمت، یعنی مائننگ چارج دینا پڑتا۔
جانکاری کے مطابق، ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ اس کے برعکس، آر وی یو این ایل نے 2008 میں اڈانی انٹرپرائزز سے معاہدہ کیا اور دونوں نے مل کر ایک جوائنٹ وینچر بنایا۔ اس جوائنٹ وینچر کا نام تھا پارسا کینٹے بیسن کولیری لمیٹڈ۔ اس کے بعد، پھر اڈانی انٹرپرائزز کی ہی معاون کمپنی اڈانی مائننگ پرائیویٹ لمیٹڈ نے پارسا کینٹے بیسن کولیری لمیٹڈ (پی کے سی ایل) کے ساتھ مائننگ کے لیے ایک معاہدہ کیا۔
موصول جانکاری کے مطابق، اس جوائنٹ وینچر میں 74 فیصد حصہ داری اڈانی کو ملی اور 26 فیصد حصہ داری آر وی یو این ایل کو۔ آپ خود اندازہ لگائیے کہ جب کول بلاک آر وی یو این ایل کو سرکار سے سستی بجلی بنانے کے لیے تقریباً مفت ملی تھی، تب ایسے میں 74 فیصد شیئر اڈانی کو کیوں دے دیا گیا؟ اس جوائنٹ وینچر کے مطابق، اڈانی کے حصے میں تحویل اراضی، مائننگ، کول واشری پلانٹ نصب کرنے، ٹرانس پورٹیشن کے لیے ریل لائن بچھانے (سرگوجا ریل کوریڈور) کا کام اور کول واشری رجیکٹس کا (ذیلی سطح کا کوئلہ) خود کے پاور پلانٹ کے لیے استعمال کرنے کی بات تھی۔ ان دونوں کول بلاک کی صلاحیت 450 ملین ٹن ہے۔ اب آپ یہ سمجھئے کہ آخر کوئلے کی لوٹ کا یہ کھیل کیسے کھیلا گیا؟ جانکاری کے مطابق، اڈانی مائننگ پرائیویٹ لمیٹڈ کو کول مائننگ کا خرچ 250 روپے فی ٹن آتا ہے۔ اڈانی مائننگ اسے جوائنٹ وینچر پی کے سی ایل کو بیچتی ہے 675 روپے فی ٹن۔ اس کے بعد یہ جے وی، آر وی یو این ایل کو یہی کوئلہ فی ٹن 736 روپے کے حساب سے بیچتی ہے۔ یہ بازاری قیمت (کول انڈیا کے ریٹ سے) سے 64 روپے کم ہے، یعنی 8 فیصد کم۔ یہی 64 روپیہ منافع ہے اس جے وی کا۔ اس میں سے 74 فیصد اڈانی کا اور 26 فیصد منافع آر وی یو این ایل کا ہے، یعنی آر وی یو این ایل کے حصے میں منافع آتا ہے فی ٹن 16 روپے۔ دوسری طرف، آر وی یو این ایل اگر صرف کانکنی لاگت کی بنیاد پر کوئلہ لیتا، تو اسے کسی بھی مائننگ کمپنی کو فی ٹن کوئلہ کے لیے صرف 250 روپے دینا پڑتا، یعنی ابھی کی قیمت پر خریدے جا رہے کوئلے کی قیمت کے مقابلے 500 روپے فی ٹن زیادہ کا فائدہ ہوتا۔ لیکن، اس جوائنٹ وینچر کی یہی خوبی ہے کہ آر وی یو این ایل اپنا ہی کوئلہ کسی اور سے 500 روپے فی ٹن زیادہ قیمت دے کر خرید رہا ہے۔

ظاہر ہے، سرکار یا سی اے جی اس مسئلے پر اب بھی سنجیدگی سے نہیں سوچ رہی ہے۔ لیکن، جوائنٹ وینچر کے اس کھیل کو لے کر سوال تو اٹھتے ہی ہیں۔ ایک سب سے بڑا سوال ہے کہ کس بنیاد پر اڈانی کو چھتیس گڑھ سرکار اور راجستھان سرکار نے بالترتیب 49 اور 74 فیصد شیئر دے دیا؟ تقریباً مفت میں ملے کول بلاک کی کھدائی کے لیے (اگر یہ دلیل بھی مان لی جائے کہ ریاستی حکومت کانکنی کا کام کرنے میں اہل نہیں تھی) اگر جوائنٹ وینچر کی ضرورت تھی، تو یہ کھدائی لاگت کی بنیاد پر کیوں نہیں بنایا گیا؟ جو منافع ریاستی حکومتوں کو ہو سکتا تھا، وہ کسی پرائیویٹ کمپنی کو کیوں دے دیا گیا؟ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ سی اے جی ساری ریاستی حکومتوں (جہاں بھی ایسے جوائنٹ وینچر بنے ہیں) کا پورا آڈٹ کرکے حقیقی نقصان کا پتہ لگائے اور ملک کو یہ بتائے کہ اب تک کوئلہ لوٹ کے اس نئے طریقے سے ملک کو کتنے روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اور، سب سے بڑا سوال کہ کیا مرکزی حکومت لوٹ کے اس نئے اور انوکھے طریقے کی جانچ اپنی طرف سے پہل کرکے کروائے گی یا وہ ایک اور سی اے جی رپورٹ کا انتظار کرے گی؟
سپریم کورٹ نے کیا کہا

سپریم کورٹ نے عرضی نمبر 120/2012 پر سماعت کرتے ہوئے 25 اگست کو اپنا فیصلہ سنایا۔ سپریم کورٹ نے ایک طرف تو 1993 سے لے کر 2010 کے درمیان ہوئے سارے کول بلاک الاٹمنٹ کو ردّ کر دیا اور اپنے 163 صفحہ کے فیصلہ میں عدالت نے کہا ہے کہ یہ کول مائنس نیشنلائزیشن ایکٹ کے خلاف ہے کہ مرکزی حکومت ریاستی حکومت کو کمرشیل مائننگ کی اجازت دے۔
بہرحال، ’چوتھی دنیا‘ سے بات کرتے ہوئے انرجی ایکسپرٹ اور سماجی کارکن سدیپ شریواستو کہتے ہیں کہ جب سپریم کورٹ نے سارے کول بلاک الاٹمنٹ کو غیر قانونی ٹھہرا دیا ہے، تب ایسے میں ریاستی حکومت کے ذریعے کیے گئے سارے جوائنٹ وینچر اور ایم ڈی او کانٹریکٹ بھی اپنے آپ غیر قانونی مانے جائیں گے۔ اس حساب سے دیکھیں، تو راجستھان، چھتیس گڑھ سمیت دیگر ریاستی حکومتوں کے ذریعے پرائیویٹ کمپنیوں کے ساتھ بنائے گئے جوائنٹ وینچر کو فوری طور پر کام بند کر دینا چاہیے اور ساتھ ہی سی اے جی کو اس پورے معاملے کو جمع کرکے یہ بتانا چاہیے کہ جوائنٹ وینچر کے نام پر ان پرائیویٹ کمپنیوں نے کتنے ہزار یا کتنے لاکھ کروڑ روپے کا چونا اس ملک کو لگایا ہے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے، کیوں کہ اکیلے چھتیس گڑھ کے لیے سی اے جی کی رپورٹ کے مطابق، 2012 تک چھتیس گڑھ سرکار کو تقریباً 1550 کروڑ روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ ایسے میں اگر دیگر ریاستوں میں ہوئے جوائنٹ وینچر کے ذریعے ہوئے نقصان کو، وہ بھی آج کی تاریخ تک، جوڑ دیا جائے، تو نقصان کی مقدار بہت بڑی ہو سکتی ہے۔

سی اے جی کے مطابق 2012 تک 1549.06 کروڑ کا نقصان
پارسا کول بلاک میں 172.30 میٹرک ٹن کوئلہ ہے۔ اس میں سے 123.45 ایم ٹی ای گریڈ، 0.48 ایم ٹی ایف گریڈ اور 20.29 ایم ٹی ڈی گریڈ کا کوئلہ ہے۔ ایس ای سی ایل نے ایف گریڈ کی قیمت 570 روپے فی ٹن، ای گریڈ کی قیمت 730 روپے فی ٹن اور ڈی گریڈ کی قیمت 880 روپے فی ٹن طے کی تھی۔ یعنی، ایف گریڈ کی قیمت بنیاد بنتی، تو ڈی گریڈ کے کوئلے پر 310 روپے فی ٹن، ای گریڈ کے کوئلے پر 160 روپے فی ٹن کی بچت سرکار کو ہوتی۔ لیکن، کول پرائسنگ کی شرطوں کو بدلنے سے سرکار کو نقصان ہوا۔ دراصل، ٹنڈر کے پرائس کھولے جانے سے پہلے سی ایس پی جی سی ایل نے ٹنڈر کے لیے درخواست دینے والی کمپنیوں کی میٹنگ بلائی تھی، جس میں اے ای ایل نے کہا کہ نکالے جانے والے کوئلے کی حقیقی درجہ بندی کی بنیاد پر کوئلہ دینے کی قیمت طے ہو۔ اس سے ہوا یہ کہ ایف گریڈ والی شرط بدل گئی۔ چونکہ اس علاقے میں ڈی اور ای گریڈ کا کوئلہ زیادہ ہے اور اس کی قیمت ایف گریڈ سے زیادہ ہوتی ہے، اڈانی کو حقیقی درجہ بندی کے کوئلے کی قیمت ملی، نہ کہ پہلے کی شرط کے مطابق سبھی درجے کے کوئلے کے لیے ایف گریڈ کی قیمت۔ سی ایس پی جی سی ایل نے اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ کے کہنے کے مطابق کوئل مائننگ فیس کی ادائیگی سے متعلق شرط میں ترمیم کر دی۔ اس کے مطابق، جس درجے کا کوئلہ نکالا جائے گا، اسی درجے کے کوئلے کی ایس ای سی ایل کے ذریعے جاری قیمت کی بنیاد پر مائننگ فیس، یعنی کوئلے کی قیمت دی جائے گی۔ نتیجتاً، سی اے جی کے مطابق، ریاستی حکومت کو 1549.06 کروڑ کا نقصان اٹھانا پڑا۔ حالانکہ، سی اے جی کی یہ رپورٹ 2012 کی ہے اور جے وی کے تحت یہ کھیل ابھی تک چل رہا ہے۔ اس حساب سے یہ نقصان اب تک قریب 5 ہزار کروڑ روپے کی حد کو چھو چکا ہوگا۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *